عرب بَہار اور اخوان المسلمون

عرب دنیا پر ہرا رنگ چھایا ہوا ہے۔ اس کا سبب یہ نہیں کہ صحراؤں کا رقبہ سُکڑ گیا ہے بلکہ بات کچھ یوں ہے کہ اسلام اور اسلامی تحاریک کا رنگ سبز ہے۔ عرب بہار یعنی عوامی بیداری کی حالیہ لہر نے پوری عرب دنیا میں اعتدال پسند اسلام نواز عناصر کو انتخابی میدان میں غیر معمولی کامیابیاں عطا کی ہیں۔ پوری عرب دنیا میں نہ تو القاعدہ سے تعلق رکھنے والے انتہا پسندوں کو کامیابی ملی ہے نہ ایرانی طرز حکومت کو فروغ دینے والی ملائیت کے علمبرداروں کو کچھ کر دکھانے کا موقع ملا ہے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ لبرل عناصر بھی انتخابی میدان میں اپنی موجودگی ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اعتدال پسند اسلامی عناصر کو تیزی سے ابھرنے کا موقع ضرور ملا ہے۔ اخوان المسلمون کے نظریے سے تعلق رکھنے والے گروپ کامیاب رہے ہیں۔ اخوان انقلاب کے بجائے ارتقاء پر یقین رکھتی ہے یعنی ہر تبدیلی کو مرحلہ وار آنا چاہیے۔ اخوان اور اس کے ہم خیال گروپوں کو اسلامی معاشروں کی شناخت درست کرنے اور اقدار کو مستحکم کرنے سے زیادہ دلچسپی ہے۔ وہ اللہ کا نظام ہر حال میں اور ہر قیمت پر نافذ کرنے کے معاملے میں عجلت پسندی کا شکار ہیں نہ جذباتیت کا۔

عوامی انقلاب کے بعد کرائے جانے والے عام انتخابات کے نتیجے میں تیونس اور مصر میں اب اخوان المسلمون پارلیمنٹ میں تقریباً نصف کی حصہ دار ہوگئی ہے۔ صورت حال کی نزاکت دیکھتے ہوئے مراکش میں شاہ محمد چہارم نے اخوان کے نظریات کی حامل جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کے سربراہ کو وزیر اعظم مقرر کردیا۔ لیبیا میں بھی معاملات کو فیصلہ کن سطح تک پہنچانے میں اسلام نواز گروپوں نے مرکزی کردار ادا کیا۔ اور اب شام میں بھی اسلامی گروپ میدان میں نکل آئے ہیں اور انقلابیوں کی کمان کر رہے ہیں۔

سیاسی افق پر اخوان سے تعلق رکھنے والے عناصر نئے نہیں۔ اردن دی اسلامک ایکشن فرنٹ کئی عشروں سے ملک کی مضبوط ترین سیاسی قوت اور وفادار اپوزیشن رہی ہے۔ عراق میں اخوان کے بازو دی اسلامک پارٹی کے تعلقات صدام حسین سے بھی اچھے تھے اور ۲۰۰۳ء کے بعد اس نے قابض اتحادیوں سے راہ و رسم بڑھائی۔ الجزائر، بحرین، کویت اور یمن میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے گروہوں نے تیزی سے اپنی پوزیشن بہتر منوائی ہے، خود کو اجاگر کیا ہے۔ ۱۹۹۰ کے عشرے سے ان ممالک میں اخوان المسلمون کے حمایت یافتہ گروپ سے تعلق رکھنے والے پارلیمنٹ کے رکن بھی منتخب ہوتے رہے ہیں۔ اخوان کے سیاسی بازو نیشنل اسلامک فرنٹ نے سوڈان میں حکومت کا تختہ الٹنے میں کسر نہ چھوڑی۔ فوج کا ساتھ دینے کے صلے میں اسے چند وزارتوں سے بھی نوازا گیا۔ فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) اخوان المسلمون کے ایک ایسے رفاہی ادارے کے پہلو سے جنم لینے والی تنظیم ہے جسے اسرائیل نے ۱۹۷۰ء کے عشرے میں تسلیم کیا تھا۔ ۲۰۰۶ء کے انتخابات میں اس نے فلسطینی تنظیم فتح کو شکست دی مگر جب مغرب نے فتح کے ساتھ اس کی مفاہت اور اس کے نتیجے میں تشکیل پانے والی حکومت کو تسلیم نہیں کیا تو حماس نے غزہ پر کنٹرول حاصل کرلیا۔ اسرائیل کے پے در پے حملوں کے باوجود حماس اب تک سلامت ہے اور اس سے اخوان کی مضبوط جڑوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

