میانمار کے مسلمان، مظلوم ترین اقلیت

AFP Abuse growing as thousands flee Myanmar violence, UN says

اقوام متحدہ کی تنظیم United Nations High Commissioner for Refugees (UNHCR) نے، جو دنیا بھر میں مہاجرین کے امور پر نظر رکھتی ہے، خبردار کیا ہے کہ میانمار (برما) کی مسلمان اکثریتی ریاست راکھین میں بدھ مت کے پیروکاروں اور مسلمانوں کے درمیان ہونے والے فسادات کے دو سال گزر جانے کے باوجود تاحال مسلمانوں کو شدید ظلم و ستم اور انتقام کا نشانہ بنا یا جارہا ہے ۔ بدھ مت کے ماننے والوں اور مسلمانوں کے درمیان ۲۰۱۲ء میں دو خونی فرقہ وارانہ فسادات میں تقریبا ۲۰۰؍افراد ہلاک اور کم و بیش ایک لاکھ چالیس ہزار بے گھر ہوگئے تھے، جن میں اکثریت روہنگیا مسلمانوں کی تھی۔

UNHCR کے ترجمان ایڈرین ایڈورڈز نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ میانمار کی ریاست راکھین میں فرقہ وارانہ فسادات کے دو سال گزر جانے کے باوجود ہزاروں افراد تاحال کشتیوں میں سوارہوکر خلیج بنگال کے راستے وہاں سے نقل مکانی کر رہے ہیں۔ UNHCR کے ترجمان کے مطابق تحفظ اور امن کے متلاشی ان متاثرین کو ملک چھوڑ دینے کے بعد بھی ظلم اور تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سمندری راستے میں موجود لٹیرے اور انسانی اسمگلروں کے ستم تو اپنی جگہ ، تھائی لینڈ اور ملیشیا پہنچنے کے بعد بھی مہاجرین کو انہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ UNHCR کے اندازے کے مطابق جون ۲۰۱۲ء سے اب تک خلیج بنگال کے راستے ۸۶ ہزار افراد کشتیوں کے ذریعہ میانمار چھوڑ گئے ہیں، جن میں ۱۵؍ہزار افراد وہ ہیں جنہوں نے رواں سال جنوری سے اپریل کے درمیان ملک چھوڑا ہے۔

UNHCR کے ترجمان ایڈورڈکا کہنا تھا کہ تھائی لینڈ، ملیشیا اور انڈونیشیا پہنچنے والوں نے بتایا کہ تحفظ کے متلاشی روہنگیاکے مسلمان گنجائش سے کہیں زیادہ تعداد میں کشتیوں میں سوار ہوکر ان علاقوں کا رخ کر رہے ہیں۔ مہاجرین کا کہنا ہے کہ سفر انتہائی خطرناک ہے کیوں کہ اکثر کشتیاں یا تو چلتے چلتے راستہ تبدیل کرلیتی ہیں یا ان کا انجن کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ کشتیوں میں سوار لوگوں کو کبھی خوراک اور پانی کی قلت کا بھی سامنا کرنا پڑا، اور جو لوگ راستے میں دم توڑ گئے انہیں سمندر میں پھینک دیا گیا۔ ایڈورڈ کا کہنا تھا کہ تھائی لینڈ پہنچنے والے مہاجرین میں سے چند نے UNHCR کو بتایا کہ ان کو تھائی لینڈ اور ملیشیا کے بارڈر پر واقع جنگلوں اور پہاڑیوں میں موجود اسمگلروں کے کیمپوں میں لے جایا گیا جو بھرے ہوئے تھے اور وہاں انہیں کبھی قید اور کبھی بغیر قید کے مہینوں رکھا گیا ، یہاں تک کہ ان کے خاندان کے لوگوں نے رقم ادا کرکے انہیں رہاکروایا۔ UNHCR کے ترجمان کے مطابق متاثرین نے بتایا کہ انہیں روز تشدد کا نشانہ بنا یا جاتا ، جس کی وجہ سے کچھ لوگ جاں بحق بھی ہوئے۔ متاثرین نے بتایا کہ جگہ کی تنگی کے باعث انہوں نے دن اکڑو بیٹھے اور رات ایک کروٹ پر سوکر گزاری۔ روہنگیا کے مسلمان مہاجرین اقوام متحدہ کے نزدیک دنیا میں سب سے زیادہ ظلم و ستم اور تعصب کا شکار اقلیت سمجھی جاتی ہے۔ رواں سال کے آغاز میں بدھ انتہا پسندوں کی جانب سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کے لیے آنے والی بین الاقوامی تنظیموں پر حملوں کے نتیجے میں کئی مہاجرین صحت اور دیگر بنیادی ضرورت کی امداد سے بھی محروم رہے۔

UNHCR کے مطابق امدادی سرگرمیاں بحال کردی گئی ہیں اور وہ کیمپوں کے انتظام کی نگرانی، متاثرین کو عارضی رہائش اور تحفظ فراہم کرنے کی مشکل ذمہ داری ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ جب کہ ایڈرین ایڈورڈز کا کہنا تھا کہ وہ ان سرگرمیوں سے خبردار ہیں جو فرقہ وارانہ تفاوت کو بڑھاوا دینے اور مہاجرین کی واپسی کو طول دینے والی ہیں۔

“Abuse growing as thousands flee Myanmar violence”. (“unhcr.org”. June 10, 2014)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*