Abd Add
 

’بلوچستان ‘ایک فراموش شدہ مسئلہ

تعارف:

اہم ترین جغرافیائی پوزیشن پرواقع اور قدرتی وسائل سے مالا مال صوبے میں جاری تشدد کی لہر کا خاتمہ پاکستانی حکومت کے لیے مشکل ہوتا جارہا ہے یہاں پاکستان کی (فوجی) حکومت صوبے کی سیاسی اور معاشی خود مختاری کا مطالبہ کرنے والے بلوچ قبائل کو بزور قوت کچلنے میں مصروف ہے ۔ صدر پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ مٹھی بھر قبا ئلی سردار معاشی ترقی اورخوش حالی نہیں چاہتے اور وہ اس راہ میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں اس کے برعکس بلوچ قوم پرستوں کا کہنا ہے کہ فوجی حکمران ہر مخالف رائے اور عقیدے کو بزور قوت کچلنا چاہتی ہے اس کی انہی کوششوں کی وجہ سے صوبہ اس حال کو پہنچ گیا ہے۔ اگر ملک میں حقیقی جمہوریت نافذ ہو جائے تو صورت حال تبدیل ہو سکتی ہے۔ ایسی صورتحال میں جنوری ۲۰۰۸ء میں ہونے والے الیکشن خواہ آزادانہ اور شفاف ہوں خواہ غیر منصفانہ دونوں صورتوں میں علاقے کی صورت حال مزید پیچیدہ ہونے کی توقع ہے ۔

حکومت عوام کے دکھوں اور مصائب کا ازالہ کرنے کے بجائے اپنا کنٹرول بزور قوت نافذ کرنا چاہتی ہے۔ اگست ۲۰۰۶ء میں بلوچ رہ نما اکبر خان بگٹی کی ریاستی اداروں کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد ایک اور رہنما نواب اختر خان مینگل کوبغیر کسی کاروائی کے دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار کر لیا گیا، ان کے علاوہ بے شمار بلوچ قوم پرست رہ نما اور عوام قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں یا پھر انہیں غائب کر دیا گیا ہے۔ قوم پر ست جماعتوں کے یر غمال بنالیے جانے کی وجہ سے اکثر نوجوان اپنی جدو جہد کے لیے تشدد کو واحد راستہ سمجھتے ہیں۔

’’لڑائو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے فوجی حکومت سیکولر بلوچوں اور معتدل پختون طاقتوں کو قابو کرنے کے لیے پختون اسلامی جماعتوں مثلاً مولانا فضل الرحمن کی دیو بندی جماعت، جمعیت علمائے اسلام کی مدد کر رہی ہے ۔ JUI(F) چھ جماعتی اسلامی اتحاد متحدہ مجلس عمل کی اہم ترین جماعت ہے اور یہ اکتوبر ۲۰۰۲ء سے بلوچستان میںمشرف حکومت کی اہم صوبائی اتحادی جماعت ہے اس کے علاوہ یہ طالبان کی اہم سر پرست تنظیم ہے ۔ طالبان اور اس کے اتحادی بلوچستان کو افغانستان میں اپنی کاروائیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں اور جمعیت علمائے اسلام کے مدر سوں سے انہیں افرادی طاقت حاصل ہوتی ہے کے ذریعے وہ افغانستان میں تعمیر نو کے کاموں کو سخت نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ اور دوسری مغربی طاقتوں کی جانب سے مشرف کو دی جانے والی حمایت بلوچوں کو مزید دور کر رہی ہے جو کہ دوسری صورت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مغرب کے فطری حلیف ثابت ہو سکتے تھے۔

فوج نے اپنا کنٹرول طاقت کے ذریعے قائم رکھا ہواہے مگر وہ لوگوں کے ذہن اور دل سے اپنا کنٹرول تیزی سے کھو رہی ہے بے چینی کی لہر لسانی ، قبائلی اور طبقاتی حدود پار کر چکی ہے۔

جون، جولائی۲۰۰۷ء میں بلوچستان میں آنے والے سیلاب کے بعد حکومت کا سردرو یہ بلوچ عوام کے دلوں میں فاصلے بڑھانے کا باعث بنا ہے ۔

۲۔ فوجی حکمت عملی

قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ملک کا سب سے محروم صوبہ ہے اور اس کی وجہ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے کو سیاسی اور معاشی خود مختاری نہ دنیا ہے ۔ ماضی کی طرح اس بار بھی فوجی حکومت نے ہنگاموں اور تنازعات کو طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش ہے جس سے بلوچوں کی دوری میں مزید اضافہ ہوا ہے ۔

