نریندر مودی اور زی جن پنگ کا دورۂ امریکا

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی خود کو یہ باور کراچکے ہیں کہ ’’جو کچھ زی جِن پِنگ کرسکتے ہیں، وہ سب مَیں اُن سے بہتر کر سکتا ہوں‘‘۔ اور اسی یقین کے زیرِ اثر وہ بھی چینی صدر کے پیچھے پیچھے رواں برس ستمبر میں امریکا جا پہنچے۔ دونوں رہنماؤں نے اپنے دورۂ امریکا کا آغاز مغربی ساحلی ریاستوں سے کیا، جہاں وہ صفِ اول کی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف رہے۔ دونوں رہنماؤں نے اقوام متحدہ کے مختلف اجلاسوں سے خطاب کیے اور امریکا کے صدر براک اوباما سے ملاقاتیں کی۔ لیکن دونوں رہنماؤں کے اس دورے کی خاص بات یہ تھی کہ دونوں نے اپنے ان دوروں کو اپنے اور امریکا، دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان اپنا تاثر بہتر بنانے کے لیے بخوبی استعمال کیا۔

شاید اپنے اس دورے کے ذریعے نریندر مودی امریکیوں کو یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ وہ ان کے کتنے اہم دوست ثابت ہو سکتے ہیں، جب کہ چینی صدر یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ وہ امریکا کے دشمن نہیں ہیں۔ اِس لحاظ سے دیکھا جائے تو نریندر مودی کا دورۂ امریکا زیادہ کامیاب رہا ہے۔ لیکن اِس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت عالمی اثر و رسوخ میں اب بھی چین سے بہت پیچھے ہے۔

مودی کے دورے کا ایک اہم پروگرام پائیدار ترقی کے موضوع پر اقوام متحدہ کے سربراہی اجلاس میں اُن کی شرکت تھی۔ بھارتی وزیراعظم کے دورے کے برعکس زی جن پنگ کے دورے کی تمام ہی مصروفیات کہیں زیادہ نمایاں اور اہم تھیں۔ چین کا صدر بننے کے بعد امریکا کا زی جن پنگ کا یہ پہلا دورہ تھا، جس کے دوران وائٹ ہاؤس میں ان کا استقبال تام جھام سے بھرپور تھا جب کہ دیگر تقریبات کی شان و شوکت بھی کہیں بڑھ کر تھی۔

چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے اِس دورے اور اس کی اہمیت کا تقابل امریکا اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات استوار ہونے کے بعد ۱۹۷۹ء میں چین کے اُس وقت کے رہنما ڈینگ زیاؤ پنگ کے امریکا کے دورے سے کیا ہے، جو کسی چینی رہنما کا امریکا کا پہلا دورہ تھا۔

اس دورے کے دوران چینی ذرائع ابلاغ صدر زی کے دورِ اقتدار میں ہمسایہ ملکوں کے ساتھ چین کے ناروا سلوک اور اندرونِ ملک حکومت کے بڑھتے ہوئے جبر کے باعث چینی صدر پر ہونے والی تنقید کے ازالے کے لیے ان کی شخصیت کا مثبت تاثر اجاگر کرنے کی کوششوں میں مصروف رہے۔

چین کی کمیونسٹ پارٹی کے ترجمان اخبار ’’دی پیپلز ڈیلی‘‘ نے اس دورے سے عین قبل ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں چین میں مقیم غیر ملکی طلبہ چینی صدر کو ’’انکل زی‘‘، ’’دانش مند اور پرعزم‘‘، ’’وجیہ‘‘، ’’کرشماتی شخصیت کے مالک‘‘، ’’پیارے‘‘ اور ان جیسے دیگر القابات سے نواز رہے ہیں۔

غیر ملکی دوروں کے دوران پہلے سے تحریر شدہ تقریروں سے ہٹ کر بات کرنے کی روایت برقرار رکھتے ہوئے صدر جن پنگ نے امریکی کاروباری شخصیات کے ساتھ ایک تقریب میں ہلکے پھلکے انداز میں اپنے پسندیدہ مصنفین کا بھی تذکرہ کیا۔ انہوں نے خلافِ معمول کمیونسٹ پارٹی کی پالیسی ساز کمیٹی میں اختیارات کی رسہ کشی کی خبروں کا بھی ذکر کیا جس کے سربراہ وہ خود ہیں۔ انہوں نے واشنگٹن میں سیاسی چالبازیوں سے متعلق مشہور امریکی ٹی وی سیریز ’’ہاؤس آف کارڈز‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے ان خبروں کی تردید کی۔ غیر رسمی انداز اور معمول سے ہٹ کر کی جانے والی اُن کی اِن تمام باتوں کا مقصد بظاہر اپنا ’’امیج‘‘ بہتر کرنا تھا۔

