عراق میں بش کی ناکامی کے اسباب

بیشتر امریکیوں نے اس بات کا نوٹس نہیں لیا کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کی ۵ ویں برسی کے موقع پر ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے جب صدر بش عراق کی تعریف ایک ’’متحدہ حکومت‘‘ ایک ’’جواں سال مگر پُر امید جمہوریت‘‘ کے الفاظ کے ساتھ کررہے تھے تو اُس وقت عراقی وزیراعظم نور المالکی ایران کے رہنماؤں کے ساتھ بہت ہی خوشگوار گفتگو میں مصروف تھے۔ وہی ایران جسے صدر بش نے بدی کا محور قرار دیا ہے نور المالکی رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای کے ساتھ اپنی ملاقات میں‘ جو کہ ایک نادر اعزاز ہے بیرون ملک سے آئے ہوئے مہمانوں کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران کو اپنا ایک دوست اور برادر ملک قرار دیا۔ یہ بیان بش کی پالیسی کی ناکامی کا مظہر ہے جس کے ذریعہ و ہ تہران کی یورینیم افزودگی کے سلسلے کو نمایاں کرتے ہوئے اسے عالمی برادری سے الگ تھلگ کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی واضح ہوئی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک مختلف جمہوری طرز کے حامل ہوتے ہوئے ایک دوسرے کے سرگرم دوست ہوسکتے ہیں۔ مالکی نے اپنے پیش رو ابراہیم جعفری کے نقش قدم کی پیروی کی ہے جنہوں نے کابینہ کے دس وزراء پر شتمل ایک وفد کی قیادت کرتے ہوئے تہران کا دورہ کیا تھا۔ یہ دورہ ایک سال سے تھوڑا پہلے ہی ہوا تھا۔ جعفری اور مالکی دونوں اسلامی دعوۃ پارٹی کے رہنما ہیں۔ یہ ایک شیعہ مذہبی جماعت ہے جس نے ۸۰ء کی دہائی میں ایران عراق جنگ کے آٹھ سالہ دور میں ایران میں پناہ لی تھی۔

جعفری کے سرکاری دورہ سے پہلے عراق کے وزیر دفاع سعدون الدلیمی نے ایران کا دورہ کیاتھا کہ ایک سنی عرب ہیں۔ دلیمی نے اس موقع پر یہ بیان دیا تھا کہ ’’میں ایران اس لیے آیا ہوں کہ صدام نے جو کچھ ایران کے ساتھ کیا تھا اس کی معافی مانگوں۔ عراق اب اپنے کسی بھی ہمسایہ ملک کے لیے بدامنی اور عدم استحکام کا ذریعہ نہیں ثابت ہوگا۔‘‘ دونوں ہمسایوں کے مابین صلح ودوستی کا عمل مئی ۲۰۰۴ء میں شروع ہوا جب اس وقت کے ایرانی وزیر خارجہ کمال خرازی نے صدام کے بعد بغداد کا دورہ کیا تھااور اپنے ہم منصب عراقی وزیر خارجہ ہوشیار زیباری سے ملاقات کی تھی۔ واضح رہے کہ ہوشیارزیباری ایک کرد رہنما ہیں جنہوں نے ۸ سالہ ایران عراق جنگ میں صدام حسین کے خلاف ایران کے ساتھ تعاون کیا تھا۔ ان دونوں وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدام نے ایران (۱۹۸۰ء) ‘ کویت(۱۹۹۰ء) اور عراقی عوام کی خلاف جارحیت کا ارتکاب کیاتھا ۔

دلیمی نے جب جولائی ۲۰۰۵ء میں ایران کا دورہ کیا اور اپنے ایرانی ہم منصب علی شمخانی سے ملاقات کی تو اس دوران انہوں نے اُسی بنیاد پر تعلقات کی تعمیرات کا کام شروع کیا جسے ہوشیار زیباری اور کمال فرازی نے مل کر رکھی تھی۔ اس موقع پر دلیمی نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں یہ اعلان کیا کہ باہمی فوجی تعاون و دہشت گردی کی خلاف تعاون کے معاہدے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ایران عراق کی نوتشکیل شدہ مسلح افواج کو تربیت دے گا۔ یہ بات بش انتظامیہ کے لیے بہت ہی صدمے کا باعث تھی۔ ایک ایسا ملک جسے امریکا نے بدی کا محور قرار دیا ہے وہ عراق کی تشکیل پذیر فوج جو پینٹاگون کے منصوبے کے مطابق ہے کو تربیت فراہم کرے۔ یہ بات امریکا کے لیے ناقابل قبول تھی۔