الف۔ سرداروں کو ہدف بنانا۔

بلوچستان میں فوجی آپریشن شروع کرنے کے دو سال بعد بھی پرویز مشرف اور ان کی فوج اس بات پراڑئے ہوئے ہیں کہ وہ ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹ ڈالنے والے مٹھی بھر قبائلی سر داروں کا خاتمہ کر دیں گے مشرف کا لہجہ غیر مفاہمانہ ہے مثلاً ’’ان کا کہناہے ان عناصر کا ملک سے خاتمہ ہو جانا چاہیے ۔ کسی کو بھی حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘‘

’’انہیں کسی قیمت پر ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔‘‘

۷۹ سالہ سردار اکبر بگٹی جو جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ بھی تھے ۔ انہیں کو ہلو میں ان کی پہاڑی کمین گاہ میں ہلاک کر دیا گیا بعض روایات کے مطابق اس کاروائی کی وجہ یہ تھی کہ خفیہ اداروں کو اور گیس کمپنی کے سر براہ کو یقین تھا کہ بگٹی کا علاقہ ڈیرہ بگٹی ملک کے گیس کے سب سے بڑے ذخائر سے مالا مال ہے اور وہ اکبر بگٹی گیس کے ذخائر کی تلاش میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اگر اس مہم جوئی کا مقصد ان ذخائر کی تلاش کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنا تھا تو یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکا ہے ۔ بگٹی کی موت سے تین ہفتے قبل سینئر فوجی افسران نے فیصلہ کیا تھا کہ صوبے کے تیل اور گیس کے ذخائر کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کیا جائے اس میں بگٹی اور اسکے تین بیٹے بھی شامل تھے ۔ (ہیرالڈ ستمبر ۲۰۰۶ء شہزادہ ذوالفقار)

آئل اینڈ گیس ڈیویلپمنٹ کا رپوریشن لمیٹڈ (OGDCL) جو کہ پاکستان کی سرکاری گیس کمپنی ہے کو تیل و گیس کے مزید ذخائر کی تلاش کالائسنس دسمبر ۲۰۰۴ء میں دیا گیا تھا اس کی وجہ بگٹی کے اسلام آباد کے ساتھ تنازعات تھے۔ بگٹی کی موت کے بعد فروری ۲۰۰۷ء میں ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار نے بیان دیا تھا کہ اب کوہلو ضلع سے گیس کے ذخائر حاصل کیے جائیں گے جن کی مقدار ایک انداز ے کے مطابق ۲۲ کھرب کیوبک فٹ گیس ہے جس کی مالیت ۱۰۰ سال کے عرصے میں ۱۱۰ بلین ڈالر بنتی ہے۔ بگٹی کی موت کے ذریعے اس راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ کو ہٹا دیا گیا اور اب جیسا کہ بغاوت کا عمل جاری ہے اب بھی اسلام آباد کے لیے بلوچستان سے توانائی کا حصول نا ممکن ہے ۔

بگٹی کا پوتا براہمداغ جس کو بگٹی نے اپنا جانشین نا مزد کیا تھا موت کے وقت بگٹی کے ساتھ مگر اس کی ہلاکت کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ۔ اب وہ مبینہ طور پر مزاحمت کاروں کی سر براہی کر رہا ہے بگٹی کے دونوں بیٹے اس وقت سے حکومت کے غضب کا نشانہ ہیں اور ان کو ان کی جائیداد سے محروم کیا جا رہا ہے ۔ بگٹی کے حریف قبیلوں کو حکومت ڈیرہ بگٹی میں جما رہی ہے جس میں سوئی کا علاقہ بھی شامل ہے جو کہ پاکستان کی سب سے بڑی گیس فیلڈ ہے ۔ بلوچستان میں حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس ایجنسیاں بگٹی کے حریف ذیلی قبیلوں بالخصوص کلپٹر اور مسیوریوں کو قبائلی امور چلانے کے لیے کروڑوں روپے سے امداد کر رہی ہیں۔

بگٹی کے بیٹے جمیل بگٹی کو اکتوبر ۲۰۰۶ء میں ایک پریس کانفرنس میں حکومت کے خلاف بیان دینے کے الزام میںگرفتار کر لیا گیا۔دو اور بلوچ سرداروں خبر بخش مری اور سردار عطاء اللہ خان مینگل کو جنرل پرویز مشرف نے ۲۰۰۶ء میں ٹھیک کرنے کی دھمکی دی تھی جواب سیاسی طور پر غیر فعال ہو چکے ہیں اور محض بعض مواقع پر بیانات تک محدود ہیں۔

مری اور مینگل نے اپنی سیاسی سر گرمیوں کے لیے اختیارات اپنے بیٹوں کو منتقل کرد یے ہیں سردار با لاچ خان مری اور سردار اختر خان مینگل جو قوم پرست تحریک کے سربراہ ہیں حکومت کے خصوصی عتاب کا نشانہ ہیں۔(واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سردار بالاچ خان کو قتل کر دیا گیا )

