برطانیہ میں صومالی باشندوں کی پسماندگی

اگر گپ شپ لگانی ہو تو حجام کی دکان سے بہتر جگہ کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔ شمالی لندن کے علاقے کینٹش ٹاؤن (Kentish Town) میں حسن علی کی دکان کا بھی ایسا ہی معاملہ ہے۔ وہ میکینک بننے کے سپنے آنکھوں میں سجائے صومالیہ سے آیا تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ جو کچھ بھی آپ بہتر طور پر کرسکتے ہیں، ضرور کریں۔ وہ بال کاٹنے میں مہارت رکھتا تھا، اس لیے اس نے حجام کی دکان کھول لی۔ برطانیہ میں سب سے زیادہ پناہ گزین صومالیہ کے ہیں۔ ان میں تعلیم بہت ہی کم ہے۔ بہتر ملازمتوں کا حصول ان کے لیے ناممکن سا ہوگیا ہے۔ برطانیہ میں تارکین وطن کی بڑی تعداد اعلیٰ معیار کی زندگی بسر کر رہی ہے۔ مگر صومالیہ کے لوگ بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ اس کا سبب کیا ہوسکتا ہے؟ کون سی چیز ہے جو انہیں بہتر زندگی بسر کرنے کے قابل ہونے سے روک رہی ہے؟

صومالی باشندوں نے برطانوی سرزمین پر ایک صدی قبل قدم رکھا تھا۔ یہ معاشی تارکین وطن تھے۔ تاجر ملاح کارڈف، لیور پول اور لندن میں سکونت پذیر ہوئے۔ ۱۹۹۰ء کے عشرے میں جب صومالیہ میں خانہ جنگی نقطۂ عروج پر تھی، تب صومالیہ کے بہت سے باشندوں نے برطانیہ میں پناہ لینے کی کوشش کی۔ ۱۹۹۹ء میں ۷۴۹۵ صومالی باشندے برطانیہ آئے۔ اس برس برطانوی سرزمین پر پناہ لینے کی خواہش کے ساتھ آنے والوں کا یہ گیارہ فیصد تھا۔ اس کے بعد سے صومالی باشندوں کی آمد میں کمی واقع ہوتی گئی۔ مگر اس کے باوجود برطانیہ میں صومالی باشندوں کی کمیونٹی چھوٹی نہیں۔ ۲۰۱۱ء کی مردم شماری کے مطابق انگلینڈ اور ویلز کے علاقوں میں ایک لاکھ ایک ہزار ۳۷۰؍ افراد ایسے تھے جو صومالیہ میں پیدا ہوئے تھے۔

برطانیہ میں آباد صومالی باشندوں کا بنیادی مسئلہ افلاس ہے۔ صومالی زبان بولنے والے ۸۰ فیصد طلبہ اسکولوں میں فری لنچ کے لیے کوالیفائی کرتے ہیں۔ یعنی ان کی حالت اتنی خراب ہے کہ ان کے لیے فری لنچ ناگزیر سا ہے۔ شمالی لندن کے علاقے ویلتھم فاریسٹ میں تقریباً چار ہزار صومالی باشندے آباد ہیں۔ ان میں سے ۷۳ فیصد کا گزارا حکومت کی طرف سے ملنے والے وظیفے یا امداد پر ہے۔ برطانیہ میں آباد صومالی باشندوں میں سے کم و بیش نصف مقامی کونسلوں سے امداد پر گزارا کرتے ہیں۔ یہ برطانیہ میں آباد کسی بھی کمیونٹی کے حوالے سے سب سے بڑا تناسب ہے۔ قریب ہی واقع ٹاور ہیملیٹ میں آباد سفید فام برطانوی باشندوں کے مقابلے میں صومالی باشندوں میں کرائے کے معاملے میں پیچھے رہ جانے والوں کی تعداد دگنی ہے۔ صومالی باشندوں کی ابتر مالی حالت کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ سرکاری شعبے پر اس کا زیادہ اثر مرتب ہوتا ہے۔