عراقی حکومت پر امریکا کے مستقل دباؤ کا یہ نتیجہ نکلاکہ بغداد تہران مجوزہ دفاعی تعاون کا معاہدہ ناکامی سے دوچار ہوگیا۔ اس کے باوجود بھی دونوں ممالک کے مابین قریبی تعلقات کی جو مخفی آرزو تھی وہ جوں کی توں محفوظ رہی۔ درحقیقت اس تمنا کو اس وقت تقویت حاصل ہوئی جب جنوری ۲۰۰۶ء میں عراق کے نئے آئین کے تحت ملک میں عام انتخابات منعقد ہوئے اور جس میں United Iraqi Alliance (UIA) کو برتری حاصل ہوئی جو کہ شیعہ مذہبی جماعتوں کا ایک اتحاد ہے۔ اس جیت سے ۸۰ فیصد نشستیں شیعوں کے لیے مختص ہوگئیں۔ اس سے پہلے UIA نئے آئین میں اس شِق کا اضافہ کروانے میں کامیاب ہوئی تھی کہ ’’کوئی بھی عراقی قانون اسلام کے اصولوں سے متصادم نہیں ہوگا۔‘‘ اس شِق کے الحاق سے عراق نام کے سوا ہر طرح سے ایک اسلامی جمہوریہ ہوگیا۔

اہم بات یہ ہے کہ مالکی کی حکومت جو ۳۰ مئی کو قائم ہوگئی‘ نے سب سے پہلے جس بیرونی رہنما کو خوش آمدید کہا وہ ایران کے وزیر خارجہ منورچہر متقی تھے۔ متقی نے مالکی اور زیباری دونوں سے ملاقات کی۔ زیباری نئی حکومت میں بھی وزیر خارجہ کے منصب پر برقرار ہیں ۔ زیباری نے کہا ’’ہم نہیں چاہتے کہ کسی ایسے ملک میں عام تباہی کے اسلحے (WMD) ہوں جو ہماری دہلیز پر واقع ہے لیکن ایران کا پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ ہمیں اسلامی جمہوریہ کی قیادت کی دانائی پر پورا اعتماد ہے جو اس مسئلے کے حل کے تعلق سے وہ رکھتی ہے۔ ہم اسلامی جمہوریہ کے ساتھ کسی قسم کی کشیدگی کی خلاف ہیں۔‘‘

اگرچہ زیباری کردستان ڈیمو کریٹک پارٹی (KDP) نامی ایک سیکولر پارٹی کے رہنما ہیں لیکن وہ اس حوالے سے بہت زیادہ باشعور ہیں کہ ایران کی عراق کے ساتھ ساڑھے سات سو میل لمبی سرحد ہے اور جس کا ایک حصہ عراقی کردستان سے بھی ملتا ہے جس کی وجہ سے ایران کے لیے یہ ممکن ہوسکا کہ وہ Patriotic Union of Kurdistan کو کردستان کا ایک تہائی علاقہ ایران عراق جنگ کے دوران صدام کی حکومت سے آزاد کرالینے میں مدد دے۔ زیباری اس چاہت کا بھی یکساں ادراک رکھتے ہیں جو دونوں ممالک کی شیعہ برادری کے مابین موجود ہے اور جو صدیوں پرانا رابطہ حوزہ ہائے علمیہ قُم اور نجف کے درمیان قائم رہا ہے۔

یہی وہ اہم تاریخی عمل ہے جس نے ۱۹۹۱ء کی جنگِ خلیج میں جنوبی عراق میں صدام مخالف شیعہ انتفاضہ کی حمایت سے سینئر بش کو روکے رکھا۔ انہیں اس بات کا یقین تھا کہ صدام کی آمریت سے آزاد عراق کے جنوب کی شیعہ اکثریت ایران کے ساتھ اتحاد کرے گی۔ اس طرح تہران کا اثر و رسوخ تیل کی دولت سے مالا مال ممالک سعودی عرب اور کویت کی بادشاہتوں تک پہنچ جائے گا۔ اس کے بالکل برعکس جس کااب انکشاف ہوا کہ موصوف کے بیٹے صدر جارج واکر بش ۲۰۰۳ء تک اس حقیقت کو گرفت میں لانے سے قاصر تھے کہ اسلام درحقیقت شیعہ اور سنی فرقوں میں منقسم ہے۔

بش جونیئر واشنگٹن کے اعلیٰ پالیسی سازوں میں تنہا شخص نہیں ہیں جنہوں نے عراقی تاریخ و ثقافت کے خاموش نکات کو گرفت میں لینے کی کبھی کوئی کوشش نہ کی ہو۔ بلکہ سبھوں نے صدام مخالف جلا وطنوں کے کمزور دعوؤں کو قبول کرلیا کہ عراقی عوام کی اکثریت سیکولر ہے۔ ۱۶۳۸ء تک میسوپوٹا میا جس میں جدید عراق کا عرب خطہ شامل تھا شیعہ صفوی سلطنت اور سنی عثمانیہ سلطنت کے ہاتھوں میں آتا جاتا رہا۔ صفویوں کے دور میں سینوں کو پریشانی کا سامنا رہا۔

