ایران کے جنرل سلیمانی کا عروج وزوال

ایران کے جنرل سلیمانی

ایران کے سب سے نمایاں فوجی افسر میجر جنرل قاسم سلیمانی کو اندرون ملک ایک عرصے سے عزت و احترام حاصل ہے مگر وہ کبھی منظر عام پر نہیں آئے تھے، یہاں تک کہ عراق کے محاذوں پر لی گئی ان کی تصاویر سماجی میڈیا پر آئیں جن میں وہ داعش کے جہادیوں کو بغداد سے پرے دھکیلنے والوں کی قیادت کرتے دکھائی دیے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے بیرونی دھڑے قدس فورس کے ۵۸ سالہ کمانڈر پھر اس تیزی سے مقبول ہوئے کہ سال کے بہترین آدمی کا اعزاز اپنے نام کرلیا۔ جنرل سلیمانی کی تصاویر کو شروع میں نظر انداز کیا گیا مگر چونکہ ایران مشرقِ وسطیٰ میں اپنی دھاک بٹھانا چاہتا تھا، لہٰذا بعد ازاں ان تصاویر کو ریاستی اخبارات میں خوب جگہ دی گئی۔ بات یہاں تک پہنچی کہ ٹوئٹر پر ان کا ایک مزاحیہ اکاؤنٹ بن گیا اور کچھ مداح پیار سے انہیں ’’سپر مینی‘‘ (Supermani) کہنے لگے۔

مگر یہ سب ایک بار پھر بدل گیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں جنرل سلیمانی منظر سے بالکل غائب رہے اور رواں ہفتے صرف اُس وقت نظر آئے، جب وہ ایران کی طاقتور مجلسِ خبرگانِ رہبری (Assembly of Experts) کو علاقائی معاملات پر رپورٹ پیش کررہے تھے۔ اب نہ صرف شیعہ ملیشیا کے ساتھ ان کی سیلفیز کو ناپسندیدہ قرار دیا جارہا ہے بلکہ ان کی حکمتِ عملی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تہران میں مقیم ایک سیاسی تجزیہ کار کے بقول ’’سلیمانی نے عراقی سنیوں کو بہت زیادہ دباؤ میں رکھا اور ان کے بارے میں بہت ساری شکایات عام تھیں‘‘۔ کہا جارہا ہے کہ ناقدین کے سرخیل خود عراق کے فاضل ترین شیعہ عالم علی سیستانی ہیں جنہوں نے عراق، شام، لبنان اور بحرین میں بڑھتے ہوئے ایرانی اثر و رسوخ سے متعلق سلیمانی کے متکبرانہ بیانات کو ۱۳؍مارچ ۲۰۱۵ء کے ایک اعلامیے میں تنقید کا نشانہ بنایا۔ تہران میں موجود معتبر ذرائع کے مطابق سیستانی نے اس حوالے سے تشویش پر مبنی ایک ذاتی پیغام بھی ایران کے رہبر معظم علی خامنہ ای کو بھجوایا تھا۔ مگر اس سب کے بعد نام نہاد شیعہ ہلال (Shia Crescent) کے پانچویں عرب ریاست یعنی اردن تک پہنچنے کا بیان سلیمانی کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا۔ ذرائع کے مطابق ’’اب وہ ایک کونسل کی نگرانی میں ہیں اور پہلے کی طرح وزیرِ خارجہ بن کر نہیں رہ سکتے‘‘۔

یمن میں سعودی کارروائی کو بھی سلیمانی کے زوال کی ایک وجہ قرار دیا جارہا ہے۔ عرب اتحاد کے سربراہ کے طور پر سعودی عرب کی کارروائی ایران کی جانب سے حوثی باغیوں کی امداد اور سرپرستی کے بعد سامنے آئی، کیونکہ شیعہ حوثیوں نے یمن کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کو مارچ میں فرار ہونے پر مجبور کردیا تھا۔ تہران میں موجود ذریعہ کے بقول ’’یمن کے بارے میں قدس فورس کے اندازے بہت غلط ثابت ہوئے جس نے رہبرِ معظم کو یہ یقین دلایا تھا کہ سعودی عرب حملہ نہیں کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اب کمان دوبارہ جنرل رضائی کے ہاتھ میں ہے‘‘۔

پاسدارانِ انقلاب کے سابق سربراہ محسن رضائی نے ۱۹۹۷ء میں سبکدوشی کے بعد تین مرتبہ صدر بننے کی کوشش کی مگر وہ سیاست میں ناکام رہے۔ انہیں ایران میں قابل بھروسا سمجھا جاتا ہے مگر وہ کوئی کرشماتی شخصیت نہیں ہیں۔ ان کی واپسی غالباً قاسم سلیمانی پر نظر رکھنے کے لیے ہوئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ’’قدس فورس کا کوئی شعبۂ تعلقات عامہ نہیں ہے اور اس کے کام کی نوعیت خاموشی کی متقاضی ہے، جبکہ سلیمانی کی تصاویر اتنی زیادہ ہوگئی تھیں کہ حکومت کو انہیں روکنا پڑا‘‘۔

اب چونکہ جنرل سلیمانی دوبارہ پس منظر میں چلے گئے ہیں تو وزیرِ خارجہ جواد ظریف کی صورت میں مختلف مزاج کی حامل ایک نئی شخصیت سامنے آئی ہے۔ امریکا اور دیگر پانچ طاقتور ملکوں کے ساتھ حال ہی میں جوہری معاہدہ کرنے والا ایران اب عراق اور شام میں فوجی کارروائی کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دے رہا ہے۔ ماضی کے برعکس جب جنرل سلیمانی ایران کے ایما پر معاملات طے کررہے ہوتے تھے، اب جواد ظریف ایرانی خارجہ پالیسی کی کمان سنبھالے ہوئے ہیں۔

حالیہ ہفتوں کے دوران جواد ظریف نے روس، عراق، عمان، قطر، کویت، لبنان اور تیونس کے دورے کیے۔ اندرونی ذرائع کہتے ہیں کہ ان دوروں کا مقصد شام میں جاری خانہ جنگی کا خاتمہ ہے، جس کی وجہ سے ایرانی اثر و رسوخ بڑھنے کے بجائے کم ہوتا جارہا ہے۔ تہران محض یہ تسلیم کرتا ہے کہ اس نے بشار الاسد کو عسکری مشاورت فراہم کی ہے، حالانکہ شام میں اس کے بہت سے فوجیوں کے ساتھ متعدد جرنیل بھی مارے جاچکے ہیں۔ نتیجتاً وہاں جانی و مالی نقصان بڑھتا جارہا ہے۔

(ترجمہ: حارث رقیب عظیمی)

“A lion in winter”. (“Economist”. Sept. 5, 2015)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*