مودی کو وزیراعظم بننے سے کون روک سکے گا؟

بھارتیہ جنتا پارٹی کے مرکزی رہنما اور گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کا امکان ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اُنہیں وزیراعظم بننا بھی چاہیے۔

اب سوال یہ ہے کہ کوئی ہے جو مودی کو وزیراعظم بننے سے روک سکے؟

بھارت کے کم و بیش ۸۵ کروڑ باشندے پانچ ہفتوں کے دوران نو مراحل میں نئی حکومت منتخب کرنے کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ عالمی تاریخ میں یہ سب سے بڑا جمہوری (انتخابی) عمل ہے۔

بھارت گوناگوں مسائل کی آماجگاہ ہے۔ قیادت کا بحران غیر معمولی شدت اختیار کر گیا ہے۔ کوئی بھی سیاسی رہنما ایسا نہیں جو ملک کو نئی راہ پر لے جاسکے، استحکام سے ہمکنار کرسکے۔ کانگریس نے دس سال تک مخلوط حکومت چلائی ہے مگر اس کی کارکردگی بھی افسوسناک رہی ہے۔ کانگریس کے دس سالہ دور میں شرحِ نمو نصف ہو کر پانچ فیصد رہ گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں معیشت کا پہیہ مطلوبہ تیزی سے گھمایا نہیں جاسکا۔ ہر سال بھارت کی جاب مارکیٹ میں لاکھوں نوجوانوں کا اضافہ ہو جاتا ہے مگر ان تمام نوجوانوں کو ملازمت فراہم کرنا حکومت کے بس کی بات ہے نہ نجی شعبے کی۔ اس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا ہے کہ بھارت میں بے روزگاری بڑھتی ہی جارہی ہے۔ اصلاحات کے نام پر ہوتا بہت کچھ ہے مگر نتیجہ کچھ نہیں نکلتا۔ تیزی سے پنپتے شہروں اور دور افتادہ علاقوں کو سڑک ملتی ہے نہ بجلی۔ تمام بچوں کے لیے اسکول کی تعلیم اب تک ممکن نہیں بنائی جاسکی۔ سیاست اور سرکاری افسران و ملازمین ہر سال کم و بیش ۴؍ارب ڈالر کے مساوی رشوت لیتے ہیں۔ کانگریس کے دس سالہ دور میں سیاست دانوں نے کم و بیش ۱۲؍ارب ڈالر کی رشوت لی۔ کسی بھی بھارتی باشندے سے پوچھیے تو وہ یہی جواب دے گا کہ بھارت میں سیاست کا مطلب ہے کرپشن۔

بھارت میں سیاست جس نوعیت اور شدت کی ہے، وہ نریندر مودی جیسے رہنماؤں کو آگے بڑھنے میں غیرمعمولی معاونت فراہم کرسکتی ہے۔ نریندر مودی نے اپنی محنت سے یہ مقام پایا ہے۔ وہ ریلوے اسٹیشن پر چائے کا اسٹال چلانے والے کے بیٹے ہیں۔ اپنی صلاحیتوں سے وہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں نمایاں ہوئے اور گجرات کے وزیر اعلیٰ کے منصب تک پہنچے۔ دوسری طرف کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور سابق وزیراعظم آں جہانی راجیو گاندھی کے بیٹے راہل گاندھی ہیں۔ کانگریس کے لیے سیاست موروثی معاملہ رہا ہے۔ نہرو خاندان کے لوگ اس طرح وزیراعظم بنتے رہے ہیں جیسے یہ ان کا پیدائشی حق ہو۔ حق یہ ہے کہ راہل گاندھی کو اب تک یہی نہیں معلوم کہ ان کا ذہن کیا کہتا ہے۔ اور تو اور، انہیں یہ بھی اندازہ نہیں کہ انہیں اقتدار چاہیے یا نہیں۔ نریندر مودی نے گجرات کی ریاست کو ایک عشرے سے زائد مدت میں کہیں سے کہیں پہنچا دیا ہے۔ وہ ثابت کرچکے ہیں کہ ان میں معیشت کو چلانے کی بھرپور صلاحیت ہے۔ بھارت کے عوام اس وقت کوئی ایسا لیڈر چاہتے ہیں جو معیشت کو بحال کرنے میں مرکزی اور واضح کردار ادا کرسکے۔ کانگریس کا حکمراں اتحاد اب تک کرپشن کے الزامات کا حامل رہا ہے۔ اس معاملے میں نریندر مودی بہت حد تک بے داغ ہیں۔

