Abd Add
 

بنگلا دیش سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات

بنگلہ دیش سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے الیکشن میں عوامی لیگ اور حکمران اتحاد کے حامیوں کو زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس الیکشن کی اہمیت تو ویسے بھی مسلّم ہے۔ لیکن جب الیکشن جیتنے کے لیے حکمران پارٹی نے اپنا پورا زور لگایا تو اس سے یہ الیکشن پوری قوم کی نگاہوں کا مرکز بن گیا۔ ۳۰، ۳۱ مارچ ۲۰۱۱ء کو کُل ۱۴ نشستوں کے لیے انتخابات ہوئے۔ یکم اپریل صبح پونے چار بجے نتائج کا اعلان ہوا۔ بی این پی کی قیادت میں اپوزیشن کے چار جماعتی اتحاد کے حامی پینل نے صدر اور سیکریٹری سمیت ۱۱ نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی۔

۳۱ مارچ کی رات کو گنتی شروع ہوئی تو حکمران پارٹی کی ناکامی سامنے آنا شروع ہوئی۔ رات ۱۲ بجے کے بعد، عوامی لیگ کے اسٹوڈنٹ ونگ ’’چھاترو لیگ‘‘ کے افراد سپریم کورٹ کی عمارت میں گھس گئے اور ہنگامہ آرائی کرنے کی کوشش کی۔ لیکن وکلاء برادری نے اس کو ناکام بنا دیا۔ اپنی شکست کو یقینی دیکھ کر اٹارنی جنرل سمیت عوامی لیگ کے چوٹی کے وکلاء وہاں سے رخصت ہوگئے۔ اس الیکشن میں لوگوں کی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بنگلہ دیش کے سابق صدر، ایڈوکیٹ عبدالرحمن بشاش اور بی این پی اور جماعت اسلامی کے سینئر وکلاء نتائج کے اعلان تک وہاں موجود رہے۔ رزلٹ آتے ہی جلوس نکالا گیا اور کامیابی کی خوشی میں پرجوش نعرے بازی ہوئی۔ سپریم کورٹ بار کے نومنتخب صدر خوندکر محبوب حسین نے (جو خالدہ ضیا کے سیاسی مشیر بھی ہیں) جلوس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری فتح درحقیقت ’’عوامی جاہلیت‘‘ کی شکست ہے۔ انہوں نے کہاکہ عوامی لیگ اور اس کے اتحادیوں نے عدالتی نظام کو درہم برہم کرکے رکھ دیا ہے۔ ہم ایک دفعہ پھر عدالتی نظام کو عدل و انصاف کے حُسن سے آراستہ کریں گے۔ انہوں نے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ لوگ ہر قسم کے خوف اور لالچ سے بالاتر ہو کر انصاف کا راج قائم کریں۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ بار ایسوسی ایشن کے اس انتخاب میں اپوزیشن کی ایسی کامیابی حکومت کے خلاف جاری تحریک میں اہم کردار ادا کرے گی۔

☼☼☼

Leave a comment

Your email address will not be published.


*