Abd Add
 

افغانستان: شکست سے بہتر ’’تعطل!‘‘

Afghan security forces keep watch at the site of a suicide attack in Kabul, Afghanistan. (Photo: Mohammad Ismail/Reuters)

افغانستان کے معاملات کا سرسری جائزہ لینے کے لیے آنے والا کوئی بھی مبصر، تجزیہ کار یا صحافی کسی امریکی کمانڈر کو نئے امریکی صدر سے مزید فوجی بھیجنے کی فرمائش کرتا ہوا دیکھ کر کچھ عجیب محسوس کرسکتا ہے۔ ۲۰۰۹ء میں بھی یہی ہوا تھا جب امریکی کمانڈر جنرل اسٹینلے مک کرسٹل نے نومنتخب صدر براک اوباما کو خبردار کیا تھا کہ اگر فوری طور پر مزید ہزاروں فوجی افغانستان نہ بھیجے گئے تو ’’مشن‘‘ ناکامی سے دوچار ہو جائے گا۔ اور اب بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں سکونت اختیار کرلی ہے اور اُن سے مزید فوجی بھیجنے کی فرمائش کرنے سے گریز نہیں کیا جارہا۔ جنرل جان ڈبلیو مک نکلسن نے سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے روبرو اپنے بیان میں کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو چند ہزار اضافی امریکی فوجی افغانستان بھیجنے ہی پڑیں گے۔ اس بار فتح و شکست کا ذکر کرنے سے گریز کیا گیا ہے۔ جنرل نکلسن نے واضح کردیا ہے کہ افغانستان میں اضافی فوجی لڑنے کے لیے درکار ہیں نہ کسی سے شکست سے بچنے کے لیے۔ یہ فوجی تو ’’تعطل‘‘ برقرار رکھنے کے لیے درکار ہیں!
ایک اہم سوال یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کو جنرل نکلسن کی فرمائش کے مطابق مزید فوجی افغانستان بھیجنے چاہئیں؟ مگر اس سے بھی بڑھ کر اہم سوال یہ ہے کہ معاملات یہاں تک کیسے پہنچے؟ اوباما نے جنرل مک کرسٹل کی بات نظر انداز نہیں کی تھی اور جو کچھ انہوں نے چاہا تھا اُسی کے مطابق فوجی افغانستان بھیجے۔ مگر خیر، ایسا کرنے سے افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ ہوگئی مگر بات بنی نہیں۔ بحران برقرار ہی رہا۔ بنیادی سوال اب بھی یہی ہے کہ ان ساری کوششوں کے باوجود افغانستان اب تک بحرانی کیفیت سے کیوں دوچار ہے۔ اس سوال کے تین جواب ہیں۔
پہلا جواب تو یہ ہے کہ افغان قیادت اب تک معاملات کو پوری طرح اپنے ہاتھ میں لینے کے قابل نہیں ہو پائی۔ کابل میں جو لوگ اقتدار کے ایوانوں پر متصرف ہیں وہ کرپٹ ہیں۔ اور یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ ان میں حکومت کرنے کی اہلیت اور سکت نہیں۔ وہ بیشتر معاملات میں بُودے ثابت ہوتے رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی کرپشن نے ہر شعبے کو زوال آشنا کردیا ہے۔ کوئی ایک بھی معاملہ ایسا نہیں جو کرپشن سے مکمل طور پر پاک ہو۔ افغان قیادت اب تک سکیورٹی فورسز کو اس معیار تک پہنچانے میں کامیاب نہیں ہوسکی جو ملک کو ڈھنگ سے چلانے کے لیے لازم ہے۔ افغان فوج اب بھی ملک کا کنٹرول مکمل طور پر اپنے ہاتھ میں لینے کی اہلیت نہیں رکھتی۔ طالبان بہت سے علاقوں میں اب بھی اس قدر مضبوط ہیں کہ انہیں شکست دینے اور ایک طرف ہٹانے کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا۔ اور سچ تو یہ ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز کی نا اہلی اور غلط حکمت عملی نے طالبان کو مزید مضبوط کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ افغان عدلیہ کی بدعنوانی نے طالبان کو دیہی علاقوں میں اپنی عدالتیں (جرگے) چلانے کا موقع دیا ہے۔ کابل حکومت کتنی غیر موثر ہے اور قوانین کو نظر انداز کرنے کا معاملہ کہاں تک پہنچ چکا ہے، یہ سمجھنے کے لیے صرف اتنا جان لینا کافی ہے کہ بدنام زمانہ جنگجو سردار اور نائب صدر عبدالرشید دوستم کے محافظوں نے جب ایک حریف کو اغوا کرکے تشدد کا نشانہ بنایا تب دوستم نے پولیس کو ان محافظوں کی گرفتاری سے روک دیا۔ صدر اشرف غنی مغربی طرز کی جمہوریت اور اصلاحات کے حامی ہیں اور ان کے ارادوں میں بھی بظاہر کوئی گڑبڑ نہیں۔ ۲۰۱۴ء کے صدارتی انتخاب کے بعد جو سیاسی تعطل پیدا ہوا وہ امریکا کی کوششوں سے ختم ہوا۔ اشرف غنی کو صدر کا منصب ایک معاہدے کے تحت ملا۔ اس معاہدے کی رُو سے اُنہیں چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ کو اقتدار میں شریک کرنا چاہیے مگر معاملات اب تک درست نہیں ہوسکے ہیں۔ عبداللہ عبداللہ شمالی اتحاد کے نمائندے ہیں۔ اقتدار کے ایوان میں کشیدگی کے باعث ملک کے بیشتر بنیادی مسائل حل کرنے کی راہ اب تک ہموار نہیں کی جاسکی ہے۔
دوسرے یہ کہ پاکستان اب تک طالبان، حقانی نیٹ ورک اور دیگر شورش پسند گروپوں کی حمایت کر رہا ہے۔ کہیں بھی برپا ہونے والی شورش کو اگر بیرونی حمایت اور مدد حاصل ہو تو خرابی کے پھیلنے کا امکان توانا ہوتا ہے۔ طالبان کو اب بھی پاکستان کی حدود میں محفوظ ٹھکانے میسر ہیں۔ ایسے میں ان کی طاقت کے گھٹنے کا سوچا بھی نہیں جاسکتا۔ جب کبھی طالبان کو افغان سرزمین پر سخت حالات کا سامنا ہوتا ہے، وہ پاکستان چلے جاتے ہیں۔ اور پھر حالات معمول پر آنے پر زیادہ مضبوط ہوکر واپس آتے ہیں۔
پاکستان کو اندرونی سطح پر بھی شورش کا سامنا ہے۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے حکومت کے لیے خاصی مشکلات پیدا کی ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان نے افغان طالبان کو بھی مضبوط رکھا ہے۔ پاکستان آج بھی طالبان کو افغانستان میں اپنے مفادات کے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل سمجھتا ہے۔ امریکا نے کئی بار کوشش کی ہے کہ پاکستان پر دباؤ ڈال کر طالبان کے معاملے میں اُسے پسپا ہونے پر مجبور کرے، مگر اُسے اب تک خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی ہے۔
افغانستان میں شورش کو ہوا دینے میں ایران، اور کسی حد تک روس بھی شامل ہیں۔ طالبان کا مضبوط رہنا امریکا اور یورپ کے لیے دردِ سر سے کم نہیں۔ اور ایران کے ساتھ روس بھی چاہے گا کہ مغربی طاقتوں کا افغانستان میں ناطقہ بند ہی رہے، ناک میں دم رہے۔ امریکا نے ایران پر طالبان کی حمایت اور مدد کا الزام عائد کرتے ہوئے ہتھیاروں کی فراہمی کا بھی ذکر کیا ہے مگر روس کے کردار پر واشنگٹن خاموش ہے۔
