Abd Add
 

افغانستان میں NATO کو درپیش چیلنجز

Challenges facing NATO in Afghanistan

نیٹو (North Atlantic Treaty Organization-NATO) درحقیقت شمالی امریکا اور یورپ کے ممالک پر مشتمل فوجی اتحاد ہے۔ تاہم اس اتحاد کے دائرہ کار میں صرف فوجی ہی نہیں بلکہ سیاسی اور سیکوریٹی کے امور بھی آتے ہیں۔ یہ ادارہ ۱۹۴۹ء میں قائم کیا گیا اور اس کا ہدف اس وقت کا سب سے بڑا خطرہ ہے یعنی سوویت سوشلسٹ ریپبلک کا مقابلہ کرنا، تیزی سے پھیلتے ہوئے کمیونزم کو روکنا اور مشرقی بلاک کی فوجی قوت کو کم اثر بنانا تھا۔ واقعیت یہی ہے کہ نیٹو کو دوسری جنگ عظیم اور سرد جنگ کے آغاز کا محاصل قرار دیا جاتا ہے۔

سوشلسٹ روس کے زوال کے بعد محققین کے ایک گروہ نے اصرار کیا کہ اب جبکہ دنیا ایک نئے نظام کی حامل ہو گئی ہے تو اس صورتحال میں لاحق خطرات کی نوعیت بھی مختلف ہو گئی ہے اور مغرب کے اہداف تک رسائی کے لیے نیٹو کے استقرار اور تقویت کو نئے سرے سے ترتیب دینا ایک جاندار اور توجہ طلب مسئلہ ہے۔ حقیقت میں وہ اس چیز کے معتقد تھے کہ مغربی دنیا کو کمیونزم سے جو خطرات لاحق تھے اب وہ تو ختم ہو گئے ہیں لیکن دہشت گردی (Terrorism) مشرقِ وسطیٰ میں اسلامی بنیاد پرستی اور اسی طرح سینٹرل ایشیا اور شمالی افریقی ممالک میں بھی اسلامی بنیاد پرستی ایسے خطرات ہیں جنہوں نے اس کی جگہ لے لی ہے اور یہی بات اس چیز کا سبب بنی کہ اس فوجی اتحاد نے اپنی فعالیت کو مشرق میں بڑھانا شروع کر دیا۔

افغانستان میں داخل ہونا، بلقان میں داخل ہونے کے اعتبار سے زیادہ اہمیت کا حامل تھا۔ یہ ان کی مروجہ جائے فعالیت یعنی یورپ سے باہر پہلی ماموریت تھی درحقیقت نیٹو کی افغانستان میں کامیابی، اس فوجی ادارے کی مشرقی خطے میں کامیابیوں کے دروازے کی حیثیت ہو گی۔ تاہم افغانستان ایک ایسا خطہ ہے کہ جہاں کی معروضی صورتحال اس تنظیم کے پہلے سے کیے گئے حساب کتاب (Calculations) سے کہیں زیادہ فرق رکھتا ہے۔ نیٹو کی یورپی حدود سے باہر پہلی موجودگی خود ایک انتہائی حساس فوجی آپریشن کی حیثیت میں تبدیل ہو چکی ہے۔

نیٹو افواج مسلسل یہ راگ الاپ رہے ہیں کہ انہوں نے طالبان شورشیوں پر شدید دھچکے لگائے ہیں اور انہیں شکست کے آخری دروازے تک پہنچا دیا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ بات نیٹو کے بس سے باہر ہے کہ وہ فوجی آپریشنز کے ساتھ ساتھ اس جنگ زدہ مملکت میں تعمیر و ترقی کے لیے لازمی طور پر درکار وسائل اور امداد بہم پہنچا سکے۔

۲۰۰۶ء سے طالبان کی مزاحمت اور ان کے حملوں میں شدت ایک طرف تو نیٹو کے ارکان ممالک کی اپنے فوجیوں کے اعزاز اور فراہمی وسائل سے عدم رغبت دوسری طرف سے اس بات کا باعث بنتی جا رہی ہے کہ افغانستان میں اس ادارے کی موجودگی کے حوالے سے اور مسائل سے نمٹنے کی توانائی کے حوالے سے کئی سارے شکوک و شبہات جنم لیتے جا رہے ہیں۔

اس تحریر میں افغانستان کی امن و امان کی صورتحال کا تجزیہ و تحلیل کرتے ہوئے اور اس موضوع کے ضمن میں کوشش کریں گے کہ آج نیٹو کو یہاں جو مشکلات اور مسائل آ پڑے ہیں وہ کیا ہیں اور ان کی حقیقت کیا ہے۔

۲۰۰۷ء افغانستان میں امن و امان کی صورتحال

۲۰۰۷ء افغان حکومت کے لیے بھی اور باہر سے آئی ہوئی افواج کے لیے بھی تاریخ کا خونی ترین سال تھا۔ طالبان کی افرادی قوت میں بھی اضافہ ہوا اور ان کے حملہ کرنے کی صلاحیت، کیفیت اور قدرت میں بھی کافی اضافہ ہوا اور یہ گمان زور پکڑ گیا کہ اس وقت طالبان دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کی پوزیشن کی طرف آ رہے ہیں۔ طالبان کی ۲۰۰۷ء میں فعالیتوں کی خصوصیات کچھ اس طرح رہیں:

٭ طالبان نے سرزمین افغانستان کے ۵۰ فیصد سے زائد حصوں میں اپنی سرگرمیوں کا جال پھیلا دیا ہے۔

