نیپال میں ۲۴۰ سالہ بادشاہت کا خاتمہ

گزشتہ جمعرات یعنی ۲۹ مئی کو نیپال سے دو سو چالیس سالہ بادشاہت کا خاتمہ ہو گیا۔ نیپال کی پارلیمنٹ کا اجلاس مذکورہ تاریخ میں دارالحکومت کھٹمنڈو میں سخت سکیورٹی انتظام کے ساتھ ہوا جس نے قرارداد منظور کر کے شاہ گیانیندرا کو تخت سے ہٹانے اور بادشاہت کو باضابطہ طور سے ختم کرنے کا اعلان کیا۔ بادشاہت ختم کرنے کی راہ اپریل میں ہونے والے انتخابات میں ماؤ نواز گروپ کی کامیابی اور اس کے نتیجے میں ہونے والے مذاکرات کے ذریعے ہموار ہوئی۔ نیپال کی تین بڑی پارٹیوں نے چھ سو ایک کے ایوان میں چار سو تینتیس نشستیں حاصل کی ہیں۔ اس میں ماؤ نوازوں نے دو سو بیس نشستیں حاصل کی ہیں۔ تینوں پارٹیوں کے درمیان اتفاق سے یہ طے پایا تھا کہ بادشاہت ختم کر کے پارلیمانی طرزِ حکومت قائم کیا جائے گا۔ اس نظام کے تحت زیادہ اختیارات وزیراعظم کے پاس ہوں گے۔

نیپال میں بادشاہت سترہ سو اڑسٹھ میں قائم ہوئی تھی۔ اس سے پہلے یہ علاقہ چھوٹے چھوٹے انتظامی علاقوں میں منقسم تھا۔ ماؤ نواز گروپ عرصے سے بادشاہت کے خاتمے کی جدوجہد کر رہا تھا۔ اس دوران برسوں جاری رہنے والی لڑائی میں ہزاروں افراد مارے گئے۔ آج بادشاہت ختم ہونے کے بعد شاہ گیانیندرا عام شہری بن گئے ہیں۔ شاہی خاندان سے دو ہفتوں کے اندر شاہی محل خالی کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ اعلان کیا گیا ہے کہ شاہی محل کو قومی میوزیم میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ شاہ گیا نیندرا آنجہانی شاہ بریندرا کے چھوٹے بھائی ہیں جنہیں ۲۰۰۱ء کے دوران شاہی محل میں قتلِ عام میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس قتلِ عام میں شاہ بریندرا، ملکۂ ولی عہد اور شاہی خاندان کے چار دوسرے افراد ہلاک ہوئے تھے۔ شاہی محل میں ہونے والا یہ قتلِ عام بادشاہت کے زوال کا آغاز بن گیا۔ نیپال میں بادشاہت کا خاتمہ دنیا کی تمام شہنشاہیتوں کے لیے پریشانی کا سبب ہے کیونکہ نظریاتی بنیادوں پر نظامِ حکومت کی تشکیل کے حوالے سے عوامی شعور بیدار ہو رہا ہے اور لوگ اقتدار کی کرسی پر کسی مخصوص خاندان کے پیدائشی حق کے دعویٰ کو غضبناک نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں۔ نیپال کی بادشاہت کا انجام دیگر شاہی نظاموں کے لیے درسِ عبرت ہے۔ (م ف س)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*