افغانستان کا مستقبل۔۔۔

افغانستان سے امریکی اور یورپی افواج کی واپسی کا مرحلہ تکمیل کے نزدیک ہے۔ ان کے جانے کے بعد کیا ہوگا؟ یہ بات پورے یقین سے کوئی بھی نہیں کہہ سکتا۔ بیشتر مبصرین کی رائے یہ ہے کہ افغانستان مزید غیرمستحکم ہوجائے گا۔

کابل سے بہت سے غیرملکی جاچکے ہیں۔ ترقی اور معاشی استحکام کی جو لہر چند برس کے لیے آئی تھی، وہ گزر چکی ہے۔ لوگوں نے خوش حالی کا ایک مختصر سا دور دیکھا اور پھر وہیں آن کھڑے ہوئے ہیں جہاں پہلے کھڑے تھے۔ بہت سے جدید ریستوران بند ہوچکے ہیں۔ طالبان نے گزشتہ جنوری میں جدید طرز کے ایک ریستوران پر حملہ کیا تھا، جس کے بعد سے ہوٹل اور ریستوران کا کاروبار بھی ماند پڑچکا ہے۔ ’’ٹیورنا ڈو لبان‘‘ نامی ریستوران پر حملے میں اٹھارہ غیرملکی مارے گئے تھے۔ اس کاروبار کے ٹھپ ہوجانے سے کابل میں ہزاروں افراد بے روزگار ہوگئے ہیں۔ یہ لوگ دارالحکومت میں کچھ مدت کے لیے آنے والے استحکام سے پرامید ہوچلے تھے اور اُنہوں نے نئی اور بہتر زندگی کے خواب دیکھنا شروع کردیے تھے۔

نیٹو افواج کے جانے کے بعد افغانستان کس دور سے گزرے گا، یہ سوچ سوچ کر لوگ پریشان ہیں۔ ملک کو جدت کے سانچے میں ڈھالنے کی تمام کوششیں یکسر ناکام ہوچکی ہیں۔ طالبان کے زمانے میں صرف تین فیصد لڑکیاں اسکول جاپاتی تھیں۔ اب ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک تہائی افغان لڑکیاں اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتی ہیں۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ معاشرے میں استحکام آچکا ہے اور ترقی کی راہیں کھل گئی ہیں۔ ملک میں سیاسی عدم استحکام اب بھی ہے اور بیشتر علاقوں میں سکیورٹی کے معاملات گڑبڑ کا شکار ہیں۔ صنفی بنیاد پر انصاف کو اب تک یقینی نہیں بنایا جاسکا ہے۔ بیشتر غیرملکی اب ان کمپاؤنڈز میں رہتے ہیں جنہیں قلعے کی شکل دے دی گئی ہے۔ ملک بھر میں سکیورٹی کا مسئلہ اب تک ختم نہیں ہوسکا ہے۔ غیرملکیوں کے لیے یہ معاملہ زیادہ تشویشناک ہے۔ نیٹو کے ایک لاکھ تیس ہزار فوجیوں میں سے اب بارہ ہزار افغان سرزمین پر تعینات رہ جائیں گے۔

افغانستان کی تعمیر نو اور سلامتی کے نام پر نیٹو فورسز اور ان سے منسلک اسٹاف نے چودہ سالہ مدت میں کم و بیش تین ہزار ارب ڈالر خرچ کیے ہیں۔ اتنی خطیر رقم خرچ کرکے بھی افغان عوام کی غربت کم نہیں کی جاسکی۔ اس وقت بھی کم و بیش ۳۶ فیصد افغان باشندے انتہائی عُسرت کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ شمال مشرقی افغانستان عمومی طور پر مستحکم رہا ہے کیونکہ طالبان وہاں اپنا اثر و نفوذ ممکن نہیں بناسکے ہیں مگر افلاس نے اس علاقے کو بھی نہیں بخشا ہے۔

