Abd Add
 

مختصر مختصر

پاکستانی کیا چاہتے ہیں؟

اگر ایک بین الاقوامی سروے ایجنسی کی رپورٹ پر اعتبار کیا جائے تو ۶۷ فیصد پاکستانی شہری پاکستانی سوسائٹی کے ’’اسلامائزیشن‘‘ کے حق میں ہیں۔ یہ سروے گیلپ انٹرنیشنل کے پاکستان چیپٹر نے کیا ہے۔ ایجنسی نے چاروں صوبوں کے شہری اور دیہی علاقوں میں ۷۳۸,۲؍افراد سے ایک سوالنامے کی بنیاد پر بات چیت کی۔ ان میں مرد و خواتین دونوں شامل تھے۔ ایک اہم سوال یہ تھا کہ کیا حکومت پاکستان کو پاکستانی معاشرے کو ’’اسلامیانے‘‘ کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہییں؟ ۶۷ فیصد نے اثبات میں جواب دیا، صرف ۱۳ فیصد کا خیال تھا کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں، جب کہ ۲۰ فیصد نے کوئی جواب نہیں دیا، یعنی ان کی کوئی رائے نہیں تھی۔

ایجنسی کے مطابق ۴۸ فیصد پاکستانی چاہتے ہیں کہ ’’اسلامائزیشن‘‘ کا کام بتدریج ہو جب کہ ۳۱ فیصد کی خواہش ہے کہ یہ کام جلد سے جلد اور ایک ساتھ ہو جائے۔ ایجنسی نے یہ سروے جنوری میں کیا تھا یعنی ایبٹ آباد کے واقعہ سے تین ساڑھے تین ماہ قبل (ٹائمز آف انڈیا، ۲ جون) یہ خبر دیتے ہوئے اسلام آباد سے ’’پی ٹی آئی‘‘ کے نمائندے نے لکھا ہے کہ پاکستان میں اسلام پسندوں کے بڑھتے ہوئے اثرات پر حقوقِ انسانی کے کارکنوں نے تشویش ظاہر کی ہے۔

’’اسلامائزیشن‘‘ کا مفہوم

ویسے تو سروے ایجنسیوں کے اعداد و شمار کو زیادہ سنجیدگی کے ساتھ نہیں لیا جاسکتا، ان کے مقاصد بھی مشکوک ہوتے ہیں۔ تاہم یہاں اعداد و شمار پر شبہ کی زیادہ گنجائش نہیں ہے۔ پاکستان ایک مسلم مملکت ہے وہاں کے عوام کی بہت بڑی اکثریت دینی ذہن و مزاج رکھتی ہے اور چاہتی ہے کہ مملکت میں اسلامی نظام جاری و ساری ہو۔ اپنا یہ احساس وہ مختلف اصطلاحوں کا استعمال کر کے ظاہر کرتے ہیں۔ نظامِ مصطفی، اسلامی نظام، شرعی نظام، نظام محمدیؐ وغیرہ وغیرہ۔ ’’اسلامائزیشن‘‘ کی یہ اصطلاح سروے ایجنسی کی اپنی اصطلاح ہے جسے مخالف حلقے منفی مفہوم میں استعمال کرتے ہیں۔ مغرب میں اس اصطلاح کو نہایت خطرناک معنی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ پاکستانیوں یا کسی بھی مسلم مملکت کے مسلم شہریوں کے نزدیک اسلامائزیشن کا مطلب صرف اسلامی نظام یا نظام شریعت ہے۔ گیلپ کا یہ سروے ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مملکت پاکستان بری طرح امریکا کے دبائو میں ہے۔ یہ دبائو ایبٹ آباد سے پہلے سے ہے۔ ایبٹ آباد نے تو اس دبائو کو دنیا پر محض اجاگر کرکے پاکستانی حکمرانوں کی بے بسی ظاہر کر دی ہے۔

یہ امت کے عوام کا رُخ ہے!

معاملہ پاکستان اور پاکستانیوں کا ہے، باہر کی دنیا سے اس کا کچھ زیادہ لینا دینا نہیں۔ لیکن ایک خاص پہلو سے یہ چیز پوری امتِ مسلمہ سے تعلق رکھتی ہے۔ بیس سال قبل ’’نئے عالمی نظام‘‘ کے عنوان سے امریکا نے پوری دنیا پر قبضے کی جو مہم شروع کی تھی، اس کا پہلا ہدف عقیدۂ اسلام تھا۔ پھر ۲۰۰۱ء میں ۱۱/۹ کے ڈرامے نے امریکی عزائم اور اس کے طریقے کو مزید واضح کر دیا جب امریکا نے ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کا نعرہ بلند کیا۔ اس مہم کے متعدد طریقوں اور حربوں میں سے ایک بڑا حربہ یہ تھا کہ اقوامِ عالم کو اسلام کے ’’خطرے‘‘ سے خبردار کرنے کے ساتھ ساتھ خود امت کو اس طرح پست حوصلہ (Demoralise) کر دیا جائے کہ وہ کسی قسم کی مزاحمت کی پوزیشن میں نہ رہے۔ اس سلسلے میں مسلم مملکتوں کی آبادیوں کو خاص ہدف بنایا گیا۔ لیکن لاکھ کوششوں کے باوجود امریکا کو عوام کی حد تک کوئی خاص کامیابی نہیں ملی۔ باوجود اس کے کہ بیشتر مسلم مملکتوں کے حکمران امریکا کے فرماں بردار واقع ہوئے ہیں۔ نہ صرف یہ کہ مسلم عوام الناس اسلام کے تعلق سے احساسِ کمتری میں مبتلا نہیں ہوئے بلکہ اس کے برعکس ان کے اندر اسلامی اَقدار سے قربت اور اسلامی احکام پر عمل کا داعیہ بڑھ گیا اور گیلپ کا یہ سروے اس کی ایک مثال ہے۔

(بشکریہ: سہ روزہ ’’دعوت‘‘ دہلی۔ ۷ جون ۲۰۱۱ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.