Abd Add
 

انٹرویوز

اسرائیل کے ساتھ جنگ، حماس کے مفاد میں نہیں!

October 16, 2018 // 0 Comments

حماس کے رہنما نے حال ہی میں یہ بیان جاری کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ہم اب جنگ نہیں چاہتے، عبرانی ڈیلی نیوز پیپر اور ’’لاریپلک‘‘ نے حماس کے رہنما ’’یحییٰ سنوار‘‘ کا جمعہ کو انٹرویو شائع کیا،جس میں انہوں کہا کہ ’’حماس اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے ذریعے غزہ کی سرحد پر سے پابندیاں ختم کرناچاہتی ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنگ کے ذریعے ہم کچھ بھی حاصل نہیں کر سکے‘‘۔ سنوار نے اٹلی کے صحافی فرنسسکا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کے شہری ۲۰۰۷ ء سے پہلے ہی (جب کہ غزہ کی سرحدی پٹی پر پابندی نہیں لگی تھی) اسرائیلی جارحیت کا سامنا کر رہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ حماس قیدیوں کے تبادلے کے لیے [مزید پڑھیے]

لسانی امتیاز اور تفریق، معاشرے کے لیے زہر قاتل ہے!

October 16, 2018 // 1 Comment

میں جب لمز یونیورسٹی میں جسٹس صاحب کے کمرے میں داخل ہوا تو کچھ طلبہ و طالبات بیٹھے تھے اور باہمی گفتگو جاری تھی۔ کمرے کا ظاہری ماحول انتہائی خوشگوار تھا اور باطنی ماحول انتہائی صوفیانہ۔ طلبہ و طالبات جب چلے گئے تو میں نے خواجہ صاحب سے بات کچھ اس انداز سے شروع کی۔ سوال: مجھے بہت خوشی ہوئی یہ دیکھ کر کہ نوجوان نسل آپ کے تجربات و مشاہدات سے فیض یاب ہو رہی ہے، میرا سوال آپ سے یہ ہے کہ قومی زبان اردو کے بارے میں پاکستان کا آئین کیا کہتا ہے؟ جواب: ایسا نہیں ہے کہ میں یہاں بیٹھا ہوں اور علم و فضل کے چشمے بہا رہا ہوں اور اس سے لوگ سیراب ہو رہے ہیں۔ ایسا نہیں ہے، [مزید پڑھیے]

امریکا سے بہتر تعلقات کی اُمید رکھنا حماقت ہے!

October 16, 2018 // 0 Comments

سوال: عمران خان پاکستان کے نئے وزیر اعظم بن گئے ہیں۔حکومت سے باہر ہوتے ہوئے کیا آپ کو لگتا ہے اس سے ملک میں جاری جاگیردارانہ سیاست کا تسلسل ٹوٹے گا؟ جواب: وزیراعظم کے سوا اہم حکومتی عہدوں پر تعینات تقریباََ تمام ہی افراد ماضی میں کسی نہ کسی حکومت کا حصہ رہ چکے ہیں۔ وزیراعظم ان پرانے سیاست دانوں میں گھرے ہوئے ہیں، جو ماضی کی حکمران جماعتوں کے ساتھ رہے ہیں۔ موجودہ کابینہ شروع میں چھوٹی اور فعال تھی۔ لیکن اب کابینہ میں نئے افراد کااضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت نئے نئے کام کر رہی ہے۔ جیسے کہ سرکاری گاڑیوں کی نیلامی کرنا۔ لیکن حکومت کو غیر ملکی وفود کی نقل و حرکت کے لیے گاڑیوں کی ضرورت ہوگی۔ حکومت کی اب تک [مزید پڑھیے]

افغان مسائل اور حل

January 1, 2018 // 0 Comments

گلبدین حکمت یار نے ۱۹۷۴ء میں حزبِ اسلامی کی بنیاد رکھی۔ حزب طویل پابندیوں اور قیادت کی روپوشی کے باوجود آج بھی افغانستان کی ایک اہم اور توانا اسلامی، نظریاتی اور جمہوری جماعت ہے۔ پچھلے دنوں سلیم صافی نے اپنے ٹی وی پروگرام ’’جرگہ‘‘ کے لیے جناب حکمت یار کا انٹرویو لیا، جو ۹ اور ۱۰ دسمبر ۲۰۱۷ء کو ’’جیو نیوز‘‘ پر نشر ہوا۔[مزید پڑھیے]