افغانستان میں ایک طرف سیاسی عدم استحکام ہے اور دوسری طرف معاشی عدم استحکام۔ اور ان دونوں کے درمیان سکیورٹی کا مسئلہ ہے۔ افغان عوام اگرچہ عمومی سطح پر رجائیت پسند ہیں مگر سچ یہی ہے کہ اُنہوں نے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہونا شروع کردیا ہے۔ افغانستان دنیا کا غریب ترین ملک ہے اور اس کا شمار سب سے کرپٹ ممالک میں بھی ہوتا ہے۔ معیشت کا بھٹہ بیٹھ چکا ہے۔ ملک بھر میں کہیں بھی بنیادی ڈھانچا ہر اعتبار سے قابل اعتبار حالت میں نہیں۔ تعمیر نو کے دعوے تو بہت کیے گئے ہیں مگر ایسا کچھ عملی طور پر دکھائی نہیں دیتا۔ ملک کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے قابل بنانے میں عشرے درکار ہوں گے۔ القاعدہ کا خطرہ برقرار ہے مگر اس کے باوجود یورپ کی بیشتر حکومتوں نے افغانستان کی مدد سے ہاتھ تقریباً کھینچ ہی لیا ہے۔

سیاسی عدم استحکام دور کرنے میں بہت حد تک کامیابی حاصل ہوچکی ہے۔ صدارتی انتخاب کے حوالے سے جو کشیدگی پیدا ہوئی تھی، وہ بہت حد تک ختم ہوچکی ہے۔ ڈاکٹر اشرف غنی کو صدر کی حیثیت سے قبول کرلیا گیا ہے اور عبداللہ عبداللہ نے چیف ایگزیکٹیو کی حیثیت سے کام کرتے رہنے پر اکتفا کرلیا ہے۔ بہت سے معاملات میں اب بھی سیاسی کشیدگی کی گنجائش ہے مگر مجموعی طور پر صورت حال قابو میں ہے۔ کرپشن کا داغ ان دونوں میں سے کسی کے دامن پر نہیں۔ اگر ان کے تعلقات اچھے رہیں اور یہ مل کر کام کرتے رہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ملک میں لسانی و نسلی ہم آہنگی کی راہ ہموار ہو اور ملک بہتر سیاسی مستقبل کی طرف پیش رفت کرے۔

مگر یہ سب کچھ ایسا آسان نہیں جیسا دکھائی دیتا ہے۔ ڈاکٹر اشرف غنی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ۴۵ دن میں نئی کابینہ تشکیل دیں گے اور اپنے پیشرو حامد کرزئی کے دور کے چند اعلیٰ افسران کو بھی تبدیل کریں گے، مگر اب تک ایسا نہیں ہوسکا ہے۔ گزشتہ دور کے اعلیٰ افسران کو ہٹانا ایسا آسان نہیں کیونکہ ایسا کرنے سے غیرمعمولی حالات پیدا ہوں گے۔ یہ افغان صدر کے لیے بہت بڑا امتحان ہے۔ اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوئے تو ملک استحکام کی طرف بڑھے گا۔ بصورت دیگر، معاملات خرابی کی نذر ہوتے رہیں گے۔ نئی کابینہ کی تشکیل کے حوالے سے عبداللہ عبداللہ کو راضی کرنا بھی ڈاکٹر اشرف غنی کے لیے بہت بڑا دردِ سر ہے۔ ۴ دسمبر کی ڈونر کانفرنس تک کابینہ کی تشکیل پر مکمل اتفاق رائے نہیں ہوسکا تھا۔ اس کانفرنس کی زنبیل سے بھی افغانستان کے لیے کچھ خاص برآمد نہ ہوسکا۔

ایک بڑا اور بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ جب کابل پر اتحادیوں کا کنٹرول تھا، تب سی آئی اے نے تاجک اور ازبک جنگجو سرداروں کو کھل کر کھیلنے اور پنپنے کا موقع دیا۔ تاجک نسل کے کئی جنگجو سرداروں کو کابل میں بڑے قطعات اراضی دیے گئے۔ اُن کی بھرپور فنڈنگ بھی کی گئی، جس کی بنیاد پر اُنہوں نے کابل میں ایسے کاروبار کھڑے کیے جو بہت حد تک ریاست کے اندر ریاست کا درجہ رکھتے ہیں۔ یہ لوگ کسی کا حکم نہیں مانتے اور اپنی مرضی کے مطابق کام کرتے ہیں۔ ڈاکٹر اشرف غنی کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ان جنگجو سرداروں کو کنٹرول کرنے کا ہے۔ اگر وہ کرپشن کی اس شکل کو روکنے میں ناکام رہے تو لوگ ان سے مایوس ہوجائیں گے اور یوں ان کے لیے کام کرنا انتہائی دشوار ہوجائے گا۔

