Abd Add
 

بوسنیا سے وابستہ وحشتناک یادیں

نورا السفیک اور اسکی بالغ بیٹی مقبولا (Magbula) Tuzla میں واقع اپنے گھر سے سربرانیکا مہینے میں دو بار بذریعہ بس بوسنیا کے پہاڑیوں میں واقع معدنیات سے مالا مال شہر کو جاتی ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں نازی موت کے کیمپوں کے بعد یورپ کا بدترین قتلِ عام دیکھنے میں آیا تھا۔ ۱۱ جولائی ۱۹۹۵ء کو سربیائی فوجیں جن کی قیادت جنرل راٹکو ملادک (Ratko Mladic) کر رہے تھے‘ نے سربرانیکا میں کم و بیش ۷۸۰۰ مسلمان مردوں اور بچوں کو قید کر کے ذبح کر دیا۔ انہی کی طرح اور بھی بہت ساری عورتیں۔ بیوہ‘ یتیم اور بھائیوں سے محروم ہو گئیں۔ وہ قصبہ جہاں صرف ۳۵۰۰ مکین رہتے ہیں‘ وہاں روزانہ چار بسیں Tuzla اور سراجیو کے لیے چلتی ہیں‘ جو کہ دو گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ نورا اور اس کی بیٹی Potocari گائوں کے قبرستان پر رُکیں، جہاں سے ابھی چند روز پیشتر۱۴۰۰ لوگوں کی لاشیں دریافت ہوئیں تھیں جو وہاں مدفون تھیں بشمول نورا کے بیٹے ازمیر کے جس کو یہاں دفن کردیا گیا تھا۔وہ اپنے خالی اور نصف تباہ شدہ گھر کو دیکھنے گئے اور اسی شام وہ بس سے واپس ہوئے۔ مقبولا نے کہا ’’میں یہاں رات نہیں گزار سکتی‘‘۔ جب ہم قصبہ میں داخل ہوئے تو ہمیں اپنے اوپر ایسے نوارد کا گمان ہوا جیسے کسی خوفناک فلم میںکسی کو شہر میں داخل ہوتے ہوئے دکھایا جاتا ہے۔ ہم تزلا (Tuzla) واپس ہوئے‘ جہاں ہم مناسب سے پناہ گزینوں کے کیمپوں میں رہتے تھے۔ نورا اور مقبولا نے حال ہی میں حقیقی زندگی پر مبنی ایک خوفناک فلم دیکھی‘ جو کہ گھر کی بنی ہوئی تھی اور جس کو جنگی جرائم کے ٹریبونل نے یکم جون کو Hague میں جاری کیا تھا‘ فلم میں سرب نیم فوجی یونٹ Scorpions کو دکھایا گیا تھا‘ جو کہ خوشگوار موڈ کے ساتھ لوگوں کو سزائے موت دے رہے تھے۔ نورا کو وہ کلپ یادآئے جسے اس نے گزشتہ مہینے بوسنیائی ٹی وی نیٹ ورک پر بار بار دہرائے جاتے دیکھا تھا جس میںانائونسر (خبریں پڑھنے والے) نے کہا اب ایک ماں اپنے بچے کو دیکھے گی اور ایک بہن اپنے بھائی کو دیکھے گی اور واقعتا ایسا ہی ہوا۔ نورا نے فوراً ہی اپنے سولہ سالہ بھائی ازمیر کو پہچان لیا جو ڈاکٹر بننا چاہتا تھا۔اس نے اس کی زندگی کے آخری ۱۰ منٹ دیکھے۔ ’’میرے بیٹے انہوں نے تمہیں قتل کر دیا‘‘۔ وہ پہلی بار چلائی۔ اس نے دیکھا سرب فوجی نے اس کو پیٹ میں دو بار گولیاں ماریں۔ ایک قاتل Branislav Medic جس کی شناخت سربیا کی پولیس نے کی۔ وہ ایک کار مکینک تھا جو Stejanovic سربیا کا رہنے والا تھا‘ چار بچیوں کا باپ۔ ’’میرا بچہ پیچھے مڑا گویا کہ وہ مدد کا طالب ہو اور انہوں نے اسے دوبار قتل کیا۔ اس نے کہا (ازمیر ابھی زندہ تھا پہلے گولی لگنے کے باوجود لیکن اس کے قاتلوں نے تین بار اس کو دوبارہ گولیاں ماریں)۔ قاتل چیونگم چبا رہے تھے۔ گویا میرے بیٹے کا قتل ان کے لیے تفریح تھی۔ ازمیر پا برہنہ تھا‘ وہ اس کی مدد تو نہیں کر سکتی تھی لیکن اس نے جوشِ غضب سے اس منظر کو دیکھا جو ایک ماں کے دل میں اپنے بچے کے قتل کے حوالے سے پیدا ہو سکتا تھا۔ تقریباً ایک دہائی کے بعد‘ ڈیٹن امن معاہدہ کے نتیجے میں بوسنیا کی خانہ جنگی اپنے اختتام کو پہنچی۔ لیکن اس تنازعہ کے زخم ہنوز ابھی تازہ ہیں۔ ’’یہ جنگ بغیر کسی شکست اور فتح کے ختم ہوئی۔‘‘ اس طرح ہر کوئی جیت گیا اور ہر کوئی ہار گیا۔ جو کچھ نتائج سامنے آئے ان کی کوئی تسلیم شدہ حیثیت نہیں ہے۔ Zdravko Grebo سراجیو یونیورسٹی کے ایک مشہور قانون کے استاد ہیں۔ وہ Dayton معاہدہ کو Frankenstein دستاویز قرار دیتے ہیں)۔ اس معاہدہ سے اگرچہ جنگ ختم ہو گئی لیکن اس معاہدے نے داخلی اختلاف کو تقدیس کا درجہ دے دیا اور اس طرح دو مملکتیں تخلیق ہوئیں۔ The Republika Srpska اور Muslim croat Federation ہر ایک کی اپنی پولیس اور آرمی اور بیورو کریسی (افسر شاہی) ہے۔ مرکزی حکومت کے ساتھ ہی تین رکنی صدارتی نمائندگی ہے جس میں کروٹس‘ مسلمان اور سرب شامل ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ملک میں پانچ صدور‘ دو وزراے اعظم اور مہمان بین الاقوامی ایجنسیاں ہیں جو درحقیقت معاملات چلارہی ہیں۔