تعلیم کے معاملے میں کسی بہتری کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔ صومالی باشندوں کی کمیونٹیز کا حال یہ ہے کہ مکانات میں گنجائش سے زیادہ لوگ رہتے ہیں، اس لیے بچوں کو ہوم ورک کرنے کے لیے جگہ نہیں ملتی۔ تعلیم کے میدان میں صومالی بچوں سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ بنگلہ دیش اور نائجیریا سے تعلق رکھنے والوں کے بچے کرتے ہیں۔ انگریزی بولنے میں مہارت نہ رکھنے والے والدین کو زیادہ دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بہتر زندگی بسر کرنے کے قابل ہونے کے لیے ان کی جدوجہد زیادہ محنت طلب ہے۔ والدین محض اس بات سے خوش اور مطمئن ہو رہتے ہیں کہ ان کا بچہ اگلی جماعت میں پہنچ گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ صومالیہ میں اگر بچے جماعت میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہ کریں تو انہیں اگلی جماعت میں پہنچنے کا اہل نہیں سمجھا جاتا۔

روزگار کے معاملے میں بھی صومالی باشندوں کی حالت بہت خراب ہے۔ دس میں سے ایک صومالی باشندہ کل وقتی ملازم ہے۔ بہت سی صومالی خواتین تنہا برطانیہ آئی تھیں۔ ان کے لیے بچوں کی نگہداشت کے ساتھ ساتھ معاشی جدوجہد بہت مشکل کام ہے۔ بیشتر صومالی مرد بے روزگار ہیں اور دن بھر بے مقصد گھومتے ہوئے پان وغیرہ چباتے رہتے ہیں۔ لندن میں صومالی کونسلر اولی عولاد نے منشیات پر پابندی کے حالیہ فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے مگر دوسروں کو یہ ڈر ہے کہ صومالی نسل کے باشندے اگر منشیات کے حصول میں ناکام رہیں گے تو مجرمانہ سرگرمیوں کی طرف لپکیں گے۔

صومالی کمیونٹی کے حوالے سے مذہب ایک ایسا معاملہ ہے جسے کچھ زیادہ ہی بیان کردیا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بیشتر پاکستانیوں اور بنگلہ دیشیوں کی طرح صومالی نوجوان بھی سخت گیر مسلک اختیار کر رہے ہیں۔ امینہ علی آئندہ عام انتخابات میں پارلیمان کی جنرل نشست پر مقابلہ کرنا چاہتی ہے۔ وہ اس بات سے پریشان ہے کہ تین سال کی بچیاں بھی اسکارف لگا رہی ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ لوگ اس قدر رجعت پسند ہوئے بغیر بھی اسلامی تعلیمات و اقدار کا احترام کرسکتے ہیں۔ صحافی اسماعیل آئنشا کا کہنا ہے کہ مذہب صومالی نوجوانوں کو دیگر ممالک کے مسلم نوجوانوں سے جوڑ کر رکھتا ہے۔ چند ایک مسلم نوجوان ہی انقلابی سوچ رکھتے ہیں، تمام نوجوانوں کی یہ سوچ نہیں۔