صدر زی جن پنگ نے اپنے اس دورے کے دوران بہت سے ایسے بیانات بھی دیے جو اُن کے امریکی میزبان ان سے سننا چاہتے تھے۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ چین کی جانب سے امریکی کمپنیوں کی مبینہ سائبر جاسوسی یا ہیکنگ کے مخالف ہیں، وہ بحیرۂ جنوبی چین میں غیر ملکی جہازوں کے آزادانہ آمد و رفت کے حق میں ہیں، اور یہ کہ اُن کا ملک بحیرۂ جنوبی چین میں بنائے جانے والے مصنوعی جزائر پر فوجی اڈے قائم نہیں کرے گا۔

اُنھوں نے واضح الفاظ میں اعلان کیا کہ وہ چینی معیشت میں اصلاحات متعارف کرانے کے اپنے وعدوں پر عمل درآمد میں مخلص ہیں اور چینی کرنسی ‘یوان‘ کی قدر میں مزید کمی نہیں کریں گے۔ اُنہوں نے اپنے اس عزم کو بھی دہرایا کہ چین موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کے لیے کی جانے والی عالمی کوششوں میں اپنا حصہ ادا کرنے پر تیار ہے۔

اس دورے کے دوران چین اور امریکا کے وزرائے دفاع نے دونوں ملکوں کے جنگی طیاروں کے درمیان کسی حادثاتی تصادم سے بچنے کے لیے طریقہ کار وضع کرنے سے متعلق ایک معاہدے پر دستخط بھی کیے جو دو طرفہ دفاعی تعاون کے اعتبار سے خاصی اہم پیش رفت ہے۔

باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کیے جانے والے ان تمام تر اقدامات اور اعلانات کے باوجود چینی صدر اس دورے کے ذریعے امریکا کی بداعتمادی دور کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ یادش بخیر صدر زی اور صدر اوباما نے ۲۰۱۳ء میں کیلیفورنیا میں ہونے والی اپنی غیر رسمی ملاقات میں بھی دو طرفہ تعلق کو استوار کرنے کی کوشش کی تھی لیکن بعد کے برسوں میں بحیرۂ جنوبی چین اور سائبر سکیورٹی جیسے معاملات پر چین کے رویے میں اعتدال کے کوئی آثار نظر نہیں آئے۔ بلکہ امریکا کی نظر میں تو اس ملاقات کے بعد ان دونوں معاملات میں چین کا رویہ زیادہ جارحانہ ہوا ہے۔

امریکا میں کچھ اسی طرح کی بداعتمادی وزیراعظم نریندر مودی کے بھارت کو کاروباری دوست اور سرکاری مداخلت سے آزاد معیشت بنانے کے وعدوں سے متعلق بھی موجود ہے۔ مودی کو بھی چینی صدر کی طرح امریکا میں اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے خاصی محنت کرنا پڑی کہ وہ اقتصادی اصلاحات کا جو ایجنڈا لے کر اقتدار میں آئے تھے، اس پر عمل درآمد بڑے کاروباری اداروں کے مفادات اور سیاسی چپقلشوں کی نذر ہوگیا ہے۔

نریندر مودی کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ گفتگو میں مارک ٹوئن اور ٹام پائن کے حوالے دینے، بغل میں خوبصورت اہلیہ کو لیے لیے پھرنے اور مغربی لباس پہننے والے چینی صدر کے برعکس ایسے شخص ہرگز نہیں ہیں جن کے ساتھ امریکی ایک دستر خوان پر بیٹھ کر شراب و کباب اڑا سکیں۔ مودی بھارتی پہناوے اور ثقافت کے زبردست حامی، شراب سے سخت پرہیز کرنے والے اور سبزی خور رہنما ہیں جن کی شخصیت مغربی اثرات سے بڑی حد تک محفوظ ہے۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ یہ وہی مودی ہیں جن کا ویزا امریکا نے ایک دہائی قبل اس لیے مسترد کردیا تھا کیونکہ اُن کی سربراہی میں قائم ریاستی حکومت پر ۲۰۰۲ء میں گجرات کے مسلم کش فسادات میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔

دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک رکاوٹ یہ بھی ہے کہ امریکا کی جانب سے بھارت کے ساتھ روابط بہتر بنانے کی حالیہ کوششیں بار بار سر اٹھانے والے چھوٹے چھوٹے تنازعات کے باعث بار آور ثابت نہیں ہو پارہیں۔ بھارت کو ایک ذمہ دار تجارتی ریاست بنانے، امریکی کمپنیوں کو بھارت کی جوہری توانائی کی صنعت میں سرمایہ کاری کی اجازت دینے، بھارت کے سیکڑوں سافٹ ویئر انجینئرز کو ’’سلیکون ویلی‘‘ میں کام کے لیے امریکی ویزوں کے اجرا اور سرمایہ کاری کے دو طرفہ معاہدے کو حتمی شکل دینے سمیت کئی دیگر معاملات پر دونوں ملکوں کے اختلافات امریکیوں کی اکتاہٹ میں اضافہ کر رہے ہیں۔

اِن سب کے باوجود امریکا میں مقبولیت کے مقابلے میں مودی نے چینی صدر کو مات دے دی ہے اور اس کی وجہ ان کی وہ تین نمایاں خصوصیات ہیں جن میں زی جن پنگ ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔

اول تو یہ کہ بھارتی وزیراعظم ایک ایسے سیاستدان ہیں جو ایک جمہوری نظام کے ذریعے اقتدار میں آئے ہیں۔ وہ عوام میں اپنے جذبات کا کھل کا اظہار کرنے سمیت ان تمام خصوصیات کے حامل ہیں جو ایک منتخب نمائندے کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہیں۔ مودی جس گرمجوشی اور والہانہ انداز سے اوباما کے گلے لگے، اس کی توقع آپ چینی صدر سے نہیں کرسکتے۔ آپ چینی صدر کو کبھی جذباتی یا آبدیدہ ہوتے بھی نہیں دیکھیں گے جیسے مودی اُس وقت ہوئے تھے، جب وہ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کو ایک عوامی تقریب میں اپنی والدہ کے بارے میں بتا رہے تھے۔

مودی کی دوسری بڑی خصوصیت یہ ہے کہ انہیں امریکا میں آباد بھارتی شہریوں کی بڑی تعداد کی پُرجوش حمایت حاصل ہے، جو اپنے آبائی وطن کی محبت میں گرفتار اور امریکا میں اس کے مفادات کے سب سے بڑے رکھوالے ہیں۔ اس کے برعکس صدر زی کے لیے چینی نژاد امریکیوں کی جانب سے اس والہانہ حمایت کا تصور کرنا بھی مشکل ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ امریکا میں آباد چینی باشندوں کی اکثریت کو کمیونسٹ اقتدار کے تحت زندگی گزارنا پسند نہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر وہ امریکا میں رہتے ہوئے کمیونسٹ پارٹی کی حمایت کریں گے تو ان پر خود ان کی اپنی کمیونٹی ’’دشمن‘‘ کے حامی ہونے کے الزامات عائد کرے گی۔

اور مودی کو زی جن پنگ پر تیسری برتری یہ حاصل ہے کہ بھارت بہرحال چین نہیں ہے۔ چین جتنا زیادہ امریکی مفادات کے لیے خطرہ بن کر ابھرتا ہے، ایک مقابل قوت کی حیثیت سے امریکا کی نظر میں بھارت کی اہمیت اتنی ہی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ چین کی معیشت کے بارے میں امریکا میں جتنے خدشات سر اٹھاتے ہیں، امریکی اشرافیہ اور مقتدر طبقہ بھارت کی معیشت سے اتنی ہی امیدیں وابستہ کرلیتا ہے۔

لیکن چینی صدر اِس بارے میں بہت زیادہ فکر مند نہیں ہیں کہ امریکی قیادت یا عوام ان کے بارے میں کیا تاثر اور رائے رکھتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جب وہ اپنے مطالعے کی عادت کا بار بار ذکر کرکے اپنے منہ میاں مٹھو بن رہے تھے، تو درحقیقت وہ جن لوگوں سے مخاطب تھے اور جنہیں متاثر کرنا چاہتے تھے، وہ امریکا سے ہزاروں میل دور چین میں بیٹھے اپنے ٹی وی اسکرینوں پر ایک سپر پاور کی جانب سے اپنے صدر کی آؤ بھگت دیکھ کر محظوظ ہورہے تھے۔

مودی کے لیے اُن کے دورۂ امریکا کی سب سے بڑی کامیابی امریکی صدر اوباما کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل نشست کے بھارتی مطالبے کی حمایت تھی۔ لیکن مودی محترم کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ سلامتی کونسل میں جس نشست کے حصول کے خواب دیکھ رہے ہیں، ویسی ہی ایک نشست پر چین پہلے سے ہی براجمان ہے اور بھارت کی عظیم طاقت بننے کی خواہشات کو ’’ویٹو‘‘ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

(ترجمہ: ابنِ ریاض)

“Banyan: A pooh and a bear-hugger”.
(“The Economist”. Oct. 3, 2015)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*