Abd Add
 

بنگلا دیش کی زہریلی سیاست

بنگلہ دیش میں کئی عشروں سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان محاذ آرائی کا کھیل چل رہا ہے۔ یہ کھیل ملک کی معیشت کو زبردست نقصان سے دوچار کرتا رہا ہے۔ تیزی سے پنپتی ہوئی بنگلہ دیشی معیشت ایک بار بھر بحران میں مبتلا دکھائی دے رہی ہے۔

ملک کے بانی صدر کی بیٹی (شیخ حسینہ) ایک سابق صدر کی بیوہ اور سابق وزیراعظم (بیگم خالدہ ضیا) سے نبرد آزما ہے۔ باہر کی دنیا اس محاذ آرائی پر اب خال خال توجہ دیتی ہے کیونکہ کچھ بھی بدلتا دکھائی نہیں دیتا۔ ہر نئی حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور جب اپوزیشن پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو اقتدار سے باہر ہونے والی پارٹی اس کے پیچھے لٹھ لے کر پڑ جاتی ہے۔

بنگلہ دیش کی سیاسی خرابی اب ایک بڑے بحران میں تبدیل ہوچکی ہے۔ ۱۷ کروڑ عوام کا سب کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ بنگلہ دیشیوں کو ایک ایسی حکومت کا سامنا ہے جس کی کوئی کل سیدھی نہیں۔ بدترین نظام حکمرانی رائج ہے۔ جب بنگلہ دیش کے حالات درست کرنے پر اس کے اپنے رہنما خاطر خواہ توجہ نہیں دیں گے تو باہر کی دنیا ہی کو کچھ کرنا پڑے گا۔

۱۹۹۰ء کے بعد سے یہ حال ہے کی اقتدار کی تبدیلی سب کچھ تبدیل کرنے کا سبب بن جاتی ہے۔ کسی بھی پارٹی کو اپوزیشن میں بیٹھنا قبول اور منظور نہیں۔ ۲۰۰۱ء تا ۲۰۰۶ء خالدہ ضیاء وزیراعظم رہیں۔ اس دوران بنگلہ دیش میں بدترین کرپشن دکھائی دی۔ اقربا پروری اور بدنظمی بھی عروج پر تھی۔ خالدہ ضیاء کا اقتدار ختم ہوا تو فوج کی زیر نگرانی ٹیکنوکریٹس کی حکومت قائم ہوئی۔

۲۰۰۸ء کے عام انتخابات میں شیخ حسینہ واجد کی عوامی لیگ نے پارلیمنٹ کی ۳۰۰ میں سے ۲۲۹ نشستیں جیت لیں۔ خالدہ ضیاء کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کو صرف ۳۱ نشستیں ملیں۔ عوامی لیگ نے اپنی مضبوط پوزیشن کا فائدہ اٹھاکر اقتدار کے بھرپور مزے لوٹے اور مخالفین کو ڈرانے دھمکانے سے گریز نہیں کیا۔ اصلی اور فرضی ہر دو طرح کے دشمنوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والوں کے لاپتا ہونے کا سلسلہ شروع ہوا۔ گزشتہ ماہ اپوزیشن کے ۳۳ سرکردہ ارکان اور رہنماؤں کو شرپسندی اور قتل و غارت کے الزام میں مقدمات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ شیخ حسینہ نے ۱۹۷۱ء میں بنگلہ دیش کے قیام کی تحریک کے دوران جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے ایک ٹربیونل بھی تشکیل دیا۔ کوشش یہ ہے کہ بی این پی اور اسلامی عناصر کو سر اٹھانے کا موقع ہی نہ دیا جائے۔ سیاسی کارکنوں اور غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کا کہنا ہے کہ انہیں ڈھنگ سے کام نہیں کرنے دیا جارہا۔

شیخ حسینہ کی حکومت نے گزشتہ برس نگراں حکومت کا قانون ختم کردیا۔ نگراں سیٹ اپ کوئی مثالی انتظام نہیں تھا۔ ۲۰۰۷ء میں عوامی لیگ نے نگراں حکومت پر بی این پی کے اثر و رسوخ اور انتخابات میں ممکنہ دھاندلی کو بنیاد بناکر احتجاج کیا تھا جس کے نتیجے میں فوج نے آگے بڑھ کر اقتدار سنبھالا۔

اگر بی این پی کو شفاف انتخابات کی یقین دہانی نہ کرائی گئی تو عین ممکن ہے کہ وہ ۲۰۱۴ء کے عام انتخابات کا بائیکاٹ کردے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بنگلہ دیشی عوام کو مزید احتجاج کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اور مزید احتجاج کا واضح مطلب مزید معاشی ابتری اور زبوں حالی کے سوا کچھ نہیں۔ پندرہ بیس برس کے دوران بنگلہ دیش کو ہڑتالوں اور احتجاج نے ہلاکر رکھ دیا ہے۔ معیشت سنبھلنے نہیں پاتی کہ پھر لڑکھڑا جاتی ہے۔ اگر سیاسی تعطل پیدا ہوا تو مزید خرابی کو راہ ملے گی۔

باہر کی دنیا بنگلہ دیش کے حالات درست کرنے کی تھوڑی بہت کوشش کر رہی ہے۔ عالمی بینک نے ایک بڑے پل کے منصوبے کے لیے فنڈنگ اس لیے روک دی ہے کہ بڑے پیمانے پر کرپشن کا خدشہ ہے۔ امریکی سفیر مائکرو فائنانسنگ کا تصور پیش کرنے والے گرامین بینک کے بانی ڈاکٹر محمد یونس سے روا رکھے جانے والے نامناسب سلوک کی مذمت کرتے آئے ہیں۔ انہوں نے سیاسی قیدیوں سے بدسلوکی پر بھی احتجاج کیا ہے۔ ڈاکٹر محمد یونس تیسری قوت بن کر ابھر رہے تھے جس پر ان کے خلاف کارروائی کی گئی۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے گزشتہ ماہ بنگلہ دیش کا دورہ کیا جس کا مقصد حکومت کو اس بات کا احساس دلانا تھا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اسے عالمی برادری میں اچھی نظر سے نہیں دیکھا جارہا۔

شیخ حسینہ اپوزیشن کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایسے میں حالات کی درستی میں دیگر ممالک کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس حوالے سے بھارت بہت اہم ہے کیونکہ اس کا بنگلہ دیش اور شیخ حسینہ واجد پر واضح اثر ہے۔ بھارتی قیادت کو بنگلہ دیش میں سیاسی تعطل دور کرنے اور اس کی معیشت کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں مدد دینے کے لیے بہت کچھ کرنا ہوگا۔

(“Bangladesh’s Toxic Politics”… “Economist” May 26th, 2012)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*