بنگلادیش گلوبل راڈار سے غائب

بنگلادیش کو قائم ہوئے کم و بیش ۴۴ سال ہوچکے ہیں مگر اب تک اس کی معیشت اور معاشرت نے مجموعی طور پر وہ کیفیت اختیار نہیں کی ہے، جس کی بنیاد پر کہا جاسکے کہ وہ ایک بھرپور اور کامیاب ملک ہے۔ آیے، شرحِ پیدائش، انسانی وسائل اور میڈیا کی آزادی کے حوالے سے بنگلادیش کے اب تک کے سفر کا جائزہ لیں۔

بنگلادیش کو بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ ایک طرف معیشت کی خرابی ہے اور دوسری طرف معاشرت کی بگڑتی ہوئی کیفیت۔

شرحِ پیدائش کا مسئلہ

کسی زمانے میں مشرقی پاکستان کہلانے والے اس ملک میں روس یا جاپان سے زیادہ لوگ بستے ہیں۔ شرحِ پیدائش کے عالمی اوسط سے بنگلادیش نیچے ہے۔ آبادی کے اعتبار سے بنگلادیش دسویں نمبر پر ہے۔ اوسطاً ہر ۱۱۷ء۱ مربع کلومیٹر میں کم و بیش ۲۸۹۴ نفوس بستے ہیں۔ خاصا بڑے رقبے کا حامل ہونے کے باوجود بنگلادیش کا شمار چھوٹے جزائر پر مشتمل اقوام یا پھر شہری ریاستوں والے ممالک میں ہوتا ہے۔

اس وقت بنگلادیش میں شرحِ پیدائش ۲ء۲ بچے فی عورت ہے، جو عالمی اوسط ۵ء۲ سے خاصا کم ہے جبکہ پاکستان میں شرحِ پیدائش ۶ء۳ بچے فی عورت ہے۔ یہ شرحِ پیدائش بنگلادیش کو افزائشِ آبادی کے لحاظ سے ۹۴ ویں نمبر پر رکھتی ہے۔

افلاس کی شرح کے آئینے میں دیکھا جائے تو بنگلادیش میں آبادی میں اضافے کی شرح کم ہے۔ ۲۰۵۰ء تک بنگلادیش کی آبادی میں ۲۵ فیصد اضافہ ہوچکا ہوگا۔ یعنی اس وقت ارجنٹائن کی جتنی آبادی ہے تقریباً اُتنے ہی (چار کروڑ تیس لاکھ) نفوس بنگلادیش کا حصہ بن چکے ہوں گے۔

۲۰۵۰ء میں بنگلادیش کی آبادی ۲۰ کروڑ ۲۰ لاکھ تک پہنچ چکی ہوگی اور یہ آبادی تب کے جرمنی، برطانیہ اور اٹلی کی آبادی کے مجموعے کے برابر ہوگی۔

بنگلادیش ۱۹۷۱ء میں منصۂ شہود پر ابھرا۔ ۱۹۵۰ء میں یہ مشرقی پاکستان تھا۔ تب اِس کی آبادی ۳ کروڑ ۸۰ لاکھ تھی۔ مغربی پاکستان کی بھی اُس وقت کم و بیش اتنی ہی آبادی تھی۔ پاکستان نے ۱۹۸۷ء میں آبادی کے معاملے میں بنگلادیش کو پیچھے چھوڑ دیا۔ اس وقت پاکستان کی آبادی بنگلادیش کی آبادی سے ۲ کروڑ ۸۰ لاکھ زائد ہے۔

۱۹۷۱ء میں پاکستان سے الگ ہوجانے کے بعد جب مشرقی پاکستان نے بنگلادیش کا روپ دھارا تب اس کے ابتدائی حکمرانوں نے خاندانی منصوبہ بندی یعنی ضبطِ تولید پر غیر معمولی توجہ دی، جس کے نتیجے میں آبادی میں اضافے کی شرح کم ہوگئی۔ پاکستان نے ضبطِ تولید کے حوالے سے اقدامات کی ابتدا ۱۹۹۰ء کے عشرے میں کی۔

