Abd Add
 

کیلی فورنیا میں پانی کا بحران

امریکی ریاست کیلی فورنیا میں پانی کا بحران ایسی شدت اختیار کرگیا ہے کہ اب ریاستی حکومت نے چند ایک پابندیاں متعارف کرائی ہیں۔ مقصود یہ ہے کہ ریاست کے تمام باشندے پانی کے معاملے میں پریشانی سے دوچار نہ ہوں اور بہتر انداز سے زندگی بسر کرتے رہیں۔ کیلیفورنیا میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی پابندیاں ہیں۔

کیلی فورنیا میں خشک سالی کے باعث لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ پانی کی یومیہ دستیاب مقدار میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے۔ ایسے میں ریاستی حکومت کے لیے ناگزیر ہوگیا تھا کہ چند ایک ایسی پابندیاں متعارف کرائے کہ جن کے ذریعے معاملات کو درست کرنے کی راہ ہموار ہو۔ جب سے باضابطہ ریکارڈ رکھا جارہا ہے، تب سے اب تک کا یہ شدید ترین آبی بحران ہے۔ ریاستی حکومت کے لیے یہ وقت بہت سی مشکلات سے عبارت ہے۔

کیلی فورنیا کے گورنر جیری براؤن نے آبی بحران سے نمٹنے کے سلسلے میں پابندیوں کا اعلان سیئرا نیواڈا کی ایک خشک پہاڑی پر کیا جو عام طور پر برف سے ڈھکی رہتی ہے۔ اس کا مقصد یہ دکھانا تھا کہ بحران اتنا شدید ہے کہ جو پہاڑ برف سے ڈھکے رہتے تھے، وہ بھی اب خشک پڑے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ برف ہوگی ہی نہیں تو گرمیوں میں پگھلے گا کیا؟ یعنی گرمیوں میں وہ پانی دستیاب نہیں ہوگا جو برف کے پگھلنے سے دریاؤں، جھیلوں اور آبشاروں میں پایا جاتا ہے۔ جس علاقے میں پانچ فٹ تک برف ہونی چاہیے تھی، وہاں گورنر جیری براؤن اور ان کے ساتھی خشک زمین پر کھڑے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ چونکہ تاریخی نوعیت کی خشک سالی ہے، اس لیے اِس سے نپٹنے کے لیے اقدامات بھی ویسے ہی ہونے چاہئیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ کیلیفورنیا کے باشندے پانی کے استعمال کے حوالے سے عائد کی جانے والی پابندیوں کا احترام کریں۔

گورنر جیری براؤن نے جو انتظامی حکم نامہ جاری کیا ہے، اُس کے تحت ریاست کے شہری اور دیہی علاقوں میں چند اقدامات کے ذریعے لوگوں کو دیے جانے والے پانی میں ۲۵ فیصد کمی کی جائے گی، جو مرحلہ وار ہوگی۔ لوگوں کو پانی کے استعمال میں بچت کے حوالے سے مشورے بھی دیے جارہے ہیں، تاکہ وہ روزانہ دیے جانے والے پانی سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہوں۔ جیری براؤن کا کہنا ہے کہ یہ بہت مشکل گھڑی ہے۔ ایسے میں ریاست کے تمام باشندوں کو پانی کے استعمال کے معاملے میں انتہائی محتاط رہنا ہے اور اعلیٰ شعور کا مظاہرہ کرنا ہے۔ گورنر نے جن اقدامات کا اعلان کیا ہے، اُن کے ذریعے پانی کے موثر ترین استعمال کے حوالے سے ریاستی باشندوں کی رہنمائی کی جائے گی۔ ساتھ ہی ایسی ٹیکنالوجیز کے فروغ کی کوشش کی جائے گی جو شدید خشک سالی کے دور میں بھی بہترین انداز سے کارکردگی کا مظاہرہ کرسکیں۔

کیلی فورنیا میں پانی کی فراہمی اور کنٹرول کے حوالے سے قائم دی اسٹیٹ واٹر ریسورسز کنٹرول بورڈ کو یہ ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ پانی کے مفید ترین استعمال کو یقینی بنائے۔ یہ بورڈ ایسی حکمت عملی تیار کرے گا جس کی مدد سے ریاست کے باشندے پانی کے استعمال کے حوالے سے اپنی سوچ بدل سکیں گے اور جو پانی یومیہ بنیاد پر دستیاب ہوگا، اس سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہوسکیں گے۔

