افغانستان کا غیر یقینی مستقبل

افغانستان کے صدر حامد کرزئی اپنی سیاسی وقعت بچانے کے لیے اب امریکا سے متصادم ہو رہے ہیں۔ ان کی یہ روش ملک کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

افغانستان میں اب صدارتی انتخاب کو دو ماہ رہ گئے ہیں۔ آئین کی رُو سے حامد کرزئی اب اِس منصب پر مزید فائز نہیں رہ سکتے۔ ایسے میں اُنہوں نے اہل وطن کی نظر میں تھوڑا بہت احترام پانے کے لیے امریکا کو للکارنے کا راستہ اپنایا ہے۔ انہوں نے چند ہفتوں کے دوران امریکا کی ہر بات ماننے کی روش ترک کرکے چند ایک فیصلے اپنی مرضی سے کیے ہیں، جن کے نتیجے میں امریکا اور افغانستان کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہوچکے ہیں۔ امریکا نے بظاہر سالِ رواں کے آخر تک انخلا کا فیصلہ کرلیا ہے، اور اگر اس حوالے سے اس کا صدر کرزئی سے کوئی معاہدہ طے نہ پاسکا تو نیٹو کے تمام فوجی انخلا کرجائیں گے۔ ایسا لگتا ہے کہ صدر کرزئی کو بھی یقین ہے کہ وہ صدر کے عہدے پر برقرار نہ رہ سکیں گے۔ شاید وہ جاتے جاتے امریکا سے اپنا حساب بہت حد تک چکتا کردینا چاہتے ہیں۔ اپنی اس خواہش کی چوکھٹ پر وہ ملک کے مستقبل کو قربان کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

صدر کرزئی کے طرزِ عمل سے افغانستان کے لیے کون سی مشکلات کھڑی ہو رہی ہیں، اس کا پہلی بار اندازہ نومبر میں ڈھائی ہزار قبائلی سرداروں اور دیگر عمائدین کے لویا جرگے کے انعقاد کے موقع پر ہوا۔ اس جرگے کے انعقاد کا بنیادی مقصد افغانستان اور امریکا کے درمیان اس معاہدے کی راہ ہموار کرنا تھا جس کے تحت امریکا سال رواں کے آخر تک تمام نیٹو فورسز کے انخلا کے بعد بھی افغانستان میں چند ہزار فوجی تعینات رکھے گا۔ ان فوجیوں کی تعیناتی کے بغیر افغانستان میں بہت سے معاملات بالخصوص سکیورٹی کو درست رکھنا انتہائی دشوار ہوگا۔ افغان عوام کو یہ ڈر ہے کہ امریکیوں کے مکمل انخلا سے امداد کا سلسلہ رک جائے گا اور اگر طالبان نے معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیے تو ملک ایک بار پھر مکمل ناکامی کے گڑھے میں گر جائے گا۔

افغان امریکا امن معاہدے کو طے پانے میں ایک سال سے بھی زائد وقت لگ چکا ہے۔ اس معاہدے کے تحت چند ہزار غیر ملکی فوجی افغانستان میں تعینات رہیں گے، جو افغان فوجیوں کو تربیت دیں گے۔ حامد کرزئی کی اپنی پوزیشن بہت کمزور ہے مگر انہوں نے موقع غنیمت جان کر اپنا سیاسی قد بلند کرنے کی کوشش کی ہے اور معاہدے پر دستخط کے معاملے میں نخرے دکھائے ہیں۔ انہوں نے امریکا کے اتحادیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنانے سے بھی گریز نہیں کیا۔ حامد کرزئی نے امریکا سے امن اور سکیورٹی کے معاہدے پر دستخط کی ذمہ داری اپنے جانشین پر چھوڑی ہے۔

امریکا کے خلاف حامد کرزئی کا رویہ تلخ سے تلخ تر ہوتا جارہا ہے۔ انہوں نے ۲۵ جنوری کو ایک پریس کانفرنس میں امریکیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ دوطرفہ امن و سلامتی معاہدے کے لیے نفسیاتی ہتھکنڈے اختیار کر رہے ہیں اور یہ کہ امریکیوں کا طرز عمل دوستوں کا سا نہیں بلکہ دشمنوں جیسا ہے۔ افغان صدر نے امریکیوں پر زور دیا کہ وہ طالبان سے پوری سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کریں۔ یہ تقریباً ناممکن ہے کیونکہ طالبان، افغان امریکا امن و سلامتی معاہدے کے سخت مخالف ہیں۔ حامد کرزئی نے انتباہ کیا کہ ’’اگر امریکا طالبان سے مذاکرات کے لیے تیار نہیں، تو پھر یہ کسی بھی وقت انخلا کر جائے، ہم اپنی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرتے رہیں گے‘‘۔

