الجزیرہ امریکا کے لیے۔۔

قطر کے عربی اور انگریزی زبان کے چینل الجزیرہ نے خبروں کو منفرد انداز سے کور کرنے کے معاملے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا عمدگی سے منوایا ہے۔ چینل پر مختلف حلقوں کی طرف سے تنقید بھی کی جاتی رہی ہے اور چینل کی انتظامیہ اور ایڈیٹوریل ٹیم نے اس تنقید کا بھرپور جواب بھی دیا ہے۔ اب یہ چینل امریکی ناظرین کی توجہ پانے کے لیے بھی بے تاب ہے۔ مصر کے تحریر اسکوائر میں جب لاکھوں افراد جمع ہوئے اور حکومت کا دھڑن تختہ کرنے کی ٹھان لی تو الجزیرہ نے عوام کا بھرپور ساتھ دیا۔ اس پر تنقید بھی ہوئی۔

جہاں جہاں بھی عوام حکومت کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں، الجزیرہ نے بر وقت کوریج کا حق ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ جاتی ہوئی حکومتوں یا جانے کے خطرے سے لاحق حکومتوں نے الجزیرہ کو اپنے دشمنوں میں شمار کیا ہے۔ لیبیا کے معمر قذافی نے اسے انقلاب کا دشمن چینل قرار دیا۔ شام کے صدر بشارالاسد نے الجزیرہ پر منحرفین کی بے جا حمایت اور شامی حکومت کے خلاف جانے کا الزام عائد کیا۔ امریکا کے مشہور زمانہ فاکس نیوز چینل نے حال ہی میں الجزیرہ کو امریکا کے خلاف کام کرنے والا دہشت گرد نیٹ ورک قرار دیا۔

۱۹۹۶ء میں لانچنگ کے بعد سے الجزیرہ نے خبروں کے ساتھ ساتھ کھیلوں کی کوریج، بچوں کے پروگراموں اور دستاویزی فلموں کے حوالے سے عرب دنیا میں اپنا مقام بنالیا ہے۔ بعد میں انگریزی کا چینل لانچ کیا گیا تو الجزیرہ کو دیکھنے والے امریکا میں بھی دکھائی دیے۔ امریکا کے سرکاری حلقے تو الجزیرہ انگلش دیکھتے ہیں مگر عوام اس لیے اس چینل کو اب تک قبول نہیں کرسکے کہ ان کے خیال میں چینل امریکا مخالف ہے اور جہاد ازم کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ الجزیرہ نے حال ہی میں سابق امریکی نائب صدر الگور کا کرنٹ ٹی وی خریدا ہے۔ اس چینل کو خریدنے کی غایت یہ ہے کہ الجزیرہ نیٹ ورک کو عام امریکیوں تک پہنچایا جائے۔ پچاس کروڑ ڈالر کا یہ سودا کرنٹ ٹی وی کے ذریعے الجزیرہ نیٹ ورک کو تقریباً چار کروڑ امریکی گھروں تک پہنچا دے گا۔ اب الجزیرہ امریکا لانچ کرنے کی تیاری شروع کردی گئی ہے۔

الجزیرہ نیٹ ورک امریکا میں تو پیر جمانے کی کوشش کر رہا ہے مگر خود عرب دنیا میں اس کے لیے مشکلات بڑھتی جارہی ہیں۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ بلوم برگ، سی این این اور نیوز کارپوریشن جیسے بڑے میڈیا ادارے اب عرب دنیا میں پیر جمانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ ان سے شدید مسابقت کا سامنا ہونے کے باعث اب الجزیرہ کے لیے پنپنے کی گنجائش کم ہو رہی ہے۔ آگے بڑھنے کے لیے اسے بہت محنت کرنی ہوگی۔

الجزیرہ نے جن ممالک میں انقلاب کی حمایت کی ان کے عوام اب تیزی سے فروغ پاتے ہوئے ملکی چینلوں میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔ مصر، تیونس اور عراق میں الجزیرہ پر مقامی چینلز کو ترجیح دینے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

الجزیرہ کی بدلتی ہوئی آواز نے بھی اس کی مقبولیت کو نقصان پہنچایا ہے۔ کل تک الجزیرہ عرب دنیا میں ہر سیاسی تبدیلی کو خاصے بے باک انداز سے کور کیا کرتا تھا، مگر اب بہت سی سیاسی اور سفارتی مصلحتیں آڑے آرہی ہیں۔ مصر میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو الجزیرہ نے عمدگی اور بے باکی کے ساتھ کور کیا مگر اب بہت کچھ بدل گیا ہے۔ قطر اور مصر کے تعلقات بہت اچھے ہیں جنہیں داؤ پر نہیں لگایا جاسکتا۔ لیبیا اور شام میں منحرفین یا باغیوں کی جانب سے جو کچھ کیا گیا اس کی اندھا دھند حمایت نے الجزیرہ کو نقصان پہنچایا ہے۔ چند عرب ممالک میں باغیوں کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر آنکھیں موند لینے کا رویہ بھی الجزیرہ کے بارے میں لوگوں کو سوچنے پر مجبور کر رہا ہے۔ بحرین میں حکومت نے شیعہ آبادی کے خلاف جو کریک ڈاؤن کیا، اس کے خلاف کچھ نہ بول کر الجزیرہ نے قدرے جانبداری کا ثبوت دیا، جو اب بھی بہت سے ناظرین کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے۔

الجزیرہ کی پالیسی میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو صرف ناظرین ہی نوٹ نہیں کرتے۔ متحدہ عرب امارات کے میڈیا پنڈت سلطان قاسمی نے جب لکھا کہ مصر میں اخوان المسلمون کی حمایت میں الجزیرہ تمام اخلاقی حدود سے آگے نکل گیا ہے تو الجزیرہ کے اسٹاف کے کئی ارکان نے ای میلز کے ذریعے اس کی تصدیق کی۔ بیروت، برلن، قاہرہ، ماسکو اور پیرس میں الجزیرہ کے نمائندوں نے اختلافات کی بنیاد پر ملازمت ترک کی ہے۔ الجزیرہ انگلش نے ۲۰۰۶ء میں لانچنگ کے بعد خاصی تیزی سے ساکھ بنائی تھی مگر اب اس کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ ستمبر میں قطر کے امیر شیخ حمادالثانی نے اقوام متحدہ میں جو تقریر کی، اسے مرکزی خبر کے طور پر پیش کرنے کی ہدایت ملی تو الجزیرہ کے عملے نے شدید احتجاج کیا۔ ایسے ہتھکنڈوں سے الجزیرہ امریکی ناظرین کے دل نہیں جیت سکے گا۔

(“Al Jazeera Must Do Better”… “The Economist”. January 12th, 2013)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*