برطانوی معاشرے میں ایشیائی خواتین

برطانیہ میں پاکستان اور بنگلا دیش سے تعلق رکھنے والی خواتین بھی اب جاب مارکیٹ کا حصہ بنتی جارہی ہیں۔ معاشرے میں ان کا یوں ضم ہونا اور خود کو معاشی کردار کے لیے تیار کرنا بہت اہم ہے۔ اس سے بہت سی معاشرتی تبدیلیوں کا بھی پتہ چلتا ہے۔

مشرقی لندن میں جیگوناری ویمین سینٹر میں بنگلا دیش سے حال ہی میں آئی ہوئی چھ خواتین انگریزی سیکھ رہی ہیں۔ انہیں انگریزی سکھانا سینٹر کے اس پروگرام کا حصہ ہے جس کا مقصد ان خواتین کو برطانوی معاشرے میں بہتر انداز سے زندگی بسر کرنے اور لوگوں سے بہتر میل جول رکھنے کے قابل بنانا ہے۔ یہ خواتین سر پر اسکارف رکھے ہوئے ہیں۔ انہیں یہ بھی سکھایا جائے گا کہ پولیس افسران، ڈاکٹروں اور دیگر اہلکاروں سے کس طرح بات کرنی ہے اور کس طور معاشرے میں سب کے لیے موجود سہولتوں سے فائدہ اٹھانا ہے۔ اس تربیت کا حتمی مقصد انہیں معاشرے میں بہتر انداز سے کام کرنے کے قابل بنانا اور ملازمت تلاش کرنے میں مدد دینا ہے۔

برطانیہ میں گیارہ لاکھ پاکستانی اور ساڑھے چار لاکھ بنگلا دیشی ہیں۔ پاکستان اور بنگلا دیش نژاد خواتین زندگی کی دوڑ میں تھوڑی پیچھے رہ گئی ہیں۔ ان ممالک کے مردوں نے تو خود کو سیاہ فام برطانوی باشندوں سے بہتر ثابت کیا ہے مگر خواتین اب تک معاشی کردار عمدگی سے ادا کرنے کے قابل نہیں ہوسکی ہیں۔ پاکستان اور بنگلا دیش سے تعلق رکھنے والی نصف سے زائد خواتین کام نہیں کرتیں۔ اور جو کام کرتی ہیں وہ بھی بہتر ملازمت حاصل نہیں کر پاتیں اور ان کا گزارا حکومت کی جانب سے دیے جانے والے زر اعانت پر ہوتا ہے۔ مسلم آبادی کے ایک بڑے حصے کا زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانا برطانوی معاشرے اور معیشت کو خاصا مہنگا پڑ رہا ہے۔ مسلم خواتین کے لیے آمدن کے ذاتی ذرائع کا نہ ہونا بہت سے معاشرتی مسائل کو جنم دینے کا بھی باعث بن رہا ہے۔ اب چند اہم تبدیلیوں کے آثار ہیں۔

چند ایک روایات اور جدید دور کے تعصبات بھی پاکستانی اور بنگلا دیشی خواتین کو ملازمت سے دور رکھنے کا سبب بن رہے ہیں۔ اب تک بہت سے گھرانوں میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ گھر کے لیے مالیات کا انتظام شوہر کا کام ہے اور خواتین کی بنیادی ذمہ داری گھر چلانا ہے۔ خواتین کو گھر کی صفائی، کھانا پکانے اور کپڑے دھونے جیسے کاموں پر اچھا خاصا وقت اور توانائی صرف کرنا پڑتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ان کے پاس کام کے لیے بہت کم وقت بچتا ہے۔ دیہی کلچر آسانی سے دم نہیں توڑتا اور پرانی عادتیں بھی کب آسانی سے جاتی ہیں۔ پاکستان اور بنگلا دیش سے تعلق رکھنے والی بیشتر خواتین آج بھی سسرالیوں کے ساتھ رہتی اور اُنہی کے ساتھ کہیں آتی جاتی ہیں۔ بہت سی خواتین نہ تو گاڑی چلاتی ہیں اور نہ گھر سے تنہا نکلتی ہیں۔ اس معاملے میں انہیں اہل خانہ کی سخت ہدایات کا سامنا ہوتا ہے۔