ڈاکٹر اشرف غنی عالمی بینک کے عہدیدار رہے ہیں۔ ان میں غیرمعمولی صلاحیتیں ہیں۔ مگر ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ وہ اپنی تمام ذمہ داریوں سے بہ طریق احسن عہدہ برآ ہوسکیں گے یا نہیں۔ افغان معیشت میں گینگسٹرازم غیر معمولی حد تک ہے۔ منشیات اب بھی قومی معیشت میں کم و بیش ۱۵؍فیصد کی حد تک ہے۔ ان کے پیش رو نے کابل میں کم و بیش ۱۳؍سال اس طور گزارے کہ ان کا عمل دخل کابل تک ہی محدود تھا اور آخر آخر میں تو ان کی عملداری صدارتی محل تک محدود ہوکر رہ گئی تھی۔ ڈاکٹر اشرف غنی کو ثابت کرنا ہے کہ وہ معاملات کو زورِ بازو سے درست کرسکتے ہیں۔ وہ کہہ چکے ہیں کہ ان کی صدارت محض صدارتی محل تک محدود نہیں ہوگی بلکہ وہ معاملات کو درست کرنے اور ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے محنت کریں گے۔ افغانستان کے پشتون علاقوں میں ایک بددعا ہے کہ ’’جا، شہر میں تیری شادی ہو اور تو مکان کی چار دیواری میں قید رہے‘‘۔ ڈاکٹر اشرف غنی قید نہیں رہنا چاہتے۔ ان کے عزائم بلند ہیں اور وہ صدر کی حیثیت سے کچھ کر دکھانے کو بے تاب ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر وہ کمزور پڑگئے تو ان کے مخالفین پارلیمان کو اپنی مٹھی میں لے لیں گے۔ حامد کرزئی کا یہی مخمصہ تھا۔ وہ بہت سے معاملات میں انتہائی کمزور اور بُودے ثابت ہوئے تھے۔ اشرف غنی جانتے ہیں کہ پارلیمان کو مٹھی میں لیے بغیر وہ ایسا کوئی بھی اقدام نہیں کرسکیں گے جو معاشرے میں استحکام اور ہم آہنگی کو یقینی بناتا ہو۔

معاشی استحکام اسی وقت آسکتا ہے، جب سیاسی استحکام پایا جاتا ہو۔ طالبان کے اقتدار کو ختم کرنے کے بعد جب نیٹو فورسز نے افغانستان کا کنٹرول سنبھالا، تب ابتدائی برسوں میں معیشت نے ۹ فیصد سالانہ کی شرح سے ترقی کی۔ محصولات میں بھی اضافہ ہوا۔ دو برسوں کے دوران افغانستان میں سیاسی عدم استحکام رہا ہے۔ صدارتی انتخاب سے پہلے کی صورت حال نے معیشت کو غیرمعمولی حد تک نقصان پہنچایا۔ اس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ اب افغان معیشت ڈانوا ڈول حالت میں دکھائی دے رہی ہے۔ سال رواں کے دوران پیداوار میں اضافہ ڈیڑھ فیصد تک متوقع ہے جو آبادی میں اضافے کی رفتار سے بھی کم ہے۔ حکومت کو ابھی سے بجٹ میں کم و بیش ۵۰ کروڑ ڈالر کا خسارہ دکھائی دے رہا ہے۔ یہ خسارہ ممکنہ طور پر امداد دینے والے ممالک سے مدد مانگ کر ہی پورا کیا جائے گا۔

عام افغانوں کا بُرا حال ہے۔ بے روزگاری بڑھ گئی ہے۔ بڑے بڑے پارکس میں لوگ بے مصرف بیٹھے رہتے ہیں۔ کچھ لوگ ڈرافٹ اور ایسے ہی دوسرے کھیلوں سے دل بہلاتے ہیں۔ کچھ لوگ بچوں کو ٹہلا رہے ہوتے ہیں اور دوسرے بہت سے لوگ خلا میں گھور رہے ہوتے ہیں۔ بہت سی یورپی این جی اوز کے بند ہوجانے سے ہزاروں افراد بے روزگار ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر اشرف غنی کے لیے سب سے بڑا چیلنج بے روزگاری کی شرح کو نیچے لانا ہے۔ اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو افغانوں کی نظر میں ہیرو بن جائیں گے۔