سلامتی کی تنہا روش۔۔۔ پاکستان ہے اور بس۔۔۔

August 1, 2017 // 0 Comments

الائیڈ نیوز پیپرز کے مشہور نامہ نگار بیورلی نکولز نے ۱۹۴۴ء میں اپنے قیام ہندوستان کے تاثرات Verdict on India کے عنوان سے پیش کیے تھے، اس میں قائداعظم سے ایک تاریخی انٹرویو ہے، جس میں پاکستان کا کیس اس کے بہترین ایڈوکیٹ نے پیش کیا ہے، کتاب کے متعلقہ حصہ کا ترجمہ پیش جارہا ہے۔ ادارہ[مزید پڑھیے]

امریکا تباہی کے راستے پر

June 16, 2017 // 0 Comments

جوہری پھیلاؤ اور ماحول کی تبدیلی موجودہ دور کے انتہائی تشویش ناک مسائل ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی اب تک کی کارکردگی نے اسے ناگہانی صورتحال سے دوچار کردیا ہے۔ ان دونوں مسائل کی سنگینی بڑھتی جارہی ہے۔ ’’ٹروتھ آؤٹ‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے عالمی شہرت یافتہ مفکر نوم چومسکی نے حالیہ مہینوں میں پیش آنے والے چند اہم واقعات (مثلاً شام کی ایئر بیس پر امریکی بمباری اور روس، ایران اور شمالی کوریا سے امریکا کے تناؤ) پر بات کی ہے۔ یہ انٹرویو ڈینیل فالکن نے لیا۔ اس انٹرویو کے اقتباسات پیش خدمت ہیں۔[مزید پڑھیے]

ترکی: صدارتی ترجمان، ابراہیم قالن کا خصوصی انٹرویو

August 1, 2016 // 0 Comments

رپورٹر: جناب ابراھیم قالن ٹی آرٹی ورلڈ کے ون آن ون پروگرام میں خوش آمدید۔ صدر ایردوان ایک طویل عرصے سے ملک میں جمہوریت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والی اور ملکی سلامتی کے لیے خطرہ تشکیل دینے والی ’’متوازی حکومتی ڈھانچے‘‘ کی موجودگی کا کہتے چلے آئے تھے۔ ان معلومات سے آگاہی ہونے کے باوجود یہ کیسے ہوا کہ ملک میں بغاوت کی کوشش کی گئی؟ کیا اس میں خفیہ معلومات کی کمزوری بھی شامل ہے؟ ابراھیم قالن: یہ گروہ ایک طویل عرصے سے ملک میں کارروائیوں میں مصروف تھا۔ خاص کر ۱۷ تا ۲۵ دسمبر کی کارروائی کے بعد انہوں نے قومی خطرے کی ماہیت اختیار کر لی۔ ہم نے اس تاریخ کے بعد سے کئی ایک تدابیر اختیار کیں۔ ان لوگوں [مزید پڑھیے]

مولانا مطیع الرحمن نظامی کا انٹرویو

May 16, 2016 // 0 Comments

مولانا مطیع الرحمن نظامی، اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے مشرقی پاکستان سے پہلے اور آخری ناظمِ اعلیٰ تھے۔ آپ اکتوبر ۱۹۷۱ء میں اسلامی جمعیت طلبہ سے فارغ ہوئے۔ ذیل میں پیش کیا جانے والا انٹرویو پاکستان کے دولخت ہونے کے بعد، جناب سلیم منصور خالد نے لیا۔ جس کے کچھ اجزاء قارئین کے استفادے کے لیے پیش کیے جارہے ہیں۔
[مزید پڑھیے]

ممتاز قادری کیس: قانونی پہلو

March 1, 2016 // 1 Comment

جسٹس (ر) میاں نذیر اختر ایک عشرے سے زیادہ تک لاہور ہائی کورٹ کے جج رہے ہیں۔ اس سے پہلے پچیس سال تک وکالت سے وابستہ رہنے کے ساتھ ساتھ سولہ سال تک قانون کے استاد کے طور پر یونیورسٹی لا کالج میں پڑھاتے رہے۔ ملک کے بڑے نامور وکلاء اور جج حضرات ان کے شاگرد رہ چکے ہیں۔ جسٹس ریٹائرڈ میاں نذیر اختر دو سال پنجاب بیت المال کے امین رہنے کے علاوہ تین سال تک اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن بھی رہے ہیں۔ ممتاز قادری کیس میں پہلے دن سے بطور وکیل منسلک ہیں۔ ممتاز قادری کیس کے حوالے سے ان سے کی گئی گفتگو نذرِ قارئین ہے۔ س: جسٹس صاحب! ممتاز قادری کیس کے حوالے سے عمومی تاثر یہ بنا ہے کہ [مزید پڑھیے]

1 2 3 6