Abd Add
 

افغانستان میں امریکا کو شکست نہیں ہونی چاہیے!

بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کا نیوز ویک کو انٹرویو

بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے حال ہی میں امریکا کا سرکاری دورہ کیا ہے۔ اس دورے سے قبل نیوز ویک کے لیے لیلی ویمتھ نے ان سے انٹرویو کیا جس سے بھارت امریکا تعلقات کے مختلف خد و خال اجاگر ہوتے ہیں۔ یہ انٹرویو پیش خدمت ہے:


لیلی ویمتھ: مستقبل میں بھارت اور امریکا کے درمیان تعاون کا دائرہ وسیع کرنے کے حوالے سے آپ کے ذہن میں کیا آئیڈیاز ہیں؟

من موہن سنگھ: سویلین ایٹمی ٹیکنالوجی میں تعاون کے حوالے سے بھارت اور امریکا کے درمیان جو معاہدہ ہوا ہے وہ سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہم اس پر عمل کو یقینی بنائیں گے تاکہ معاہدے کے تحت بھارت کو تمام ممکنہ فوائد مل سکیں۔ مجھے امید ہے کہ ہم ایٹمی ٹیکنالوجی منتقل کرنے کے معاملے میں امریکا کو زیادہ لبرل رویہ اختیار کرنے پر آمادہ کرلیں گے۔ موجودہ پابندیاں غیر منطقی ہیں۔ بھارت کے بارے میں یہ بات پورے یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ وہ وسیع تباہی کے ہتھیاروں کی تیاری میں ملوث نہیں رہا۔ میرا خیال یہ ہے کہ نیا متوازن عالمی نظام وضع کرنے میں بھارت اور امریکا مل کر کام کرسکتے ہیں۔

ویمتھ: اس سے آپ کی کیا مراد ہے؟

من موہن: کوئلے سے بجلی پیدا کرنے اور توانائی کے قابل تجدید ذرائع کو فروغ دینے کے معاملے میں تعاون ممکن ہے۔ خوراک کی فراہمی کو محفوظ بنانے کے معاملے میں دونوں ممالک کے خدشات مماثل ہیں۔ پہلے سبز انقلاب میں امریکی پبلک سیکٹر ٹیکنالوجی نے بھارت کو زراعت کے میدان میں پیش رفت کے قابل بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اب ہمیں ایک اور سبز انقلاب کی ضرورت ہے۔

ویمتھ: افغانستان کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ امریکا، افغانستان میں زیادہ مدت تک نہیں رہے گا اور اس کے انخلاء کے بھارت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

من موہن: مجھے یقین ہے کہ امریکا سمیت عالمی برادری افغانستان میں دلچسپی لیتی رہے گی۔ اگر طالبان فاتح رہے تو جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے لیے شدید مشکلات پیدا ہوں گی۔ مجموعی طور پر عالمی امن ہی داؤ پر لگ جائے گا۔ مذہبی انتہا پسندی نے سوویت یونین کو ختم کیا تھا۔ اگر اسی مذہبی انتہا پسندی کے حامل گروپ نے ایک اور سپر پاور کو شکست دی تو پورا دنیا کے لیے شدید خطرات پیدا ہوں گے۔

ویمتھ: کیا آپ یہ مانتے ہیں کہ القاعدہ اور افغان طالبان میں رابطے میں ہیں؟

من موہن: اس میں کوئی شک نہیں۔ یہ لوگ ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں۔

ویمتھ: افغان صدر حامد کرزئی کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟

من موہن: مجھے کہنے دیجیے کہ کرزئی حکومت خامیوں سے پاک نہیں۔ معیاری حکمرانی اب بھی افغانستان سے بہت دور ہے۔ افغانستان کے معاملات راتوں رات درست نہیں کیے جاسکتے۔

ویمتھ: پاکستان کی صورت حال کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

من موہن: پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی پر ہم تشویش میں مبتلا ہیں۔ پاکستانی عناصر کی معاونت سے ہونے والی دہشت گردی کا بھارت شکار رہا ہے۔ القاعدہ اور طالبان ٹائپ کی دہشت گردی اب تک قبائلی علاقوں تک محدود رہی ہے۔ یہ دہشت گردی اگر پاکستان بھر میں پھیل گئی تو ہمارے لیے بھی خطرات پیدا ہوں گے۔ ایسی کوئی بھی صورت حال پسندیدہ نہیں سمجھی جائے گی جس میں دہشت گرد حاوی ہوں اور پاکستان کی سویلین حکومت محض علامتی حیثیت کی حامل ہوکر رہ جائے۔