٭ طالبان اور بیرونی افواج کے مابین جنگ کی فرنٹ لائن افغانستان کے دارالحکومت کی طرف سمٹ رہی ہے۔ ۲۰۰۷ء میں ۲۴ حملے کابل میں کیے گئے۔

٭ طالبان ٹیکٹک (Tactic) میں بنیادی تبدیلی کرتے ہیں اور انہوں نے عراق میں ہونے والے آپریشنز کی مماثلت اختیار کرلی ہے۔ فی الحال طالبان کا آپریشنل وطیرہ گوریلا جنگ و گوریلا گریز سے مرکب ہے، جس میں خودکش حملے، سڑکوں کے کنارے نصب شدہ اور ریموٹ کنٹرول بموں کا استعمال، انسان کش اور ٹینک کش بارودی سرنگوں کا استعمال اور ایئرپورٹس اور فوجی بیسوں پر راکٹ فائر کرنا وغیرہ جیسے طریقے شامل ہیں۔

٭ طالبان کی جانب سے خود کش حملوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ (۲۰۰۷ء میں ۱۴۰ خود کش حملے کیے گئے جبکہ ۲۰۰۶ء میں یہ تعداد ۱۲۲ حملوں کی تھی)۔
٭ ۲۰۰۷ء میں تمام جھڑپوں، آپریشنز اور بم دھماکوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر ۶۵۰۰ افراد مارے گئے جس میں ۱۰۰۰ افغان فوجی اور ۲۲۵ بیرونی ممالک کے فوجی (۱۱۰ امریکی، ۴۱ برطانوی،
۳۰ کینیڈین۔۔۔) شامل تھے۔ باقی مر جانے والے یا تو افغانستان کے عام شہری تھے یا خود طالبان۔

٭ ۲۰۰۲ء سے لے کر ۲۰۰۷ء کے اختتام تک تقریباً ۷۴۰ غیرملکی مارے گئے جس کے ۳۰ فیصد (یعنی ۲۲۵ غیرملکی فوجی) صرف ایک سال یعنی ۲۰۰۷ء میں مارے گئے۔

افغانستان میں NATO کی کمزوریاں

عوامی افکار کا دباؤ

نیٹو ممالک جب افغانستان میں داخل ہو رہے تھے تو انہوں نے اپنے اپنے ممالک میں پائے جانے والے گروہوں اور اپنی عوام نیز خصوصی طور پر حزب اختلاف وغیرہ کے لیے اقدام کی قانونی و اخلاقی حیثیت پیش کرتے ہوئے یہ وضاحت کی تھی کہ افغانستان میں ان کی موجودگی بہت کم مدت کے لیے ہے اور اس پر اخراجات بھی بہت زیادہ نہیں آئیں گے۔ اپنے اہداف انہوں نے انسان دوستی اور افغانستان کی تعمیر و ترقی بتائے تھے۔ انہوں نے تو یہاں تک دعویٰ کیا تھا کہ کسی غیرفوجی یا باغی شخص پر گولی تک نہیں چلائی جائے گی۔ تاہم فی الحال ان ممالک کی عوام اور داخلی گروہ جات دیکھ رہے ہیں کہ نیٹو کی افغانستان میں موجودگی امداد کے بجائے امن و امان برقرار رکھنے کی کوششوں میں اور اس ملک کی تعمیر و ترقی کی سرگرمیوں کے بجائے ایک مکمل قسم کی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے کہ جس میں بھاری مالی و جانی نقصانات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔ درحقیقت نیٹو ممالک میں عوام کی یہ سوچ بنتی جا رہی ہے کہ نیٹو کے آپریشنز میں وسعت وہ بھی سقوط طالبان کے ۶ یا ۷ سال بعد افغانستان کی صورتحال کی ناگفتہ بہ ہونے کی دلیل ہے اور مستقبل میں نیٹو کی افواج کے لیے صورتحال اور سنگین ہونے کی علامت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نیٹو ممالک میں عام لوگوں کے افکار اور حزب اختلاف کے دبائو کے باعث داخلی صورتحال دن بدن کمزور تر ہوتی چلی جا رہی ہے اور اکثر ممالک اپنی افواج کی افغانستان میں موجودگی کے حوالے سے تجدیدِ نظر کا سوچ رہے ہیں۔

اندرونی اختلافات اور غیرمنظم فیصلے

NATO افواج کا کوئی متمرکز (Concentric) نظام نہیں ہے ایسے ہی ان کے فیصلے غیرمنسجم ہیں۔ نیٹو ممالک کی کثیر تعداد اور مختلف ممالک کی اندرونی اور داخلی سیاستوں میں تفاوت اس چیز کا سبب بن گیا کہ نیٹو تنظیم کے فیصلے بھی تفاوت کا شکار ہونے لگے۔ مثال کے طور پر ۲۶ ممالک نیٹو کے عضوو رکن ہیں، ۱۱ اور ممالک ان کے شریک وہم کار ہیں ایک قالب (آئی ساف)کی شکل میں ایک دوسرے کے اِرد گرد آ گئے ہیںان تمام کا نقطہ و نظر ایک دوسرے سے بہت حد تک جدا ہے حتیٰ کہ یہ تفاوت خود افغانستان میں موجودگی اور آپریشن کرنے جیسے موضوعات پر بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فرانس، جرمنی، اٹلی اور اسپین جیسے ممالک افغانستان کے بحرانی علاقے سے اپنے آپ کو دور رکھے ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق نیٹو اراکین کے مابین مختلف گفتگو اور عہد نامے زیر بحث لائے گئے اور لائے جا رہے ہیں کہ کیا کیا جائے جس سے ظاہر ہو کہ نیٹو افغانستان کامیاب و کامران واپس گئی ہے۔ البتہ یہ سب زبانی جمع خرچ تک محدود رہا جبکہ عملی میدان میں نیٹو اراکین کوئی ایسی سرگرمی نہ دکھلا سکے۔