عرب دنیا میں بیداری کی لہر دوڑتے ہی مغربی طاقتیں اب اسلامی قوتوں سے بات چیت کے لیے بے تاب ہیں۔ مصر میں امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے حال ہی میں قاہرہ میں اخوان المسلمون کے ہیڈ کوارٹر میں اس کے سیاسی ونگ کے سربراہ محمد بدیع سے ملاقات کی۔ انہوں نے این ڈبلیو پیٹرسن سے مصافحہ کیا جس سے مغرب کو یہ پیغام ملا کہ اخوان کی صفوں میں کچھ نرمی پیدا ہو رہی ہے۔

کیا یہ سمجھا جائے کہ ۱۹۲۸ء میں حسن البناء نے جو خواب دیکھا وہ شرمندہ تعبیر ہونے کو ہے؟ قاہرہ میں اخوان المسلمون کا قیام اس تصور کے ساتھ عمل میں آیا تھا کہ یورپ نے نو آبادیاتی نظام کے خاتمے کے ساتھ خطے کی مسلم ریاستوں کو جدا جدا کردیا تھا، اب انہیں ایک لڑی میں پرو دیا جائے۔ حسن البنا کا کہنا تھا کہ اسلام جغرافیائی حدود اور نسل و رنگ کی بنیاد پر کسی تفریق کو نہیں مانتا۔ مسلمان جہاں بھی رہتے ہیں، ایک امہ ہیں۔ ۱۹۴۹ء میں شہید کیے جانے تک حسن البناء چھ ممالک میں لاکھوں نوجوانوں کو اپنا پیرو بناچکے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ سلطنت عثمانیہ کے سربراہ کے بجائے اب دنیا بھر کے مسلمانوں کو اپنا نیا خلیفہ منتخب کرنا چاہیے۔

نظریاتی لوگ اب بھی عالمگیر اسلامی ریاست یا حکومت کے قیام پر غور کرتے رہتے ہیں مگر ساتھ ہی یہ احساس بھی شدت اختیار کرچکا ہے کہ پہلے اپنے گھر کو درست کرنا پڑے گا۔ اردن کے اسلامک ایکشن فرنٹ کے سرکردہ رکن جمال حورانی کہتے ہیں کہ اسلامی ممالک کو پہلے اپنے اندرونی معاملات درست کرنا ہوں گے۔ اس کے بعد وہ مل کر ایک عالمگیر اسلامی حکومت قائم کرنے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرسکیں گے۔

اس میں کوئی شک نہیں کی اخوان کو عشروں تک مظالم اور ایذا رسانی کا نشانہ بنایا گیا ہے مگر اس کے باوجود مصر میں انتخابی فتح اخوان المسلمون کی مشکلات کم کرنے اور اسے بھرپور مقبولیت دلانے میں ناکام رہی ہے۔ عوامی انقلاب کا ایک سال مکمل ہونے پر قاہرہ کے تحریر اسکوائر میں ہزاروں افراد جمع ہوئے۔ جب اخوان کے محمد بدیع نے تقریر شروع کی تو بہت سے افراد نے ان پر انقلاب کو بیچنے کا الزام عائد کیا۔

شاندار انتخابی کامیابی کے باوجود مصر میں اخوان المسلمون اب تک دفاعی پوزیشن اختیار کیے ہوئے ہے۔ سیکولر عناصر کو شبہ ہے کہ وہ عسکری قیادت سے کوئی ڈیل کر بیٹھے گی۔ یہ افواہ بھی گردش کر رہی ہے کہ قانون ساز اداروں میں فری ہینڈ کے عوض اخوان نے مصر میں فوج کی خفیہ حکومت کو برداشت کرنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔ مگر جرنیل اب بھی اخوان المسلمون پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں۔ اور اس عدم اعتماد کو وہ، جب بھی موقع ملتا ہے، ظاہر کرتے رہتے ہیں۔ اخوان المسلمون پارلیمنٹ میں سب سے بڑا گروپ ہے مگر اب تک عسکری قیادت اسے حکومت بنانے کی دعوت دینے کے موڈ میں نہیں۔