مگر خیر، چند خوبیوں کے باوجود نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کی حمایت نہیں کی جاسکتی۔ ان کے دامن پر کئی دوسرے داغ ہیں۔ ۲۰۰۲ء میں گودھرا میں ہندو زائرین کی ٹرین جلائے جانے کے بعد نریندر مودی کی وزارتِ اعلیٰ والے گجرات میں شدید مسلم کش فسادات پھوٹ پڑے۔ اِن فسادات میں ایک ہزار سے زائد مسلمانوں کو انتہائی بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اس دوران احمد آباد اور اس کے نواحی قصبوں اور قریبی شہروں میں بھی موت کا بھیانک رقص جاری رہا۔ بہت سی مسلم خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

نریندر مودی نے ۱۹۹۰ء میں ایودھیا کی بابری مسجد تک ایک مارچ کا انتظام کرنے میں مدد دی تھی۔ دو سال بعد ہندو انتہا پسندوں نے بابری مسجد شہید کردی، جس کے بعد مسلم کش فسادات پھوٹ پڑے اور ان میں کم و بیش ڈھائی ہزار افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ نریندر مودی انتہا پسند ہندو تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے رکن ہیں۔ اپنے سیاسی کیریئر کے ابتدائی دور میں مودی نے خاصی اشتعال انگیز تقاریر کے ذریعے ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف اُکسایا تھا۔ نریندر مودی ۲۰۰۲ء میں گجرات کے وزیراعلیٰ تھے۔ اُن پر مسلم کش فسادات کی اجازت دینے اور بعض مواقع پر اسے بڑھاوا دینے کا بھی الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔

کاروباری طبقہ نریندر مودی کے دفاع میں اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ اس کے پاس دو نکات ہیں۔ پہلا تو یہ کہ اب تک (خاصی خود مختار) سپریم کورٹ سمیت کوئی بھی فورم نریندر مودی پر مسلم کش فسادات میں ملوث ہونے کا الزام ثابت نہیں کرسکا۔ دوسرے یہ کہ اب نریندر مودی بدل چکے ہیں۔ انہوں نے گجرات میں ایسے اقدامات کیے ہیں جن سے ملک اور بیرون ملک سے سرمایہ کاروں نے گجرات اور دیگر مقامات پر سرمایہ کاری کی ہے۔ اس کے نتیجے میں ہندوؤں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے حالات بھی بہتر ہوئے ہیں۔

مگر یہ سب کچھ ایسا سادہ نہیں ہے۔ نریندر مودی کے خلاف اگر کچھ ثابت نہیں کیا جاسکا تو اس کا ایک بنیادی سبب یہ ہے کہ باضابطہ تحقیقات کے آغاز سے قبل ہی تمام اہم اور بنیادی شواہد تلف کیے جاچکے تھے۔ دوسرے یہ کہ نریندر مودی اگر تبدیل ہوچکے ہیں تو وہ مسلمانوں کے قتل عام کے بارے میں اپنا موقف واضح کرکے معافی کی درخواست کرسکتے تھے۔ جب بھی ان سے گجرات کے مسلم کش فسادات کے بارے میں پوچھا گیا، اُنہوں نے سوالات کے جواب دینے سے گریز کیا۔ گزشتہ برس انہوں نے کہا کہ انہیں گجرات میں مسلمانوں کے مارے جانے کا ویسا ہی افسوس ہے جیسا کہ کسی پِلّے کے کار سے کچلے جانے پر ہوگا۔ جب اس بیان پر سخت ردعمل سامنے آیا تو نریندر مودی نے کہا کہ ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ ہندوؤں کو مسلمانوں کی جان و مال کا احساس ہے۔ نریندر مودی کے بیان کو مسلمانوں اور انتہا پسند ہندوؤں نے اپنے اپنے طور پر لیا۔ نریندر مودی نے کسی بھی جلسے میں مسلمانوں کی ٹوپی پہننے سے گریز کیا ہے اور انہوں نے ۲۰۱۳ء میں اترپردیش میں فسادات کی مذمت بھی نہیں کی جس میں مارے جانے والوں میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔

تشدد والی سیاست کو کسی بھی ملک میں پسند نہیں کیا جاتا مگر بھارت میں مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان تشدد کبھی سطح سے بہت نیچے کی چیز نہیں رہا۔ ۱۹۴۷ء میں تقسیمِ ہند کے موقع پر کم و بیش ایک کروڑ بیس لاکھ افراد بے گھر ہوئے تھے اور ان میں سے ہزاروں (ہندو اور مسلمان) موت کے گھاٹ اتار دیے گئے تھے۔ ۲۰۰۲ء سے فرقہ وارانہ تشدد کا گراف گرا ہے، مگر ایسا نہیں ہے کہ یہ لعنت بالکل ختم ہوکر رہ گئی ہے۔ ہر سال اب بھی سیکڑوں انفرادی نوعیت کے واقعات رونما ہوتے ہیں، جن میں ہندو اور مسلمان ایک دوسرے کو فرقہ وارانہ بنیاد پر تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ اترپردیش کے شہر مظفر نگر میں حال ہی میں فرقہ وارانہ کشیدگی عروج پر رہی ہے۔

مسلمانوں کے خدشات دور کرنے کے بجائے نریندر مودی ایسی باتیں کرتے رہے ہیں جن سے مسلمانوں کے دلوں میں ان کے حوالے سے شکوک پروان ہی چڑھتے رہے۔ اس کا ایک بنیادی سبب یہ ہے کہ وہ اینٹی مسلم ووٹ چاہتے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف بات کرکے وہ زیادہ سے زیادہ ہندوؤں کو اپنی طرف کرنا چاہتے ہیں۔ بھارت میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے اہلِ نظر اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ فرقہ وارانہ بنیاد پر پالی جانے والی نفرت سے معاشرے اور ریاست کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ نریندر مودی وزیراعظم بن جائیں اور نئی دہلی میں کیریئر کی نئی اننگ شروع کریں مگر کسی کو اندازہ نہیں کہ وہ پاکستان سے معاملات کو کس طور چلائیں گے یا مسلمانوں کے حوالے سے کیا رویہ اختیار کریں گے۔ کسی کو یہ بھی نہیں معلوم کہ مسلمان ان کے وزیراعظم بننے پر کس نوعیت کا ردعمل ظاہر کریں گے۔

اگر نریندر مودی نے گودھرا میں ہندو زائرین کی ٹرین جلائے جانے کے بعد مسلم کش فسادات کے حوالے سے دکھ کا اظہار کیا ہوتا اور اپنی ذمہ داری کسی حد تک قبول کی ہوتی تو انہیں قابلِ قبول قرار دیا جاسکتا تھا مگر انہوں نے تو ایسا کوئی اشارہ تک نہیں دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس بھی کوئی موثر حکومت قائم کرنے کی پوزیشن میں نہیں، مگر نریندر مودی کے مقابلے میں تو یہ یقینی طور پر اچھا آپشن ہی کہلائے گا۔

اگر کانگریس کامیاب ہو، جس کا امکان کم ہے، تو راہل گاندھی کو چاہیے کہ سیاست کو ایک طرف ہٹا کر جدت کو اپنائیں اور جو لوگ نئے دور کے تقاضوں کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، انہیں آگے آنے اور کھل کر کام کرنے کا موقع دیں۔ بھارت کے ووٹر چاہتے ہیں کہ ملک نئے دور کے تقاضوں کے مطابق کام کرے اور معیشت تیزی سے مستحکم ہو، تاکہ ان کی زندگی کا معیار کچھ تو بلند ہو۔ اگر بھارتیہ جنتا پارٹی کامیاب ہو بھی جاتی ہے، تب بھی کانگریس اور اس کے اتحادیوں کو چاہیے کہ نریندر مودی کے سوا کسی کو وزیراعظم بنانے پر زور دیں۔

اگر نریندر مودی وزیراعظم بن جائیں اور کچھ کر دکھائیں تو ہم اسے بھارت کی خوش نصیبی سمجھیں گے۔ اس وقت معاملہ یہ ہے کہ ریکارڈ ان کے خلاف جارہا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں سے نفرت کی سیڑھی پر قدم رکھ کر بلندی پائی ہے۔ بھارت کو اس وقت نفرت سے پاک سیاست کی ضرورت ہے۔

(“Can anyone stop Narendra Modi?”…
The Economist”. April 5, 2014)

Leave a comment

Your email address will not be published.


*