ویمتھ: کیا آپ کو نہیں لگتا کہ اس وقت بھی کچھ ایسی ہی کیفیت ہے؟

من موہن: میں یہ نہیں کہہ سکتا۔ ہماری خواہش ہے کہ پاکستان میں جمہوریت پروان چڑھے۔ پاکستان کے کچھ علاقے القاعدہ اور دہشت گردوں کے کنٹرول میں ہیں۔

ویمتھ: کیا پاکستان دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے وہ سب کچھ کر رہا ہے جو کرنا چاہیے؟

من موہن: جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے، میرا خیال یہ ہے کہ امریکا اور پاکستان کے مقاصد مختلف ہیں۔ افغانستان کے معاملات پر پاکستان اپنا کنٹرول چاہتا ہے اور اس کی خواہش ہے کہ امریکا جلد از جلد افغانستان سے نکل جائے۔

ویمتھ: کیا یہ صورت حال امریکا اور بھارت کو اس قابل چھوڑتی ہے کہ وہ افغانستان کی تعمیر و ترقی کے لیے تعاون کرسکیں؟

من موہن: افغانستان کی تعمیر و ترقی میں بھارت نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ بھارت نے افغانستان پر اب تک ایک ارب بیس کروڑ ڈالر خرچ کیے ہیں۔ بنیادی ڈھانچا تیار کرنے میں بھارت کا کردار اہم رہا ہے۔ ہم یہ کام کسی بھی دوسرے امدادی ادارے سے بہتر کر رہے ہیں۔

ویمتھ: امریکا میں بہت سے لوگ اب بھی یہ نہیں سمجھ پائے کہ امریکی افواج اور دیگر ادارے افغانستان میں کیوں ہیں؟ آپ کی کیا رائے ہے؟

من موہن: گیارہ ستمبر ۲۰۰۱ء کو جو کچھ ہوا وہ صرف اس لیے ہوا کہ القاعدہ کو افغانستان میں ٹھکانہ مل گیا تھا۔ اگر اسے دوبارہ افغانستان میں قدم جمانے کا موقع مل گیا تو سوچ لیجیے کہ کیا ہوگا؟

ویمتھ: تو کیا آپ کو لگتا ہے کہ افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد نائن الیون جیسا کوئی اور واقعہ ہوسکتا ہے؟

من موہن: میں کوئی نجومی تو نہیں ہوں مگر اس بات کا اندیشہ مجھے ستاتا ہے کہ نائن الیون جیسا ہی کوئی اور واقعہ ہوسکتا ہے۔

ویمتھ: کیا امریکی انخلاء کے بعد افغانستان میں خانہ جنگی ہوسکتی ہے؟

من موہن: خانہ جنگی کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔

ویمتھ: کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے دہشت گرد گروپوں کو کنٹرول کرنا سب سے اہم ہے؟

من موہن: ہم پچیس سال سے اس دہشت گردی کا شکار ہیں جس نے پاکستان کی سرزمین سے جنم لیا ہے۔ میں چاہوں گا کہ پاکستان کے دہشت گرد گروپوں کو کنٹرول کرنے میں امریکا اہم کردار ادا کرے اور پاکستان کی حکومت پر دباؤ ڈالے۔ میں متعدد مواقع پر کہتا آیا ہوں کہ پاکستان کو بھارت سے نہیں ڈرنا چاہیے۔ دونوں ممالک کی تقدیریں جُڑی ہوئی ہیں۔ ہمیں مل کر غربت، جہالت اور بیماریوں کے خلاف جنگ لڑنی ہے۔ ان خرابیوں نے درجنوں ممالک کا بیڑا غرق کر رکھا ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ پاکستان دہشت گردی کو سرکاری پالیسی کی حیثیت سے استعمال کرنے کی منزل تک آگیا ہے!

ویمتھ: کیا آپ اس خدشے سے پریشان ہیں کہ ایران بھی ایٹمی ہتھیار بنا سکتا ہے؟ ایران اور بھارت کے تعلقات تو بہتر رہے ہیں؟

من موہن: ایران کے وزیر خارجہ سے میری ملاقات ہوئی ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ اوباما انتظامیہ سے انہیں چند مثبت اشارے ملے ہیں۔ ایران امریکا تعلقات کو معمول پر لانے کے حوالے سے امید کی کرن پھوٹی تو ہے۔

ویمتھ: یہ تو آپ کے ہدف پر منحصر ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کا حامل ہونا چاہیے یا نہیں؟

من موہن: ایران بھی ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کا رکن ہے۔ اس معاہدے کے تحت وہ ایٹمی ٹیکنالوجی کو پرامن مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا حق رکھتا ہے۔ اور اسی معاہدے کے تحت اس پر بہت سی پابندیاں بھی ہیں۔ این پی ٹی کا رکن رہتے ہوئے ایران ایٹمی ہتھیاروں کا حامل نہیں ہوسکتا۔