افغانستان میں روزگار تلاش کرنے والوں کی تعداد میں ہر سال کم و بیش چار لاکھ کا اضافہ ہوجاتا ہے۔ اگر فراہمیٔ روزگار کے چیلنج کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو مسائل کی گتھی مزید الجھتی جائے گی۔ افغانستان میں لینڈ مافیا غیرمعمولی حد تک مستحکم ہے۔ کرپشن عروج پر ہے۔ سرکاری افسران سر سے پیر تک کرپشن میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر اشرف غنی کے لیے کرپشن ختم کرنا بھی بہت بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے کسی حد تک ابتدا تو کردی ہے۔ ملک میں کرپشن کے سب سے بڑے اسکینڈل کے مرکزی ملزم کے خلاف کارروائی کی جانے والی ہے۔ یہ کیس افغانستان کے مرکزی بینک سے ایک ارب ڈالر کی چوری کا ہے۔ سرکاری محکموں میں خرابیاں زیادہ ہیں۔ مرکزی حکومت ۶۰ ہزار اسکول اساتذہ کو تنخواہیں ادا کر رہی ہے مگر پورے یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ اِن میں سے کتنے اصل استاد ہیں۔ بہت سی ادائیگیاں محض کاغذ پر ہیں، حقیقت کی دنیا میں ان کا کوئی وجود نہیں۔ سرکاری اخراجات کم کرنے پر بھی زور دیا جارہا ہے۔ حامد کرزئی کے زمانے میں سرکاری اخراجات غیرمعمولی حد تک بڑھ گئے تھے۔ بہت سے شعبوں میں معاملات بہتر بنانے یا درست کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ لوگوں کی توقعات زیادہ ہیں اور اشرف غنی کی سکت اُن سے کہیں کم ہے۔ نجی سرمایہ کاری کا دائرہ سکڑ گیا ہے۔ حکومت کو اس طرف توجہ دینا ہوگی تاکہ زیادہ سے زیادہ نجی سرمایہ کاری سے کاروباری ادارے قائم ہوں اور لوگوں کو روزگار ملے۔ اِس صورت حکومت پر سے ذمہ داری کا دباؤ کم ہوگا۔

ڈاکٹر اشرف غنی ملک کو ترقی دینا چاہتے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں بڑے بڑے خواب ہیں۔ وہ افغانستان کو وسط ایشیا اور کاکیشیا کے لیے ٹریڈ حب بنانا چاہتے ہیں۔ آذربائیجان، ترکی اور جارجیا سے مل کر وہ افغانستان کو مستحکم ملک بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ مگر یہ سب اسی وقت ممکن ہوگا جب وہ کرپشن پر قابو پائیں گے، ملیشیائی کلچر ختم کریں گے اور سرکاری اخراجات قابو میں رکھیں گے۔ اگر کئی پڑوسی ممالک کے ساتھ مل کر بہت سے منصوبے شروع کر بھی لیے گئے تو اندرونی استحکام نہ ہونے کی صورت میں اُن منصوبوں سے کچھ بھی حاصل نہ ہوسکے گا۔ شاہراہِ ریشم کو دوبارہ فعال بناکر بھی معاملات بہتر بنائے جاسکتے ہیں مگر یہ سب اُسی وقت ممکن ہوگا جب طالبان سے مفاہمت ممکن ہوسکے گی۔ اگر طالبان کو منانے یا راضی رکھنے میں ناکامی ہوئی تو ڈاکٹر اشرف غنی کے تمام خواب شرمندۂ تعبیر ہونے سے رہ جائیں گے۔