صنعت و تجارت

بنگلادیش عالمگیر سپلائی لائن کا حصہ ہے۔ آزاد منڈی کی معیشت کے اصول کو اپنانے کے حوالے سے عالمی بینک اور عالمی مالیاتی فنڈ کے طے کردہ پروگراموں سے بنگلادیش میں صنعتی عمل کسی حد تک جڑ پکڑنے میں کامیاب رہا ہے۔ گارمنٹس کی صنعت نے زور پکڑا تو ملک بھر میں روزگار کے بہتر اور زائد مواقع پیدا ہوئے۔ خواتین کو بھی گھر سے نکلنے اور زیادہ موثر انداز سے معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع ملا۔

عالمی اداروں کے زور دینے پر جو اصلاحات معیشت میں نافذ کی گئیں، ان کی بدولت بنگلادیش میں صنعتی عمل تیز ہوا۔ اس کے نتیجے میں روزگار کے بہتر مواقع پیدا ہوئے اور یوں زیادہ بنگلادیشیوں کے لیے معاشی امکانات دکھائی دیے۔ مگر ساتھ ہی ساتھ ایک افسوس ناک بات یہ بھی ہوئی کہ موثر قوانین اور ان پر عمل نہ ہونے کے باعث مزدوروں کے استحصال کی راہ مسدود نہ کی جاسکی۔ بیشتر صنعتی اداروں میں حفاظتی انتظامات ناقص ہیں۔ بہت سے ادارے مغربی اداروں کی ایما پر خاصے ڈھکے چھپے انداز سے کام کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں محنت کشوں کو ان کی محنت کا کما حقہ صِلہ مل پاتا ہے نہ وہ بہتر حفاظتی انتظامات کے تحت کام کرتے ہیں۔ بنگلادیش کے صنعتی اداروں میں بہت سے بڑے حادثات ہوچکے ہیں۔ ۲۰۱۳ء میں ساور کی گارمنٹس فیکٹری کا گِرنا اس کی ایک روشن مثال ہے۔

۲۰۱۶ء کے دوران امریکا اور یورپ کے لیے بنگلادیش کی گارمنٹس کی برآمدات میں اضافہ ہی ہوا جبکہ خطے کے دیگر ممالک نے متعلقہ برآمدات میں گراوٹ محسوس کی۔ بنگلادیش میں محنت کشوں کا استحصال آج بھی بڑے پیمانے پر جاری ہے، اور دوسری طرف ماحول کو پہنچنے والے نقصان کا سدِ باب کرنے میں بھی زیادہ کامیابی نہیں مل سکی ہے۔

میڈیا کی آزادی

بنگلادیش میں میڈیا کی آزادی کا معاملہ بھی خاصا متنازع ہے۔ صحافیوں کی عالمی تنظیم ’’رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘‘ نے ۲۰۱۶ء میں میڈیا کی آزادی کے حوالے سے کی جانے والی ۱۸۰ ممالک کی رینکنگ میں بنگلادیش کو ۱۴۴ ویں نمبر پر رکھا ہے۔ بھارت ۱۳۳ ویں اور پاکستان ۱۴۷ ویں نمبر پر ہے۔

اگر بنگلادیش میں کوئی صحافی مذہب یا آئین کے معاملے میں سیلف سینسر شپ کے مرحلے سے نہ گزرے یعنی غیر ذمہ دارانہ انداز سے کچھ لکھ ڈالے یا بول دے تو ریاستی مشینری اسے سزا دے سکتی ہے اور اس سے بھی زیادہ بُری اور خطرناک بات یہ ہے کہ مذہب کے خلاف کچھ لکھنے کی پاداش میں مقامی یا دیسی انتہا پسند قتل بھی کرسکتے ہیں۔ بعض صحافتی جرائم سزائے موت پر بھی منتج ہوتے ہیں۔