حامد کرزئی نے دو دیگر ایشوز کا درجۂ حرارت بلند کرنے کی بھی بھرپور کوشش کی ہے۔ ان میں سے ایک ایشو ۱۵ جنوری کو کابل کے شمال میں پروان صوبے میں وازگر کے مقام پر نیٹو کی بمباری سے سویلین ہلاکتوں کا ہے۔ جبکہ دوسرا، اور زیادہ اہم، ایشو بگرام جیل سے اُن ۸۸ قیدیوں کی رہائی کا ہے جنہیں امریکا نے گزشتہ برس افغان حکام کے حوالے کیا تھا۔ امریکیوں کا دعویٰ ہے کہ ان میں ۱۷ قیدی بم بنانے کے معاملے میں ملوث رہے ہیں۔ اس بم کے پھٹنے سے ۱۱؍افغان فوجیوں کو جان سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ چھوڑے جانے والے بیشتر قیدیوں کے ہاتھ اہل وطن کے خون سے رنگے ہوئے تھے۔ دوسری طرف حامد کرزئی کہتے ہیں کہ بگرام جیل وہ مقام ہے جہاں بے قصور لوگوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بناکر عادی مجرم میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

وازگر میں جو کچھ ہوا، وہ بھی اب متنازع ہوتا جارہا ہے۔ نیٹو فورسز کا کہنا ہے کہ وازگر میں جب معاملات بے قابو ہوگئے تو طالبان کے خلاف کارروائی افغان فوج نے کی۔ نیٹو نے تسلیم کیا ہے کہ اس کارروائی میں بچوں سمیت چند شہری بھی مارے گئے، مگر اس نے یہ بھی کہا ہے کہ درجن بھر افغان فوجیوں اور اتنے نیٹو افسران کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی تھیں۔ ایک افغان اور ایک نیٹو فوجی مارا گیا۔ دوسری طرف صدر کرزئی نے ایک کمیشن تشکیل دیا جس کی تحقیقات کے مطابق اس کارروائی میں ۱۳؍شہری مارے گئے جبکہ وہاں ایک بھی طالبان دکھائی نہیں دیا۔ دوسرے لفظوں میں کہیے تو امریکا نے سنگین جنگی جرم کا ارتکاب کیا۔

جب مقامی میڈیا اور ’’نیو یارک ٹائمز‘‘ نے وازگر میں کارروائی کی تحقیقات سے متعلق رپورٹ کی صحت کو چیلنج کیا، تو حکومت نے وہاں سے چند باشندوں کو دارالحکومت کابل بلوایا۔ مگر یہ اقدام شدید ناکامی سے دوچار ہوا بلکہ بیک فائر کرگیا۔ ہوا یہ کہ تدفین کی ایک تصویر پرانی نکلی۔ تحقیق سے پتا چلا کہ وازگر سے سیکڑوں میل دور ۲۰۰۹ء میں ایک تدفین کے موقع پر یہ تصویر لی گئی تھی۔

امریکیوں کو شدید ناراض کرنے کے لیے یہ سب کچھ شاید کافی نہ تھا۔ اب حامد کرزئی ایسے حملوں کی فہرست تیار کر رہے ہیں جو اُن کے خیال میں امریکیوں نے ان کی حکومت کو زیادہ سے زیادہ غیر مستحکم اور بدنام کرنے کے لیے کیے تھے۔ ان میں کابل کے ایک ریستوران پر ہونے والا ۱۷؍جنوری کا حملہ بھی شامل ہے، جس میں ۱۳؍غیر ملکی اور ۶؍افغان باشندے مارے گئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری طالبان نے فوری طور پر قبول کرلی تھی۔

حامد کرزئی چند ماہ سے ایسے بیانات جاری کر رہے ہیں جن میں حقائق کم اور بھڑک زیادہ ہوتی ہے۔ وہ کابل میں صدارتی محل میں ملک بھر سے عمائدین کو مدعو کرتے رہتے ہیں اور ان کے ساتھ مل کر ایسی باتیں کرتے ہیں، جو بظاہر حقائق سے میل نہیں کھاتیں۔ کابل میں امریکی سفیر جیمز کننگھم نے ۲۷ جنوری کو ایک بیان میں کہا کہ ’’افغان صدر کا ذہن سازشوں میں الجھ گیا ہے اور وہ حقیقت سے بہت دور ہوگئے ہیں‘‘۔