لسانی اور نسلی بنیاد پر امتیازی سلوک بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ مسلم ویمینز نیٹ ورک کی ایک ڈائریکٹر شائستہ گوہر بتاتی ہیں کہ بنگلا دیش سے تعلق رکھنے والی تیس فیصد خواتین بے روزگار ہیں۔ پڑھی لِکھی خواتین کو بھی اسلامی ناموں کے باعث انٹرویوز میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مسلم خواتین کو ملازمت دیتے ہوئے بہت سے آجر اس لیے بھی ہچکچاتے ہیں کہ انہیں یہ خدشہ ہوتا ہے کہ بچوں کی نگہداشت کے لیے وہ جاب پر نہیں آسکیں گی۔ نئی تارکین وطن کے لیے کمزور انگریزی اور معمولی سی تعلیم بڑی رکاوٹیں ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا ہے کہ بیشتر خواتین اب معمولی نوعیت کی، کم اجرت والی ملازمتوں میں پھنس کر رہ گئی ہیں۔

لیبر فورس سروے کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق چند برسوں کے دوران پاکستان اور بنگلا دیش سے تعلق رکھنے والی خواتین میں کام کرنے کی خواہش تیزی سے بیدار ہوئی ہے اور ملازمت کی تلاش میں جتی ہوئی پاکستانی نژاد خواتین کا تناسب اب ۲۹ سے بڑھ کر ۴۳ فیصد ہوچکا ہے۔ بنگلا دیش سے تعلق رکھنے والی خواتین کا بھی کچھ ایسا ہی حال ہے۔ سفید فام خواتین میں کام کرنے والی خواتین ۶۸ فیصد ہیں۔ جزائر غرب الہند اور افریقا سے تعلق رکھنے والی خواتین میں کام کرنے والی خواتین کی تعداد گھٹ رہی ہے۔

برطانوی حکومت نے کسی بھی ملک سے آنے والوں کو بہتر انداز سے کام کرنے اور برطانوی معاشرے میں رہنے کے قابل بنانے کے لیے قوانین اور قواعد میں چند تبدیلیاں کی ہیں۔ امیگریشن اور جاب کے لیے اب انگریزی میں مہارت لازم ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پاکستان، بنگلا دیش، بھارت، نیپال، سری لنکا اور دیگر ایشیائی ممالک سے آنے والی خواتین کو بھی انگریزی سیکھنی ہی پڑتی ہے۔ اِس تبدیلی نے ان میں اعتماد بھی پیدا کیا ہے۔ سماجی بہبود سے متعلق بہتر قوانین نے خواتین کو زیادہ کمانے کی تحریک دی ہے، بالخصوص ان خواتین کو جن کے شوہر نسبتاً کم کماتے ہیں۔ دوسری اور تیسری نسل کی خواتین تیزی سے ورک فورس کا حصہ بنتی جارہی ہیں۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے اور اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ان کی کم تعداد ہی لندن میں مقیم ہے۔ لندن میں تعلیم کا معیار بلند ہے اور معیشت میں تیزی سے ضم ہو جانے کے مواقع بھی نمایاں ہیں۔

برطانیہ میں آباد ہونے والی پہلی نسل کے لوگوں کو جن مشکلات کا سامنا ہے ان سے نمٹنے کے لیے بھی اب مختلف پروگرام شروع کیے جارہے ہیں۔ برمنگھم میں اس نوعیت کے تجربات کیے گئے ہیں جن کا مقصد خواتین خانہ کو معاشرے میں بہتر کردار ادا کرنے کے قابل بھی بنانا ہے۔ اس وقت ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ معیشت کساد بازاری کا شکار ہے۔ ایسے میں کوئی بھی پروگرام مفت شروع نہیں کیا جاسکتا۔ کمیونٹی کی بنیاد پر چند ایک کام ہو تو سکتے ہیں مگر مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ حکومت بھی بے روزگار خواتین کو زیادہ سہولتیں فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ وسائل کی کمی حکومت کو بہت سے معاملات میں پیچھے رہنے پر مجبور کر رہی ہے۔ جیگوناری سینٹر کی ایک ورکر سلطانہ خانم کہتی ہیں کہ پاکستانی اور بنگلا دیشی خواتین کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مسائل حل کرنے کے لیے انہیں زیادہ محنت کرنی پڑے گی۔

(“All About Taking Part” “The Economist” … Dec 22nd, 2012)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*