کیلی فورنیا میں ہزاروں مکانات خاصے بڑے باغ یا لان کے ساتھ ہیں۔ انہیں یومیہ بنیاد پر اچھا خاصا پانی درکار ہوتا ہے۔ ریاستی حکومت چاہتی ہے کہ لوگ اپنے لان یا تو چھوٹے کرلیں یا پھر کوئی ایسی تدبیر اپنائیں کہ اِن لانوں کو پانی کی کم سے کم مقدار مطلوب ہو۔ اس حوالے سے ماہرین سے مشاورت بھی کی جارہی ہے۔ باغبانی کے ماہرین کم سے کم پانی دے کر بہترین نتائج حاصل کرنے سے متعلق مشوروں سے نواز رہے ہیں۔ کیلی فورنیا میں مکانات کے لانز کا مجموعی رقبہ ۴۶ لاکھ مربع میٹر سے زیادہ ہے۔

ریاستی حکومت نے پانی کے بحران سے بہترین انداز میں نپٹنے کے لیے شہریوں سے بھرپور تعاون حاصل کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ جن لوگوں کے پاس زیادہ پانی استعمال کرنے والے آلات ہیں، اُن سے کہا جارہا ہے کہ وہ جدید ترین آلات استعمال کریں، تاکہ پانی کے استعمال میں غیر معمولی کمی لائی جاسکے۔ اس مقصد کے لیے ریاستی حکومت مالی تعاون بھی فراہم کر رہی ہے۔ لوگ اپنے پرانے آلات ہٹاکر ایسے نئے آلات خرید رہے ہیں جو پانی بہت کم خرچ کرتے ہیں اور کارکردگی بھی بہتر ہے۔

ریاست بھر میں جامعات کے کیمپس، گالف کورسوں، قبرستانوں اور دوسرے ایسے بڑے رقبوں کا جائزہ لیا جارہا ہے جو بڑے پیمانے پر پانی استعمال کرتے ہیں۔ اس صورت میں پانی کے استعمال میں بچت کو موثر بنانے میں مدد ملے گی۔

نئے مکانات میں رہنے والوں کو پانی کے ایسے استعمال سے روکا جائے گا جس میں استفادہ کم ہو اور خرچ زیادہ۔ کوشش یہ ہے کہ ایسا کوئی بھی نظام اپنایا ہی نہ جائے جس کے نتیجے میں پانی کا استعمال تو بڑھے مگر اس سے استفادہ کم سے کم ہو۔ اس معاملے میں ریاست متعلقہ ماہرین سے مشاورت کر رہی ہے۔ کوشش یہ ہے کہ بحرانی کیفیت میں بھی لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت ملے اور وہ کم پانی سے بھی اپنی زندگی کا معیار بلند یا برقرار رکھنے میں کامیاب ہوں۔

واضح رہے کہ کیلی فورنیا میں پانی کا بحران چار سال سے ہے۔ شدید خشک سالی نے ریاستی مشینری کو کئی ایسے اقدامات کرنے پر مجبور کردیا ہے جن کا چند برس پہلے تک تصور بھی نہیں تھا۔ خشک سالی نے ریاست میں زرعی شعبے کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے جس کے نتیجے میں کئی فصلیں متاثر ہوئی ہیں۔ بہت سی سبزیوں اور پھلوں کی پیداوار غیر معمولی حد تک کم ہوگئی ہے۔

ماحول سے متعلق امور کے ماہرین نے ریاستی حکومت کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات کا خیر مقدم کیا ہے، تاہم ساتھ ہی انہوں نے خبردار بھی کیا ہے کہ نتائج آنے تک مزید اقدامات سے گریز کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست میں خشک سالی کا دور اب تین چار سال سے چل رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں زمین کی اوپری تہ میں چند ایک ایسی تبدیلیاں بھی رونما ہوئی ہیں جن کے باعث ریاستی مشینری کو مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ زرعی زمین کو ممکنہ طور پر پہلے سے زیادہ پانی درکار ہے۔

کیلی فورنیا کی یونیورسٹی آف ریڈ لینڈز میں مطالعۂ ماحولیات سے متعلق شعبے کے پروفیسر ٹموتھی فرینز کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت کے اقدامات بہت اچھے ہیں، مگر ابھی پورے یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ اِن کے نتائج کیا برآمد ہوں گے۔ بہت سے اقدامات خوش نُما دکھائی دیتے ہیں مگر نتائج سخت ناپسندیدہ نوعیت کے برآمد ہوتے ہیں۔ پروفیسر ٹموتھی فرینز کا کہنا ہے کہ شہری علاقوں میں پانی کی راشننگ نافذ کرنا اور لوگوں کو پانی کی بچت کی طرف مائل کرنا مستحسن اقدام ہے، مگر دیکھنا یہ ہے کہ لوگوں کو یومیہ بنیاد پر جو پانی میسر ہوگا، وہ اُسے بہترین اور موزوں ترین انداز سے استعمال کر بھی سکیں گے یا نہیں۔ لوگوں کی عادات کو راتوں رات تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔

پروفیسر فرینز کا کہنا ہے کہ گورنر جیری براؤن نے شہریوں کو پانی کی مقدار کم دینے کے حوالے سے تو کئی اقدامات کیے ہیں اور وضاحتیں بھی دی ہیں، مگر یہ نہیں بتایا کہ پانی کی غیرمعمولی مقدار استعمال کرنے والی آئل انڈسٹری کے لیے کیا اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ شہری تو کسی نہ کسی طور پانی کے استعمال میں کمی کی بات قبول کرلیں گے، سوال صنعتی اکائیوں کا ہے۔ صنعت کاروں کو بھی پیداواری عمل میں پانی کی کم سے کم مقدار استعمال کرنے پر مائل کرنا ہوگا۔ گورنر جیری براؤن اِس حوالے سے خاموش ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اب تک ایسی کوئی شکایت سامنے نہیں آئی۔ شہریوں نے خشک سالی کا سامنا کرنے سے متعلق ریاستی اقدامات کا مجموعی طور پر خیر مقدم کیا ہے۔ شدید خشک سالی نے کیلی فورنیا میں بہت کچھ بدل کر رکھ دیا ہے۔ جن دریاؤں میں پانی ہی پانی رہا کرتا تھا، وہ سوکھ گئے ہیں۔ بہت سی بڑی جھیلیں بھی اب سُوکھنے کی منزل میں ہیں۔ جن پہاڑی چوٹیوں پر برف ہی برف رہا کرتی تھی، اُن پر اب گھاس بھی کم کم دکھائی دیتی ہے۔ ریاستی حکومت کے لیے یہ سب کچھ بہت پریشان کن ہے کیونکہ زرعی شعبہ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ ریاست کو اِس صورت حال نے چند برس میں کئی ارب ڈالر کے نقصان سے دوچار کیا ہے۔ ریاستی حکومت چاہتی ہے کہ لوگوں کا معاشی نقصان کم سے کم ہو۔ ساتھ ہی زراعت اور صنعت کو بھی بچانا ہے۔ صنعتی ڈھانچے کو بچانے کے لیے بہت سوچ سمجھ کر اقدامات کرنے ہوں گے۔ گورنر جیری براؤن بھی اِس بات کو سمجھتے ہیں۔

کیلی فورنیا کے بہت سے علاقوں میں پہاڑوں پر برف جمنے سے گرمیوں میں پانی کی اضافی مقدار دریاؤں میں آتی ہے۔ میدانی علاقوں میں بھی برف باری سے زمین کو پانی کی مطلوبہ مقدار ملتی رہتی ہے۔ یوں زرعی شعبے کے لیے زیادہ الجھنیں پیدا نہیں ہوتیں۔ کیلی فورنیا ڈپارٹمنٹ آف واٹر ریسورسز کے ڈائریکٹر مارک کووِن کا کہنا ہے کہ اِس سال برف باری اِس قدر کم ہوئی ہے کہ گرمیوں میں پہاڑوں سے حاصل ہونے والا پانی صفر کے مساوی ہوگا۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اب ریاستی باشندوں کو پانی کی بچت سے متعلق شعور پیدا کرنا ہی پڑے گا کیونکہ پانی کا بحران طُول پکڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ برف باری گھٹتی جارہی ہے۔ پہاڑوں پر برف برائے نام بھی نہیں۔ اس کے نتیجے میں دریاؤں میں بھی اضافی پانی نہیں آئے گا۔ یہ صورت حال شہریوں کے لیے انتہائی پریشان کن ثابت ہوسکتی ہے۔ محکمے کے ترجمان ڈف کارلسن کا کہنا ہے کہ صورت حال انتہائی پریشان کن ہے۔ شہریوں کو کسی بھی کیفیت کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ جس علاقے میں ہر طرف برف ہی برف ہوا کرتی تھی، وہ اب خشک پڑا ہے۔ ۱۹۴۱ء کے بعد سے یہ ریاست کے لیے سنگین ترین آبی بحران ہے۔ برف باری میں کمی سے معاملات مزید الجھ گئے ہیں۔ ڈف کارلسن نے مزید کہا کہ برف سے ڈھکے رہنے والے علاقوں کو دیکھیے تو مایوسی ہوتی ہے۔ ایسا تو پہلے کبھی نہیں ہوتا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کیلی فورنیا کے باشندوں کو پانی کی شدید قلت سے نپٹنے کے لیے زیادہ سے زیادہ تیاری کرنی ہوگی۔

“California imposes historic water restrictions over drought crisis”.
(Daily “The News” Karachi. April 2, 2015)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*