گوریلا جنگیں لڑنے کی تیاری نہ ہونا

نیٹو گو کہ غیرتجربہ کار بھی ہے اور اس کی صلاحیتیں بھی کافی نہیں ہیں لیکن اس سے ہٹ کر جو بڑی مشکل پیش آئی وہ یہ کہ ایک طاقت فرسا اور خونی جنگ سے دوچار ہو گئی۔ نیٹو ایک ایسی سرزمین میں موجود ہے کہ جہاں اس سے پہلے بیرونی حملہ آور، جیسے ۱۹ ویں صدی میں برطانیہ اور ۲۰ ویں صدی میں روس شکست سے دوچار ہوئے۔ مسلح اور با انگیزہ گوریلوں (یعنی طالبان) سے جنگ کے لیے اس سے زیادہ انگیز اور افرادی قوت درکار ہو گی اور یہ وہ چیز ہے کہ آج نیٹو اس سے محروم ہے۔ طالبان زیادہ تر پہاڑی علاقوں میں جنگ و گریز کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ وہ با آسانی سرحدوں پر واقع دشوار گزار پہاڑیاں بھی کراس کر لیتے ہیں کہ جس کے باعث انہیں زیادہ اور سنگین نقصان نہیں اٹھانا پڑتے اور یہی نہیں بلکہ وہ انتہائی کم وقت میں اپنے آپ کو لڑنے کے لیے دوبارہ آمادہ و تیار کر لیتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں نیٹو ایسے علاقوں میں جنگوں کا بہت کم تجربہ رکھتی ہے اور اسی باعث اسے بھاری اور سنگین نقصانات اٹھانا پڑے اور وہ نفسیاتی و روحانی طور پر بھی حوصلہ ہار چکے ہیں اور افسردگی اور تھکاوٹ کا احساس کرتے ہیں۔

افغانستان میں ٹھہرنے کے اخراجات

مالی اخراجات کا موضوع بھی ایک جزوی مشکل ہے کہ نیٹو اراکین کو اپنے اپنے ملکوں میں اسی حوالے سے بجٹ کی منظوری اور وصولی کے لیے سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ حقیقت میں نیٹو کو افغانستان میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے کئی ایک دہائیاں وہاں رہنا پڑے گا۔ لامحالہ اس حوالے سے انہیں بہت بڑی مقدار میں مالی وسائل کی ضرورت پڑے گی اور یہ ایسا موضوع ہے کہ انہیں اپنے اپنے ممالک میں حزب اختلاف اور عوامی سوچ کی موافقت میسر نہیں آ سکی۔ روز بروز وہاں عوام اور عوامی نمائندوں کا افغانستان میں ٹھہرنے کے لیے اتنا زیادہ بجٹ خرچ کرنے کی مخالفت بڑھتی چلی جا رہی ہے۔

پُرخطر علاقوں میں ٹھہرنے سے گریز

جنوبی افغانستان کے پُرخطر علاقوں میں صرف ۳ ممالک برطانیہ، کینیڈا اور ہالینڈ کی افواج موجود ہیں اور ایک تجزیہ کے مطابق موجودہ محدود توانائی کے ساتھ یہ افواج طالبان کے پے در پے حملوں کا زیادہ لمبی مدت تک مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ جنوبی افغانستان میں نیٹو کو اپنی رٹ قائم رکھنے کے لیے موجودہ سے کئی گنا زیادہ افراد اور وسائل درکار ہوں گے۔ وہ ممالک کہ جن کی افواج افغانستان کے جنوبی علاقوں میں بھیجی گئی ہیں وہ نسبتاً کئی زیادہ مشکلات سے دوچار ہیں اور طالبان کے حملوں کے مقابلے میں اپنے لوگوں سے محروم ہوتے چلے جا رہے ہیں۔

انسانی و جنگی وسائل کی قلت

افغانستان میں نیٹو کی سب سے بڑی مشکل اُس کی انسانی و جنگی وسائل کی قلت ہے۔ نیٹو کے بنیادی اعضاء یعنی فرانس، جرمنی، ہالینڈ، اٹلی اور اسپین نے افغانستان میں اپنی فوجیں بھیجنے کی علی الاعلان مخالفت کی ہے۔ اس اتحاد کے چند نئے اور چھوٹے اعضاء امریکا و برطانیہ کے دبائو میں آکر اور کچھ مالی و سیاسی مفادات کی لالچ میں اپنی مسلح افواج کے محدود دستے افغانستان بھیجنے پر راضی ہوئے تھے اور جنوبی افغانستان کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے بعید نظر آتا ہے کہ وہ اس دشوار ماموریت کو کامیابی کے ساتھ انجام دے پائیں۔ برّی افواج کی کمی اس بات کا سبب بنی کہ نیٹو زیادہ تر فضائی حملوں سے استفادہ کرنے لگی جس کے نتیجہ میں غیرمسلح اور عام شہریوں کی ہلاکتوں کا تناسب کہیں زیادہ بڑھ گیا۔ جس کے باعث عام لوگ کابل حکومت اور مغربی افواج کے خلاف ہوتے چلے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ نیٹو کے اعلیٰ سطح کے افسران نے برّی افواج کی تعداد کو دُگنا کرنے کا مطالبہ کیا (یعنی موجودہ تعداد ۴۰ ہزار سے بڑھا کر ۸۰ ہزارکردی جائے)

