Abd Add
 

عرب حکمران ’’سبسڈی‘‘ کی راہ پر گامزن

تیونس میں عوامی انقلاب کے نتیجے میں صدر زین العابدین بن علی کے ملک سے فرار ہو جانے اور مصر میں تیس سال سے اقتدار پر قابض حسنی مبارک کے مستعفی ہو جانے کے بعد عرب دنیا میں کھلبلی مچی ہوئی ہے اور حکمرانوں نے عوام کو مختلف معاملات میں سہولتیں دینا شروع کردی ہیں۔ کھانے پینے کی اشیا کو سستا کیا جارہا ہے۔ روزمرہ استعمال کی بہت سی اشیا پر سبسڈی دی جارہی ہے۔ تنخواہوں میں اضافہ کیا جارہا ہے اور پنشن بھی بڑھائی جارہی ہے۔ لندن میں قائم تھنک ٹینک کیپٹل اکنامکس کے تجزیہ کار سعید کا کہنا ہے کہ مختصر میعاد کے لیے سبسڈی دی جاسکتی ہے۔ اگر یہ طوالت اختیار کر گئی تو معیشت پر دباؤ میں اضافہ ہوگا۔ سبسڈی کا سلسلہ چلتا رہا تو اصلاحات کے لیے فنڈز کی فراہمی میں دشواری پیش آئے گی اور سرمایہ کاری کا ماحول بھی خراب ہوگا۔

اردن، شام اور یمن میں ٹیکس کم کیے جارہے ہیں، تنخواہوں میں اضافہ کیا جارہا ہے اور اشیائے خور و نوش کی قیمتیں بھی نیچے لائی جارہی ہیں۔ تیونس اور مصر میں بھی ایسا ہی کیا گیا۔ ماہرین کہتے ہیں کہ سبسڈی دے کر عوام کے لیے ریلیف کا اہتمام کرنے سے کوئی بہتری نہیں آئے گی۔ ویسے بھی عرب دنیا میں لوگ معاشی الجھنوں سے کہیں زیادہ آمریت اور کرپشن سے پریشان اور نالاں ہیں۔ خطے کے عوام کی اکثریت غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔

اردن میں حکومت نے تیل، گھی اور شکر کی قیمتیں کم کرنے کی غرض سے ۵۵ کروڑ ڈالر کا پیکیج تیار کیا۔ بینک کلرک لیلیٰ روزان نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت اگر ریلیف دے رہی ہے تو بہرحال اس کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے۔ عوام منتظر ہیں کہ ضروری اشیا کی قیمتوں میں کمی اور تنخواہوں میں اضافے کے بعد اب کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے تاکہ عوام کی دولت کوئی خورد برد نہ کرسکے اور قومی وسائل صحیح ڈھنگ سے استعمال کیے جاسکیں۔ اردن کے پاس اب یہ انتخاب رہ گیا ہے کہ روزمرہ استعمال کی اشیا پر سبسڈی دے کر مزید قرضوں کی راہ ہموار کی جائے یا پھر عوام کے غیظ و غضب کو آواز دی جائے۔

اردن کی معیشت کا مدار سیاحت اور سرمایہ کاری پر ہے۔ اس سال اب تک دو ارب ڈالر کے خسارے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ کرپشن، بیروزگاری، مہنگائی اور قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ غربت پر قابو پانا بھی ناگزیر ہے۔ تیونس کی صورت حال کا ردعمل ابھی تیونس میں رونما بھی نہیں ہوا تھا کہ شاہ عبداللہ نے حکومت تحلیل کردی۔ اس سے ان کی سیاسی کمزوری ظاہر ہوئی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد مجروح ہوا۔ اردن کی کریڈٹ ریٹنگ گرگئی ہے۔ سرمایہ کار اب اردن کو سرمایہ کاری کے لیے محفوظ ملک نہیں سمجھتے اور مزید کچھ لگانے سے گریز کر رہے ہیں۔

اسٹینڈرڈ اینڈ چارٹر کے تجزیہ کار لک مرچنڈ نے کہا ہے کہ اردن کے لیے معاشی نمو کی شرح بہتر بنانے کے امکانات محدود ہوگئے ہیں۔ تیونس اور مصر کی صورت حال سے سرمایہ کاری اور جاب مارکیٹ غیر معمولی حد تک متاثر ہوئی ہے۔

جزیرہ نما عرب میں یمن غریب ترین ملک ہے۔ صدر علی عبداللہ صالح نے صورت حال کی نزاکت دیکھتے ہوئے دس لاکھ سرکاری اور فوجی افسران و ملازمین کی تنخواہوں میں ۲۵ فیصد تک اضافے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے معیشت پر ۴۱ کروڑ ۵۰ لاکھ ڈالر کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ انہوں نے ۶۰ ہزار نوجوانوں کو ملازمتیں دینے کے وعدے کے ساتھ ساتھ کالجوں کی ٹیوشن فیس معاف کرنے کا اعلان بھی کیا۔

شام کی حکومت نے غریبوں کے لیے ۲۵ کروڑ ۵۰ لاکھ ڈالر کے امدادی پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ کھانے کے تیل کا الاؤنس ۲۰ ڈالر سے بڑھاکر ۳۲ ڈالر کردیا گیا ہے۔ ۲۰۰۱ء کے بعد یہ اس مد میں پہلا اضافہ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدامات کافی ہوں گے؟

تیونس کے صدر زین العابدین بن علی نے بھاگنے سے قبل اتمام حجت کے طور پر ایک لاکھ ملازمتیں دینے کا اعلان کیا۔ حسنی مبارک نے بھی معیشت کو بہتر بنانے کا اعلان کیا تھا۔ مصر ایک ایسا ملک ہے جہاں عام آدمی یومیہ دو ڈالر سے بھی کم پر جیتا ہے۔ حسنی مبارک نے عوام کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لئے تنخواہوں میں ۱۵ فیصد اضافے کا اعلان کیا اور پنشن بھی بڑھا دی تھی، مگر عوام پھر بھی مطمئن نہیں ہوئے۔ اس اضافے سے قومی خزانے پر ایک ارب دس کروڑ ڈالر کا بوجھ پڑے گا۔ جن لوگوں نے سرکاری اسکیم میں ٹیکسیاں اقساط پر حاصل کی ہیں ان کی ایک قسط کی ادائیگی موخر کردی گئی تھی۔ گزشتہ سال مصر کی حکومت نے مختلف مدوں میں ۱۷؍ارب ڈالر کی سبسڈی دی تھی۔ اس سال مزید سبسڈی دینے کا اعلان کیا گیا۔ مصر میں کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی سالانہ شرح ۱۷؍فیصد تک ہے۔ معیشت پر دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔ ہنگاموں کے بعد ملک سے ایک لاکھ ساٹھ ہزار سیاح چلے گئے جس کے نتیجے میں معیشت کو کم و بیش ڈیڑھ ارب ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔ قاہرہ میں قائم انویسٹمنٹ بینک بیلٹون فائنانشل کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد مجروح ہوگیا ہے اور اب مزید سرمایہ کاری کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔

(بشکریہ: ’’ایسوسی ایٹڈ پریس‘‘۔ ۹فروری ۲۰۱۱ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.