بوسنیا کے گائوں اور قصبوں میں لوگ دوران جنگ سے بھی زیادہ الگ الگ رہتے ہیں‘ یہاں سراجیو میں مشکل سے صرف ایک سرب کی دکان ہے۔ کبھی اسے مختلف النسل شہر ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔ لیکن اب بچے علیحدہ اسکولز جاتے ہیں۔ مختلف Communities میں رہتے ہیں۔ اپنی حفاظت کے لیے نسلی بنیادوں پر قائم پولیس فورس کی جانب دیکھتے ہیں۔ جو سرب علاقے میں رہتے ہیں‘ وہ اپنے آپ کو پڑوسی سربیا کا حصہ سمجھتے ہیں نہ کہ بوسنیا ئی۔ اپنے آپ کو بوسنیائی کہلانے سے زیادہ اپنے پڑوسی سربیا کو اپنی شناخت رکھتے ہیں۔ بوسنیا اور ہرزوگویناجس سے ہرزوگوینا جو کہ بوسنیا کا دوسرا بڑا حصہ ہے اس میں کروشین ہیں۔ کروٹس اپنے آپ کو علیحدہ اور غیرمستحکم سمجھتے ہیں۔ ہرزوگوینا کے کروشین جو کہ بوسنیا اور ہرزوگوینا کے نصف ہیں‘ اپنے آپ کو ایک غلط مملکت میں محصور سمجھتے ہیں۔