۱۶۳۸ء میں سلطنت عثمانیہ نے میسو پوٹامیا کو حتمی طور سے اپنے میں ضم کرلیا تو شیعہ اکثریت پر آفت ٹوٹ پڑی۔ یہ سلسلہ جاری رہا پہلی جنگ عظم کے بعد سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد بھی اور جدید عراق کی تشکیل کے بعد بھی جس میں فاتح برطانیہ نے کرد اکثریتی صوبے موصل کو بھی شامل کردیاتھا اور جس نے بغداد میں ایک سنی بادشاہت بھی قائم کردی تھی۔۱۹۵۶ء میں بادشاہت کا سقوط اور پھر اس کے بعد ۱۹۶۷ء بعثی فوج کی بغاوت نے شیعوں کی تاریخی بے چارگی کو جوں کا تو باقی رکھا۔

دوسری جگہوں کے غلام گروہوں کی طرح شیعوں نے بھی مذہب میں پناہ حاصل کی اوراپنے سنی ہم منصبوں کے مقابلے میں مذہب سے دلچسپی میں زیادہ شدت دکھائی۔ یعنی آمریت کا جبر جیسے ہی ختم ہوا ایک آدمی ایک ووٹ کے اصول پر سختی سے عمل کیا گیا جیسا کہ بش انتظامیہ کا منصوبہ تھا۔ ایسی صورت میں شیعوں کو حکمرانی ہاتھ آئی تھی جن میں بیشتر کا رجحان اسلامی ریاست کے قیام کی جانب تھا۔ جہاں تک ایران کا تعلق ہے تو امریکی پالیسی ساز اس سے بے خبر معلوم ہوتے ہیں کہ تہران کی مذہبی حکومت جسے یہ بہت ناپسند کرتے ہیں حتمی نتیجہ ہے اُن اقدام کا جو واشنگٹن نے وہاں اُٹھائے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد ایران ایک سیکولر اور کثیر الجماعتی جمہوریت کی دہلیز پر کھڑا تھا اور قومی ترقیاتی پالیسیوں پر عمل پیرا ہونے کے لیے آمادہ تھا اور اپنے ملک کے تیل پر خود اپنے کنٹرول کے درپے تھا۔ جب ۱۹۵۱ء میں وزیراعظم مصدق نے پیٹرولیم کی صنعت کو قومیایا تو یہ صنعت Anglo Iranian Oil Company کے زیر انتظام تھی جس کے مالک اور منتظم برطانوی تھے۔ برطانیہ نے امریکا کو اس میں حصہ دار بنالیا تاکہ ایک جمہوری طور سے منتخب حکومت کو گرایاجاسکے۔ جوں ہی CIA نے ذمہ داری سنبھالی MI-6 کے اشتراک سے جو کہ اس مہم میں اس کا جونیئر پارٹنر تھا ۱۹۵۳ء کے اگست میں مصدق کے خلاف بغاوت ہوگئی اور محمد رضا شاہ کے زیر اقتدار ایران میں شاہی آمریت قائم ہوگئی۔

اس کے ربع صدی بعد انقلابی تحریک کے ہاتھوں پھر خاتمہ ہوگیا۔ یہ انقلابی تحریک مختلف سیاسی قوتوں پر مشتمل تھی اور جس کی قیادت مساجد کے ہاتھ میں بھی تھی اور مساجد کا ادارہ وہ واحد ادارہ تھا جسے شاہ جو کہ ایک معمولی شیعہ تھا کنٹرول نہیں کرسکتا تھا۔ اس کے بعد سے شیعہ علماء نے ایک سیاسی و انتظامی نظام قائم کیا جو اسلامی قانون اور عوامی نمائندہ حکومت کے اشتراک سے چلتی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ اسلامی حکومت نہ صرف اپنے شہریوں کی مادی ضروریات کا خیال رکھتی ہے بلکہ اُن کی روحانی ضروریات کو بھی پورا کرتی ہے یہ بات دلیل کی محتاج ہے کہ آیا حقیقت سرکاری دعوئوں سے میل کھاتی ہے۔ یا نہیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ایران نے جمہوریت کا اپنا ماڈل تشکیل دینے کی کوشش کی ہے جس کی جڑیں اُس کی اپنی تاریخ اور ثقافت میں پیوستہ ہیں۔ آخری بات یہ ہے کہ جمہوریت کا صرف خانہ زاد ماڈل ہی مشرق وسطیٰ کے ممالک میں اپنی جڑیں مضبوط کرسکتا ہے نہ کہ Jaffersonian ماڈل جسے امریکا نے تھوپا ہو۔ ۱۹۵۳ء میں ایران میں امریکی مداخلت اور ۵۰ سال بعد عراق میں اس کی جارحیت کا نتیجہ امریکی ماڈل کے ایک ناکام ماڈل ہونے کو یقینی ثابت کرتا ہے۔

دلیپ ہیرو عراقی صورتحال کے ایک ماہر تجزیہ نگار ہیں یہ دو کتابوں کے منصف بھی ہیں۔

(i) Secrets and Lies: Operation `Iraqi Freedom` and After
(ii) The Iranian Labyrinth: Journeys Through Theocratic Iran and its Furies.
(بشکریہ: ’’ڈیلی ٹائمز‘‘ کراچی۔ ۲۵ ستمبر ۲۰۰۶ء)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*