تیسرا سبب یہ ہے کہ براک اوباما نے افغانستان میں جو کمک بھیجی تھی وہ ضرورت سے بہت کم تھی۔ اور پھر افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کی ڈیڈ لائن بھی غیر منطقی تھی۔ اس حوالے سے کی جانے والی مشاورت بے جان تھی اور جو تجاویز رو بہ عمل لائی گئیں ان میں خامیاں تھیں۔ اوباما نے امریکی افواج کو افغانستان سے نکالنے کا عمل ۲۰۱۱ء میں شروع کردیا تھا جبکہ وہاں سلامتی کی صورت حال خاصی غیر اطمینان بخش تھی۔ ایک طرف تو افغان فورسز کی پوزیشن بہت کمزور تھی اور دوسری طرف طالبان اپنی طاقت میں اضافہ کرتے جارہے تھے۔ طالبان کو شکست دینے کا اس وقت سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا۔ یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ براک اوباما نے جنوری ۲۰۱۷ء میں وہ تمام منصوبے ترک کر دیے جن کا تعلق افغانستان سے امریکی افواج کے مکمل انخلا سے تھا۔ تب افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد صرف ۸۴۰۰ سے تھی۔ ان میں چند دستے اسپیشل آپریشنز (چھاپوں) کے لیے مختص ہیں۔ اتحادیوں کے ساتھ مل کر امریکی فوجی چند ایک علاقوں میں اپنی سہولت کے مطابق کارروائیاں کرتے ہیں۔ امریکی اور اتحادی فوج آپریشن ریزولیوٹ سپورٹ کے تحت افغان نیشنل ڈیفنس اینڈ سکیورٹی فورسز کو مختلف امور پر مشورے بھی دیتے ہیں اور بعض معاملات میں اس کی براہِ راست معاونت بھی کرتے ہیں۔
جنرل نکلسن نے سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے روبرو اپنے بیان میں اعتراف کیا ہے کہ اس وقت افغانستان میں تعینات امریکی فوجی تعداد میں اتنے کم ہیں کہ وہ طالبان کو مختلف علاقوں میں پیش قدمی سے روک نہیں سکتے اور ان کی طاقت میں کمی لانے کے حوالے سے بھی کچھ خاص نہیں کرسکتے۔ جنوبی افغانستان میں طالبان کی پوزیشن اتنی مستحکم ہے کہ انہیں شکست دینے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ جنرل نکلسن کا کہنا ہے کہ افغانستان حکومت کی عملداری دو تہائی آبادی پر ہے اور کم و بیش ۱۰ فیصد آبادی طالبان کے براہِ راست زیر اثر ہے۔ امریکی حکومت کا نگراں ادارہ دی اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن کہتا ہے کہ نومبر ۲۰۱۵ء تک افغان حکومت ملک کے کم و بیش ۷۲ فیصد حصے پر بلا مقابلہ متصرف تھی۔ یہ تصرف نومبر ۲۰۱۶ء میں ۵۷ فیصد رہ گیا۔ اس دوران اقوام متحدہ نے اندازہ لگایا ہے کہ سکیورٹی کو داؤ پر لگانے والے واقعات میں ۹ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اور ۲۰۱۴ء کے مقابلے میں ان واقعات میں ہونے والا اضافہ ۱۸ فیصد ہے۔ اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ ۲۰۱۶ء کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران لڑائی میں ۸۳۹۷ شہری ہلاک یا زخمی ہوئے تھے۔
افغان نیشنل فورسز اب تک اس قابل نہیں ہو پائی ہیں کہ طالبان کو اپنے طور پر کنٹرول کرسکیں۔ براک اوباما کے دونوں ادوارِ صدارت میں امریکی مشیروں اور بمباری کی مدد سے وہ طالبان کو کسی حد تک کنٹرول کرنے میں کامیاب رہی تھیں مگر حقیقت یہ ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی ساتھ نہ دیں تو افغان فوج طالبان کو بھرپور انداز سے پیچھے دھکیلنے یا شکست دینے کی پوزیشن میں نہیں۔ چند ایک معاملات میں امریکی معاونت سے افغان فورسز طالبان کو کسی صوبائی دارالحکومت کا کنٹرول سنبھالنے سے روکنے میں کامیاب رہیں مگر اب پھر بنیادی سوال یہ ہے کہ امریکیوں اور ان کے اتحادیوں کے مکمل انخلا کے بعد افغانستان کا کیا ہوگا۔ دیہی علاقوں میں طالبان کو طاقت حاصل کرنے سے روکنا کبھی ممکن نہیں رہا۔ اور اس وقت طالبان دیہی علاقوں پر غیر معمولی حد تک متصرف ہیں۔