افغان معاشرے کے رسم و رواج

افغانستان میں گزشتہ کئی ایک سالوں کے قیام کے باوجود بھی نیٹو کو اس مملکت کے مختلف حصوں اور وہاں کے رائج رسوم و رواج کی اچھی طرح آگاہی نہیں ہو پائی ہے، یہ مسئلہ اس بات کا سبب بنا کہ انہوں نے افغان معاشرے پر حاکم کئی رسوم و اقدار کو پامال کیا اور یوں عمومی سطح پر نہ صرف بے اعتمادی کا شکار ہوئے بلکہ تنقید کا ہدف بھی قرار پائے۔

درحقیقت غیرملکی فوجوں نے افغانستان اور خصوصی طور پر جنوبی افغانستان کے روایتی و قبائلی نظام کو صرفِ نظر کر ڈالا۔ ایسا معاشرہ کہ جہاں تین اہم عنصر یعنی لوگوں میں مذہبی تعصب، اجنبی لوگوں سے متعلق تاریخی بدگمانی اور ایسا معاشرتی نظام جہاں بزرگوں اور سرداروں کی پیروی و اطاعت کی جاتی ہے۔ نیٹو افواج نے اکثر اوقات ان تمام چیزوں سے صرفِ نظر برتتے ہوئے ان کی اقدار و روایات کے خلاف اقدام کیے۔ مثلاً طالبان کی لاشوں کو جلا دینا، عورتوں کی تلاشی لینا، مقدس مقامات میں جوتوں اور کتوں سمیت داخل ہونا، مُردوں کے جسمانی اعضاء سے فٹبال کھیلنا وغیرہ اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ غیرملکی افواج کی افغانوں کے مذہبی اور قومی جذبات سے کس قدر نا آشنائی ہے۔ یہ سب چیزیں اس بات کا باعث بنیں کہ نیٹو افواج گزشتہ چند سالوں میں افغان معاشرے میں کوئی مؤثر ارتباط پیدا نہ کر پائیں۔

افغانستان کی جغرافیائی صورتحال

افغانستان ایک ایسا ملک ہے جس کے احاطے کا تقریباً دو تہائی حصہ بہت بلند اور ناہموار پہاڑی سلسلوں پر مشتمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی جغرافیائی صورتحال میں نہ صرف فوجی آپریشن بلکہ نقل و حمل بھی بہت دشوار امر ہوا کرتا ہے۔ امریکا سمیت نیٹو افواج کو اپنی بری افواج نیز فضائی افواج سے استفادہ کرنے میں بھی افغانستان کے پہاڑی سلسلوں میں بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ان کے جنگی جہاز عموماً پرواز کرتے وقت اور لوٹتے وقت چھوٹے بڑے حادثات کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر بلیک ہاک (Black Hawk) نامی امریکا کا مشہور ہیلی کاپٹر کہ جس نے کئی ایک جنگی محاذوں پر اپنی استعداد کا لوہا منوایا ہوا تھا افغانستان کی جغرافیائی صورتحال سے مناسبت نہیں رکھتا۔ اب تک دسیوں ہیلی کاپٹر اور ہوائی جہاز چھوٹے بڑے حادثات کا شکار ہو چکے ہیں کہ جس میں اکثر کی وضاحت نیٹو نے فنی خرابی کے عنوان سے کی ہے۔

فوجوں میں باہمی ہم آہنگی کا فقدان

افغانستان میں دو مسلح افواج موجود ہیں۔ اتحادی افواج امریکا کی سرکردگی میں اور دوسری نیٹو کی سربراہی میں ایساف افواج۔ یہ دونوں لشکر ظاہری طور پر تو ایک دوسرے سے شباہت رکھتے ہیں لیکن اپنی اپنی قانونی پوزیشن کے اعتبار سے، انتظامی اسٹرکچر کی نوعیت کے اعتبار سے جن اہداف کے لیے مامور کیے گئے ہیں اس اعتبار سے، حملہ اور دفاع کے قواعد میں اور دوسرے مہیا شدہ وسائل اور امکانات سے استفادہ کرنے میں ان میں آپس میں ظاہر بظاہر بھی بہت اختلافات ہیں۔ ان دونوں میں سب سے اہم اختلاف باہمی ہم آہنگی کے فقدان اور سیکوریٹی کی مختلف تعریفوں میں ہے۔ اسی طرح منشیات، آپریشنوں کے طریقہ کار، پاکستان میں طالبان کے خلاف اقدام اور طالبان وغیرہ سے مذاکرات کے موضوعات میں بھی ان میں کافی اختلافات موجود ہیں۔

نیٹو اور اتحادی افواج میں باہمی ہم آہنگی کا فقدان بھی کم مشکل نہ تھا کہ یہ عدم ہم آہنگی کی صورتحال ان میں اور افغان سیکوریٹی فورسز کے مابین بھی پائی جاتی ہے اور یہ صورتحال اس حد تک جا چکی ہے کہ افغان صدر حامد کرزئی بھی کئی مرتبہ نیٹو اور امریکی سرکردگی میں اتحادی افواج دونوں ہی پر الزام عائد کر چکے ہیں کہ افغان فوجوں سے ان کے عدم تعاون اور ہم آہنگی کے فقدان کے باعث بڑی تعداد میں عام افغان شہری مارے جا رہے ہیں۔