مصر کے اسلام پسندوں میں جو لوگ ذرا لبرل سمجھے جاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اخوان کا کمانڈ اسٹرکچر بہت جامد ہے اور وہ بیک ڈور سرگرمیوں میں زیادہ دلچسپی لیتی ہے۔ سلفیوں کا کہنا ہے کہ اخوان صرف مغرب کے خوف سے اسلامی ایجنڈے کو ثانوی حیثیت دینے پر بھی آمادہ ہو جاتی ہے۔ مصر کی پارلیمنٹ میں سلفی ارکان دوسرے نمبر پر ہیں۔ مگر ان کا شکوہ ہے کہ سیکولر عناصر سے معاملات بہتر بنانے کے لیے اخوان المسلمون نے انہیں نظر انداز کردیا ہے۔

اب اخوان کو اندازہ ہو رہا ہے کہ ایوان اقتدار سے قربت کی خاصی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے۔ مگر اس معاملے میں وہ تنہا نہیں ہیں۔ جن ممالک میں اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والی جماعتوں نے اپوزیشن کو چھوڑ کر حکومت سازی یا حکومت میں شمولیت کی طرف قدم بڑھایا ہے وہاں ایسی ہی مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔ ۱۹۸۹ء میں فوجی انقلاب کے بعد جنرل عمر البشیر نے اپنی حلیف اخوان المسلمون کو اقتدار سے الگ کرکے اس کے راہنما کو جیل میں ڈال دیا تھا۔ فلطسینی رہنما اور فلسطینی امور کے ماہرین اس امر کو حیرت سے دیکھ رہے ہیں کہ اخوان المسلمون کئی ممالک میں اقتدار کی طرف بڑھ رہی ہے تو غزہ میں حماس نے سیکولر فتح گروپ سے معاہدہ کرلیا ہے! کویت اور بحرین میں اخوان المسلمون کے ارکان اسلام پسند عناصر کے ساتھ اتحاد کی تشکیل میں ناکام رہے ہیں۔ اور اس کے نتیجے میں انہیں قبائلی یا زیادہ طاقتور اسلام پسند عناصر کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ الجزائر، عراق اور یمن میں بھی اخوان المسلمون اور اس سے تعلق رکھنے والے گروپ اپنی پوزیشن مستحکم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

کسی بھی عرب ملک میں اخوان کی حکومت کس طور کام کرے گی اس کا اندازہ لگانے کے لیے آپ کو اخوان میں قیادت کا ڈھانچا سمجھنا ہوگا۔ اخوان کا ایک عالمی تنظیمی ڈھانچا ہے جو تنظیم العالمی کہلاتا ہے۔ اس کی علامتی قیادت مصر کی جنرل گائڈ (قائد عمومی) کے پاس ہے۔ دنیا بھر کی مسلم کمیونٹیز سے دود دو نمائندے لیے جاتے ہیں۔ بعض کے نزدیک تنظیم العالمی امریکی کانگریس کی مانند ہے اور انہیں یقین ہے کہ ایک دن عرب کنفیڈریشن کی قیادت اس کے ہاتھ میں ہوگی۔

