مولانا ابوالکلام محمد یوسف۔ حیات و خدمات

معروف اسلامی اسکالر، مصنف، سول سوسائٹی کے رہنما، سابق وزیر، ممبر قومی اسمبلی اور بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے نائب امیر مولانا ابوالکلام محمد یوسف اتوار ۹ فروری ۲۰۱۴ء کو بنگلہ بندھو شیخ مجیب میڈیکل یونیورسٹی اسپتال میں دورانِ علاج اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ وہ ۱۲؍مئی ۲۰۱۳ء سے زیرِ حراست تھے۔

وہ ایک جیّد عالمِ دین اور محدث تھے۔ انہوں نے حدیث میں ایم اے کا امتحان نمایاں پوزیشن سے پاس کیا۔ دینی و تدریسی اور معاشرے میں انصاف کے لیے کی گئی اپنی کوششوں کی وجہ سے اندرون و بیرون ملک ممتاز مقام رکھتے تھے۔ انہوں نے جنوبی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا، مشرق وسطیٰ سمیت امریکا اور یورپ کی بنگلہ دیشی کمیونٹیز کی کئی تعلیمی کانفرنسوں میں بنگلہ دیش کی نمائندگی کی۔ وہ تیس سال سے زائد بنگلہ دیش کسان پارٹی کے چیئرمین اور ساٹھ سال سے زائد عرصہ بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما رہے۔

ذاتی زندگی اور تعلیم

مولانا ابوالکلام محمد یوسف ۲ فروری ۱۹۲۶ء کو ضلع باگرہاٹ کے گائوں راجیر کے ایک معزز دینی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے گائوں کے اسکول میں حاصل کی۔ بعد ازاں رائندا کے ایک اسکول سے پرائمری کا امتحان پاس کیا۔ والدہ کی خصوصی حوصلہ افزائی کے نتیجے میں باریسال کے گالوا مدرسے میں ثانوی تعلیم کے حصول کے لیے داخلہ لیا، جس کے لیے انہیں رائندا سے بھنڈاریا تک کا سفر پانی کے جہاز سے طے کرنا پڑتا تھا۔ اس کے بعد سرسینا عالیہ مدرسہ اور اَمٹالی مدرسہ میں داخلہ لیا اور تفسیر، حدیث اور نحو و صَرف کی تعلیم کا آغاز کر دیا۔

مولانا یوسف نے گریجویشن اور ماسٹرز کا امتحان سرکاری عالیہ مدرسہ ڈھاکا سے امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔ ۱۹۵۰ء کے فاضل (آنرز) کے امتحان میں مشرقی پاکستان مدرسہ بورڈ میں پہلی پوزیشن حاصل کی، جس کے نتیجے میں مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے سرکاری وظیفہ مل گیا۔ اسلامیات میں ماسٹرز کرنے کے بعد ۱۹۵۲ء میں درجۂ کامل کا امتحان پاس کیا اور ممتاز المحدثین ہوگئے۔ یہ بنگلہ دیش میں حدیث کے اسکالرز کے لیے سب سے آخری درجہ ہے۔ مولانا یوسف کئی سال تک ملک کے بیشتر مدارس میں تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے، جبکہ کُھلنا مدرسہ عالیہ اور مدرسہ ٹِکی کٹا مٹھ باڑیا (باریسال) میں ہیڈ ماسٹر بھی رہے۔ آپ ’’القرآن: کیا اور کیوں؟‘‘ اور ’’انسانی زندگی۔ حدیث کی روشنی میں‘‘ سمیت کئی علمی کتابوں کے مصنف ہیں۔

مولانا یوسف کی شادی ۱۹۴۹ء میں ہوئی، آپ کی پانچ بیٹیاں، تین بیٹے اور چوبیس پوتے پوتیاں، نواسے نواسیاں ہیں۔ سب کے سب مولانا یوسف کے درس و تدریس اور علم دوستی سے متاثر ہیں اور دنیا کی معروف درسگاہوں سے فارغ التحصیل ہیں۔

