خلیجی ممالک کے قطر سے ۱۳ مطالبات

نمبر۱۔ ایران سے سفارتی تعلقات کم کیے جائیں۔ایران کا قطر میں موجود سفارتی مشن بند کیا جائے۔ایرانی پاسداران انقلاب کے ارکان کو ملک بدر کیا جائے اور اس کے ساتھ فوجی اور خفیہ تعاون ختم کیا جائے۔ایران کے ساتھ تجارت امریکی اور عالمی پابندیوں کے مطابق کی جائے اورایسا کوئی تعاون نہ کیا جائے جس سے خلیجی ممالک کے مفادات کو کوئی نقصان پہنچے۔

۲۔ قطر میں ترکی کے ساتھ فوجی تعاون فوری معطل کیا جائے اور زیر تعمیر ترک فوجی اڈے کو فوراً بند کیا جائے۔

۳۔ تمام ’’دہشت گرد،فرقہ وارانہ اور نظریاتی‘‘تنظیموں سے تعلقات ختم کیے جائیں،خاص طور پر اخوان المسلمون، داعش، النصرہ فرنٹ اور حزب اللہ جیسی تنظیمیں ۔سرکاری طور پر ان تمام تنظیموں کو دہشت گرد قرار دیا جائے جیسا کہ سعودی عرب،بحرین،متحدہ عرب امارات اور مصرنے کیا ہے۔اور مستقبل میں بھی اس فہرست میں ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق کام کیا جائے۔

۴۔ ایسے تمام افراد اور تنظیموں اور گروہوں کی مالی امداد بند کی جائے، جن کو سعودی عرب،بحرین،متحدہ عرب امارات اور مصر نے دہشت گرد قرار دیا ہے۔

۵۔ سعودی عرب،بحرین،متحدہ عرب امارات اور مصر کے مطلوبہ افراد کو ان کے ممالک کے سپرد کیا جائے،اور ان کے گھر،نقل و حرکت اور مالی معاملات کی تما م تفصیل بھی مہیا کی جائے۔

۶۔ الجزیرہ اور اس سے ملحقہ تمام چینل بند کیے جائیں۔

۷۔ خود مختار ریاستوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت بند کی جائے۔سعودی عرب،بحرین،متحدہ عرب امارات اور مصر کے مطلوب افراد کو شہریت دینے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ اگر ایسے افراد اپنے ممالک کے قانون کو توڑیں تو ان کی قطری شہریت منسوخ کر دی جائے۔

۸۔ حالیہ برسوں میں قطر کی پالیسیوں کی وجہ سے ہونے والے مالی نقصان کی تلافی کی جائے،جس کا تخمینہ قطر سے مشاورت کے بعد لگایا جائے گا۔

۹۔ قطر اپنی دفاعی، معاشرتی اور معاشی پالیسیاں دیگر خلیجی اور عرب ممالک سے مطابقت رکھ کر تشکیل دے۔ خاص طور پر معاشی پالیسیاں ۲۰۱۴ء میں سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے مطابق بنائے۔

۱۰۔ سعودی عرب،بحرین،متحدہ عرب امارات اور مصرکی سیاسی حزب اختلاف سے قطر اپنے تعلقات منقطع کرے ۔حزب اختلاف کی جماعتوں سے آج تک قطر کے جو رابطے رہے ہیں اور جو معاونت کی گئی ہے، اس کی تفصیلی رپورٹ بنا کر دی جائے۔

۱۱۔ ایسے تما م چینل بند کیے جائیں جن کی مالی مدد قطر کرتا ہے، مثال کے طور پر ’’عربی۲۱، العربی الاجدید، Mekameleen ور Middle East Eye وغیرہ۔

۱۲۔ قطر یہ مطالبات دس دن کے اندر تسلیم کر لے ورنہ یہ فہرست منسوخ ہو جائے گی۔

۱۳۔ مطالبات تسلیم کرنے کے بعد پہلے سال اس پر عملدرآمد کی ماہانہ رپورٹ دی جائے،دوسرے سال سہ ماہی اور پھر آئندہ کے دس سالوں میں سا لانہ رپورٹ جمع کروائی جائے۔

(ترجمہ: حافظ محمد نوید نون)

“Arab states issue list of demands to end Qatar crisis”. (“aljazeera.com”. June …, 2017)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*