طالبان سے لڑائی میں افغان نیشنل فورسز کو غیر معمولی جانی نقصان سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ یکم جنوری سے ۱۲ نومبر ۲۰۱۶ء کے دوران طالبان اور حقانی نیٹ ورک سے جھڑپوں میں انہیں ۶۷۸۵ سپاہیوں سے محروم ہونا پڑا ہے۔ زخمی ہونے والے فوجیوں کی تعداد ۱۱,۷۷۷ ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جب امریکا اور اس کے اتحادی نہیں ہوں گے تب افغان نیشنل فورسز کا کیا ہوگا۔ ایک سال سے بھی کم مدت میں ہونے والا یہ جانی نقصان افغانستان میں ۱۵ سال کے دوران ہونے والے امریکی فوج کے جانی نقصان سے تین گنا ہے۔
افغان فوج کے لیے بھرتیوں کا معاملہ بھی عجیب ہی رہا ہے۔ کبھی تیزی سے بھرتیاں کی جاتی ہیں اور کبھی رنگروٹ بہت تیزی سے فوج چھوڑ جاتے ہیں۔ طالبان سے جھڑپوں اور معرکہ آرائیوں میں ہونے والا غیر معمولی جانی نقصان افغان فوج کے مورال کو خطرناک حد تک گرانے کا باعث بنا ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر اتنے بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوتا رہا تو کیا افغان فوج طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائیاں جاری رکھ سکے گی۔ جنرل نکلسن کے مطابق افغان فوج کی ۷۰ فیصد سے زائد بڑی کارروائیاں اسپیشل آپریشنز کمانڈ کے تحت ہوتی ہیں، جس کے ارکان کی تعداد ۱۷؍ہزار ہے۔ افغان فوج مجموعی طور پر ایک لاکھ ۹۵ ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ پولیس کو شامل کرلیں تو افغان نیشنل فورسز کا مجموعی حجم ۳ لاکھ ۶۰ ہزار ہے۔
جنرل نکلسن کہتے ہیں کہ ایسی صورت حال میں افغانستان کو محض نیشنل فورسز کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ وہاں فوری طور پر ہزاروں اضافی امریکی فوجیوں اور مشیروں کو بھیجنا لازم ہے۔ افغان فضائیہ کو مدد کی زیادہ ضرورت ہے۔ ایک طرف تو لڑاکا طیاروں کی تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ زمین پر لڑائی میں مصروف دستوں کو زیادہ سے زیادہ مدد فراہم کی جاسکے اور دوسری طرف افغان فضائیہ کو مجموعی طور پر تشکیل نو کے مرحلے سے گزارنا لازم ہے، کیونکہ یہ فوج اب تک جدید دور کے تقاضوں کے مطابق پنپ نہیں سکی۔ افغان فوج کو زمینی کارروائیوں میں امریکی فوج کی طرف سے بھرپور مدد کی اب بھی ضرورت ہے۔ اور ایسا کرنے کے لیے امریکا کو بھی میدان میں اپنے فوجی بھی اتارنا پڑیں گے۔ ایسے میں لازم ہے کہ افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد بڑھائی جائے۔
