Abd Add
 

حماس اور اسرائیل مذاکرات، ’’جمودکا تسلسل‘‘

دنیا بھر کے سفارت کار اس بات پر افسوس کرتے ہیں کہ اسرائیل اور فلسطین آپس میں مذاکرات نہیں کررہے ہیں، لیکن اب اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے سفار ت کاروں اور خبر رکھنے والوںکا ایک وفدخطے کا دورہ کر رہا ہے، یہ وفد یروشلم، رام اللہ، غزہ سمیت عرب ممالک سے گزرتے ہوئے قاہرہ سے خلیج کی طرف روانہ ہوگا۔ ان کے درمیان مذاکرات کے تین ادوار طے ہیں۔ پہلا دور اسرائیل اور فلسطین کے مابین جنگ کی روک تھام کے لیے ہوگا، دوسرا دور حماس اور فتح میں مصالحت کے لیے ہوگا، جب کہ تیسرا دورٹرمپ کی طرف سے اسرائیل اور فلسطین کے لیے پیش کیے گئے ’’حتمی معاہدے‘‘ پر بات چیت کے لیے ہوگا۔ اگر مذاکرات کے ان تینوں ادوار کا کامیابی کے ساتھ انعقاد ہوگیا توممکن ہے کہ صورتحال بہتر ہوجائے۔

عارضی صلح کے لیے مذاکرا ت میں حماس اور اسرائیل کو شامل کیا جارہا ہے۔ ۲۰۱۴ء کے بعد سے یہ دونوں قدرے پُرامن تھے، لیکن حالیہ دنوں میں یہ دونوں جنگ کے انتہائی قریب ہیں۔ مارچ میں ان کے درمیان دوبارہ حالات اس وقت خراب ہونے شروع ہوئے، جب حماس نے اسرائیل اور مصر کی جانب غزہ کی بند پٹی کے دس سال گزرنے پر احتجاج کی کال دی۔ یہ احتجاج بڑھتا گیا یہاں تک کہ مئی کے مہینے میں اسرائیلی فوجیوں نے ایک دن میں پچاس فلسطینی شہید کر دیے، حالات بدترین رُخ اختیار کرنے لگے تو حماس نے احتجاج کی شدت کو کم کردیا۔

احتجاج کی شدت میں کمی تو آگئی لیکن پُرامن احتجاج جاری ہے، جو ایک بار پھر شدت اختیار کر رہاہے۔ غزہ کے نوجوانوں نے اسرائیل کے اندر ہزاروں ایکڑ زمین پرجلتے غباروں اور جلتی پتنگوں سے آگ لگادی ۔جب کہ مسلح گروپ نے اسرائیل پر راکٹوں سے حملہ کیا اور جواباً اسرائیل نے غزہ پر بم برسائے۔ جنگ کی طرف جاتی اس صورتحال نے سفیروں کو متحرک کردیا کہ وہ مزید حالات خراب ہونے سے پہلے جنگ بندی کے لیے بات چیت کریں، لیکن ضروری نہیں کہ قسمت ہر دفعہ سفیروں کا ساتھ دے۔

اسرائیل اور حماس اب براہ راست نہ سہی لیکن سفیروں کی معاونت سے پائیدار پر امن معاہدے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔حماس اس بات چیت کے ذریعے اسرائیل کی زمین پر آگ لگانے اور بیماری سے بچاؤ کی ادویات سے زیادہ اب سرحد پرانسانی ضروریاتِ زندگی سے متعلق سازو سامان کی آزاد نقل وحرکت کی یقین دہانی چاہتی ہے۔ حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے غزہ کے لوگوں کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ سرحدوں پر لگی پابندیاں اب بہت جلد ختم ہوجائیں گی، لیکن ان کا اندازا تھوڑا غلط ہے، کیوں کہ اسرائیل اور مصر نے غزہ کی سرحد پرمئی سے ہی پابندیاں اٹھا لی ہیں۔اب تک ۳۳ ہزار فلسطینی رفاہ کی سرحد استعمال کر چکے ہیں۔ یہ تعداد پچھلے سال کے مقابلے میں دس گنا زیادہ ہے۔ یہاں پر ۵۸فیصد ٹریفک بھی رواں دواں رہتا ہے جو کہ ماضی کے مقابلے میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔ لیکن لوگوں کی آزادانہ نقل و حرکت پر آج بھی پابندی ہے، اس کے علاوہ غزہ دنیا کے دوسرے ممالک سے تجارت کرنے میں بھی آزاد نہیں ہے۔

اگر یہ عارضی صلح ہو بھی گئی تو اس کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی ہے، جو کہ اگلے موسم بہار میں انتخاب کا انعقاد کر رہے ہیں۔ دائیں بازو کے کارکن اس بات سے نالاں ہیں کہ نیتن یاہو فلسطین سے دب کر مذاکرات کر رہے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق ۲۸فیصد لوگ ’’لیکوڈ پارٹی‘‘ کے فلسطین کے ساتھ معاہدے کے عمل کو صحیح سمجھتے ہیں۔ جبکہ ۴۱فیصد اس کے خلاف ہیں، مخالفت کرنے والے لوگ ۲۰۱۴ء میں دو اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت پر نالاں ہیں۔ جبکہ دو اسرائیلی فوجی ابھی قید میں ہیں، جن کی واپسی کشیدگی کو شاید کم کردے۔ اس تمام صورتحال کو حماس اپنے لیے فائدے کے طور پر دیکھ رہی ہے ۔