عام آدمی کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس بات کو سمجھ ہی نہیں پاتا کہ کس پر بھروسا کرے اور کس پر نہ کرے۔ کابل میں بہت سے لوگ اپنے طور پر معاملات چلا رہے ہیں۔ عام آدمی کے لیے فیصلہ کرنا انتہائی دشوار ہوجاتا ہے کہ کون ڈاکو ہے اور کون سپاہی۔ بہت سے معاملات میں ریاست کی عملداری نہ ہونے کے برابر دکھائی دیتی ہے۔ ایسے میں عوام کا ریاست یا حکومت پر اعتماد کس طور بحال ہوسکتا ہے؟ عام آدمی چاہتا ہے کہ حکومت مستحکم ہو تاکہ معاملات درست ہوں۔ اگر ریاست کی عملداری ممکن نہ بنائی جاسکی تو بہتری کا امکان بھی معدوم تر ہوتا جائے گا۔ ڈاکٹر اشرف غنی کو بھی اس بات کا احساس ہے کہ حکومت ڈلیور کرنے میں ناکام رہی ہے جس کے باعث لوگ ملیشیا کی طرف دیکھتے ہیں۔ بہت سے جنگجو سرداروں نے اپنے علاقوں میں استحکام رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے، جس کے باعث لوگ اُن کے لیے ہمدردی کے جذبات رکھتے ہیں اور مصیبت کی گھڑی میں ان کی طرف دیکھتے ہیں۔ یہ عمل متعلقہ ملیشیا کو مزید مستحکم کرنے کا باعث بنتا ہے۔ ڈاکٹر اشرف غنی کہتے ہیں کہ لوگ ملیشیا کی طرف اس لیے دیکھتے ہیں کہ حکومت اپنے حصے کا کام کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اگر حکومت اپنا کام پوری ایمانداری سے کرے گی تو لوگ ملیشیا اور وار لارڈز کی طرف دیکھنا چھوڑ دیں گے۔ افغان عوام لڑنا نہیں چاہتے مگر ملک پر جب بیرونی افواج نے قبضہ کر رکھا تھا تو ان کے لیے ہتھیار اٹھانا اور لڑنا ناگزیر تھا۔ افغانستان میں ایک عام آدمی بیرونی قابض افواج کے خلاف لڑائی کو ہر اعتبار سے جائز سمجھتا ہے اور اِس معاملے میں وہ طالبان کے لیے کچھ زیادہ منفی جذبات نہیں رکھتا۔

افغان فوج اس وقت کم و بیش ساڑھے تین لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ دو تین برسوں کے دوران افغان فوج نے نیٹو فورسز سے ہٹ کر بھی آپریشنز کیے ہیں اور ثابت کیا ہے کہ وہ سخت لڑائی بھی لڑسکتی ہے۔ اسے گزشتہ دو برسوں کے دوران ۹ ہزار سپاہیوں سے بھی محروم ہونا پڑا ہے مگر اس کے باوجود اس کے حوصلے پست نہیں۔ افغان فوج پر غیرمعمولی دباؤ ہے کیونکہ شورش کا دائرہ وسیع تر ہوتا جارہا ہے۔ نیٹو کے مبصرین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ طالبان جتنے مضبوط اس وقت ہیں، پہلے کبھی نہیں تھے۔ ایسے میں اشرف غنی کے لیے بھی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ طالبان پر قابو پانا ان کے لیے بڑے چیلنجز میں سے ہوگا۔ ملک کے بہت سے علاقوں میں طالبان کا واضح کنٹرول ہے۔ ان علاقوں میں مرکزی حکومت کی عملداری یقینی بنانا لوہے کے چنے چبانے جیسا ہے۔ نیٹو فورسز افغانستان سے نکل رہی ہیں مگر سب کچھ افغان فوج پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ امریکی صدر براک اوباما نے ہلمند میں طالبان اور دیگر ملیشیا کے خلاف لڑنے کے لیے کومبیٹ فوجی تعینات رکھنے کی منظوری دی ہے۔ ایسا کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اب بھی امریکا کا بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ افغان فوج کا بجٹ ساڑھے پانچ ارب ڈالر سالانہ ہے جس کا بڑا حصہ امریکا فراہم کرتا ہے۔

اب بھی یہ سوچا جارہا ہے کہ شورش کو طاقت سے ختم کیا جائے۔ چودہ برسوں میں یہ تجربہ انتہائی ناکام رہا ہے۔ افغانستان کی نئی حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ طالبان یا کسی اور ملیشیا کو محض طاقت سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ طالبان کا ہیڈ کوارٹر پاکستان کی حدود میں ہے۔ غیر معمولی کارروائی کرکے بھی اُنہیں افغانستان میں بھرپور شکست نہیں دی جاسکتی۔ اُن سے مذاکرات کے ذریعے ہی معاملات کو درست کیا جاسکتا ہے، ملک کو دوبارہ استحکام اور امن کی راہ پر لایا جاسکتا ہے۔ طالبان سے جلد از جلد مذاکرات ہی میں ڈاکٹر اشرف غنی کی جیت ہے۔ اگر وہ اِس معاملے میں تاخیر سے کام لیں گے تو اُن کے لیے مشکلات بڑھتی جائیں گی اور پھر ایک وقت ایسا بھی آسکتا ہے جب وہ اپنے پیش رو کی طرح محض کابل تک محدود ہوکر رہ جائیں۔

“Afghanistan: So long, good luck”.
(“The Economist”. Nov. 29, 2014)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*