اب ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکی تاریخ کی سب سے طویل جنگ میں کیا یہ لازم ہے کہ امریکی فوج کی کمٹمنٹ برقرار رکھی جائے، بلکہ اُسے وسعت دی جاتی رہے؟ افغانستان میں امریکا کو غیر معمولی جانی نقصان سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ اور مالی نقصان تو خیر ہے ہی بہت زیادہ۔ ایسے میں یہ بات بہت عجیب لگتی ہے کہ افغان سرزمین پر تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد بڑھائی جائے۔ مگر اس وقت ایسا کرنا لازم سا دکھائی دے رہا ہے۔ افغان فورسز کسی بھی اعتبار سے سلامتی یقینی بنائے رکھنے کی صلاحیت اور سکت کی حامل دکھائی نہیں دیتیں۔ جنرل نکلسن نے جو وجوہ بیان کی ہیں، اُن کی روشنی میں امریکی قیادت کے لیے افغانستان میں فوجیوں کی تعداد بڑھانا ناگزیر دکھائی دے رہا ہے۔ امریکا جن ۹۸ تنظیموں اور گروپوں کو دہشت گرد قرار دیتا ہے، ان میں سے ۲۲ پاک افغان سرحدی علاقے میں متحرک ہیں۔ ان کی سرکوبی کے لیے امریکی فوجیوں میں اضافہ تو کرنا ہی پڑے گا۔ اگر امریکی افواج کو افغانستان سے نکالنے کا سلسلہ جاری رہا اور وہاں امریکی و اتحادی فوجی باقی نہ رہے تو افغان فوج کسی بھی اعتبار سے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے گی۔ اور یوں طالبان، حقانی نیٹ ورک اور دیگر گروپ اپنی ہر بات منوانے اور پورے ملک پر قابض ہونے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ القاعدہ اور داعش جیسے گروپ بھی افغان سرزمین پر پنپتے رہیں گے۔ اگر ایسا ہوا تو واشنگٹن وہ سب کچھ کھو بیٹھے گا، جو اسے اب تک اس خطے میں حاصل ہوا ہے۔ دہشت گرد گروپوں کی طاقت میں اضافے سے امریکی مفادات ہی داؤ پر نہیں لگیں گے بلکہ افغانستان اور پاکستان کی حکومت کے لیے بھی مشکلات میں اضافہ ہوجائے گا۔ اگر امریکا چاہتا ہے کہ افغانستان میں کم از کم سلامتی برقرار رہے تو اسے مزید فوجی وہاں بھیجنا ہوں گے۔ طالبان کو مزید تقویت پانے سے روکنے اور ان کی پوزیشن کمزور بنانے کے لیے فوری طور پر کم از کم ایک لاکھ فوجی افغانستان بھیجنا لازم ہے۔ براک اوباما نے بھی یہی کیا تھا مگر ساتھ ہی انہوں نے انخلا کی ڈیڈ لائن بھی دے دی تھی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ڈیڈ لائن دینے سے گریز کرنا ہوگا۔
امریکا کو یہ نکتہ بھی ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ طالبان کو فیصلہ کن شکست سے دوچار کرنے کے لیے لازم ہے کہ پاکستان اُنہیں مدد دینے سے گریز کرے۔ اگر انہیں پاکستان میں محفوظ ٹھکانے میسر ہوتے رہیں تو امریکی فوج افغان نیشنل فورسز کے ساتھ مل کر بھی مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی عوام افغانستان میں مزید ایک لاکھ فوجیوں کی تعیناتی کی منظوری دیں گے یا نہیں، یہ ابھی نہیں کہا جاسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بہت بڑا قدم ہوگا جسے اٹھانے سے پہلے بہت کچھ سوچنا پڑے گا۔ اگر مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوسکے تو امریکا کے جانی نقصان میں اضافہ ہوگا اور یوں امریکی قیادت کو کانگریس اور عوام کے سامنے مزید خفت سے دوچار ہونا پڑے گا۔