آبادی کی یہ آمیزش موروثی طور پر شعلہ ور ہے۔ Paddy Ashdown عالمی برادری کا اعلیٰ نمائندہ اور لازمی طور سے بوسنیا کا ایک مہربان آمر تھا، یہ دونوں سرکاری عہدے اس کے پاس تھے۔ اس کو عہدیداروں کو ہٹانے اور قوانین وضع کرنے کا اختیار دیا گیا ۔ اس نے دو صدور کو جبری طور پر ہٹا دیا اور سربز کو بالآخر مجبور کیا کہ وہ سربرانیکا میں قتل و غارت گری کا اعتراف کریں۔ پہلے مرحلے میں اسے۵۰ افسران کو نکالنا پڑا تھا۔ آخرکار گذشتہ سال بوسنیا کے سرب صدر Dragon Cavic نے اعتراف کیا کہ سربرانیکا میں ہزاروں بوسنیائی شہریوں کو ایک ایسے انداز میں ختم کر دیا گیا جو کہ عالمی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی تھی۔ لفظی ہیر پھیر کے ذریعے نسل کشی اور قتلِ عام جیسے الفاظ کے استعمال سے گریز کیا گیا۔ اسی مارچ میں بوسنیائی سرب حکومت نے ایک رپورٹ جاری کی‘ جس میں سربرانیکا کا احاطہ کیا گیا ہے اور جس میں بالآخر قتلِ عام کے ۸۰۰ مجرمین کے نام شامل کر لیے گئے۔ ممکن ہے یہ دستاویزات بہت مختصر ہوںاور بہت تاخیر سے ہاتھ آئے ہوں جس سے عام لوگوں کے زخم کو بھرنا مشکل ہو گیا ہو۔ لیکن آج کا سربرانیکا ۱۹۹۶ء کے مقابلے میں بہت زیادہ بدتر حالات سے دوچار ہے۔ میرا آخری سفر اِدھر ۱۹۹۶ء میں ہوا، Dayton معاہدہ ہونے کے فوراً بعد۔ بہت سی عمارتیں دوبارہ تعمیر ہو گئی تھیں‘ بشمول مسجد کے جس کو اتنے بڑے پیمانے پر تباہ کیا گیا تھا کہ صرف ایک اینٹ باقی رہ گئی تھی جسے اب نئی عمارت کی دیوار میں بطورِ کتبہ چسپاں کر دیا گیاہے۔ واضح رہے کہ نئی عمارت ملیشیا کی مالی امداد سے بنی ہے۔ لیکن قصبہ ابھی بھی جنگی علاقے کا منظر پیش کر رہا تھا۔ گندگی سے اَٹا تھا اور اس کی دیکھ بھال کا نظام بہت ہی خراب تھا۔ ہر طرف Bullets کے سوراخ نظر آرہے تھے۔ ۱۹۹۶ء میں سربرانیکا اصلی باشندوں اور سربز پناہ گزین دونوں ہی سے بھر گیا تھا، جو بوسنیا کے مختلف حصوں سے بھاگ رہے تھے‘ جسے Dayton نے مسلم کروٹ فیڈریشن کے حوالے کر دیا۔ اب ان میں کے بہت سارے سربوں کو اصلی مسلم باشندوں نے نکال دیا مثلاً السفیک کی طرح کے لوگ۔