موجودہ صورتحال میں فلسطینی صدر محمود عباس بھی خوش نہیں۔ صدر کے معاون خصوصی نے حماس سے قاہرہ میں ملاقات کر کے یہ معاہدہ کیا تھا کہ حماس غزہ پر سے اپنا کنٹرول ختم کردے گی، اسی طرز پر ایک معاہدہ انھوں نے اکتوبر میں بھی کیا، لیکن اس پر عمل نہیں ہوسکا۔حماس نے معاہدے کے تحت عوامی خدمت اور بیورو کریسی کے معاملات محمود عباس کے حوالے کردیے،لیکن مسلح گروہ کو نہتا کرنے سے منع کردیا۔ محمود عباس نے اپنی لگائی گئی پابندی کی اس وقت خود ہی دھجیاں اڑادیں، جب انھوں نے حماس پرضرورت سے زیادہ دباؤ ڈالا ۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ حماس پر الفتح کے دباؤ کی مخالفت اسرائیل نے بھی کی۔ کیوں کہ ایسی صورتحال میں حماس اور اسرائیل کے درمیان ہونے والا معاہدہ بھی خطرہ میں پڑسکتاہے ۔

بیمار اور ضعیف محمود عباس ایک عشرے سے مغربی کنارے پر حکومت کررہے ہیں ۔ان کی فوج اسرائیلی ہم منصبوں کے ساتھ باہم مل کر کام کرتی ہے۔ محمودعباس دو قومی معاہدے کو تسلیم کرچکے ہیں، لیکن اس معاہدے کو صرف زبانی ہی تسلیم کیا گیا ہے، اس امن معاہدے کی یکطرفہ زبانی کلامی معاہدے سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں۔ اسرائیل بھی براہ راست حماس سے مذاکرات کرتا ہے، جسے وہ ایک دہشت گرد تنظیم کہتا ہے۔

محمود عباس ٹرمپ انتظامیہ سے تھوڑی بہت حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہے، صدر ٹرمپ کے داماد نے عرب خطے کا دورہ کیا، جس کا مقصد خطے میں تادیر امن وامان کی صورتحال کو یقینی بنانا تھا۔ لیکن طے شدہ وقت گزرنے کے باوجود اس دورے کا حاصل حصول ابھی تک پردہ راز میں ہے، کسی بھی سطح پر کوئی پیش رفت سامنے نہیں آسکی۔ صدر ٹرمپ امریکی سفارت خانہ یروشلم منتقل کرچکے ہیں، اس کے علاوہ وہ فلسطینی پناہ گزینوں کی مد میں دی جانے والی رقم میں کٹوتی کا اعلان بھی کرچکے ہیں، ۲۱؍اگست کوٹرمپ نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ فلسطینی اپنی محنت کا اچھا بدلہ حاصل کریں گے لیکن ان کا یہ بیان فلسطینیوں کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اعلان کرتا ہے۔

مذاکرات کے ماہرین کسی بھی تناؤ کو ابلاغ کا ہی ایک مسئلہ سمجھتے ہیں، مخالف گروہ مذکرات کے ذریعے باآسانی مسائل کا حل نکال سکتے ہیں، لیکن فلسطین اور اسرائیل کا مسئلہ مختلف ہے۔ ان کے برسوں سے جاری ’’دو ریاستی ایجنڈے‘‘ پر مذاکرات کی تفصیل پڑھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات یا ابلاغ کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک دوسرے پر اعتماداور بھروسے کی کمی کا شکار ہیں ۔

حماس اور اسرائیل کے درمیان کوئی بھی معاہدہ دونوں ملکوں کی سرحدوں پر خاموشی کی ضمانت ہوگا، لیکن اس سے محمود عباس کاسیاسی قد کم ہوجائے گا ،حماس بھی اس مسئلے کے حقیقی حل کی جانب پیش رفت نہیں کرسکے گی، صدر ٹرمپ بھی فلسطین کے لیے اچھی خواہشات کے حصول سے اب بہت دور نکل چکے ہیں۔اس سلسلے میں امریکا سے عرب اتحادی بھی نالاں ہیں اور اردن جیسے ملک کو بھی صدر ٹرمپ کے فیصلوں سے اختلاف ہے۔ اگر امریکا اپنے امن معاہدے کو دنیا کے سامنے پیش کرسکا تو شاید عرب ممالک اس سے کچھ دیر کے لیے خوش ہوسکیں۔

موجودہ صورت حال میں۴۳فیصد فلسطینی اور اسرائیلی دو ریاستی حل کی حمایت کرتے ہیں، یہ تعداددو عشروں کے دوران حاصل ہونے والی کم سے کم حمایت ہے۔اوسلو معاہدے کے بعد یہ تنازعہ ختم ہوجانا تھا لیکن اس معاہدے کے پچیس سال گزرنے کے بعد بھی یہ تنازعہ جوں کا توں موجود ہے اوراس تناظر میں حالیہ دنوں میں کی جانے والی پیش رفت بھی حالات کوصرف مزیدبگڑنے سے بچائے گی یا اس مسئلے کا حقیقی حل بتائے گی۔ (ترجمہ: سمیہ اختر)

“All talk, no progress: Will a flurry of diplomacy help Israel and the Palestinians?”. (“The Economist”. Aug. 23, 2018)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*