اخوان المسلمون کا عالمی ڈھانچا زیادہ طاقتور نہیں۔ ہر ملک میں اخوان اپنے طے کردہ میکینزم کے تحت کام کرتی ہے۔ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیا گیا ہے کہ ہر ملک میں چند اقدار ایسی ہوتی ہیں جو دوسرے کسی ملک کے لیے ناقابل قبول ہوسکتی ہیں۔ ان کے ساتھ تھوڑا بہت سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔ تیونس کی اخوان سے جڑی ہوئی پارٹی النہضہ کے لیڈر راشد الغنوشی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ملک میں سیاحت کے فروغ کی خاطر مغربی کلچر کو بھی کسی حد تک برداشت کریں گے۔ تیونس میں شراب بھی پی جارہی ہے اور اب تک جسم فروشی کے لائسنس بھی جاری کیے جارہے ہیں۔ یہ سب راتوں رات ختم نہیں کیا جاسکتا۔ لیبیا میں معاملہ یکسر مختلف ہے۔ لیبیا میں اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے گروپوں کا کہنا ہے کہ وہ کرنل معمر قذافی کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ملک میں شراب اور جسم فروشی پر پابندی عائد کر رکھیں گے اور سر عام عریاں مغربی ملبوسات پہننے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اخوان المسلمون کے مختلف دھڑے باہم متصادم ہوتے رہے ہیں۔ ۱۹۹۰ء میں عراق نے کویت پر قبضہ کیا تو اخوان سے تعلق رکھنے والے دھڑے عراق کے حامیوں اور مخالفین میں بٹ گئے۔ حافظ الاسد نے اخوان کو ۱۹۸۰ء کے عشرے میں دیس نکالا دے دیا تھا۔ حماس نے اپنا ہیڈ کوارٹر طویل مدت تک شام کے دارالحکومت دمشق میں رکھا جس پر اخوان نے ہمیشہ شبہات اور ناراضی کا اظہار کیا۔

اقتدار حاصل کرنے کے حوالے سے اخوان المسلمون کی تیاریوں نے اس کے لیے جغرافیائی تقسیم مزید گہری کردی ہے۔ اردن میں اخوان نے شاہ عبداللہ کو اقتدار میں اسے شریک کرنے کی تحریک دینے کے لیے اعلان کیا ہے کہ وہ خود کو فلسطین کے اخوان ارکان سے الگ کر رہی ہے۔ یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ اخوان فلسطین کے نہیں بلکہ اردن کے مفادات کو اولیت دیتی ہے۔ غزہ میں حماس سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم اسمٰعیل ہانیہ نے مالیاتی کنٹرول خالد مشعل کے ہاتھ سے لے کر اپنے کنٹرول میں کر لیا ہے۔

اخوان المسلمون کے حوالے سے صرف مغربی حکومتیں شبہات میں مبتلا نہیں بلکہ عرب دنیا کے بچے کھچے آمر بھی اس حوالے سے پریشانی اور الجھن کا شکار ہیں۔ سعودی وزیر خارجہ اور ولی عہد بھی اخوان کے حوالے سے تحفظات رہتے ہیں۔ وہ اخوان کو برملا پوری عرب دنیا میں خرابیوں کی جڑ قرار دیتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے مالدار حکمران اخوان کے بارے میں خاموش رہنے کو ترجیح دیتے ہیں تاہم انہوں نے بھی اخوان پر پابندی تو برقرار رکھی ہے۔

اخوان اب اعتدال پسند چہرے کے ساتھ سامنے آنا چاہتی ہے مگر اب بھی وہ اقتدار میں شراکت کے حوالے سے زیادہ کشادہ دلی کا مظاہرہ نہیں کر رہی اور چند ایک مشکلات محسوس کر رہی ہے۔ ۲۰۰۷ء میں غزہ میں حماس کے راہنمائوں نے نئی فلسطینی حکومت کو صرف تین ماہ بعد ختم کردیا تھا۔ اب وہ سمجھوتے کے موڈ میں ہیں تاکہ فلسطین کے دونوں حصے ایک ہوسکیں اور لوگ آبائی علاقوں میں جاسکیں۔ تیونس میں اخوان کے تصورات کی حامل النہضہ پارٹی نے شاندار انتخابی کامیابی حاصل کی اور سیکولر صدر کے انتخاب پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کابینہ میں بڑا حصہ لیا۔ یہی سب کچھ اخوان مصر میں بھی کر رہی ہے۔