مسلمان کاغذات میں اپنے گھروں کا دعویٰ کرنا چاہتے ہیں‘ لیکن عملاً اکثر لوگ یہاں دوبارہ رہنا نہیں چاہتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ قصبہ بالکل خالی ہے۔ Mujo Sirucic پہلا بوسنیا کا مسلمان ہے جو ۱۹۹۹ء میں سربرانیکا واپس آیا اور اس وقت اسے ہر جگہ پولیس کی نگرانی کا سامنا تھا۔ ایک پولیس کی گاڑی اس کے گھر کے سامنے کھڑی رہتی تھی جس کو سربوں نے جلا دیا تھا اور جس کی ازسرِ نو تعمیر Service Catholic Relief نے کی۔ اس نے بتایا کہ ’’واپسی کا سلسلہ یا تو ختم ہو گیا ہے یا ختم ہونے کے قریب ہے ،لیکن چھوڑنے کا سلسلہ ختم نہیں ہوا۔اس وقت یہاں بہت سے سربز ایسے ہیں جو قصبہ چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں‘‘۔ وہ اور اس کی بیوی ان چند مسلمانوں میں ہیں جو کام کرنے کی عمر میں ہیں اور جن کے بچے اسکول میں ہیں‘ اس اسکول میں جہاں سربوں کی تعداد زیادہ ہے اور جس کی ہر کلاس روم میں صلیب اور Icons (شبیہ) ہیں۔

پرانی شاہراہ پر جہاں پہلے ۴۰۰ لوگ رہتے تھے‘ وہاں اب ۱۵ افراد رہتے ہیں۔ بعض اوقات میں اپنے آپ سے سوال کرتا ہوں‘ میں کہاں ہوں؟ میرے بچے یہاں کیا کریں گے؟ ہمیں یہاں کسی چیز کی کمی نہیں‘ یہاں سب چیزیں ہیں لیکن لوگ نہیں۔ جنگ سے پہلے سرب یہاں کی آبادی کا ۴/۱ تھے‘ بقیہ زیادہ تر مسلمان تھے۔ شہر کی ۳۵۰۰ کی آبادی میں اب ۱۷ فیصد مسلمان ہیں۔ اطراف کے ضلع میں واپس ہونے والے ۰۰۰,۱۰ لوگوں میں ۴۰ فیصد مسلمان ہیں۔

’’یہ ایک ویران قصبہ ہے۔ ایسا قصبہ جہاں زندگی نہیں ہے۔ اس میں خون کا کوئی قطرہ نہیں۔‘‘ یہ الفاظ Radomir Pavlovic کے ہیں‘ جو کہ ایک میڈیکل ڈاکٹر اور میونسپل کونسل کا ایک سرب رکن ہے Pavlovic نے جمہوریہ Srpska ہر فرد کو موردِ الزام ٹھہرایا ہے۔ بقول اس کے کہ ان میں سے ہر ایک بستی (enclave) کو نظرانداز کرتا ہے۔ اس کے باوجود کہ یہاں سرب آبادی ہے۔ بوسنیا کروٹ فیڈریشن کا ری پبلک حکومت کے حوالے سے یہ خیال ہے کہ اس نے اُن مسلمانوں یا سربوں کی کوئی مدد نہیں کی جو تعمیرِ نو چاہتے تھے اور عالمی برادری کے نزدیک یہ تاثر ہے۔ Radomir اپنے ساتھی سربوں پر بھی الزام عائد کرتے ہوئے کہتا ہے ’’بہت سے لوگ نہیں جانتے تھے کہ یہاں کیا ہو رہا ہے۔ لیکن اگر ہم ماضی کے سچ کو تسلیم نہیں کریں گے‘ تو ہم مستقبل کی جانب پیش قدمی نہیں کر سکیں گے‘‘۔ سربرانیکا اس مفہوم میں اگرچہ ایک طاقتور مگر بحیثیت مجموعی بوسنیا کی ایک انتہائی علامت ہے۔