اختر مینگل جو کہ بلوچستان نیشنل پارٹی (BNP) کے سربراہ ہیں اور اپنے والد کی طرح بلوچستان کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں نومبر ۲۰۰۶ء سے جیل میںہیں، ان پر کراچی سینٹرل جیل میں واقع کا مرہ کی دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا اس بات پر کہ ان پر دو سیکورٹی اہل کاروں کو کئی گھنٹوں تک محبوس رکھنے کا الزام تھا۔ جن کو ان کے مطابق اس کے محافظوں نے تھوڑی دیر کے لیے تحویل میں لیا تھا کیونکہ وہ ان کے بچوں کو اغوا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔اینٹی ٹیررسٹ کورٹ نے اخترمینگل کو دسمبر ۲۰۰۶ء میں چارسیکورٹی گارڈز سمیت سزا سنائی۔

اختر مینگل کے مقدمے کی پہلی سماعت ۸ جنوری ۲۰۰۷ء کو ہوئی جس میں انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے اقبال حیدر کو بطور مبصر شرکت کی اجازت دی گئی، اقبال حیدر کے مطابق مینگل کو کمرہ عدالت کے اندر اپنے مشیران سے علیحدہ آہنی پنجرے میں رکھا گیا اور ان کے خاندان کے افرادکو بھی ان سے ملنے کی جازت نہیںتھی۔ ۱۹ جنوری کو جج نے HRCPکے ممبران کو آئندہ کاروائی میں شرکت سے روک دیا ۔

ب ۔ لاپتہ افراد

فوجی حکومت کی جابرانہ کاروائیوں کا ہدف محض بلوچ قوم پرست نہیں رہے بلکہ سیکورٹی ایجنسیوں نے بے شمار عام بلوچوں کو گرفتار کیا جن میں ڈاکٹر، سیاسی کارکنان ، طلباء، وکلاء ، صحافی، یہاں تک کہ عام دکاندار بھی شامل ہیں۔ ۲۰۰۶ء میں HRCPنے جبری گرفتاریوں، تشدد گمشدگی اور سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں ماورائے عدالت ہلاکتوں کی تفصیل دی ہے ۔ جیسے جیسے بغاوت کا عمل جاری ہے اس ستم کی کاروائیوں میں شدت آگئی ہے ۔

ان تمام کارروائیوں میں سب سے تکلیف دہ قوم پرست رحجان رکھنے والے یا عسکریت پسندوں کے ساتھ روابط رکھنے والے افراد کی گمشدگی ہے ۔ اگرچہ کہ اس قسم کی گمشدگی ملک بھر میں ہوئی ہے مگراس کا سب سے زیادہ ہدف بلوچ قوم پرست بنے ہیں جس کو HRCP نے غیر انسانی اور اذیت پسندانہ کاروائی کہا ہے۔ HRCP کی رپورٹ کے مطابق ۹۶ تسلیم شدہ گمشدہ افراد میں سے ۶۹ کا تعقل بلوچستان سے ہے جب کہ HRCPکی فہرست میں ۲۴۲ افراد میں سے ۱۷۰کا تعلق بلوچستان سے ہے بعض دوسرے ذرائع نے ۲۰۰۶ء میں ۶۰۰ افراد کی گمشدگی کی اطلاع دی ہے ۔

بلوچ قوم پرستوں کے مطابق۸ سے ۱۲ ہزار بلوچ افراد غائب یا لاپتہ ہیں خو د وزیر داخلہ نے تسلیم کیا کہ انہوں نے دو سال کے عرصے میں ۵۰۰۰ بلوچوں کو گرفتار کیا ہے ۔ ایک بلوچ سردار کے مطابق اس کے بعد ۷۰۰۰ مرد اور ۲۰۰ سے تین سو خواتین کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ HRCP کراچی کے پروگرام کوآرڈنیٹر اعجازاحسان کے مطابق گمشدہ افراد کی صحیح تعداد معلوم کرنا اس لیے بھی مشکل ہے کہ حکومت ایسا ماحول پید اکر دیتی ہے کہ بہت کم افراد اپنا معاملہ کسی کو بتاتے ہیں۔

مشرف نے ان کاروائیوں کی ذمہ داری خفیہ ایجنسیوں پر ڈالنے کے بجائے سارا الزام جہادی تنظیموں پر ڈال دیا کہ یہ معصوم افراد کو کشمیر، افغانستان اور دوسرے مقامات پر جنگ کے لیے ورغلاتے ہیں۔

ج۔ تصادم کی وجہ سے انخلاء:

دسمبر ۲۰۰۵ء تک جب فوجی آپریشن شروع ہوا تو کم از کم ۸۴۰۰۰ افراد نے صرف ڈیرہ بگٹی اور کوہلو ڈسٹرکٹ سے نقل مکانی کی ۔ یونیسیف کے ایک اندرونی جائزے میں جو بعد میں پریس تک پہنچ گیا کے مطابق نقل مکانی کرنے والوں کی اکثریت عورتوں (۲۶۰۰۰)اور بچوں (۳۳۰۰۰) پر مشتمل تھی۔ یہ افراد جعفر آباد، نصیر آباد، کوئٹہ ، سبی اور بو لان ڈسٹرکٹ میں عارضی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ ان میں چھ فی صد سے زیادہ افراد شدیدقسم کی غذائی قلت (Severe malnutrition) کا شکار ہیں، ان کی زندگی کا انحصار فوری طبی امداد پر تھا۔ یہاں ہونے والی ۸۰ فی صد اموات بچوں کی ہیں۔

حکومت نے ابتداء میں یونیسف کے جائزے کو مسترد کر دیا اور دعویٰ کیا کہ تمام نقل مکانی کرنے والے افراد اپنے گھروں کو واپس جاچکے ہیں مگر میڈیا اور امدادی اداروں کو ان علاقوں میں جانے سے روک دیا گیا جہاں یہ واپس گئے ہیں ۔ دسمبر ۲۰۰۶ء میں پہلی دفعہ ایک سرکاری افسر نے ان علاقوں میں سنگین انسانی صورت حال کو تسلیم کیا اور حکومت نے اقوام متحدہ کے اداروں کو ریلیف خدمات انجام دینے کی اجازت دی مگر اس کے ساتھ یہ شرط بھی عائد کر دی گئی کہ یہ امداد مقامی افسران کے ذریعے تقسیم کی جائے گی ۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے افسران پر میڈیا سے گفتگو کرنے پر پابندی لگا دی گئی۔

مئی ۲۰۰۷ء میں مشرف نے ڈیرہ بگٹی کے علاقے سوئی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کل نوے ہزار نقل مکانی کرنے والے افراد میں سے ۶۵۰۰۰ اپنے گھروں کو واپس آچکے ہیں۔ جب کہ انسانی حقوق کی ایک مقامی تنظیم کے مطابق دو لاکھ افراد ابھی تک بے دخل ہیں۔ جب کہ مقامی اندازے اس سے بھی زیادہ ہیں۔ بلوچ حقوق کونسل کے سربراہ عبدالوہاب بلوچ کے مطابق صرف کو ہلو ضلع سے دو لاکھ افراد نے نقل مکانی کی ہے جبکہ حکومت نے کئی اموات کو کلی طور پر نظر انداز کر دیا ہے ۔اس قسم کے دعویٰ کی تصدیق میڈیا پر ان علامتوں میں داخلے پر پابندی کی وجہ سے مشکل ہے ۔

۳۔لڑائو اور حکومت کرو کی حکمت عملی:

۲۰۰۲ء میں قومی انتخابات میں فوجی حکومت نے اپنے سویلین مخالفین کو دیوار سے لگانے کے لیے چھ اسلامی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کو نہ صرف سر حد میں بلکہ بلوچستان میں بھی اکثریتی نشستیں دلوائیں اور اس طرح بلوچ اور پشتون قوم پرست عناصر کو کنارے لگا دیا گیا ۔ مشرف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم (PML-Q) نے ایم ایم اے کے ساتھ اتحاد کر کے بلوچستان میں حکومت قائم کر لی۔بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام محمد یوسف کے پاس انتہائی معمولی اختیارات تھے جب کہ وزارتوں کے تمام اہم قلم دان جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ہاتھ میں تھے۔ ۲، اکتوبر کو JUI-F نے احتجاج کرتے ہوئے اسمبلی سے ایسے وقت پر جب اسمبلیوں کا خاتمہ قریب تھا استعفیٰ دے دیا جو کہ ان کی الیکشن مہم کے لیے کار آمد اقدام تھا۔

ایسے حالات میں جب بلوچ قوم پر ست راہ نما قید اور زیر حراست ہیں، ان کے کارکنان خوف زدہ ہیں انتخابی عمل ہر صورت میں غیر منصفانہ ہو گا۔اسلامی جماعتوں کی فوجی پشت پناہی کا مقصد بلوچ اور پشتوں قوم پرستوں کا مقابلہ کرنا ہے اور اس کے ساتھ ہی بلوچ اور پشتونوں کو تقسیم کرنے کے منصوبے کا حصہ ہے ۔