ویمتھ: بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے پروگرام پر کام کر رہا ہے؟

من موہن: کچھ عرصہ قبل ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل سے میری ملاقات ہوئی تھی اور وہ یہ محسوس کرتے تھے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی راہ پر گامزن نہیں۔

ویمتھ: دو سال قبل آپ نے پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے پر بات کی تھی، جب پرویز مشرف منصب صدارت پر فائز تھے۔ اب آپ دوطرفہ تعلقات معمول پر لانے کے حوالے سے کیا اقدامات کرنا چاہیں گے؟

من موہن: ہم پاکستان سے بہتر تعلقات چاہتے ہیں۔ مگر بنیادی شرط یہ ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔ ۲۰۰۴ء میں پرویز مشرف نے اس کی یقین دہانی کرائی تھی۔ شرم الشیخ میں یوسف رضا گیلانی نے اس یقین دہانی کا اعادہ کیا۔ اگر پاکستان اس وعدے پر عمل کرے تو ہم دو طرفہ تعلقات معمول پر لانے کے لیے بات چیت کرسکتے ہیں۔

ویمتھ: گزشتہ سال کے ممبئی حملوں کی روشنی میں دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ پاکستان نے اپنے وعدے کا پاس نہیں کیا؟

من موہن: ممبئی حملوں کے چند ملزمان کے خلاف پاکستان نے اقدامات کیے ہیں، تاہم یہ اقدامات ناکافی ثابت ہوئے ہیں۔ بھارت میں دہشت گردی لشکر طیبہ کا کام ہے۔ پاکستان میں یہ تنظیم جماعت الدعوۃ کے نام سے کام کرتی ہے۔ پاکستان کی حکومت کو اس نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرنی ہوگی۔ مجھے انٹیلی جنس سے روزانہ ایسی رپورٹس ملتی ہیں کہ پاکستان میں موجود دہشت گرد ممبئی حملوں جیسی ہی کوئی اور واردات کرنا چاہتے ہیں۔

ویمتھ: چین کو آپ کیا سمجھتے ہیں ۔۔۔ خطرہ یا ٹریڈنگ پارٹنر؟ یا دونوں؟

من موہن: چین نے بہت عمدگی سے، پرامن رہتے ہوئے ترقی کی ہے۔ وہ بھارت کا بڑا ٹریڈنگ پارٹنر بن کر بھی ابھرا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازع بھی ہے تاہم میرا خیال ہے کہ دنیا میں اتنی گنجائش تو ہے کہ دونوں کو ان کے عزائم کے مطابق پنپنے دیا جائے۔ ہم چین کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ تجارت اور سرمایہ کاری میں دونوں ممالک کے درمیان مسابقت چلتی رہے گی، مگر خیر یہ تو صحت مند رجحان ہے۔

ویمتھ: کیا آپ کو ایسا لگتا ہے کہ گزشتہ سال کے معاشی بحران نے ایشیا میں امریکا کے قائدانہ کردار پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے؟

من موہن: ایسا نہیں ہے۔ امریکی نظام تعلیم مستحکم ہے۔ کاروباری دنیا میں بھی امریکی آجر بہت عمدگی سے اپنی بات منواتے ہیں۔ امریکا معاشی مشکلات پر جلد قابو پالے گا۔

ویمتھ: بھارت کے بارے میں کیا خیال ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ بھارت نے معاشی بحران پر بہت حد تک قابو پالیا ہے؟

من موہن: بھارت کی برآمدات کی شرح نمو میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے۔ مسلسل چار سال تک یہ شرح آٹھ اعشاریہ پانچ سے نو فیصد سالانہ کے درمیان رہی۔ پھر چھ اعشاریہ سات فیصد پر آئی اور اب چھ اعشاریہ پانچ فیصد رہنے کا امکان ہے۔ دو سال میں بھارت دوبارہ نو فیصد سالانہ کی شرح نمو حاصل کرلے گا۔ میں اس حوالے سے پراعتماد اس لیے ہوں کہ قومی بچتوں کی شرح خام قومی پیداوار کے پینتیس فیصد کے مساوی ہے۔

ویمتھ: چند برسوں میں آپ کن اہداف کو حاصل کرنا چاہیں گے؟

من موہن: نو فیصد سالانہ شرح نمو کا حصول ہماری پہلی ترجیح ہوگی۔ اور ہم چاہیں گے کہ معاشی ترقی کے فوائد معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچیں۔ امیر اور غریب کا فرق کم ہو اور شہری و دیہی علاقوں کو یکساں معیار سے زندگی بسر کرنے کا موقع ملے۔

(بحوالہ: ’’نیوز ویک‘‘۔ ۳۰ دسمبر ۲۰۰۹ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.