Abd Add
 

بھٹو صحیح کہتا تھا!

ایئر مارشل (ر) اصغر خان پاک فضائیہ کے سربراہ رہے ہیں۔ انہوں نے سیاست میں بھی بھرپور حصہ لیا اور ۱۹۷۰ء کے عشرے کے اواخر میں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف مظاہروں کی قیادت کی۔ وہ تحریک استقلال کے بانی اور سربراہ تھے۔ آئی ایس آئی سے مبینہ طور پر فنڈ لینے والے اعلیٰ فوجی افسران کے خلاف ان کی ایک درخواست سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ نیوز ویک کے قاسم نعمان نے اسلام آباد میں ۹۰ سالہ اصغر خان سے انٹرویو کیا جس کے اقتباسات ہم آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔


نیوز ویک: آپ کے خیال میں پاکستان کے بحرانوں میں فوج کا حصہ کتنا ہے اور اسے کس حد تک ذمہ دار ٹھہرایا جاسکتا ہے؟

اصغر خان: بات یہ ہے کہ فوج کے خلاف کچھ زیادہ ہی ڈھنڈورا پیٹا گیا ہے۔ اس بات کو کون جھٹلا سکتا ہے کہ ۱۹۶۵ء میں بھارت سے جنگ دفتر خارجہ کے مشورے پر لڑی گئی تھی۔ سویلین قیادت کو ملک چلانے کا حق ہے۔ مگر نا اہل سیاست دان ملک کو چلانے میں اور عوام کو کچھ دینے میں ناکام رہتے ہیں تو قومی مفاد کی خاطر فوج آگے بڑھ کر معاملات اپنے ہاتھ میں لیتی ہے۔ شرم ناک بات یہ ہے کہ ملک کے وسائل کا بڑا حصہ دفاعی امور پر خرچ ہوتا ہے اور عوام کے منتخب نمائندے ایوان میں اس پر بحث کرنا گوارا نہیں کرتے۔

٭ بجٹ کا بڑا حصہ دفاع پر خرچ ہوتا ہے۔ ۱۹۶۵ء میں دفاعی بجٹ کو کلاسیفائی کردیا گیا۔ اس سے قبل کیا صورت ہوا کرتی تھی؟

اصغر خان: ۱۹۶۵ء سے قبل صورت یہ تھی کہ ہم اپنی دفاعی ضروریات کے مطابق حکومت کو آگاہ کردیا کرتے تھے۔ حکومت بتاتی تھی کہ وہ ہمیں مطلوبہ وسائل فراہم کرسکتی ہے یا نہیں۔ اگر فراہم کرسکتی تھی تو کرتی تھی اور اگر نہیں کر پاتی تھی تو امریکا سے کہتی تھی کہ دفاعی ضروریات پوری کرے۔ اس میں ڈھکی چھپی کوئی بات نہ تھی۔ ہم وزارت دفاع سے اپنے معاملات طے کرتے تھے۔ فوج تو چاند بھی مانگ سکتی ہے مگر ظاہر ہے کہ آپ اس کی ہر بات نہیں مان سکتے، ہر فرمائش پوری نہیں کرسکتے۔

٭ کیا آپ اس بات کو مانتے ہیں کہ ایٹمی ہتھیاروں کی بدولت ہی بھارت سے چوتھی، آل آؤٹ جنگ کو ٹالنا ممکن ہوسکا ہے؟

اصغر خان: میرا خیال یہ ہے کہ بھارت نے کبھی پاکستان کو تسخیر کرنے کا ارادہ ظاہر نہیں کیا۔ میں ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف رہا ہوں۔ آج ہمارے پاس اس قدر ایٹمی ہتھیار ہیں کہ زمین پر زندگی کی ہر شکل کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ یہ ایٹمی ہتھیار کس کام کے ہیں؟ کون ہم پر حملہ کرنے آ رہا ہے؟

٭ مسلح افواج میں انقلابی عناصر سے متعلق رپورٹس کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

اصغر خان: میرے نزدیک یہ ناگزیر سی بات ہے۔ جب پورے ملک میں ایک رجحان پایا جاتا ہے تو فوج میں بھی اس کا پایا جانا کوئی حیرت انگیز امر نہیں۔

٭ اسامہ بن لادن کو ایک آپریشن کے دوران آپ کے آبائی شہر ایبٹ آباد میں قتل کیا گیا۔ اس پر آپ کا رد عمل کیا تھا؟

