Abd Add
 

چین کے رہنماؤں کی پریشانی کی، ۲۲۵ ملین وجوہات!

نوے کے عشرے میں چین میں متوسط طبقے پر مشتمل آبادی بہت کم تھی، ۲۰۱۱ء میں صرف ۵ملین گھرانوں کی ۱۱ ہزار ۵۰۰ ڈالر سے ۴۳ ہزار ڈالر کے درمیان سالانہ آمدنی تھی، آج ان گھرانوں کی تعداد ۲۲۵ملین تک پہنچ گئی ہے۔۲۰۲۰ء میں چین میں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے گھرانوں کی تعداد یورپ کے متوسط طبقے کی آبادی سے زیادہ ہوگی۔اس شاندار ترقی نے پوری دنیا میں چین کی اہمیت واضح کردی ہے اور چین اب تبدیل ہوچکا ہے۔دھان کے کھیتوں کے درمیان بنے ہوئے راستے فلک بوس عمارتوں تک جاتے ہیں اورلاتعداد موٹر سائیکلیں ٹریفک جام کردیتی ہیں یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ مستقبل میں یہ قوم مزید ترقی کرے گی۔ ۲۰۱۵ء میں چین کے لوگوں نے بیرون ملک ۱۲۰ ملین دورے کیے، بیرون ملک دوروں کی یہ تعداد ایک دہائی میں ہونے والے دوروں سے چار گنازیادہ ہے، اس کے علاوہ چینیوں کی ایک بڑی تعداد سوشل میڈیا پر بھی متحرک ہے۔

اس تمام صورتحال کے باوجود اب حالات کچھ مختلف رخ اختیار کر رہے ہیں، پوری دنیا میں آمرانہ نظام حکومت والے ممالک میں متوسط طبقہ سیاسی تبدیلی کی خواہش رکھتا ہے۔ دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ ۱۹۸۰ء میں جنوبی کوریا میں طالب علموں کی قیادت میں ہونے والے احتجاج نے فوجی حکومت کا خاتمہ کیا اور ۱۹۹۰ء میں تائیوان میں متوسط طبقے نے آمرانہ حکومت سے آزادانہ انتخابات کے ذریعے جمہوریت کا مطالبہ کیا۔

بہت سے سیاسی پنڈتوں کے مطابق چین کا معاملہ باقی ممالک سے مختلف ہے۔ جس وقت تائیوان اور جنوبی کوریا میں تبدیلی کی لہر اٹھی تھی تو ان کے شہر بھی اتنے ہی بڑے تھے جتنے بڑے شہر چین میں اب ہیں۔ ۱۹۸۹ء میں تائیوان میں احتجا ج کو ٹینکوں سے کچلا گیا اس وقت سے اب تک چین میں جمہوریت کے حق میں کوئی بڑا مظاہرہ نہیں ہوسکا۔ دوسری طرف چین کے صدر ژی چنگ بھی جمہوری سیاست کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

صدر ژی چنگ عوام میں ایک سخت گیر شخصیت اور بدعنوانی کے مخالف تصور کیے جاتے ہیں۔ بہت کم چینی ایسے ہیں جو اپنے ملک میں جمہوریت کی خواہش رکھتے ہیں، وہ بھی حکومت کے خوف سے اپنی خواہش کا اظہار نہیں کرتے۔ اکثر چینی عرب بہار کی طرز کے انقلاب کے منتظر ہیں، جبکہ بہت سے ’’بریگزٹ‘‘ طرز کے انتخاب کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کے خواہاں ہیں۔ چینی حکومت اپنے ناقدین سے بے رحمانہ انداز سے پیش آتی ہے، لیکن اس نے عام آدمی کی معاشی حالت کو بہت بہتر کیا ہے۔ چین کو اپنی پالیسیاں جاری رکھنے کے لیے عوام کو سیاست سے دور رکھنا ہوگا اور ان کی معاشی حالت کو مزید بہتر بنانا ہوگا۔