عام شہریوں کی ہلاکتیں

۲۰۰۷ء کے دوران غیرملکی افواج کے ہاتھوں عام شہریوں کی جو ہلاکتیں ہوئیں یہ تعداد اس تعداد سے کہیں زیادہ بنی کہ جو اسی عرصے میں افغان مزاحمت کاروں کے ہاتھوں مارے گئے۔ یعنی ۲۰۰۷ء میں چھ ہزار سے زائد غیرفوجی عام شہری طالبان اور بیرونی فوجیوں کے ہاتھوں بے گناہ قتل ہوئے کہ جس میں آدھے سے کہیں زیادہ افغانی اتحادی اور نیٹو افواج کا نشانہ بنے۔ گو کہ نیٹو کے رہنمائوں نے عہد کیا ہے کہ وہ اپنے فوجی آپریشنز کے حوالے سے تجدیدِ نظر کریں گے تاہم ان کے اس عہد کے باوجود بھی عام افغان شہریوں کو پہنچنے والے نقصانات میں کوئی خاطر خواہ کمی نہیں آ پائی ہے جس کے باعث موجودہ افغانی رہنمائوں کی رضامندی بھی انہیں حاصل نہیں ہو سکی ہے۔

بہرحال عام افغان شہریوں کو بڑے پیمانے پر ہونے والے نقصانات ایسی صورتحال میں وقوع پذیر ہو رہے ہیں کہ جب نیٹو کو افغانستان میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے کہیں زیادہ عوامی پذیرائی کی ضرورت ہے۔ آئے دن کی جھڑپوں میں عام شہریوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکت اس بات کا سبب بن رہی ہے کہ نیٹو افواج عوام میں رہی سہی مقبولیت بھی کھوتی جا رہی ہیں اور یہ چیز بجائے خود طالبان کی تقویت کا موجب ہے۔

منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ

منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ نیٹو افواج کو درپیش کئی ایک چیلنجوں میں سے ایک ہے کیونکہ یہ امر طالبان فورسز کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے کافی ثابت ہو رہا ہے۔ موجودہ صورتِ حال میں امریکیوں، انگریزوں اور افغان حکومت میں منشیات کے سدباب کے مہم کے موضوع پر شدید اختلافات اور تحفظات پائے جاتے ہیں۔ منشیات کی کاشت پر پابندی پیداوار اور افغانستان سے باہر اسمگلنگ کے حوالے سے اب تک کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔ اس کے برعکس ان اختلافات کی وجہ سے تریاک کی پیداوار ۲۰۰۱ء میں ۱۸۵ ٹن سالانہ تھی وہ بڑھ کر ۲۰۰۷ء میں ۸۲۰۰ ٹن تک پہنچ گئی۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں طالبان کی محفوظ پناہ گاہیں

طالبان تاحال جنگ گریز کی روش اختیار کرتے ہوئے افغانستان میں اپنے مسلح آپریشن کرنے کے بعد پاکستان کے سرحدی علاقوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔ پاکستانی حکومت نے طالبان کی حمایت کے الزام کو مسترد کیا ہے بلکہ ہمیشہ اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ افغان حکومت دوسروں پر الزامات تھوپنے کے بجائے اپنی سیکوریٹی کے لیے عملی اقدامات اٹھائے۔ نیٹو اور امریکی افواج نے اب تک طالبان کا پیچھا کرتے کرتے کئی دفعہ پاکستان کی سرحدوں کی خلاف ورزی بھی کی ہے۔

افغانستان کی اقتصادی ومعاشرتی تباہ شدہ صورتحال

کابل یونیورسٹی کی جانب سے ۲۰۰۷ء میں افغانستان میں ہیومن ڈیولپمنٹ کی صورتحال کے موضوع پر تحقیقات کی گئیں، جس کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان میں متوسط عمر اور تعلیم و تربیت کی سطح، ہیومن ڈیولپمنٹ کی صورتحال نیز ملک کی معاشی صورتحال دنیا بھر کے دیگر تمام ممالک کی بہ نسبت ابترین سطح پر رہی۔ (نوٹ: اس تحقیقات میں براعظم افریقہ کے ممالک سے مقایسہ نہیں کیا گیا ہے) اس رپورٹ سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ تقریباً ایک تہائی افغان عوام غذائی اجناس تک دسترس نہیں رکھتے یا یہ کہ اس کی شدید قلت سے دوچار ہیں۔ مردوں کی ۳۲ فیصد شرح خواندگی کے مقابلے میں خواتین کی خواندگی کی شرح صرف ۱۰ فیصد ہے۔ شیر خوار بچوں کی ہلاکت کی شرح ہر ہزار بچوں میں ۱۶۵ تک پہنچ چکی ہے۔ یہ مظلوم مملکت چھوٹے بچوں کی ہلاکتوں کے دوران پیدائش اور زچہ و بچہ کی اموات کی شرح کے اعتبار سے دنیا کا سرفہرست ملک ہے۔ ۲۰۰۴ء میں عام افغانوں کی متوسط عمر ساڑھے چوالیس سال تھی جو ۲۰۰۵ء میں گھٹ کر ۴۳ سال رہ گئی۔