اصغر خان: مجھے بہت حیرت ہوئی۔ میرا خیال تھا کہ شاید کسی کو بھی معلوم نہ ہوگا مگر کسی نہ کسی طور امریکیوں کو معلوم ہوگیا۔ اسامہ بن لادن ایک کنٹونمنٹ ایریا میں پانچ چھ سال سے قیام پذیر تھا اور کسی کو معلوم نہ تھا۔ یہ تو نا اہلی کی انتہا ہے۔

٭ ۱۹۷۷ء میں آپ نے مسلح افواج کے نام ایک کھلا خط لکھا جس کے بعد جنرل ضیاء الحق نے سویلین حکومت کو ختم کرکے مارشل لاء نافذ کیا۔ آپ جنرل ضیاء الحق کے زمانے کو کس طرح دیکھتے ہیں؟

اصغر خان: وہ ایک مکار آدمی تھا۔ اس نے ہمیں ایک ایسی صورت حال سے دوچار کیا جس کے نتائج ہم اب تک بھگت رہے ہیں۔ میرا اشارہ انتہا پسندی کی طرف ہے۔ ہم نے افغانستان میں اپنے آپ کو ملوث کیا جبکہ ایسا کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی کیونکہ افغانستان ہمارا معاملہ ہی نہ تھا۔ اگر آپ ہزاروں مدارس پر نظر دوڑائیے تو اندازہ ہوگا کہ جنرل ضیاء کا متعارف کرایا ہوا تعلیمی نظام اب تک برقرار ہے۔

٭ جنرل پرویز مشرف کے دور کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟

اصغر خان: میری جب پرویز مشرف سے پہلی ملاقات ہوئی تو میں نے کرپٹ سیاست دانوں کے احتساب کے بارے میں چلائی جانے والی مہم کا ذکر کیا اور بتایا کہ چند انتہائی کرپٹ عناصر کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ وہ چپ ہوگئے۔ میں سمجھا کہ شاید وہ کچھ بولنے کی تیاری کر رہے ہیں مگر انہوں نے کہا کہ آپ بولتے رہیے، میں نوٹس لے رہا ہوں۔ دو سال بعد میرے بیٹے نے ان کی حکومت سے استعفیٰ دے دیا۔ اس پر انہوں نے مجھے چائے کے لیے بلایا۔ میں جب واپس جانے لگا تو انہوں نے احتساب والی بات یاد دلائی اور بتایا کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ چودھری برادران بھی کرپشن میں ملوث رہے ہیں۔ ایک فائل دی گئی مگر اس میں تو کوئی بھی ثبوت نہ تھا۔ میں نے پرویز مشرف سے کہا کہ شواہد کا مدار اس بات پر ہے کہ فائل تیار کون کر رہا ہے۔ پرویز مشرف نے اچھے تصورات کے ساتھ ابتدا کی تھی اور لوگ مجموعی طور پر انہیں پسند کرتے تھے۔ لوگوں کو امید تھی کہ وہ کچھ اچھا کریں گے اور معاملات کو بہتر بنائیں گے مگر وہ بھی اسی پرانے جال میں پھنس گئے اور اصولوں پر سمجھوتہ کرلیا۔ اس کے بعد وہ بھی دوسرے تمام لوگوں جیسے ہی ہوگئے۔

٭ کیا آپ کو امید ہے کہ پاکستان موجودہ بحران سے بخوبی باہر آ جائے گا؟

اصغر خان: جب ذوالفقار علی بھٹو نے سیاست کی ابتداء کی تو مجھ سے بھی رابطہ کیا تھا اور کہا تھا کہ میں ان کے ساتھ آؤں۔ میں نے بتایا کہ اب میں ریٹائر ہوچکا ہوں اور سیاست سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ ان کا پروگرام کیا ہے۔ وہ ہنس کر بولے کہ عوام کو بے وقوف بنانا ہے اور میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ عوام کو بے وقوف کس طور بنایا جاتا ہے۔ اس کے بعد بیس سال تک انہوں نے یہی کیا۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں اس خیال ہی سے خوفزدہ ہوں کہ سیاست کے نام پر عوام کو بے وقوف بنایا جائے۔ میں نے انہیں بھی باز رہنے کی تلقین کی۔ پاکستان کے لوگ بہت سادہ لوح ہیں، بھولے ہیں۔ اگر کوئی تبدیلی آنی ہے تو شاید سو یا دو سو سال میں آئے۔ ہم ایک قوم کی حیثیت سے اتنی طویل مدت تک جی پائیں گے یا نہیں، کچھ کہا نہیں جاسکتا۔

(بشکریہ: ’’نیوز ویک پاکستان‘‘۔ ۱۵ ؍جولائی ۲۰۱۱ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*