آسٹریلیا میں اسلام کے ۵۰۰ سال

Australia Auburn Gallipoli Mosque

خود آسٹریلیا کے بھی بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ عیسائی نوآبادکاروں کی آمد سے بہت پہلے آسٹریلیا کے قدیم باشندوں کے مسلمانوں سے تعلقات تھے اور ایبوریجنل کہلانے والے بہت سے لوگوں کو اب تک اسلام سے دلچسپی ہے۔

شمالی آسٹریلیا کے ارنہم لینڈ میں ویلنگٹن رینج کی سرخ چٹانیں ایک ایسی کہانی سناتی ہیں جو اس تاریخ سے قدرے مختلف ہے جسے آسٹریلوی اپنی تاریخ سمجھتے ہیں۔

آسٹریلیا کے اولین مسلمان انڈونیشیا کے مکاسانی باشندے تھے جو ماہی گیری کی غرض سے آسٹریلیا پہنچے تھے۔ یہ لوگ پہلی بار آسٹریلیا کب آئے تھے، اس کا تعین تو ابھی نہیں کیا جا سکا لیکن لگ بھگ پانچ سو سال کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔

یہ ماہی گیر مکاسان نامی علاقے کے رہنے والے تھے اور ’ٹریپانگ‘ یا سمندری ککڑیوں کی تلاش میں آسٹریلیا تک جا پہنچے۔ سمندری ککڑیاں کھانے کے لیے بھی استعمال کی جاتی ہیں اور دوائیں بنانے کے کام بھی آتی ہیں۔

مورخین کا خیال ہے کہ غاروں میں پائی جانے والی تصاویر کو سامنے رکھا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ یہ تصاویر ۱۵۰۰ عیسوی کے لگ بھگ بنائی گئی ہوں گی۔

میلبورن موناش یونیورسٹی کے ماہر بشریات جان بریڈلی کا کہنا ہے کہ یہ آسٹریلوی باشندوں کے بین الاقوامی تعلقات کی کامیاب ابتدا تھی: ’ان کی نوعیت تجارتی تھی، ان کے پیچھے نہ تو کوئی نسلی سوچ تھی اور نہ ہی نسلی پالیسی‘۔ انہی مکاسان باشندوں میں سے کچھ ایسے بھی تھے جو آسٹریلیا ہی میں بس گئے اور یہاں کی عورتوں سے شادیاں کر لیں۔ انھی کی وجہ سے ایبوریجنل باشندے ان کے مذہب اور ثقافت سے واقف ہوئے اور ان کی دیومالا بھی اسلامی مذہبی عقائد سے متاثر ہوئی۔ اس کا اندازہ غاروں کی مصوری سے کیا جا سکتا ہے۔

آسٹریلیا کے ان شمالی علاقوں کا سفر کریں تو اسلام کے اثرات ایبوریجنل گانوں، آرٹ، مذہب، حتیٰ کہ تدفینی رسومات تک میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

لسانی تجزیے کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ مختلف عبادتوں کے درمیان جو الفاظ ادا کیے جاتے ہیں جیسے والیتہ والیتہ کے الفاظ، وہ اللہ اللہ کی بدلی ہوئی شکل ہیں اور عبادت کے دوران رخ مغرب یا اندازے کے مطابق مکّے کی طرف کیا جانا بھی اسلامی اثرات کا اظہار ہے۔

تاہم آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کے ماہر بشریات ہووارڈ مورفی والیتہ والیتہ کو اللہ اللہ سے منسلک کرنے کو یا اس سے ایک خدا پر عقیدے کے تصور کو منسلک کرنے کو تن آسانی قرار دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے یہ الگ بات ہے کہ یولنگو لوگوں کے علمِ کائنات میں ایک ایسے وجود کا تصور بھی پایا جاتا ہے جو اللہ کے وجود سے ملتا جلتا ہے۔

شمالی افریقا میں اب ایسے نام بھی پائے جاتے جن سے مسلمانوں سے تعلقات کا اندازہ ہوتا ہے مثلاً ایسے نام جن میں حسن اور خان آتا ہے۔

مکاسان باشندوں کی آمد بھاری ٹیکسوں اور صرف سفید فاموں سے تجارت کی حکومتی پالیسی کے بعد ختم ہو گئی۔ لیکن شمالی آسٹریلیا میں کچھ حلقے مکاسانوں اور ایبوریجنلز کے درمیان تعلقات اور مشترک تاریخ کی ابتدا کی تقریبات منعقد کرتے ہیں۔

(بحوالہ ’’بی بی سی اردو ڈاٹ کام‘‘۔ ۲۵ جون ۲۰۱۴ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*