افغان عوام میں روشن مستقبل سے مایوسی

افغانستان میں ہونے والے واقعات اس امر کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ امریکی افواج کی مانند نیٹو افواج بھی افغان معاشرے میں دن بدن اپنی رہی سہی حیثیت کھوتی جا رہی ہیں۔ گزشتہ چند ایک مہینوں سے افغانستان کے مختلف حصوں میں برپا ہونے والے احتجاجی مظاہرے یہ بات ثابت کر رہے ہیں کہ نیٹو لوگوں کی حمایت حاصل کرنے میں بڑی حد تک ناکام رہی ہے اور اگر یہ صورتحال اسی حال میں جاری رہی تو افغانوں کا غم و غصہ نہ صرف نیٹو کی ماموریت کے لیے بلکہ اس مملکت میں امن و امان قائم کرنے کے حوالے سے ہر طرح کی کوششوں کے خطرے کی گھنٹی ثابت ہو گی۔ چنانچہ صورتحال پر نظر رکھنے والے ماہرین کی متفقہ رائے ہے کہ نیٹو کو ہر چیز سے پہلے افغان عوام کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اس ضمن میں انہیں کسی بھی قسم کا مسلح آپریشن کرنے کے لیے افغان حکومت اور اس کے سیکوریٹی کے اداروں کے ساتھ بھرپور ہم آہنگی کرنا چاہیے۔

طالبان کی توانائی میں اضافہ

دلائل سے صرف نظر برتتے ہوئے یہ بات آسانی سے دیکھی جا سکتی ہے کہ گزشتہ چند سالوں میں طالبان نے اپنے ساتھ چلنے والوں کی ایک بار پھر تنظیم سازی کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے اپنی ٹیکٹک (Tactic) کو بھی اپ ڈیٹ (Up Date) کیا ہے۔ نئے لوگوں کی بھی بھرتی کی ہے اور انہیں تربیت فراہم کی ہے اور ان سب سے بڑھ کر جو بات اہمیت کی حامل ہے کہ افغانستان کے عوام میں اپنے لیے کچھ نہ کچھ جگہ بھی بنا لی ہے۔اس میں شک نہیں کہ افغانستان میں نئے لوگوں کی بھرتی کے حوالے سے طالبان کو ملنے والی کامیابیوں میں کابل حکومت کی پالیسیوں اور بین الاقوامی معاشرے کے کردار کا بھی ایک بہت بڑا ہاتھ ہے۔ خصوصاً اگر آپ جنوبی افغانستان پر نظر ڈالیں کہ جو افغانستان کا محروم ترین علاقہ ہے وہاں گزشتہ ۴ سال سے زائد عرصہ میں کسی قسم کی محسوس کی جانے والی تعمیر نو کے نشانات تک نہیں ملتے ہیں۔

نیٹو کا طریقِ کار

نیٹو نے افغانستان میں اپنی کامیابی اور فتح کے لیے کم از کم اس مملکت سے اپنی عزت و آبرو کے ساتھ رخصتی کے عنوان سے ایک روڈ میپ کی ترسیم کی ہے جس پر آنے والے چند مہینوں سے اس کے مطابق عمل درآمد شروع ہو جانے کا احتمال ہے۔ اس روڈ میپ کے بعض اہم سنگِ میل ذیل میں درج ہیں:

فوجیوں کی تعداد میں اضافہ

گزشتہ دو سال سے زائد عرصے سے نیٹو کے افسران برابر مطالبہ کرتے چلے آ رہے ہیں کہ انہیں افغانستان میں کم از کم ۷۵۰۰ مزید فوجیوں کی ضرورت ہے۔ یہ نیٹو کے باقی ماندہ اراکین سے فوجیں بھیجنے کی درخواست کر رہے ہیں، لیکن آخری اطلاعات آنے تک انہیں کوثی مثبت جواب نہیں ملا۔ چنانچہ یہ مسئلہ اس بات کا باعث بنا کہ نیٹو کے چند اراکین کے ہمراہ امریکا و برطانیہ ذاتی طور پر افغانستان میں فوجیوں کی قلت دور کرنے میں کوشاں ہیں۔ اس کے باوجود بھی معلوم یہی ہوتا ہے کہ مندرجہ ذیل دو دلائل کے باعث فوجیوں میں اضافہ سے صورتحال میں کوئی خاص افاقہ نہیں ہو گا:

پہلی بات تو یہ ہے کہ فوجی ماہرین کے نکتۂ نظر کے مطابق طالبان سے نمٹنے کے لیے نیٹو کی افواج کی تعداد کو دُگنا کرنا ہو گا (یعنی موجود ۴۰ ہزار سے ۸۰ ہزار)۔ اس کے علاوہ دوسرے جنگی وسائل جیسے جنگی ہیلی کاپٹر اور دوسرے ذرائع نقل و حمل کی بھی اشد ضرورت ہے۔

دوسری چیز یہ ہے کہ ماہرین یہ بھی نظر رکھتے ہیں کہ نیٹو بجائے اس کے کہ اپنی فوجی قوت میں اضافہ کرے بلکہ اسے چاہیے کہ افغانستان کی اپنی فوج اور پولیس کو وسائل اور تربیت سے لیس کرے۔ درحقیقت اگر افغانستان کی سیکوریٹی فورسز وسائل سے لیس ہو کر مزید قوی ہو جائیں گی تو غیرملکی فوجیوں کی کوئی ضرورت ہی باقی نہیں بچے گی۔ ان ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ غیرملکی فوجیوں کی تعداد جتنی زیادہ ہوتی جائے گی مخالفت و مزاحمت کرنے والوں کو نفسیاتی تقویت بڑھتی چلی جائے گی اور وہ اس دلیل کے باعث کہ افغانستان پر جارحیت کی گئی ہے لہٰذا اس مملکت میں جہاد جائز ہے اپنی قومی اور مذہبی افغانی و غیرافغانی انسانی قوت میں اضافہ کرتے چلے جائیں گے۔

