عرب اسرائیل مخمصہ

بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے حوالے سے ایوگڈور لبرمین کے تصورات کو تیزی سے مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔

ہارش (Harish) شاید اسرائیل کا پہلا شہر ہے جسے اس خیال ہی سے آباد کیا گیا کہ اس میں یہودی اور عرب مل کر رہیں گے۔ بحیرۂ روم کے ساحل کو مغربی کنارے سے الگ کرنے والی پہاڑیوں کے دامن میں بڑے بلڈوزر مٹی اور ملبہ ہٹانے میں مصروف ہیں تاکہ ساٹھ ہزار افراد کے لیے بہتر رہائشی سہولتیں ممکن بنائی جاسکیں۔ عربوں نے اس شہر کے لیے ایک الٹرا آرتھوڈوکس یہودی میئر کے انتخاب میں مدد دی ہے۔ قریبی قصبوں کے یہودیوں نے اپنے علاقوں میں مسلمانوں کو رہائش اور تدفین سے روکنے کے لیے عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے ہیں مگر ہارش شاید پہلا شہر ہوگا جہاں مساجد کے مینار اور سائناگوگ ساتھ ساتھ قائم رہیں گے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ لبرمین اگر اپنی سوچ پر عمل میں کامیاب ہوگئے تو ہارش کو اس کی عرب اکثریت کے اثر سے دور کرنا ممکن ہوگا۔ شہر کی اسپیشل پلاننگ کمیٹی کے سربراہ یگال شاچر جب اسرائیل اور فلسطینی ریاستوں کی حدود کا تعین کرتے ہیں تو ہارش کے گرد ایک ڈور رہنے دیتے ہیں اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ اس علاقے کی عرب آبادی اسرائیل ہی میں رہے گی۔ مگر وہ قریب کے دوسرے عرب اسرائیلی قصبوں (مثلاً ارا) کے گرد لکیر کھینچ کر اسے مغربی کنارے میں شامل کردیتے ہیں، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ یہ علاقے ممکنہ فلسطینی ریاست کا حصہ ہوں گے۔

ایوگڈور لبرمین نے دس سال قبل یہ تجویز پیش کی تھی کہ اسرائیل میں عرب اکثریت والے علاقوں کو مجوزہ فلسطینی ریاست میں اور فلسطینی علاقوں میں قائم یہودی آبادیوں کے لوگوں کو اسرائیل منتقل کردیا جائے تو انہیں نسل پرست فائر برانڈ قرار دیا گیا تھا۔ ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ آبادیوں کی جبری منتقلی کی وکالت کر رہے ہیں۔ ربی مایر کاہان نے، جو خالص یہودی ریاست کے لیے عرب آبادی کے اخراج کے حق میں ہیں، لبرمین کی تجاویز کو نسلی تطہیر کے مساوی قرار دیا تھا۔ اب اسرائیل میں بہت سے لوگ اور بائیں بازو کے عناصر بھی لبرمین کے تصور کو قابل عمل گردانتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جو کچھ لبرمین نے کہا تھا وہ کچھ ایسا خطرناک نہ تھا جیسا دکھائی دیتا تھا۔ لبرمین نے حال ہی جب یہودی اکثریت والے علاقوں کا تبادلہ عرب اکثریت والے علاقوں سے کرنے کی بات کہی تو نہ صرف وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو خاموش رہے بلکہ امریکی مصالحت کاروں نے اِس تجویز کو دو ریاستوں کے تصور سے متعلق اور امن پسندی کی طرف اہم قدم سے تعبیر کیا۔ لبر مین نے کہا ہے کہ کوئی بھی شخص اپنی زمین یا ملکیت سے بے دخل نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اسے ملک سے نکالا جائے گا بلکہ سچ یہ ہے کہ ہم سرحدوں کو تبدیل کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں اپنے فیس بک پیج پر سرحدی تبدیلیوں کی مخالفت کرنے والے عرب ارکان پارلیمنٹ کا مضحکہ یہ کہتے ہوئے اُڑایا کہ وہ صہیونیت پر شیدا ہیں تبھی تو اسرائیل میں رہنے پر بضد ہیں! اسرائیل میں آباد عربوں کی واضح اکثریت بھی اب سرحدوں میں تبدیلی کے حق میں ہے۔ پانچ سال پہلے تک جس تجویز کو انہوں نے تباہی کا راستہ قرار دیا تھا اب اسے قابل عمل قرار دے رہے ہیں۔ ۱۹۴۸ء میں اسرائیلی ریاست کے قیام کے حوالے سے عربوں کے دل و دماغ میں جو تلخی پائی جاتی تھی، وہ اب قدرے مٹ گئی ہے اور وہ حقائق کے مطابق اپنے آپ کو بدلنے کے لیے تیار ہیں۔