قومی اداروں کی تعمیر کی کوششیں ناکام ہو گئیں۔ ایک متحدہ فوج اس وقت کاغذوں میں موجود ہے لیکن جب (recruits) نئے بھرتی ہونے والے سربز سے مئی کے مہینے میں حلف (عہد) لینے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے انکار کر دیا۔ ۶۰۰۰ فوجیوں پر مشتمل یورپین افواج جو کہ ملک میں ٹھہری ہوئی ہیں، کے سربراہ نے سرب آرمی کے چیف کو برخاست کرنے کا دیا۔ نئے بھرتی ہونے والے کروٹس نے حلف اٹھا لیا لیکن حلف اس وقت اٹھایا جب کروشیائی قومی ترانہ پڑھا گیا نہ کہ بوسنیائی قومی ترانہ۔ یہ تقسیم تشدد کے خطرے کو زندہ رکھتا ہے اگرچہ فی الوقت دبا ہوا ہے۔

حالیہ سروے جو کہ اقوامِ متحدہ کے تعمیری پروگرام کے تحت ہوا‘ اس میں ایک چوتھائی بوسنیا کے باشندوں نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ جنگ دوبارہ شروع ہو جائے گی اگر بیرونی افواج ملک سے چلی گئیں، اور دو تہائی کے قریب لوگوں کا کہنا تھا کہ ملک کی صورتحال بگڑتی جارہی ہے۔

Ashdown اس دلیل کوقبول کرنے کے لیے تیار نہیں کہ اگر آج بیرونی افواج چلی گئیں تو اگلے دن سے ہم جنگ کی جانب لوٹ چلیں گے۔یورپی فورس کے برٹش کمانڈر میجر جنرل ڈیوڈ لیکی کا کہنا ہے کہ ’’میرے خیال میں دشمنیوں کو پھر سے زندہ کرنے کی لوگوں میں کوئی خواہش نہیں ہے۔ لوگ بہت تھک گئے ہیں۔ طبعی طور پر بھی اور دماغی طور پر بھی۔ عام لوگ مزید جنگ نہیں چاہتے‘‘۔ اس نے اپنے بوسنیائی مترجم سے پوچھا کہ اس کے خیال میں کیا ہو گا، اگر بیرونی افواج واپس چلی جاتی ہیں؟ اس نے ملک کو صرف ۱۰ دن کا وقت دیا جس کے بعد یہ پھر سے تشدد کی راہ پر واپس آجائے گا۔ جبکہ Ashdown کا کہنا تھا کہ وہ اس سال بوسنیائی حکومت کو اختیارات منتقل کرنے کے حوالے سے پُرامید ہے۔ وہ اب بھی توقع رکھتا ہے کہ نئی اعلیٰ قیادت سال کے آخر تک اس کی جگہ لے لے گی۔ یہ خیال کہ مشن اس سے کہیں زیادہ طویل ہورہا ہے جتنا کہ اسے طویل ہونا چاہیے اور یہ سیاست دانوں کی غلطی ہے ہم نے درحقیقت یہ کہا تھا کہ ہم صرف ایک سال کے لیے اندر ہوں گے جو کہ مکمل احمقانہ بات تھی۔ یہ عمارتیں تعمیر کرنا نہیں ہے بلکہ یہ لوگوں کے دماغ میں ڈالنا ہے۔ آپ بیوقوف ہیں اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک سال یا دو سال میں ہو جائے گا اور یہ وہ وقت ہے کہ سیاست دان اس کے بارے میں سچ سچ بتائیں۔ لیکن وہ ابھی تک زور دے رہے ہیں کہ سب چیزیں صحیح ہیں۔ بوسنیا میں کرشمہ اتنا ہی ہوا ہے جتنا کہ ۱۰ سال میں کام کیا گیا ہے۔ آبادی کا سولہواں حصہ قتل کر دیا گیا۔ یہ تعداد فرانس میں جنگِ عظیم دوم میں ہونے والے قتل کی تعدادسے زیادہ ہے۔ آدھی آبادی گھر سے بے گھر ہے۔ ۹۰ فیصد عمارتیں تباہ ہو گئیں۔ ہم نے بہت بڑا نقصان کیا، جس کی تلافی دہائیوں میں ممکن ہو سکے گی۔

(بحوالہ: امریکی ہفت روزہ ’’نیوز ویک‘‘)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*