Abd Add
 

Articles by Ghias Udin

تیونس : جمہوریت اور فسادات

December 16, 2012 // 0 Comments

تیونس میں جمہوریت کو حقیقی معنوں میں متعارف ہوئے زیادہ وقت نہیں گزرا مگر اس چھوٹے سے ملک کو پھر فسادات نے لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ سب چاہتے ہیں کہ جو کچھ عشروں میں بگڑا ہے، وہ لمحوں میں درست ہو جائے۔ ایسے میں بہتری کی توقع کس طور رکھی جاسکتی ہے؟ تیونس میں لوگ معاشی مشکلات سے پریشان ہیں۔ عوامی انقلاب کے برپا ہونے سے بہت کچھ الٹ پلٹ گیا ہے۔ ایسے میں لازم ہے کہ معاملات کو درست کرنے کے لیے کچھ وقت دیا جائے۔ مگر قوم حکومت کو وقت دینے کے لیے تیار نہیں۔ تقریباً دو سال قبل جب عرب دنیا اور شمالی افریقا میں عوامی انقلاب کی لہر اٹھی تو سب سے پہلے تیونس میں زین العابدین بن علی کی [مزید پڑھیے]

ــــہندوستانی مسلمانوں کی مظلومیت۔۔۔ بے سبب نہیں!

December 1, 2012 // 0 Comments

مسٹر این سی استھانا (NC Asthana) سینٹرل ریزرو پولیس فورس، کوبرا (ایک ایلیٹ کمانڈوفورس) کے انسپکٹر جنرل ہیں ۔ ان کی اہلیہ مسز انجلی نرمل پولیس انتظام کاری (Police Administration) میں پی -ایچ -ڈی ڈگری کی حامل ہیں ۔ مسٹر این سی استھانا ا ور مسز انجلی نرمل نے اگست ۲۰۱۲ء کے آخر میں شائع شدہ اپنی مشترکہ تصنیف “India’s Internal Security: The Actual Concerns” میں مختلف بھارتی پالیسیوں ،بشمول انٹیلی جنس ناکامی، دہشت گردانہ حملوں میں ذرائع ابلاغ کا کردار، داخلی سلامتی اور مسلمانوں پر ظلم و ستم اور انتقامی کارروائیوں کا محاکمہ و تجزیہ کیا ہے۔ کنل مجمدار نے مصنفین سے ان میں سے کچھ امور پر بات چیت کی، جو حسبِ ذیل ہے: o کیا ہندوستانی سلامتی ادارے حقیقی خطرات سے صرفِ [مزید پڑھیے]

شام: اپوزیشن دھڑوں کے اتحاد کا مسئلہ

December 1, 2012 // 0 Comments

دنیا بھر میں حکومتوں کے خلاف اٹھنے والی تحریکیں بہت پیچیدہ معاملہ ہوا کرتی ہیں، مگر شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف چلائی جانے والی تحریک سب سے پیچیدہ ہے۔ اب تک یہ طے نہیں ہوسکا ہے کہ اپوزیشن کی قیادت کس کے ہاتھ میں ہوگی۔ ملک بھر میں قتل عام جاری ہے۔ حکومت کی گرفت کمزور پڑ رہی ہے مگر ملک میں سرگرم عمل حکومت مخالف عناصر سے بیرون ملک مقیم رہنماؤں کا رابطہ کمزور ہے یا بالکل نہیں۔ ملک میں سویلین اور فوجی قیادت میں اس حوالے سے رساکشی چل رہی ہے کہ بشارالاسد انتظامیہ کی مکمل ناکامی کی صورت میں ملک کو کون سنبھالے گا۔ شہروں، قصبوں اور دیہاتوں کو کنٹرول کرنا اپوزیشن کے لیے دشوار ہوتا جارہا ہے، کیونکہ کوئی [مزید پڑھیے]

صومالیہ: نئے صدر کو درپیش چیلنج

December 1, 2012 // 0 Comments

صومالی سیاستدان حسن الشیخ محمود اپنے ملک کی سیاست کے موجیں مارتے سمندر میں علم و ادب اور شہری سرگرمی کے باب سے داخل ہوئے، لیکن بعض لوگ (خاص طورسے اسلام پسندوں کے اقتدار کی دہلیز تک پہنچنے کی وجہ سے) ان کو عرب بہار کی تجلیات میں سے ایک تجلی گردانتے ہیں۔ وہ خانہ جنگی سے تباہ و برباد ملک میں اخوان المسلمون سے قریب، اسلام پسندوں کے ایک نشان ہیں۔ ۱۹۶۰ء میں آزادی کے بعد سے وہ صومالیہ کے آٹھویں صدر ہیں۔ آزادانہ انتخاب رائے کے عمل کے سائے میں وہ پہلے منتخب صدر ہیں، جنہوں نے عبوری حکومت کی جگہ لی ہے۔ ۱۹۹۱ء کے بعد لڑائی جھگڑوں سے مرکزی حکومت کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹنے کے بعد اور ۲۰۰۰ء میں تعمیرنو کا [مزید پڑھیے]

1 2 3 85