اسرائیل نے اپنی پالیسیوں میں غیر معمولی تبدیلیوں کو راہ دی ہے۔ مثلاً عرب اسرائیلیوں کو اب فلطسطینی علاقوں میں تعطیلات گزارنے کی اجازت ہے۔ اس اقدام سے سرحدوں کے دونوں طرف کے عربوں میں رشتے مضبوط ہوئے ہیں۔ اسرائیل کے سیکولر عرب اب اسلام نواز عناصر سے دور ہونے کے لیے تیار ہیں۔ وہ اپنی خوش حالی کو وادی ارا سے جُڑا ہوا دیکھتے ہیں، جو اُس علاقے کا حصہ ہے جس کے تبادلے کا لبرمین نے خواب دیکھا ہے۔

اسرائیل کے ۱۷؍لاکھ عرب اب بھی اپنے آپ کو فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا پاتے ہیں تو اِس کا ایک بنیادی سبب یہ ہے کہ اسرائیل میں اُنہیں مکمل طور پر قبول کرنے کی فضا نہیں پائی جاتی۔ ایک طرف لبرمین انہیں الگ تھلگ حیثیت دینے پر بضد ہیں اور دوسری طرف بنیامین نیتن یاہو چاہتے ہیں کہ اسرائیل کو عالمی سطح پر ایک ایسی ریاست کی حیثیت سے شناخت ملے جس میں صرف یہودی رہتے ہوں۔ یہ دونوں تصورات ملک کے ۱۸؍لاکھ عربوں کو باقی لوگوں سے الگ ہونے پر مجبور کر رہے ہیں۔

عربوں کو الگ تھلگ کرنے کی پالیسی اب بیشتر معاملات میں جھلکنے لگی ہے۔ اسرائیل کی مرکزی بس سروس یہودی اکثریت کے شہروں کو بھی عمدہ خدمات فراہم کرتی ہے مگر عرب اکثریت والے علاقوں سے برائے نام ہی گزرتی ہے۔ حکومت یہودی بستوں کے لیے تو صنعتی زون بناتی ہے مگر عرب آبادی کے لیے ایسا کوئی اہتمام کرنے پر توجہ نہیں دی جاتی۔ سائن بورڈز عبرانی اور عربی دونوں زبانوں میں ہوتے ہیں مگر عربی کے سائن بورڈز میں بہت سی اغلاط پائی جاتی ہیں۔ اسرائیل میں قائم عرب ریڈیو اسٹیشن ’’شمس‘‘ کے براڈ کاسٹر مقبولہ نصر کا کہنا ہے: ’’ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ایک جمہوریت کے باشندے ہیں۔ عشروں کی ناانصافی کے باوجود فرقہ وارانہ تشدد برائے نام تھا۔ مگر اب ہمیں اندازہ ہوچکا ہے کہ ہمیں ہر مرحلے پر دشمن ہی سے تعبیر کیا گیا ہے‘‘۔

اسرائیل میں آباد بیشتر عرب اس بات پر اب پختہ یقین رکھتے ہیں کہ حکومت بھی انہیں ساتھ نہیں رکھنا چاہتی اور یہودیوں کی اکثریت بھی اُنہیں اپنا نہیں گردانتی۔ بہت سے پروفیشنلز شدید پریشانی میں مبتلا ہیں کہ اب کیا کریں، کہاں جائیں؟ اسرائیلی اسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹر اور نیم طبی عملے کے افراد الجھن میں ہیں کہ کس راہ پر گامزن ہوں۔ بہت سے عرب وکلا نے اسرائیلی قوانین میں مہارت حاصل کر رکھی ہے۔ اب اگر انہیں فلسطینی ریاست میں رہنا پڑا تو ان کے لیے شدید الجھن پیدا ہوگی۔

اسرائیلی عربوں کے لیے وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ انہیں بہت کچھ نیا سیکھنا ہے۔ اگر انہیں نئی فلسطینی ریاست میں رہنا پڑا تو ان کی مشکلات میں غیر معمولی اضافہ ہوگا۔ وہ ابھی سے خود کو آنے والے زمانے کے لیے تیار کر رہے ہیں۔ انہیں اندازہ ہے کہ وقت ضائع کرنے کی صورت میں ان کی مشکلات کم نہیں ہوں گی، بلکہ صرف بڑھیں گی۔ ایوگڈور لبرمین اور بنیامین نیتن یاہو کی سوچ پر عمل ہونے کی صورت میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ مجوزہ سرحدوں میں تبدیلی سے تمام آبادیاں علاقوں سے کنارہ کش ہوئے بغیر منتقل ہوجائیں گی۔ اس صورت میں خوں ریزی کا امکان تو تقریباً ختم ہوجائے گا مگر پوری کی پوری آباد، عرب اور یہودی آبادیاں غیر متعلق ہوکر رہ جائیں گی۔

(“An Arab-Israeli dilemma: Might they want to join Palestine?”…
“The Economist”. Jan. 18, 2014)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*