اخوان المسلمون مجموعی طور پر اب بھی اداروں کی تنظیم ہے۔ اس میں انفرادی سطح پر مہم جوئی کرنے والوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے کئی رہنماؤں نے سیاست کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ کئی ممالک میں اخوان کے رہنماؤں نے سیاسی قوتوں کے ساتھ عمدہ بات چیت کی ہے۔ مصر میں اخوان نے عسکری قیادت کے ساتھ چلنے کا ارادہ کرلیا ہے اور اردن کے بادشاہ عبداللہ کو بھی تعاون کی پیشکش کی ہے۔ عرب دنیا میں اخوان المسلمون نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ترک ماڈل اپنائیں گے یعنی شہری آزادیوں کی حمایت کریں اور آزاد منڈی کی معیشت کا راستہ بھی نہیں روکیں گے۔ رواداری ثابت کرنے کے لیے اخوان کے رہنماؤں نے حال ہی میں قاہرہ میں قبطی عیسائیوں کے چرچ میں کرسمس کی تقریب میں بھی شرکت کی۔ اخوان کے رہنما خواتین کے لیے بھی غیر معمولی احترام کو اپنا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ تیونس کی نو منتخب پارلیمنٹ میں خواتین ارکان کی تعداد ۲۵ فیصد ہے اور ان میں ۸۰ فیصد کا تعلق اخوان سے ہے۔ خالد مشعل نے حال ہی میں لبرل فلسطینیوں سے ملاقات میں وعدہ کیا کہ وہ ۹ رکنی کابینہ میں ایک خاتون کو شامل کریں گے۔

اخوان کی خامیوں کے باعث خطے میں کئی کمزور حکومتیں موجود ہیں۔ حماس کا ریکارڈ پرتشدد واقعات اور دہشت گردی کے ہتھکنڈوں سے بھرا پڑا ہے مگر سچ یہ ہے کہ اس نے فتح کے مقابلے میں غزہ کی پٹی کو زیادہ اچھی طرح چلایا ہے۔ اس کے افسران مستعد اور کم آمریت پسند ہیں۔ حماس کا سیکورٹی نیٹ ورک اچھا ہے اور اس کے سپاہیوں میں نظم و ضبط زیادہ ہے۔ حماس کے تحت غزہ کی پٹی میں خاصا امن رہا ہے۔ اخوان کے بیشتر ارکان کا تعلق محنت کش اور تعلیم یافتہ طبقے سے ہے۔ وہ مُلّاؤں کو زیادہ اختیارات دینے کے حق میں نہیں۔ جہاں تک شرعی قوانین کے توضیع اور اطلاق کا تعلق ہے، الجزیرہ پر اخوان کی طرف سے اتھارٹی کا درجہ رکھنے والے علامہ یوسف القرضاوی نے گزشتہ دنوں کہا ہے کہ مصر میں شریعت نافذ کرنے میں کم از کم پانچ سال لگیں گے۔ حماس کو غزہ کی پٹی میں اقتدار سنبھالے ہوئے پانچ سال ہوچکے ہیں اور اس عرصے میں پہلے سے موجود قوانین ہی کے تحت کام کرتی آئی ہے۔ اب جبکہ اسرائیل نے محاصرہ نرم کردیا ہے اور حماس بھی خاصی آزادی محسوس کر رہی ہے تو معاشرتی معاملات میں بھی اس کی پابندیاں گھٹ گئی ہیں۔ فلسطینی وزیر داخلہ نے مرد و زن کے اختلاط اور خواتین کے سرعام تمباکو نوشی کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ساحل کے تفریحی مقامات پر جو ہوٹل تعمیر کیے گئے ہیں ان میں ان دونوں سرگرمیوں کی اجازت ہے۔

اخوان المسلمون نے خطے کے ایوان ہائے اقتدار میں داخل ہونے کے لیے کئی عشروں تک شدید معاشرتی اور سیاسی مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ دوسرے بہت سے ساتھیوں کے ساتھ برسوں قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے کے بعد اب مصری پارلیمنٹ کے لیے منتخب ہونے والے اخوان کے ایک رکن نے بتایا کہ گزرے ہوئے ادوار میں اخوان کے کارکنان نے انسانیت سوز مظالم برداشت کیے ہیں۔ حکومتیں جس قدر دباتی تھیں، اخوان کے ارکان اسی قدر ابھرتے تھے۔ اخوان المسلمون اور اس سے نظریاتی وابستگی رکھنے والے گروپوں کا انتخابات میں حصہ لینا اور بھرپور کامیابی سے ہمکنار ہونا امید کی کرن ہے کیونکہ اب یہ امید رکھی جاسکتی ہے کہ یہ گروپ ہتھیار اٹھانے کے بجائے حکومت سازی کرکے عوام کے مسائل حل کرنے پر توجہ دے سکیں گے۔

(“A long March”. “The Economist”. Feb. 18th, 2012)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*