Abd Add
 

اسرائیل کے ساتھ جنگ، حماس کے مفاد میں نہیں!

اطالوی اخبار"لاریپبلک"کاحماس کے رہنما یحییٰ سِنوار کا انٹرویو

حماس کے رہنما نے حال ہی میں یہ بیان جاری کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ہم اب جنگ نہیں چاہتے، عبرانی ڈیلی نیوز پیپر اور ’’لاریپلک‘‘ نے حماس کے رہنما ’’یحییٰ سنوار‘‘ کا جمعہ کو انٹرویو شائع کیا،جس میں انہوں کہا کہ ’’حماس اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے ذریعے غزہ کی سرحد پر سے پابندیاں ختم کرناچاہتی ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنگ کے ذریعے ہم کچھ بھی حاصل نہیں کر سکے‘‘۔

سنوار نے اٹلی کے صحافی فرنسسکا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے شہری ۲۰۰۷ ء سے پہلے ہی (جب کہ غزہ کی سرحدی پٹی پر پابندی نہیں لگی تھی) اسرائیلی جارحیت کا سامنا کر رہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ حماس قیدیوں کے تبادلے کے لیے بھی تیار ہے اور غزہ کی سرحد پر سے پابندی ہٹانے کے سلسلے میں معاہدے کے لیے بھی تیار ہے۔غزہ کے لوگ مقبوضہ علاقے میں اسرائیلی تسلط کے سائے تلے زندگی گزار رہے ہیں۔

حماس کے حالیہ بیان سے غزہ کی زمینی صورتحال اور اسرائیل اور حماس کے درمیان طاقت کے توازن کو سمجھنے میں مدد ملی ہے، سنوار کے مطابق حماس اب اس قدر بے وقوف نہیں کہ طاقتور اسرائیل سے جنگ مول لے، اس کے ساتھ ساتھ حماس کے خلاف جنگ اب اسرائیل کے حق میں بھی بہتر نہیں ہے۔حقیقت یہی ہے کہ جنگ اب دونوں میں سے کسی کے مفاد میں نہیں ہے اورایٹمی طاقت کا استعمال کسی کے حق میں مفید نہیں ہے۔

سنوار نے مزید کہا کہ نیتن یاہو کے لیے جنگ جیتنا جنگ ہارنے سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوگا۔ اسرائیل اب تک تین جنگیں لڑچکاہے اور ہر بار اس نے فلسطین کے مغربی کنارے میں موجود فلسطینیوں سے جان چھڑانے اور وہاں یہودیوں کی اکثریت ثابت کرنے کی لاحاصل کوشش کی ہے اور اب چوتھی جنگ ایک بار پھر ۲ لاکھ عربوں کے اضافے کے سوا کچھ نہیں دے گی، اسی لیے مزید جنگوں کا حاصل تباہی کے سوا کچھ نہیں ہے۔حماس غزہ پر لگنے والی پابندیوں کے خلاف ہفتہ وار احتجاج کر رہی ہے، مغربی کنارے پر آمد و رفت کی یہ پابندیاں غزہ پر حماس کے قبضے کے بعد ۲۰۰۷ ء میں لگائی گئیں تھیں۔

اس انٹرویو پر اسرائیل کا موقف جاننے کے لیے ’’الجزیرہ‘‘ نے اسرائیلی وزیر خارجہ سے رابطہ کیا لیکن انھوں نے اس پر تبصرہ کرنے سے معذرت کر لی۔

اسرائیلی صحافی ’’فرنزمین‘‘سنوار کے انٹرویو سے متفق نہیں، فرنزمین کے مطابق اسرائیلی عوام بھی سنوار کی اس بات پر یقین نہیں کر سکتے کہ اسرائیل غزہ پر سے پابندیاں ہٹا لے گا۔ فرنزمین جو کہ ’’یروشلم پوسٹ‘‘ میں لکھتے ہیں کے مطابق ’’اسرائیل کاحماس کے ساتھ ۲۰سالہ جنگ، سرنگوں اور میزائل حملوں کا تجربہ ہے، اسرائیل کبھی بھی غزہ کی پروا نہیں کرے گا اور سنوار کے بیانات پروپیگنڈا کے سوا کچھ نہیں ہیں‘‘۔