علاقہ کے دیگر ممالک (عموماً مسلم ممالک) کو دعوت

ممکن ہے کہ آنے والے چند مہینوں میں نیٹو چند ممالک جیسے مصر، اردن، الجزائر، ماریطانیہ، مراکش، تیونس نیز اسی طرح خلیج فارس سے بھی چند ایک ممالک سے درخواست کرے کہ وہ اپنی فوجوں کو افغانستان میں تعینات کریں اور یوں اس ذریعہ سے نیٹو کے شراکت دار بن جائیں۔ ان کا یہ مطالبہ کرنا درج ذیل تین دلائل کی بنیاد پر ہو سکتا ہے:

پہلے تو یہ کہ خود نیٹو کے اراکین مزید اپنی افواج بھیجنے کی لیاقت و توانائی نہیں رکھتے، دوسرے یہ کہ گزشتہ سال سے افغان معاشرے میں مغربی افواج کی مخالفت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے اور تیسرے یہ کہ نیٹو کا یہ گمان ہے کہ مسلم افواج کی موجودگی اس بات کا باعث بنے گی کہ طالبان جو یہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ ہمارے ملک پر کفار افواج نے قبضہ جمایا ہوا ہے تو ایسے پروپیگنڈے کو بے اثر بنایا جا سکے گا۔ چنانچہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ امریکی صدر جارج بش کے مشرقِ وسطیٰ کے آخری دورہ کا مقصد ان ممالک کو اپنی افواج افغانستان میں بھجوانے کے لیے آمادہ کرنا تھا۔ تاہم صرف اردن ہی نے حامی بھری تھی لیکن چند دوسرے ممالک بھی امریکا سے چند ایک مفادات کے حصول کی خاطر افغانستان میں اپنی افواج بھیجنے پر راضی ہو جائیں گے۔ البتہ افغانستان میں دوسرے ملکوں کی فوجوں کی تعیناتی سے نیٹو اور امریکا کو خاص فائدہ ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے کیونکہ دن بدن غیرملکی فوجوں کے خلاف غم و غصہ اور انہیں نکال باہر کرنے کا عزم بھی قوی تر ہوتا جا رہا ہے۔

بیک وقت فوجی آپریشن اور تعمیر نو کی کوششیں

افغانستان میں عوامی حمایت کے حصول اور حاصل شدہ مفادات کے تحفظ کی خاطر نیٹو کو نہ چاہتے ہوئے بھی غیرفوجی اور اقتصادی پروجیکٹس میں اضافہ کرنا پڑے گا۔

صوبوں کی بحالی اور تعمیر نو کی ٹیمیں کو پی۔ آر۔ ٹی (PRT) کہا جاتا ہے۔ ان ٹیموں میں فوجی اور غیرفوجی عملہ کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ ٹیمیں نیٹو کی سرپرستی میں کام رہی ہیں اور یہ بیک وقت افغانستان کے مختلف صوبوں میں امن و امان کی صورتحال کی برقراری نیز تعمیر نو کے کئی ایک پروجیکٹس پر کام کر رہی ہیں۔ یہ ٹیمیں نیٹو اور افغان معاشرے میں رابطے کا پل شمار ہوتی ہیں۔ نیٹو اور اتحادی افواج نے اعلان کیا ہے کہ رواں عیسوی سال میں جنوبی افغانستان کی تعمیر نو کے حوالے سے زیادہ توجہ دی جائے گی کہ یہاں چھ سال سے زائد عرصے میں اس حوالے سے کوئی کارکردگی نہیں رہی ہے۔

روس کو دعوت دینا

نیٹو کا ایک اور پروگرام جو رواں سال کے لیے تھا وہ یہ کہ افغانستان کے مسائل میں روس کو الجھانا۔ تاہم اب تک روس نے نہایت ہوشیاری سے افغان مسائل میں الجھنے سے گریز کیا ہے۔ روس نے جب سے اپنے آپ کو افغانستان سے باہر نکالا ہے تب سے اسے احساس ہے کہ امریکا اور نیٹو کی اسے دوبارہ ملوث کرنے کی درخواستیں درحقیقت روس کو پھنسا کر خود باعزت نکلنے کی کوشش ہیں۔

روس کا خیال ہے کہ افغانستان میں نیٹو کی بدترین شکست اس تنظیم کے اعتبار (Credibility) کو ختم کر دے گی اور یوں اس تنظیم کی اور ممالک تک توسیع بھی رُک جائے گی اور یہ وہ چیز ہے کہ ماسکو کی خوشحالی کا سبب بنے گی۔

طالبان سے مصالحت

نیٹو کی ترجیحات میں سے ایک طالبان سے مصالحت بھی کرنا اور اس کے نتیجہ میں زیادہ لڑائیوں سے اجتناب برتنا ہے۔ یہ ایسے وقت ہو رہا ہے کہ افغان حکومت نے بھی چند ماہ قبل طالبان سے مذاکرات کے لیے اپنے میلانات کا اظہار کیا تھا۔ افغان رہنمائوں کا یہ کہنا ہے کہ وہ صرف ان لوگوں سے مذاکرات کریں گے کہ جو افغانستان کے موجودہ آئین اور اس مملکت کی گزشتہ چار سالوں کی پالیسیوں سے اتفاق کریں گے۔

