Abd Add
 

ارب ڈالر کی ریفائنری

National oil companies have been eyeing Indian refinery assets. Saudi Aramco plans to acquire the 1.24 million bpd Jamnagar refinery (pictured) in Gujarat.Courtesy: Rajan Chaughule.

سعودی آرامکو اور ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی (ایڈنوک) نے مل کر بھارت کی بڑی مارکیٹ سے مستفید ہونے کا جو منصوبہ تیار کیا تھا، وہ اب لاگت میں غیر معمولی اضافے کی زَد میں ہے۔ ابتدائی تخمینہ ۴۴؍ارب ڈالر کا تھا، اب لاگت کا تخمینہ ۷۰؍ارب ڈالر ہے! لاگت میں ۵۹ فیصد اضافے نے تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے شدید پریشانی کا سامان کیا ہے۔ سعودی آرامکو اور ایڈنوک نے مل کر بھارت کی مغربی ریاست مہاراشٹر میں رتنا گری کے مقام پر ریفائنری پراجیکٹ لگانے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ اب مقام تبدیل کردیا گیا ہے۔ رتناگری کے بجائے اب ریفائنری ممبئی سے ۱۰۰ کلومیٹر دور رائے گڑھ کے مقام پر قائم کی جائے گی۔ ایک بڑا مسئلہ بہت بڑے قطعۂ اراضی کے حصول کا بھی ہے۔ اگست میں مکیش امبانی کی قیادت میں قائم ریلائنس گروپ نے تیل اور کیمیکلز کے سیکٹر کے اپنے ۲۰ فیصد شیئرز سعودی آرامکو کو فروخت کردیے۔ اس پراجیکٹ کے لیے نئی حتمی تاریخ ۲۰۲۵ء کی دی گئی ہے۔

چند ماہ قبل سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر یمن کے حوثی باغیوں کے حملوں کے باعث بنیادی ڈھانچے کو غیر معمولی نقصان پہنچا تھا۔ سعودی عرب میں تیل کی پیداوار متاثر ہوئی تو تیل کی عالمی منڈی پر بھی شدید منفی اثرات مرتب ہوئے۔ تب سعودی قیادت نے فیصلہ کیا کہ بھارت میں ایک بڑی ریفائنری لگائی جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی ناخوشگوار صورتِ حال کے منفی اثرات سے بچا جاسکے۔

سعودی آرامکو سرکاری ادارہ ہے جو ملک کی تیل کی آمدن کا معاملہ دیکھتا ہے۔ سپریم کونسل فار سعودی آرامکو معاملات کی نگراں ہے۔ اس ادارے کی باگ ڈور سعودی شاہی خاندان کے ہاتھ میں ہے۔ دنیا میں تیل کے سب سے بڑے ذخائر سعودی عرب میں ہیں اور ساتویں بڑے ذخائر پر سعوی آرامکو متصرف ہے۔ سعودی آرامکو اور ایڈنوک نے گزشتہ برس جون میں ایک معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت بھارت میں ’’رتناگری ریفائنری اینڈ پٹرو کیمیکلز لمٹیڈ‘‘ کے نام سے پراجیکٹ شروع کیا جانا تھا۔ اس منصوبے میں ۵۰ فیصد حصص سعودی آرامکو اور ایڈنوک کے ہوں گے جبکہ باقی ۵۰ فیصد انڈین آئل کارپوریشن، بھارت پٹرولیم اور ہندوستان پٹرولیم پر مشتمل کنسورشیم کے ہوں گے۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے حال ہی میں متحدہ عرب امارات کے دورے میں اس منصوبے کے حوالے مشترکہ اقتصادی کونسل کے تحت بات چیت کی تھی۔

Leave a comment

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.