Abd Add
 

روس برطانیہ تعلقات کی بحالی؟

یہ دعویٰ کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن (Vladimir Putin) برطانیہ میں بالکل ذاتی حیثیت میں اولمپک گیمز میں جوڈو کے کھیل کو دیکھنے آئے ہیں، ایک ڈپلومیٹک کوشش کے سوا کچھ نہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ روسی صدر اپنے پسندیدہ کھیل میں بہت زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں مگر ان کا دورہ اس روایت کی ایک عملی مثال تھا کہ کھیل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ یہ روایت ایک عرصہ سے چلی آرہی ہے۔

یہ بات تو یقینی ہے کہ ولادیمیر پیوٹن ڈیوڈ کیمرون کے ہمراہ جوڈو کے مقابلے دیکھنے کے لیے آئے۔ اس سے قبل دونوں رہنما ڈائوننگ اسٹریٹ میں غیر رسمی گفتگو کر چکے تھے۔ پچھلے ایک عشرے کے دوران ولادیمیر پہلے روسی سربراہ ہیں جنہوں نے برطانیہ کا دورہ کیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان ایک عرصہ سے تعلقات ناخوشگوار رہے ہیں۔ تعلقات کی خرابی کی ایک وجہ تو جلاوطن رہنما بورس بیری زوف سکی (Boris Berezovsky) کے درمیان کشمکش تھی اور دوسری وجہ الیگزینڈر لٹونینکو (Alexander Litvinenko) کو زہر دینے کا معاملہ تھی۔ یہ چیزیں کم اہمیت کی حامل نہ تھیں۔ ان تمام تحفظات کے باوجود روس کی اندرونی اور بیرونی پالیسی مفاہمت کی علامت ہے اور اسے پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

روسی پالیسی کا خیر مقدم کیا جاتا ہے مگر اس پالیسی کو اتنا آسان نہیں سمجھا جاسکتا۔ اگرچہ ڈیوڈ کیمرون نے یہ دعویٰ کیا کہ ان کی روسی صدر سے بات چیت کا مرکزی مقصد تجارت تھا۔ یہ بات تو درست ہے مگر اس کے علاوہ انہوں نے یقینی طور پر شام کے حوالے سے بھی گفتگو کی ہوگی کیونکہ برطانیہ اور روس مسلسل اقوام متحدہ کی ان کوششوں کی حمایت سے انکار کرتے آرہے ہیں جن کا مقصد بشارالاسد کی حکومت کو چلتا کرنا ہے۔ شاید امید کی ایک کرن ولادیمیر پیوٹن کی برطانیہ میں موجودگی کی صورت میں پیدا ہوئی ہے۔ تمام اشارے اس طرف جاتے ہیں کہ شام کو تنہا کرنے سے روس کی پریشانی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان مذاکرات کے بعد اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ اس کے علاوہ روس اس طرح بھی تنقید کرتا ہے کہ بشارالاسد کو ہٹائے جانے کے بعد کون حکومت سنبھالے گا، اس کے اس سوال کا آسانی سے جواب نہیں دیا جاتا۔ ایک شہادت یہ بھی موجود ہے کہ شامی باغی حکومت نواز جنگجوئوں کو موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں۔ یہ سیدھی سی اخلاقی دلیل ہے جو آسانی سے سامنے نہیں آتی۔

دوسری جانب صرف شام ہی خوفناک موضوع نہیں۔ ولادیمیر پیوٹن کی ایوان صدر واپسی بھی خطرناک دبائو کا نتیجہ قرار دی جاتی رہی ہے۔ اس سلسلے میں ہونے والے مظاہروں کو فوری طور پر ختم کر دیا جاتا ہے اور اپوزیشن رہنمائوں کو اذیت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس ہفتے نہ صرف الیگزی نفالنی (Alexei Navalny) کو ہیرا پھیری کے الزام میں گرفتار کیا گیا بلکہ ایک تنظیم کے تین ارکان کو اس الزام میں پکڑ لیا گیا کہ انہوں نے پیوٹن کے خلاف مہم کے لیے دستخط کرانے کی کوشش کی تھی۔ ان سب چیزوں کے باوجود پیوٹن سے حکومت کرنے کی درخواست کی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ یہ امید بھی کی جاتی ہے کہ ڈیوڈ کیمرون مناسب تحفظات کا اظہار کریں گے تاہم بہت زیادہ توقعات رکھنا بڑی غلطی ہو گی اور برطانیہ اور روس کے تعلقات کے حوالے سے ایسی کسی توقع کا اظہار جلد بازی ہوگی۔ البتہ ایک بات تو تسلی بخش ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت ہو رہی ہے۔

(“A bout of judo diplomacy”… “Independent”. August 3rd, 2012)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.