اگرچہ کہ بلوچستان کی پختون قوم پرست جماعتیں مثلاً محمود خان اچکزئی کی پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی (PKMAP) نے فوجی آپریشن کی مخالفت کی اور بلوچوں کی سیاسی اور معاشی جدوجہد کی حمایت کی ہے اور وہ بلوچستان میں رہنے والے پختون عوام کے لیے صوبہ سرحد کے بعض علاقوں کے انضمام کے ساتھ علیحدہ صوبے کے قیام کے حامی ہیں۔ ۲۰۰۷ء میں بلوچستان کی دو بڑی قوم پرست جماعتوں عوامی نیشنل پارٹی اور پختون خواہ ملی عوامی پارٹی نے مل کر پختون خواہ نیشنل ڈیو کر یٹک الائنس قائم کیا اور اس اتحاد کا بلوچوں اور پختونوں کے لیے یکساں معاشی اور سیاسی حقوق اور پختون اکثریتی صوبے کی تشکیل ہے ۔ جس میں پنجاب کے پختون اکثریتی صوبے اٹک اور میانوالی بھی شامل ہیں اس کے علاوہ سر حد اور بلوچستان کے گیارہ پشتون اکثریتی ضلعوں کے انضمام کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے لیکن اس کو بعد میں بلوچ قوم پرستوں نے مسترد کر دیا۔

بلوچستان میں جمعیت علمائے اسلام (ف) نے اپنی حکومت کا بھر پور فائدہ اٹھایا ۔ HRCPکے ایک افسر کے مطابق صوبائی حکومت کی فیاضانہ مہربانیوں کے نتیجے میں صوبے میں (دیو بندی) مدرسوں کی تعداد میں انتہائی تیز رفتار اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس عمل سے دیوبندی جذبات کی شدت کو صوبے کی پختون بیلٹ میں اپنے اثرات میں اضافے کا بھر پور موقع ملا ۔

جے یو آئی فضل الرحمن کی جانب سے طالبان کے لیے دی جانے والی مادی اور سیاسی مدد کی وجہ سے طالبان دوبارہ متحد ہوئے اور بلوچستان سے افغانستان پر حملوں میں شدت پیدا ہوئی۔ ستمبر ۲۰۰۶ء میںامریکی یورپی کمان کے سر براہ نے سینٹ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ طالبان کا ہیڈ کوارٹر کوئٹہ میں کہیں موجود ہے۔ ۳، اگست ۲۰۰۷ء کو امریکی صدر بش نے طالبان کوئٹہ شوریٰ کے خلاف آپریشن جاری رکھنے کے قانون کے مسودے پر دستخط کیے اور دہشت گردوں کے لیے پاکستان کا محفوظ راستہ بند کرنے کی ہدایت کی جس پر پاکستانی حکومت نے اس کو قطعی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میں طالبان کی تعداد اس قدر کم ہے کہ ان کو انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے ۔

اس کے باوجود جون ۲۰۰۷ء میں طالبان کے سر کردہ رہ نما نے افغانستان سے بیٹھ کر افغانستان اور پاکستان میں اپنے حامیوں سے ایک جلسے سے خطاب کیا جس کا اہتمام جمعیت علمائے اسلام نے شہر سے ۳۵ کلو میٹر دور ایک مدرسے میں کیا تھا۔

طالبان مخالف سیکولر بلوچ افراد کا خیال ہے کہ بین الاقوامی برادری کو فوجی حکومت کے اسلامی اتحادیوں کی جانب سے درپیش خطرات کا احساس کرنا چاہیے کیونکہ افغانستان ،ایران اور پاکستان کے درمیان بلوچستان واحد سیکولر خطہ ہے اور یہاں مذہبی انتہا پسندی کا کوئی ماضی نہیں ہے مگر اب پاکستان کے اس علاقے کو بلوچ قوم پرستی سے نمٹنے کے لیے اسلامی انتہا پسندی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ یہ بات BSO کے ایک کارکن نے کہی۔

۴۔بلوچوں کے مسائل اور اسلام آباد کا رد عمل

الف ۔ سیاسی اور انتظامی اختیارات میں کمی

بلوچستان میں انتظامی اور سیاسی اختیارات کے لیے قائم کی گئی پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات جن کو تمام متعلقہ گروہوں کے ساتھ مشاورت کے بعد تیار کیا گیا تھا ۔ اگر ان پر عمل کر لیا جاتا تو ان سے اس مسئلے سے نمٹنے میں انتہائی مدد مل سکتی تھی۔ ان تجاویز کو نظر انداز کر کے فوجی آپریشن کے فیصلے کو برقرار رکھ کر بلوچوں سے فاصلے مزید بڑھا لیے گئے۔ ایک بلوچ کارکن کے مطابق اس رپورٹ میں ماضی میں بلوچوں سے کیے گئے تمام وعدے شامل تھے اور مشرف نے ان کو بیک جنبش قلم تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا۔