افغان صدر جو کچھ کہہ رہے ہیں اور کر رہے ہیں، اس کے نتیجے میں واشنگٹن میں اعلیٰ ترین حکام کا زچ ہو رہنا حیرت انگیز نہیں۔ کانگریس نے حال ہی میں ایک فیصلے کے تحت افغانستان کی آئندہ برس کی امداد آدھی کردی ہے۔ دوسری طرف امریکی محکمہ دفاع نے بھی افغان فوج کی انتہائی اہم سمجھی جانے والی ۲؍ارب ۶۰ کروڑ ڈالر کی امداد میں ۶۰ فیصد کمی کردی ہے۔ امریکی ایوان صدر نے ان فیصلوں کو کچھ بھی کہے بغیر منظور کرلیا ہے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں کہ امریکی صدر براک اوباما کو افغانستان کے ساتھ امن اور سکیورٹی سے متعلق معاہدے کے طے پا جانے کا کتنا یقین ہے۔ حال ہی میں اسٹیٹ آف دی یونین خطاب سے قبل امریکی صدر حامد کرزئی کے رویے سے نالاں تھے اور اس بات کا امکان تھا کہ وہ کہیں مذکورہ معاہدے کے حوالے سے اپنا فیصلہ نہ سنادیں۔ افغانستان میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل جوزف ڈنفرڈ نے اس معاملے کو اس قدر سنجیدگی سے لیا کہ اسٹیٹ آف دی یونین خطاب سے ایک دن قبل واشنگٹن پہنچے اور صدر اوباما سے مل کر انہیں اس معاہدے کے بارے میں پرامید رہنے کا مشورہ دیا۔ جنرل ڈنفرڈ کے تیار کردہ منصوبے کے تحت سال رواں کے آخر تک انخلا کے بعد کم و بیش ۱۰؍ہزار امریکی فوجی افغانستان میں تعینات رہیں گے اور ان کی معاونت کے لیے اٹلی اور جرمنی کے ۲ ہزار فوجی بھی افغان سرزمین پر موجود رہیں گے۔ اس اہتمام کا مقصد افغان فوج کو القاعدہ کی باقیات سے بہتر طور پر نمٹنے کے قابل بنانا ہے۔ جنرل ڈنفرڈ کے منصوبے کو وزیر خارجہ جان کیری، وزیر دفاع چک ہیگل، سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان برینن اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈمپسی کی تائید بھی حاصل ہے۔ ان کا استدلال ہے کہ یہ کم ترین سطح کی فوج ہے، جو ہم افغانستان میں رکھ سکتے ہیں اور یہ اپنا دفاع کرنے کی پوزیشن میں ہوگی۔ جنرل ڈنفرڈ نے اضافی طور پر یہ مشورہ بھی دیا کہ ایک عشرے کے بجائے یہ فوج صرف دو سال کے لیے افغانستان میں رکھی جائے۔ اس صورت میں صدر اوباما ۲۰۱۷ء میں اپنے عہدے کی میعاد پوری ہونے سے قبل یہ کہہ سکیں گے کہ انہوں نے دونوں جنگوں (افغانستان اور عراق) سے تمام امریکی فوجی نکال لیے۔ وائٹ ہاؤس میں جنرل ڈنفرڈ کے منصوبے کے مخالفین بھی موجود ہیں۔ نائب صدر جو بائیڈن کا استدلال ہے کہ دس بارہ ہزار فوجی افغان سرزمین پر تعینات رکھنے سے کہیں بہتر ہے کہ ڈیڑھ دو ہزار فوجی رکھے جائیں، جو افغان فوجیوں کو انسدادِ دہشت گردی کی تربیت دیں۔ اگر امن معاہدے کو جلد حتمی شکل نہ دی گئی تو جنرل ڈنفرڈ کے لیے اپنی بات منوانا انتہائی دشوار ہوجائے گا اور ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ نیٹو فورسز کے انخلا کے بعد افغانستان میں ایک بھی امریکی فوجی تعینات نہ رہے۔

امریکا کے لیے اب اُمید صرف یہی رہ گئی ہے کہ حامد کرزئی کا جانشین امن معاہدے کی منظوری دے گا۔ تمام صدارتی امیدواروں نے اس معاہدے کے لیے پسندیدگی کا اظہار کیا ہے اور بیشتر وزرا نے بھی معاہدے کو ملک و قوم کے مفاد میں قرار دیا ہے۔

افغانستان میں صدارتی انتخاب کی مہم شروع ہوچکی ہے، جو دو ماہ جاری رہے گی۔ دو سابق وزرائے خارجہ عبداللہ عبداللہ اور زلمے رسول کے علاوہ عالمی بینک کے سابق اعلیٰ افسر اشرف غنی اور حامد کرزئی کے ایک بڑے بھائی قیوم کرزئی میدان میں ہیں۔ یہ چاروں حامد کرزئی سے کہیں زیادہ مغرب نواز ہیں۔ ان سب کو اچھی طرح اندازہ ہے کہ نیٹو فورسز کے انخلا کے بعد افغان سرزمین پر امریکی فوجیوں کا رہنا بہت ضروری ہے تاکہ افغان فوج کو طالبان سے بہتر طور پر لڑنے کی تربیت دی جاسکے۔

اب مشکل یہ ہے کہ افغانستان میں صدارتی انتخاب دوسرے مرحلے میں جائے گا۔ جون کے آخر تک فاتح کا اعلان ہو پائے گا۔ اس کی اہم ذمہ داری یہ بھی ہوگی کہ کمزور حکومت کو برقرار رکھے تاکہ ملک کو چلانے والا میکینزم دم نہ توڑے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ امن معاہدے پر اگست تک دستخط ہوسکیں گے۔ امریکی کمانڈروں کو یقین ہے کہ کسی نہ کسی طور صدر اوباما اپنے افغان ہم منصب کے اشتعال انگیز بیانات اور اقدامات کو جھیل جائیں گے۔

(“Afghanistan’s uncertain future: Playing with fire”… “The Economist”. Feb. 1, 2014)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*