دی کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے بتایا ہے کہ ۲۰۱۵ء کے دوران بنگلادیش میں ۷۱ صحافیوں کو کسی نہ کسی وجہ سے قتل کیا گیا۔ ان میں چار بلاگر اور ایک پبلشر بھی شامل ہے، جنہیں مذہبی شدت پسندوں نے ہلاک کیا۔

ماحول کی تبدیلی سے بقا کو خطرہ

محل وقوع، گنجان آبادی اور افلاس کے ہاتھوں بنگلادیش کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے، جو ماحول میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کی زد میں سے زیادہ ہیں۔ بنگلادیش کئی دریاؤں کی گزر گاہ ہے اور یہ دریا بنگلہ سے ہوتے ہوئے خلیج بنگال میں جا گرتے ہیں۔ ان دریاؤں میں گنگا اور برہم پتر نمایاں ہیں۔ مجموعی رقبے کا بڑا حصہ ڈیلٹا پر مشتمل ہونے کے باعث بنگلادیش میں کم و بیش ۸۰ فیصد رقبہ کسی نہ کسی حد تک سیلاب کی زد میں رہتا ہے۔ جنوب مشرقی بنگلادیش میں تقریباً ہر چیز سیلاب کی زد میں ہے۔

دنیا بھر میں سمندروں کی سطح بلند ہوتی جارہی ہے۔ بلند ہوتی ہوئی سمندری سطح زمین کو مزید گھیرے میں لے گی۔ بنگلادیش اس حوالے سے شدید خطرے کی زد میں ہے۔ اس کے بہت سے علاقے پہلے کے مقابلے میں اب واضح طور پر سمندری پانی کی آماج گاہ بن چکے ہیں۔ بنگلادیش مجموعی طور پر میدانی علاقہ ہے جس میں بلند علاقے کم کم ہیں۔ ملک بھر میں علاقوں کی (سمندر کی سطح سے) اوسط بلندی ۱۰ میٹر سے زائد نہیں۔ سمندر کی سطح میں ایک میٹر کی بلندی کے بعد بنگلادیش کا کم و بیش ۱۵ فیصد رقبہ (جو کم و بیش ۳ کروڑ افراد کا مسکن ہے) زیر آب ہوگا۔ مسلسل سیلاب کی زد میں رہنے سے آبادی کے حوالے سے آٹھویں بڑے اور فی مربع کلو میٹر آبادی کے حوالے سے دسویں بڑے ملک کے کروڑوں افراد ملک کے اندر ہی بے گھری کے مسئلے سے دوچار رہیں گے۔

ایک بڑا مسئلہ سیم کا ہے۔ سمندری پانی وسیع رقبے پر پھیل کر زمین کو ناکارہ بنا رہا ہے۔ زمین کی زرخیزی بھی گھٹتی جارہی ہے اور زیر زمین میٹھے پانی کے ذخائر بھی کم ہوتے جارہے ہیں۔ بنگلادیشی بنیادی طور پر زرعی ملک ہے، اس لیے سمندری پانی کے ہاتھوں زمین کی زرخیزی کا گھٹنا یا اس کا بالکل ناکارہ ہو جانا انتہائی خطرناک ہے۔ پینے کے صاف پانی کا حصول بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

موسم میں رونما ہونے والی غیر معمولی تبدیلیاں بھی بنگلادیش میں قحط کو راہ دے سکتی ہیں۔ شدید گرم موسم فصلوں کو خراب کرسکتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ زمین کی زرخیزی کا گراف بھی گر سکتا ہے۔ تبت میں چین کی جانب سے تعمیر کیا جانے والا ڈیم بھی بنگلادیشی دریاؤں میں پانی کی مقدار کے گھٹنے کا سبب بن رہا ہے۔

“Bangladesh: Still not on the Global Radar”. (“The Globalist”. September 11, 2016)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*