بلوچوں کے مطالبے پر عمل کرتے ہوئے اس کمیٹی نے تجویز پیش کی تھی کہ امن و امان کے قیام کے لیے بلوچ لیویز کو دوبارہ منظم کیا جائے اور صوبے کو دو انتظامی حصوں میں تقسیم کیا جائے۔ اے کٹیگری میں عام پولیس نظم و نسق سنبھالے جب کہ بی کٹیگری کے اضلاع کا انتظام لیویز کے ہاتھ میں ہو اس کے برعکس حکومت نے تمام بی کیٹیگری کے اضلا ع کو اے کیٹگری کے اضلاع میں تبدیل کر دیا۔ اور اس منصوبے کے تحت پانچ سال کے عرصے میں لیویز کے تحت صرف پانچ اضلاع رہ گئے جب کہ ۲۲ دوسرے اضلاع میں ان کا انضمام مقامی پولیس کے ساتھ کر دیا گیا۔

بلوچ اور پختون قوم پرستوں کا موقف ہے کہ وہ لیویز کمیونٹی کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور وہ کمیونٹی کی بہتر انداز میں خدمت انجام دے سکتے ہیں۔ اس کے برعکس غیر بلوچی پولیس فورس زیادہ سفاک ، کرپٹ اور نظم و ضبط سے عاری ہے ۔ گزشتہ تین سالوں کے اندر اے کٹیگری میں تبدیل شدہ علاقوں میں جرائم کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جب کہ ان اضلاع میں عوامی بے چینی میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ رپورٹ میں بلوچستان میں نئے کنٹونمنٹ علاقوں کی تعمیر کی بھی مخالفت کی گئی تھی۔ اس کے باوجودمشرف نے مئی ۲۰۰۷ء میں سوئی کے علاقے میں نئے کنٹونمنٹ علاقے کا افتتاح کیا جب کہ کوہلو اور گوادر میں دو کنٹونمنٹ علاقوں کی تعمیر کا کام جاری ہے ۔

ب۔ عوام کی ہمدردی اور محبت سے محرومی

۱۔ مجرمانہ غفلت

جنرل مشرف کی جانب سے بلوچستان کو خوشحالی اور ترقی کا گہوارہ بنانے کے مسلسل وعدوں کے باوجود اصل صورتحال یہ ہے کہ بلوچستان چاروں صوبوں کے مقابلے میں غریب ترین اور پسماندہ صوبہ ہے ۔ فوجی حکومت کی بلوچستان کے لیے بے فکری کا اظہار ۲۰۰۷ء میں آنے والے طوفان میں نا مناسب ریلیف اقدامات سے ہوا جولائی میں اس طوفان سے ہونے والی اموات کی تعداد ۱۸۰ تھی جب کہ ستمبر تک یہ تعداد ۴۲۰ ہو گئی۔

حالانکہ یہ طوفان ۲۰۰۵ء کے زلزلہ سے زیادہ ہلاکت خیز تھا مگر اس کو حکومت کی جانب سے اس کے مقابلے میں انتہائی کم توجہ حاصل ہوئی، نہ یہ بات بلوچستان نیشنل پارٹی (BNP) کے رہ نما ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ نے کہی۔ اس طوفان کے ایک ماہ بعدRural Developement Policy Institute نے نیشنل ڈساسٹر ڈیٹا منیجمنٹ اتھارٹی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ طوفان سے متاثرہ افراد کے لیے سندھ میں ۱۰۸ اور بلوچستان میں ۷ کیمپ قائم کیے گئے جب کہ اس سے زیادہ نقصان بلوچستان میں ہوا تھا۔ بلوچستان میں ۵۰۰۰ دیہات متاثر ہوئے جب کہ سندھ میں ۱۴۰۰ دیہات متاثر ہوئے تھے، بلوچستان میں نقصانات کا تخمینہ ۴۱۷ ملین ڈالر (۲۴ بلین روپے) لگایا گیا تھا جب کہ زراعت کا شعبہ مکمل طور پر ختم ہو گیا۔۰۰۰،۳۲۰ پر ہیکٹر فیصلیں تباہ ہو گئیں۔ اور ۵۰۰۰ کلو میٹر سڑکیں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔

۲۔ مالیاتی تباہی اور اعلیٰ سطحی عدم روابط:

بلوچستان کے گیس کے ذخائر وفاقی حکومت کو کثیر آمدنی دیتے ہیں ۔ مگر اس آمدنی سے بلوچستان کو کوئی فائدہ نہیں ہے اور یہ صوبہ وفاقی حکومت کے قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے ۔ گزشتہ کچھ عرصے میں یہ قرضے کسی حد تک کم ہوئے ہیں اور ریونیو میں اضافہ ہوا مگر اس کی وجہ ایشیائی ترقیاتی بنک کی مہربانی اور اس کی جانب سے فراہم کیے جانے والے نرم قرضے ہیں ۔ صوبائی حکومت نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ بلوچستان کا قرضوں کا بوجھ جس میں اسٹیٹ بنک آف پاکستان کا اوور ڈرافٹ بھی شامل ہے ۔ ۴۱۷ ملین ڈالر (۲۵ ارب روپے) تک پہنچ جائے گا جس سے پہلے ہی تیزی سے ختم ہوتے ہوئے ترقیاتی وسائل پر اثر پڑے گا۔