افلاس اور بے روزگاری صومالیوں کا تعاقب ترک نہیں کرتی۔ دوسرے ممالک میں بھی ان کا یہی حال ہے۔ ۲۰۰۹ء میں ڈنمارک میں صومالی باشندوں میں روزگار کا تناسب سب سے کم تھا۔ ناروے کی حکومت تو اپنے صومالی نسل کے باشندوں کے حالات سے اس قدر پریشان ہے کہ وہ ان کے بارے میں جامع تحقیق کرانا چاہتی ہے تاکہ ان کے مسائل کو احسن طریقے سے حل کیا جاسکے۔ دیگر افریقی سیاہ فام افراد کے مقابلے میں اگر مذہب، عمر اور تجربے کو ایک طرف ہٹا دیا جائے، تب بھی برطانیہ میں صومالی نسل کے باشندوں کی معاشی مشکلات کم نہیں ہوتیں۔ ملازمت کا حصول ان کے لیے آسان نہیں۔ اس کی وجوہ بھی واضح ہیں۔ مگر خیر، برطانیہ میں کوئی بھی کاروبار شروع کرنا نسبتاً آسان ہے۔ افریقی نسل کے لوگوں اور مسلمانوں کی اچھی خاصی آبادی ہونے کے ناطے صومالیوں کی پریشانیاں زیادہ پیچیدہ محسوس نہیں ہونی چاہئیں۔

بہت سے صومالی مستقبل کے حوالے سے پرامید ہیں۔ انہوں نے بچوں کا مستقبل تابناک بنانے کے لیے تعلیم کو ترجیح دینا شروع کردی ہے۔ اب وہ بچوں کے لیے ٹیوٹرز کی خدمات بھی حاصل کرنے لگے ہیں۔ ۲۰۰۰ء میں صرف ایک صومالی لڑکے نے لندن کے علاقے کیمڈن میں ہائی اسکول کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کیا تھا۔ مقامی کونسل اور دیگر اداروں نے مل کر دی صومالی یوتھ ڈیویلپمنٹ ریسورس سینٹر قائم کیا جو بچوں کو تعلیم کے حصول میں معاونت کے ساتھ ساتھ کتابیں بھی فراہم کرتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت ۵۹ فیصد صومالی بچے تعلیم پارہے ہیں۔

دی صومالی یوتھ ڈیویلپمنٹ ریسورس سینٹر سے وابستہ عبدالقادر احمد کا کہنا ہے کہ ان کا ادارہ نوجوانوں کو بہتر زندگی کے لیے تیار کرتا ہے اور ان میں آجر کی حیثیت سے کام کرنے کے جذبے کو بھی پروان چڑھاتا ہے۔ عبدالقادر احمد نوجوانوں کی فیلتھم جیل میں مقید صومالی نوجوانوں کی اصلاح اور بہتر زندگی کے لیے کام کرتے ہیں۔ اس کا اچھا نتیجہ برآمد ہوا ہے۔ اب صومالی نوجوان مجرمانہ ذہنیت کے دائرے سے باہر آتے جارہے ہیں۔ ۲۰۱۱ء کے موسم گرما کے دوران لندن میں ہونے والے نسلی فسادات میں صومالی نوجوانوں کا کردار برائے نام تھا۔

صومالی نوجوانوں کو تعلیم کی طرف مائل کرنے کا بہت اچھا نتیجہ برآمد ہوا ہے۔ چند سال پہلے تک بہت سے صومالی اپنا سامان باندھ کر رکھتے تھے کہ پتا نہیں کب مستقل طور پر صومالیہ واپس جانا پڑے۔ جب انہیں رہنے یا نہ رہنے کا کچھ اندازہ ہی نہیں تھا تو وہ برطانوی معاشرے میں جڑیں گہری کرنے میں بھی دلچسپی نہیں لیتے تھے۔ اور ان کے بچوں کی نظر میں بھی برطانوی سرزمین کچھ خاص پرکشش نہیں تھی۔ صومالیوں کی جو نسل برطانوی سرزمین پر بڑی ہوئی ہے، وہ اپنے آبائی وطن صومالیہ جاکر مستقل طور پر بسنے کے بارے میں سوچتی بھی نہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ انہوں نے اپنی آبائی یعنی قبائلی اور دیہی ثقافت کو بھلا دیا ہے۔ وہ اب بھی صومالیہ پر فخر کرتے ہیں اور برطانیہ میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

(“Britain’s Somalis: The road is long”…”The Economist”. Aug. 17, 2013)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*