متوسط طبقہ کی پریشانی

چین کے سیاسی اور معاشی نظام کا اگر گہرائی میں جائزہ لیا جائے تو ہمیں یہ نظر آئے گا کہ چین کا متوسط طبقہ اصل صورتحال کو اب تک نہیں سمجھ پارہا، وہ خوشحال ہیں لیکن وہ غیرمحفوظ ہیں۔ خاص طور پر چینی اپنے مستقبل سے پریشان ہیں کہ جب وہ بوڑھے ہو جائیں گے تو ان کی دیکھ بھال کون کرے گا۔ اکثر چینی خاندان صرف ایک بچے پر مشتمل ہیں، وہ اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ بیمار ہونے کی صورت میں اسپتال کے اخراجات ان کی دولت کا صفایا کر دیں گے۔ ۸۰فیصد چینیوں کے پاس اپنے گھر اور جائیدادیں موجود ہیں مگر وہ ان جائیدادوں کے ختم ہو جانے سے خوفزدہ ہیں۔ چین میں جائیداد کے حقوق کے قوانین بدعنوان اور لالچی لوگوں کے حق میں تبدیل ہوسکتے ہیں، اس لیے وہ زندگی بھر کی کمائی ہوئی دولت کے ختم ہوجانے سے ڈرتے ہیں۔ بینک بہت کم شرح سود پر منافع دیتے ہیں اور متبادل سرمایہ کاری کا بھی کوئی نظام نہیں اس کے علاوہ بینک سرمایہ کاروں کے لیے کوئی پرکشش اسکیم بھی متعارف نہیں کرواتے۔

چین میں موجود درمیانہ طبقہ چینی حکومت سے ناراض ہے۔ اکثریت اس بات کی مخالفت کرتی ہے کہ انہیں ’’مارکسزم‘‘ اختیار کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ چینی عوام ملک بھر میں ہونے والی بدعنوانی اور اقربا پروری پر سخت نالاں ہے، جس کی وجہ سے نوکری یا ترقی کے حصول کے لیے محنت اور ذہانت کے بجائے رشتہ داری کو اہمیت دی جاتی ہے۔ ملک میں آلودگی بھی زیادہ ہے، جس سے سانس لینے کا عمل متاثر ہوتا ہے اور پھیپھڑے مختلف انفیکشنز کا شکار ہوجاتے ہیں، عمریں کم ہیں اور آلودگی بچوں کی صحت کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔ لیکن حکومت کے خوف سے چینی عوام مٹی، پانی اور ہوا کو دھویں سے آلودہ کرنے والوں کے خلاف کھل کر گفتگو نہیں کرسکتے۔

کچھ لوگ اس صورتحال سے مایوس ہیں، چین میں تقریباً ۲ ملین غیر سرکاری تنظیمیں موجود ہیں ان میں سے اکثر درمیانے طبقے کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے آزادانہ کام کرتی ہیں۔ کچھ تنظیمیں ماحول کو آلودگی سے بچانے کے ساتھ ساتھ کارخانوں کے ملازمین کے علاج و معالجہ کے لیے سرگرم ہیں اور کچھ تنظیمیں خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کے ساتھ ساتھ ہم جنس پرستوں اور ہجرت کر کے آنے والوں کے لیے بھی کام کرتی ہیں۔ ان تمام تنظیموں میں سے کوئی ایک بھی حکومت کی اجارہ داری کے خلاف نہیں ہے، لیکن انہیں حکومت کے کام کرنے کے طریقہ کار سے اختلاف ہے۔

چین میں بر سر اقتدار جماعت یہ جانتی ہے کہ متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے ۸۸ ملین افراد کی حمایت تنظیم کے لیے بہت ضروری ہے، اسی لیے ۲۰۱۲ء میں چین کے صدر نے بر سر اقتدار آتے یہ اعلان کیا کہ امریکا کی طرح چین بھی متوسط طبقہ سے مذاکرات کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ حکومتی جماعت عوامی رائے معلوم کرتی ہے اور عوامی دباؤ کم کرنے کے لیے عوامی امیدوں اور توقعات کو پوراکرتی ہے۔

بہرحا ل چین میں شفاف اور ذمہ دار حکومت کے بغیر تبدیلی کا تصور ممکن نہیں ہے۔چین کے صدر بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ شفاف اور ذمہ دار حکومت کے بغیر کوئی بھی شخص یا اس کی جائیداد مکمل طور پر محفوظ نہیں ہے اورنہ ہی بدعنوانی پر قابو پانا ممکن ہے ۔اور اظہار رائے کی آزادی کے بغیر غیر سرکاری تنظیمیں بھی کوئی تبدیلی نہیں لاسکتی۔