PML(Q) اور ایم ایم اے کے اتحاد سے بنائی جانے والی حکومت ۲۰۰۲ء سے لے کر اب تک خسارے کا بجٹ پیش کر رہی ہے ۔ بلوچستان واحد صوبہ ہے جس کا بجٹ مکمل طور پر قرضوں کی بنیاد پر تیار کیا جاتا ہے ۔ ایک معروف صحافی کے مطابق صوبائی بجٹ خالصتاً تصورات اور مفروضوں پر تیار کیے گئے ہیں۔ ان سے ٹھوس حقائق کا شائبہ بھی نہیں ہے ۔

وزارتِ مالیات کے ۲۰۰۷ء کے اکنامک سروے کے مطابق بلوچستان میں خواندگی کی شرح ملک بھر میں سب سے کم ہے جس کے پاس تعلیمی ادارے انتہائی قلیل تعداد میں ہیں جب کہ Gender Parity Index میں بھی یہ نچلی سطح پر ہے ۔ بے روز گاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، تعلیم اور روز گار کے حوالے سے بلوچستان کے نوجوان اسی عمر کے پنجاب کے نوجوانوں کے مقابلے میں دگنی تعداد میں بے روز گار ہیں۔

ج۔ میگا پروجیکٹ یا میگا مسائل:

بلوچستان میں گواردر کے ساحل پر چین کے تعاون سے قائم کی جانے والی بندر گارہ سب سے متنازعہ منصوبہ ہے ان اسکیموں کو بلوچستان کے عوام شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ایک بلوچ یونین لیڈر کے مطابق بلوچستان کے وسائل بلوچستان کے عوام کے مفاد میں استعمال نہیں کیے جا رہے ہیں۔ ہمارے لوگ اسی لیے ہمیشہ سے صوبائی خود مختاری کا مطالبہ کرتے آئے ہیں تاکہ ہمارے وسائل ہمارے لیے استعمال کیے جائیں۔جب کہ دوسری طرف مشرف کا اصرار ہے کہ گوادر پروجیکٹ اس بات کی نشاندہی ہے کہ وفاقی حکومت بلوچستان کی خوش حالی میں دلچسپی رکھتی ہے اور مٹھی بھر عسکریت پسندیہ ترقی نہیں چاہتے اور اس کی راہ میں رکاوٹیں حائل کر رہے ہیں اور ملکی اور غیر ملکی افسران پر حملے کر رہے ہیں۔

تمام مخالفتوں کے باوجود اسلام آباد نے مقامی آبادی کو ان کے علاقوں کے فیصلوں سے دور رکھا ۔فروری ۲۰۰۷ء میں حکومت نے پورٹ کی انتظامیہ کو ۴۰ سال کی لیز دی اور پورٹ آف سنگا پور اتھارٹی (PSA) کوٹیکس میں بیس سال تک چھوٹ دی گئی ہے اور اس فیصلے میں بلوچستان حکومت میں شامل کسی بھی جماعت سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ ابھی گوادر کا تنازعہ حل نہیں ہوا تھا کہ جنرل مشرف نے بلوچستان میں سو میانی کے مقام پر جو کہ کراچی سے ۷۰ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے ایک پورٹ قائم کرنے کا اعلان کر دیا۔

میگا پروجیکٹس میگا مسائل پیدا کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں کر رہے یہ بات پاکستان پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک رکن صوبائی اسمبلی اسلم رئیسانی نے کہی۔۸۰ لاکھ افراد گو ادر میں منتقل ہوں گے اور اسی تعدار میں سو میانی میں تو پھر بلوچی کہاں جائیں گے ۔ اس منصوبے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے خودمشرف کی جماعتQ PML سے تعلق رکھنے والے ایک رکن نے کہا کہ بڑے منصوبے شروع کرنے سے قبل مقامی لوگوں کو کبھی اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

د۔ قوم پرست خطرات:

بلوچستان میںمخالفت کو کچلنے کی حکومتی کوششوں کو کافی حد تک کامیابی نصیب ہوئی ہے ۔ اکبر بگٹی کی موت کے بعد سے قوم پرست جماعتوں کو منظم انداز میں ہدف بنایا گیا ہے۔ اور اپوزیشن کی جماعتوں کو تقسیم کرنے اور کمزور کرنے میں ایجنسیاں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی کا کہنا ہے کہ بلوچستان مکمل طور پر ایجنسیوں کے شکنجے میں ہے اور سیاسی جماعتیں بنانے ، توڑنے اور جوڑ توڑ میں ایجنسیاں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں یہاں تک کہ کابینہ کے اہم قلم دان کے فیصلے بھی انہی کے ہاتھوں میں ہیں۔