بنگلہ دیش کسان ویلفیئر سوسائٹی کی قیادت

مولانا ابوالکلام محمد یوسف نے اپنا پیشہ وارانہ کیریئر ’’بنگلہ دیش کسان ویلفیئر سوسائٹی‘‘ کے لیے وقف کر دیا۔ مولانا یوسف نے ۱۹۷۷ء میں سوسائٹی کی بنیاد ایک غیر سرکاری، غیر سیاسی اور غیر منافع بخش سماجی بہبود کی تنظیم کے طور پر رکھی۔ سوسائٹی نے نچلی سطح پر کسانوں کے مفادات اور مطالبات کی نمائندگی کرنے کی کوشش کی۔ یہ سوسائٹی پورے بنگلہ دیش میں کسانوں کی جانی پہچانی این جی او ہے۔ ملک کے تمام (۶۴) اضلاع میں سوسائٹی کی شاخیں، جبکہ ذیلی اضلاع میں ذیلی شاخوں سمیت کئی لاکھ ممبران ہیں اور ملک بھر میں لاکھوں افراد سوسائٹی کی خدمات سے مستفید ہو رہے ہیں۔

بنگلہ دیش جماعت اسلامی میں ذمہ داریاں

مولانا ابوالکلام محمد یوسف ۱۹۵۲ء میں جماعت اسلامی میں شامل ہوئے۔ بنگلہ دیش کے قیام سے قبل (۱۹۵۶ء تا اکتوبر ۱۹۵۸ء) جب پاکستان میں مارشل لا کے نتیجے میں سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد تھی، مولانا یوسف جماعت اسلامی کُھلنا کے امیر رہے۔ مولانا یوسف نے ایوب خان کے مارشل لا کے خلاف پُرامن احتجاجی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ بالآخر جب مارشل لا ختم ہوا اور جماعت کی علاقائی سطح پر ازسرنو تنظیم سازی کی گئی تو مولانا یوسف کو جماعت اسلامی کے مشرقی پاکستان ڈویژن کا نائب امیر مقرر کر دیا گیا، جہاں وہ قیامِ بنگلہ دیش تک ذمہ داری نبھاتے رہے۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی قیادت میں ۱۹۶۷ء سے ۱۹۷۱ء تک مولانا یوسف جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے مسلسل تین میقات تک ممبر منتخب ہوئے۔ اُس وقت پروفیسر غلام اعظم جماعت اسلامی مشرقی پاکستان کے امیر جبکہ مولانا عبدالرحیم مرکزی نائب امیر تھے۔

قیامِ بنگلہ دیش کے بعد مولانا عبدالرحیم کی قیادت میں مولانا یوسف ایک میقات کے لیے بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل رہے۔ اس کے بعد پروفیسر غلام اعظم امیر جماعت بنگلہ دیش ہوئے اور مولانا یوسف تین میقات کے لیے ان کے ساتھ بھی سیکرٹری جنرل کے فرائض انجام دیتے رہے۔ بعدازاں مولانا یوسف کو جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا نائب امیر مقرر کیا گیا۔ مولانا مطیع الرحمن نظامی کی امارت کی دوسری میقات میں مولانا یوسف سینئر نائب امیر (Senior Vice Presedent) مقرر کر دیے گئے۔ اسی حیثیت میں وہ تاحیات اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہے۔