متوسط طبقے کا غیض و غضب

ہزار سالہ ہنگامہ خیز تاریخ اور۱۹۶۰ء کے خونی انقلاب کے اتنے سالوں بعد بھی اکثر چینی ابھی تک ان سالوں کی افراتفری اور ہنگامہ خیزی کا خوف محسوس کرتے ہیں ۔چین کی نصف آبادی جن کی عمریں 35 سال کے لگ بھگ ہیں وہ افراد’’ ماؤ‘‘ دور میں ہونے والے انتشار سے متعلق بہت کم جانتے ہیں۔ یہ نوجوان جب یہ محسوس کرتے ہیں کے حکومت ان کی نہیں سن رہی ہے تو یہ حکومت کے خلاف احتجاج کرنے کا عزم کرتے ہیں ۔۳ جولائی کوچین کے جنوب میں واقع لوبو شہر میں اس وقت ہزاروں مظاہرین جمع ہوگئے جب انہیں پتا چلا کے حکومت یہاں ایک فضلہ بھٹی تعمیر کر رہی ہے۔ یہاں مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم بھی ہوا اور مظاہرین نے حکومت کے دفاتر کی طرف جانے کی کوشش بھی کی۔ اس طرح کے احتجاج اب عام ہیں، Tsinghua یونیورسٹی کے مطابق ۲۰۱۰ء میں تقریبا ایک لاکھ اسی ہزار مظاہرے ہوئے، جب کے اس وقت چین میں ترقی کی رفتاربھی تیز تھی اور معیشت بھی مستحکم۔ اب جب کہ معیشت کی پہلے جیسی رفتار نہیں رہی تو اس بد امنی کے امکانات بھی زیادہ ہیں۔ اس وقت چین میں امن وامان کے لیے برسراقتدار جماعت کو خصوصی طور پر صحت کو نقصان پہنچانے والے کارخانوں کو بند کرنا ہوگا اور آلودگی کو روکنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ سرکاری اداروں کی تنظیم نو کی طرف بھی توجہ دینی ہوگی۔

متوسط طبقے کے مظاہرین کی کامیابی کا انحصار حکومتی جماعت کی اشرافیہ پرہے۔۱۹۸۹ء میں جمہوریت کے لیے اٹھنے والی تحریک کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب جماعت کی اشرافیہ کے کچھ ارکان نے بھی اصلاحات کی حمایت کی تھی۔اب جب کہ مستقبل میں کسی ’’تیان من ‘‘کے آثار نہیں،لیکن اب مسئلہ ژی چنگ کی خوداپنی ذات ہے، انہوں نے بدعنوانی کے خلاف کارروائیاں کر کے اپنے دشمن پیدا کر لیے ہیں۔ بدعنوانی کے خلاف ہونے والے اس آپریشن نے ان کے دوستوں کے مقابلے میں دشمنوں کو زیادہ نشانہ بنایا ہے۔ ’’ژی چنگ‘‘ کے دوست اس وقت حصولِ اقتدار کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔

ہوسکتا ہے کہ برسراقتدار جماعت کچھ سالوں تک جبر کے ذریعے ان مظاہروں کو روکنے میں کامیاب رہے کیونکہ چین کا سیکورٹی نظام اس سلسلے میں بہت فعال ہے۔ لیکن ان مظاہروں کو جبر کے ذریعے روکنا چین کی غلطی ہوگی۔ پوری دنیا کے مقابلے میں چین متوسط طبقے کی سب سے بڑی آبادی ہے، جو کہ اب تبدیلی کی خواہشمند ہے۔ حکومت کے لیے لازم ہے کہ وہ اب ان کا مطالبہ پورا کردے ورنہ آنے والے وقت میں دنیا کی سب سے بڑی متوسط طبقے کی یہ آبادی حکومت کا تختہ بھی الٹ سکتی ہے۔

(ترجمہ:سمیہ اختر)

“225m reasons for China’s leaders to worry”. (“The Economist”. July 9, 2016)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*