پاکستان پر دبائو

۲۰۰۸ء میں نیٹو اور اتحادی افواج کا یہ پروگرام بنا کہ اس سال طالبان سے مقابلے کے لیے پاکستان پر سیاسی دبائو بڑھایا جائے گا۔ حتیٰ امریکی کانگریس کے بعض نمائندوں نے امریکی حکومت کو سفارش کی کہ پاکستان کو مالی اور فوجی حوالے سے دی جانے والی امداد کو طالبان کی حقیقی سرکوبی سے مشروط کرے۔ نیٹو اور کابل حکومت کا خیال ہے کہ افغانستان میں طالبان کی جانب سے انجام دیے جانے والے آپریشن اور اس کے بعد ان کا پاکستان کے اندرونی علاقوں میں فرار، جہاں ان کے لیے محفوظ پناہ گاہیں ہیں کے باعث وہ نیٹو افواج کے حملوں سے بچے رہتے ہیں۔ لیکن برطانیہ اور حکومتِ پاکستان اس مسئلہ پر شدید مخالفانہ نکتہ نظر رکھتے ہیں۔ برطانوی حکومت اور پاکستانی حکومت جو اس حوالے سے اپنی خارجہ سیاست میں ایک مؤقف کے حامل نظر آتے ہیں ان کا استدلال یہ ہے کہ پاکستانی سرزمین میں نیٹو کی مداخلت نہ صرف یہ کہ پاکستان کی قومی حاکمیت کے ناقص ہونے کا اظہار ہو گی بلکہ پاکستانی عوام اور سیاسی پارٹیوں کے مذہبی جذبات کو بھی ٹھیس لگے گی۔ جس کے نتیجے میں پاکستان اور افغانستان میں مغرب کے خلاف جذبات میں شدت آئے گی اور طالبان و القاعدہ کی طرف میلان میں بھی اضافہ ہو گا۔

افغان قبائل کو مسلح کرنا

افغانستان میں طالبان کی شورش سے نمٹنے کے لیے ایک اور اہم قدم جو اُٹھائے جانے کی سفارش کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ افغانستان کے سرحدی علاقوں میں آباد پشتون قبیلوں کو جدید آلاتِ حرب سے مسلح کیا جائے تاکہ وہ پاکستان سے آنے والے طالبان کا مقابلہ خود کریں۔ یہ منصوبہ بندی برطانوی لوگوں نے کی تھی لیکن امریکا اور افغان حکومت اس پروگرام کے شدید مخالف ہیں۔ ان کی مخالفت کی تین دلیلیں ہیں:

پہلی یہ کہ اپنے علاقوں میں مسلح طالبان شورشوں سے دفاع کی خاطر افغان قبائل کو مسلح کرنے سے وہ بھی ایسے علاقوں میں جہاں انگریز موجود ہیں، مشکل حل کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکے گا۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ کہیں اس سے سوء استفادہ کرتے ہوئے وہ اپنے قوم و قبیلہ کی جنگوں میں نہ مبتلا ہو جائیں۔ تیسری دلیل خود اس منصوبہ کی مخالفت ہوتی ہے کہ جس کے ذریعہ افغان معاشرے کو اسلحہ سے پاک کرنے کا ۲۰۰۱ء میں بین الاقوامی برادری سے وعدہ کیا گیا تھا۔ امریکا اور افغان حکومت کو یقین ہے کہ قبیلوں کے مسلح ہونے سے افغانستان میں ایک بار پھر سے بندوق کی زبان سے بات کرنے کا احیاء ہو جائے گا اور افغانستان میں مسلح گروہوں سے ہتھیار لینے کے منصوبے پر پانی پھر جائے گا جس پر گزشتہ کئی سالوں سے محنت کی جا رہی ہے۔

نتیجہ

تمام اعداد و شماراس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ افغانستان کی صورتحال انتہائی غیرمعمولی ہے اور عراق پر حملہ کی وجہ سے اس مملکت پر عالمی برادری کی بے توجہی کے باعث صورتحال یہاں تک آ پہنچی کہ طالبان دوبارہ طاقتور ہونا شروع ہو گئے۔ مندرجہ بالا شواہد اس بات کا ثبوت ہیں کہ نیٹو اس مملکت میں دشوار اور پیچیدہ ماموریت سے رو برو ہو چکی ہے۔ جہاں انہیں تابڑ توڑ گوریلا حملوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور وہ خود بھی اب یہی گمان کرنے لگے ہیں کہ کوئی نہیں جانتا ایسی جنگوں کا بالآخر انجام کب اور کیا ہو گا؟ طالبان کی جانب سے خود کش حملے کہ جن کو روکنا کوئی آسان کام نہیں ہے، انہوں نے نیٹو کو سب سے زیادہ مشکلات میں ڈال رکھا ہے۔ نیٹو اراکین بذاتِ خود مشاہدہ کر رہے ہیں کہ وہ اس مشکل کو حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور دوسری جانب تاریخ میں برطانیہ اور روس کی اس علاقے میں شکست بھی ان کے مدنظر ہے اور ان سب سے بڑھ کر کابل حکومت بھی فی الحال کمزور اور ناکارہ نظر آ رہی ہے۔ چنانچہ نیٹو کو اپنی کامیابیوں کا تصور بھی ایک بہت چھوٹا سا چانس معلوم ہوتا ہے ان تمام باتوں کے مجموعہ سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ نیٹو اس وقت ایک قسمت ساز دوراہے پر آ کھڑی ہوئی ہے:

۱۔ افغانستان سے فوری انخلاء کہ جس کے باعث نیٹو کی (Credibility) کو شدید دھچکا لگے گا وہ بھی یورپ سے باہر اپنی پہلی تعیناتی پر ناکام ہوئی۔ ۲۔ افغانستان میں اپنے قیام کو تسلسل دینا کہ جس کا لازمی نتیجہ بھاری جانی و مالی نقصانات کی صورت میں ہو گا۔

(بحوالہ: ماہنامہ ’’منتظر سحر‘‘ کراچی)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.