قوم کے لیے خدمات

مولانا یوسف کی سیاسی و سماجی خدمات کی تاریخ ساٹھ برس پر محیط ہے۔ اس عرصہ میں انہوں نے اپنے آپ کو خدمت کے جذبے سے سرشار اور دیانتدار سیاستدان ثابت کیا ہے۔ ۱۹۶۲ء کے انتخابات میں کہ جب حکومت پاکستان نے ’’بنیادی جمہوریت‘‘ کا پروگرام متعارف کرایا، جس کے مطابق یونین کونسل کی سطح پر ووٹنگ ہونا تھی، جماعت نے مولانا یوسف کو قومی اسمبلی کے انتخابات کے لیے کُھلنا اور باریسال ضلع سے اپنا امیدوار نامزد کیا۔ انہوں نے عالیہ مدرسہ سے رخصت لی اور قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوگئے جہاں وہ کُھلنا اور باریسال ضلع کی نمائندگی کرتے رہے۔ اُس وقت وہ ۳۵ سال کے کم عمر ترین ممبر قومی اسمبلی تھے۔ پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں مولانا یوسف نے بحالی جمہوریت کے لیے بنائے گئے حزب اختلاف کے کثیر الجماعتی اتحاد میں فعال کردار ادا کیا۔ اس اتحاد میں جماعت اسلامی کے علاوہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور ڈیموکریٹک ایکشن کمیٹی بھی شامل تھی اور شیخ مجیب الرحمن، عطاء الرحمن خان، نوابزادہ نصراللہ خان، چوہدری غلام محمد کے علاوہ کئی رہنما اس تحریک میں شامل تھے۔

مولانا یوسف نے کابینہ اور قومی اسمبلی میں ہمیشہ عوام کے موقف کی ترجمانی کی اور ان کی فلاح و بہبود کی بات کی۔ تقسیم پاکستان سے پہلے پالیسی سازی کے عمل میں انہوں نے مشرقی پاکستان کے لوگوں کے مفاد میں وہاں صنعتیں، شپنگ، مواصلات اور انفرااسٹرکچر اور دیگر منصوبوں کی حوصلہ افزائی کی۔ مولانا یوسف نے ذاتی طور پر Parity Bill کے لیے جنگ لڑی، جس میں آپ کا بنیادی مؤقف تھا کہ مشرقی و مغربی پاکستان کے درمیان سیاسی و معاشی مساوات ہونی چاہیے۔

۱۹۷۱ء میں دیگر چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں مثلاً مسلم لیگ، نظام اسلام، پی ڈی پی، عوامی لیگ کا ایک دھڑا اور چین کی طرف جھکائو رکھنے والی مشرقی پاکستان کمیونسٹ پارٹی سمیت جماعت اسلامی نے بھی متحدہ پاکستان کے سیاسی مؤقف کی تائید کی۔ جماعت اسلامی کو یہ خوف تھا کہ پاکستان کی تقسیم سے ہندوستان کے حوصلے بلند ہو جائیں گے اور بنگلہ دیش اپنی آزادی سے محروم ہو کر ہندوستان کے ماتحت ہو جائے گا۔ یہ بات مخفی نہیں کہ جماعت اسلامی متحدہ پاکستان کی حامی تھی اور اس نے تمام جماعتوں کو جنگ کے بجائے مفاہمت اور مذاکرات کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی۔ تاہم صورتحال بدقسمتی سے خراب ہوتی چلی گئی، لیکن مولانا یوسف نے گروہی جھگڑے، مظالم یا کسی قسم کے چھوٹے بڑے جرم میں حصہ نہیں لیا۔ بہرحال ۱۶؍دسمبر ۱۹۷۱ء کو مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ جماعت اسلامی نے بنگلہ دیش کی آزادی کو فوری تسلیم کیا۔

جماعت اسلامی، کسان ویلفیئر سوسائٹی سمیت تمام سماجی پلیٹ فارم سے مولانا یوسف ملک کے بہتر مفاد میں جدوجہد کرتے رہے۔ ایک بصیرت رکھنے والے رہنما کے طور پر انہوں نے ہمیشہ قوم کی خدمت کے لیے جدید اور اختراعی خیالات پیش کیے اور ان کی حوصلہ افزائی کی، خاص طور پر ضرورت مند اور غریب لوگوں کے لیے۔

(ترجمہ و تلخیص: سید سمیع اﷲ حسینی)

(“Biography of Maulana Abul Kalam Muhammad Yusuf”… “jamaat-e-islami.org”. Feb. 10, 2014)
ب

Leave a comment

Your email address will not be published.


*