جنرل نکلسن چاہتے ہیں کہ فوری طور پر چند ہزار امریکی فوجی افغانستان بھیج دیے جائیں۔ ایسا کرنا اگرچہ مکمل فتح کے مساوی تو نہیں ہے مگر ہاں، اِس کے نتیجے میں تھوڑی بہت بہتری ضرور آئے گی۔ مکمل شکست سے بچنے کے لیے افغانستان میں تعطل برقرار رکھنا ضروری دکھائی دے رہا ہے۔ اس کے لیے چند ہزار اضافی فوجی درکار ہوں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر دفاع جیمز میٹس کو افغانستان کے معاملے میں اعداد و شمار کے حوالے سے کوئی پابندی کرنے سے گریز کرنا ہوگا۔ اگر جنرل نکلسن کو محسوس ہو رہا ہو کہ افغانستان میں مزید فوجی تعینات کیے جانے چاہئیں تو مزید تعیناتیوں کی منظوری دی جانی چاہیے۔ اگر ڈونلڈ ٹرمپ زیادہ نہ بھی کرسکیں تو ۲۰ سے ۳۰ ہزار امریکی فوجیوں کی فوری تعیناتی کا حکم دے سکتے ہیں۔
ایک نکتہ اور ذہن نشین رہنا چاہیے۔ اگر افغانستان کے لیے اضافی امریکی فوجی دستے تعینات کردیے جاتے ہیں، تب بھی امریکی کمانڈروں کو دیہی علاقوں میں طالبان کے اثر و رسوخ کے حوالے سے زیادہ پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ طالبان کو ہر علاقے میں شکست دینے سے بڑھ کر بھی کئی اہداف ہیں، جو افغانستان میں امریکی کمانڈرز کے لیے بہت اہم ہیں۔ امریکی کمانڈروں کو دارالحکومت کابل، قندھار، جلال آباد، ہرات، مزار شریف اور دیگر بڑے شہروں کو کنٹرول رکھنے میں افغان فوج کی بھرپور مدد کرنی چاہیے۔ ساتھ ہی ساتھ امریکی فوج کو افغانستان کی حدود اور پاک افغان سرحدی علاقوں میں القاعدہ اور دیگر انتہا پسند گروپوں کے ٹھکانوں کا قیام بھی روکنا چاہیے۔ اس دوران امریکی قیادت کرپشن کم کرنے اور حکومتی مشینری کی کارکردگی بہتر بنانے میں صدر اشرف غنی کی مدد کرے تاکہ پاکستان پر سفارتی اور معاشی دباؤ میں اضافہ ہو اور وہ طالبان کی حمایت کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہو۔
سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے کہا تھا کہ چھاپہ مار اگر شکست نہ کھائے تو جیت جاتا ہے۔ اس کے برعکس یہ بھی درست ہے کہ کوئی بھی حکومت اس وقت تک فاتح کہلائے گی جب تک وہ برقرار رہتی ہے، گو کہ چھاپہ مار اور شورش پسند دیہی علاقوں میں مضبوط ہی رہیں۔ کولمبیا کی مثال بہت واضح ہے۔ کولمبیا کی فوج نے انتہا پسند گروپ دی ریوولیوشنری آرمڈ فورسز آف کولمبیا سے چالیس سال جنگ لڑی اور بالآخر اس گروپ نے ہار مانتے ہوئے امن معاہدہ کیا۔ امریکی قیادت کو یاد رکھنا چاہیے کہ آگے چل کر طالبان بھی تھکن محسوس کریں گے اور ایک نہ ایک دن امن معاہدہ کرنے پر مجبور ہوں گے۔ یہ دن خیر بہت جلد تو نہیں آنے والا مگر اس دوران بہتر یہ ہے کہ معاملات کو چلتا رہنے دیا جائے۔ امریکا کو یہ سب کچھ تھوڑا بہت مہنگا تو پڑے گا مگر شکست پر تعطل کو ترجیح دینا لازم ہے۔ اگر امریکا نے افغانستان کو نظر انداز کردیا اور وہاں تمام معاملات افغان فوج کے حوالے کیے تو عین ممکن ہے کہ انتہا پسند اسلامی گروپ فتح پاجائیں اور ایک بار پھر مسلم انتہا پسندوں کی حکومت قائم ہو۔ یہ سودا امریکا کو بہت مہنگا پڑے گا۔

(ترجمہ: محمد ابراہیم خان)

“Better a stalemate than defeat in Afghanistan”.

Leave a comment

Your email address will not be published.


*