۵۔ بلوچ قوم پرست جماعتیں:

بلوچ قوم پر ست جماعتوں کا اتحاد ان دنوں شدید دبائو میں ہے اور ان کی بلوچستان کے دفاع کی صلاحیت کمزور پڑ رہی ہے ۔ کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی کے مطابق یہاں وفاقی حکومت کی لڑائو اور حکومت کر و کی پالیسی انتہائی کامیاب ہے اور حزب مخالف بری طرح تقسیم ہو چکی ہے ۔

بگٹی کی جماعت اپنے سر براہ کی ہلاکت کے بعد وفاقی حکومت کے لیے کوئی خاص رکاوٹ کھڑی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے یہاں تک کہ بگٹی کی زندگی میں انٹیلی جنس ایجنسیاں ان کے اندر اندرونی اختلافات پیدا کرنے میں کامیاب ہو گئی تھیں۔ عین اس وقت جب اکبر خان بگٹی کے بھتیجے نے اپنی وفاداری تبدیل کرنے کا اعلان کردیا۔ ایک ماہ بعد صوبائی اسمبلی میں جمہوری وطن پارٹی کے راہ نما نے حکومت کے تعاون سے قائم جرگہ میں شرکت کی جس کا مقصد اس کے چچا کو قبیلے کی سر براہی سے ہٹانا تھا۔

JWP کے مقابلے میں اختر مینگل کی BNP فوجی حکومت کے مقابلے میں انتہائی متحد ہے کیونکہ BNP اگلے انتخابات میں PMLQ اور ایم ایم اے کے مقابلے میں کافی بہتر نتائج حاصل کر سکتی ہے لہذا یہ بھی سیکورٹی ایجنسی کے غضب کا نشانہ ہے۔ اختر مینگل نومبر ۲۰۰۶ء سے دہشت گردی کے الزامات کے تحت جیل میں بند ہیں۔

ڈاکٹر عبدالحی بلوچ کی نیشنلسٹ (NP) پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ فوجی حکومت کے ساتھ کسی قسم کی مفاہمت نہیں کرے گی۔ ایک آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے نتیجے میں یہ پارٹی جنوبی بلوچستان میں حکومت کے لیے مشکل صورتحال کا باعث بن سکتی ہے ۔ BNP کے راہ نمائوں کے برعکس NP کے نمائندوں نے پارلیمنٹ سے بگٹی کی موت کے بعد استعفیٰ نہیں دیا ۔ جس سے یہ شبہ پیدا ہوا کہ یہ جماعت خفیہ طور پر حکومت کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے۔ جب کہ NP کا کہنا ہے کہ یہ افواہیں حکومت کی جانب سے بلوچ قوم پرستوں کے اتحاد کو توڑنے کے لیے پھیلائی جا رہی ہیں۔

بلوچ بغاوت:

حکومت نے بلوچستان میں بلوچ راہ نمائوں کو ہدف بنا کر سیکولر اور قوم پرست جماعتوں اور سیاسی قانون سازوں کو دیوار سے لگا کر اور متنازعہ منصوبوں کو زبردستی آگے بڑھا کر اور اس کی راہ میں آنے والی رکاوٹوں کو طاقت کے ذریعے نمٹانے کے عمل نے حکومت پر سے بلوچ نو جوانوں کا اعتبار سیاسی عمل سے اٹھا دیا ہے اور وہ بندوق اٹھانے کو ہی مسئلہ کے حل کا واحد ذریعہ سمجھنے لگے ہیں۔

بگٹی کی موت کے فوراً بعد ۳۸۰ بلوچ قوم پرست لیڈروں نے جن میں ۸۵ سردار بھی شامل تھے بلوچ جرگہ بلایا جس میں مشرف کے دعوے کی حقیقت کھل گئی کہ ان کو تین کے سوا تمام بلوچ سرداروں کی حمایت حاصل ہے اس جرگے نے بگٹی کے قتل کی مذمت کی اور بین الاقوامی عدالت انصاب (ICJ) ہیگ سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان کی صورت حال کانوٹس لے۔ اگرچہ کہ ICJ کے پاس اس پٹیشن کے لیے کوئی قانون نہیں تھا مگر اس سے بلوچوں کا مسئلہ بین الاقوامی طورپر سامنے آیا اور بلوچ قبیلوں اور ٹکڑوں کو متحد کرنے میں مدد لی۔

ترجمہ: حفصہ صدیقی
(بحوالہ: رپورٹ ’’انٹرنیشنل کرائسس گروپ‘‘۔ ایشیا بریفنگ نمبر ۶۹ ’برسلز ‘۲۲ اکتوبر۲۰۰۷ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.