Abd Add
 

اسلام سے متعلق امریکیوں کی سوچ میں استحکام

پیو فورم کی جانب سے ایک سروے رپورٹ

امریکا کی عراق میں جنگ اور اندرونِ خانہ دہشت گردی کے مسلسل خطرے کے باوجود گذشتہ سال سے موازنہ کی صورت میں یہ واضح ہوتا ہے کہ اسلام کے تئیں عوام کے رویے میں استحکام آیا ہے۔ ایک سرسری جائزے کے مطابق دس امریکیوں میں چار امریکی (%۳۹) کا کہنا ہے کہ وہ اسلام کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جبکہ ۳۷ فیصد امریکیوں کی اسلام کے بارے میں رائے اچھی نہیں ہے۔ اسلام کے بارے میں عوامی رائے تبدیل نہیں ہوئی ہے جیسا کہ ۲۰۰۳ء کے جائزے میں ۴۰ فیصد لوگوں کی رائے اسلام کے حق میں اچھی اور پسندیدہ تھی۔ امریکیوں کا کثیر طبقہ (%۴۶) اس خیال کا حامل ہے کہ اسلام دوسرے مذاہب کے مقابلے میں زیادہ تشدد کی جانب مائل ہے۔ لوگوں کی یہ رائے بھی پچھلے سال (%۴۴) کے مقابلے میں تقریباً غیرمتغیر ہے۔ %۳۷ فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ اسلام دوسرے مذاہب کے مقابلے میں تشدد کی جانب زیادہ مائل نہیں ہے۔ اسلام کے تشدد کی جانب مائل ہونے کے حوالے سے ۲۰۰۳ء میں لوگوں کی رائے (%۴۴) ۲۰۰۲ء کے (%۲۵) کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ پورے ملک میں ۲۰۰۹ بالغ اشخاص سے انٹرویو لینے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے۔ اس سروے کا اہتمام Pew Research Centre for the People and the Pew Forum on Religion & Public Life کی جانب سے کیا گیا تھا۔ یہ سروے مذکورہ ادارے کی جانب سے ۸ تا ۱۸ جولائی کی مدت میں انجام دیا گیا۔ اس سروے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ پوری دنیا میں پائی جانے والی امریکا دشمنی میں بھی تھوڑی کمی آئی ہے۔ ۴۴ فیصد پر مشتمل ایک کثیر طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ بہت تھوڑے یا کچھ مسلمان امریکا سے نفرت کرتے ہیں۔ جبکہ جولائی ۲۰۰۳ء میں ۴۲ فیصد لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ تقریباً نصف آبادی (%۱۹) یا زیادہ سے زیادہ تقریباً %۲۳ مسلمان پوری دنیا میں امریکا مخالف ہیں۔ %۴۹ آبادی کا یہ کہنا ہے کہ تقریباً نصف یا اس سے زیادہ مسلمان دنیا بھر میں امریکا دشمنی پر آمادہ ہیں۔ مارچ ۲۰۰۲ء میں یہ سوچ صرف %۳۶ لوگوں کی تھی۔ عددی اور سیاسی اعتبار سے رائے عامہ میں اسلام کی تئیں نمایاں اختلاف پایا جاتا ہے۔ حاصل جمع یہ ہے کہ ۳۰ سال سے کم کے امریکی جوان اسلام کے متعلق اچھی رائے رکھتے ہیں اور زائد عمر کے لوگوں کی رائے منقسم ہے‘ جن میں ۶۵ اور اس سے زائد عمر کے لوگوں (%۳۹) نے اسلام سے متعلق اپنی رائے کا اظہار نہیں کیا۔ مذہبی اور سیکولر گروہوں کے درمیان %۵۰ رائے اسلام کے حق میں بہتر ہے اور %۲۵ رائے اسلام کے خلاف ہے۔

سفید فام کیتھولک کے مختلف گروہ بھی اسلام کے بارے میں اچھا تاثر رکھتے ہیں یعنی %۴۳ حق میں اور %۳۴ مخالفت میں۔ لیکن سفید فام ایوانجیلیکل پروٹسٹنٹس مجموعی طور سے اسلام کے متعلق منفی رائے رکھتے ہیں۔ ان کی رائے %۴۶ اسلام کے مخالف ہے جبکہ %۲۹ حق میں ہے۔ سفید ایوانجیلیکل کی نصف سے زیادہ تعداد جو ہفتے میں کم از کم ایک بار گرجا گھر جاتی ہے‘ اسلام کے متعلق اچھی رائے نہیں رکھتی ہے۔ اسلام کے حوالے سے تاثر میں بھی شدید نظریاتی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ لبرل ڈیمو کریٹس کی %۵۶ تعداد کہتی ہے کہ ان کی اسلام کے بارے میں رائے اچھی ہے۔ قدامت پسند اور معتدل ڈیمو کریٹس ذرا کم (%۴۴) اسلام کے حق میں ہیں۔ لیکن مثبت رائے منفی رائے پر حاوی ہے۔ ریپبلکن اسلام کے بارے میں کم مثبت رائے رکھتے ہیں اور %۴۵ قدامت پرست ریپبلکن کا کہنا ہے کہ ان کی رائے مذہب کے بارے میں اچھی نہیں ہے۔

(بشکریہ: پیو فورم پریس ریلیز۔ ۹ ستمبر ۲۰۰۴ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*