فرنزمین کے بیانات دراصل اسرائیلی عوام کی سوچ کا رخ بتاتے ہیں۔ اسرائیلی عوام کبھی بھی حماس پر بھروسہ نہیں کر سکتے، حماس کی اسرائیل دشمنی ہی اسرائیلیوں کے دائیں بازو کی جماعت کی طرف راغب ہونے کا سبب ہے،اسرائیلی امن کیمپ کی اہمیت باقی نہیں رہی، جب کہ بائیں بازو والے بھی حماس کے ساتھ امن معاہدے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ اسرائیلی عوام امن مذاکرات کے لیے صرف محمود عباس سے بات چیت کی حمایت کر تے ہیں۔

حماس کے خارجہ امور کے نگران’’اسامہ ہمدان‘‘ نے بیروت سے الجزیرہ کو دیے گئے بیان میں کہا کہ ’’محمود عباس نے اسرائیل کو وہ سب کچھ دیا، جو اسرائیل چاہتا تھا مگر اسرائیل نے محمود عباس کا کوئی بھی مطالبہ پورا نہیں کیا‘‘، انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کے ساتھ ہمارا تجربہ ہمیشہ بدترین رہا ہے۔ ۱۹۹۲ء کی اسرائیل اور عرب ممالک امن کانفرنس میں حماس نے کچھ بھی حاصل نہیں کیا، حتیٰ کہ فلسطینیوں کی ان ہی کی زمین پر موجودگی کو بھی تسلیم نہیں کیا گیا، اس لیے حماس نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنی زمین پر اپنے حقوق کا دفاع خود ہی کرے گی۔

انہوں نے مزیدکہا کہ اسرائیل فلسطین میں امن نہیں چاہتا بلکہ وہ فلسطینی عوام کو غلام بنا کررکھنا چاہتا ہے۔ ہمدان کا کہنا تھا کہ انہوں نے محمود عباس کی امن قائم کرنے کی کوششوں سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ محمود عباس نے ہمیشہ دہشت گردی کی مخالفت کی ہے، اسرائیل کے ساتھ سلامتی کے معاملات میں تعاون کیا ہے۔ فلسطینیوں کے حقوق کے لیے اسرائیل کا وجود تسلیم کیا ہے لیکن ان کی ان کوششوں کے جواب میں اسرائیل نے ان پر دہشت گردی اور بغاوت کا الزام لگایا ہے۔

’’لبریشن تنظیم آزادیٔ فلسطین‘‘ کے رہنما واصل ابویوسف نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ ’’سنوار کا اسرائیل کے بارے میں حالیہ موقف تنظیم آزادیٔ فلسطین کے لیے ناقابل قبول ہے، انہوں نے مزید کہاکہ حماس کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ تمام فلسطینیوں کی قسمت کا فیصلہ تنہا کرے۔ حماس کو فلسطینیوں کے بارے میں اسرائیل کے ساتھ کسی بھی معاہدہ میں فلسطین کے رہنماؤں کو بھی شریک کرنا ہوگا، حماس اور اسرائیل کے درمیان کوئی بھی فیصلہ ہمیں قبول نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ پر سے پابندیاں ہٹانے کے کسی بھی معاہدے میں فلسطین کے تمام رہنماؤں کی شرکت ضروری ہے۔

سنوار۱۹۸۸ء سے ۲۰۱۱ء تک اسرائیل کی قید میں رہے ہیں اور قیدیوں کے تبادلے میں ان کی رہائی ممکن ہوئی ہے۔

جیل میں گزرے گئے سالوں کو یاد کرتے ہوئے سنوار کہتے ہیں کہ ’’قید سے پہلے اور قید کے بعد کی دنیا میں واضح فرق آچکا ہے، ۱۹۸۸ء میں سرد جنگ جاری تھی، انتفاضہ کی تحریک موجود تھی،وہ بریکنگ نیوز کا دور تھا اور ہم اس وقت پمفلٹ چھاپتے تھے۔لیکن آج ہمارے پاس انٹر نیٹ ہے، اس کے با وجود مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں ایک قید سے نکل کر دوسری قید میں آگیا ہوں۔ پہلے غزہ میں بجلی تھی، پانی تھا لیکن اب کچھ بھی نہیں ہے، غزہ میں زندگی پہلے سے بہت مشکل بنا دی گئی ہے‘‘۔

(ترجمہ: سمیہ اختر)

“Another war with Israel not in Hamas’s interest”. (“Al Jazeera”. Oct.6, 2018)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.