Abd Add
 

انٹرویوز

ہمیں یورپ کا ایک نیا تصور ایجاد کرنا ہو گا!

July 1, 2005 // 0 Comments

نئی لیبر حکمتِ عملی کے معمار Peter Mandelson ٹونی بلیئر کے بہت ہی قابلِ اعتماد مشیر رہے ہیں۔ اب جبکہ وہ یورپی یونین کے کمشنر برائے تجارت ہیں ان کی ساری توجہ اس امر پر مرکوز ہے کہ یورپ تجارتی مسابقت میں آگے رہے۔ گذشتہ ہفتے برسلز میں انہوں نے ’’ٹائم‘‘ کے نمائندے Leo Cendrowicz سے گفتگو کی۔ یہ گفتگو جاری تھی کہ ۱۰ ڈائوننگ اسٹریٹ سے ایک فون کال نے اس انٹرویو کے سلسلہ کو منقطع کر دیا: س: یورپی یونین کو اعتماد کے بحران کا سامنا ہے۔ کس طرح یورپی یونین روز افزوں پیچیدہ صورتحال میں اپنے آپ کو حالات سے ہم آہنگ بنا سکتا ہے؟ ج: یہ سمت کا بحران ہے نہ کہ شناخت کا۔ اس سے دو باتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ [مزید پڑھیے]

صرف اقدامات ہی موثر ہیں!

June 16, 2005 // 0 Comments

اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون کی ٹائم کے یروشلم بیورو چیف Matt Rees اور ورلڈ ایڈیٹر Romesh Ratnesar سے ملاقات ہوئی۔ اسرائیلی پارلیمنٹ میں انخلاء کے منصوبے کی منظوری کے بعد شیرون کا کسی میگزین کے ساتھ پہلا انٹرویو ہے‘ جس کا اقتباس درج ذیل ہے: ٹائم: یہ بہت ہی خوبصورت گھر ہے۔ شیرون: میری رہائش کا یہاں پانچواں سال ہے۔ ٹائم: ابھی کتنے سال اور آپ یہاں رہیں گے؟ شیرون: مجھے جلدی نہیں ہے۔ میں اس جگہ کو چھوڑنے کا ارادہ نہیں کر رہا ہوں۔ ٹائم: اگر آپ ماضی کے اس مقام پر جا کر سوچیں جبکہ آپ ایک نوجوان فوجی افسر تھے تو ۲۰۰۵ء کا اسرائیل آپ کے خیال میں کس طرح کا ہونا چاہیے؟ شیرون: میں نے اس وقت یہی سوچا تھا کہ [مزید پڑھیے]

دنیا تیل کے ایک نئے دور میں!

May 1, 2005 // 0 Comments

تیل کی قیمت ۵۰ ڈالر فی بیرل سے زیادہ ہو چکی ہے اور اس کا بہت زیادہ خوف پایا جاتا ہے کہ آئندہ برسوں میں تیل کی قیمت روز افزوں ہو گی۔ آئندہ تیل کا کیا ہو گا؟ اور عالمی معیشت پر تیل کی اس بڑھتی ہوئی قیمت کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ ان کا جواب تلاش کرنے کے لیے ’’ٹائم‘‘ کے کالم نگار ایمی فیلڈمین (Amy Feldman) نے ڈینئیل یرجین (Daniel Yergin) سے سوال کیا جو تیل کے حوالے سے دنیا کے صفِ اول کے ماہر تصور کیے جاتے ہیں۔ ۵۸ سالہ یرجین کیمبرج انرجی ریسرچ ایسوسی ایٹس کے چیئرمین ہیں اور سیکرٹری آف ایڈوائزری بورڈ کے ایک رکن ہیں نیز پُلیزر انعام یافتہ کتاب “The Prize: The Epic Quest for Oil, Money [مزید پڑھیے]

میں ’’عالمی یک طرفہ پن‘‘ کا حامی نہیں ہوں!

April 16, 2005 // 0 Comments

گذشتہ ہفتے عالمی بینک کے سربراہ کے لیے اپنی نامزدگی کے ساتھ ہی Paul Wolfowitz (امریکی نائب وزیرِ دفاع) نے بیرونی تشویش و عدم اعتماد کو اپنے واضح بیان کے ذریعہ دور کرنے کی کوشش کی۔ نیوز ویک کے نمائندے لیلی ویمائوتھ کے ساتھ اپنے انٹرویو میں انہوں نے امکانات سے بھرپور اپنی نئی ذمہ داری کے سلسلے میں اظہارِ خیال کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے امریکا کی عراق پالیسی تشکیل دینے کے حوالے سے اپنے ماضی اور حال کے کردار پر بھی روشنی ڈالی۔ انٹرویو کا اقتباس درج ذیل ہے: س: عالمی بینک کے ایک اچھے سربراہ ثابت ہونے سے متعلق آپ یورپی ممالک کو کس طرح مطمئن کریں گے؟ ج: میں یورپی ممالک کو یہ بتائوں گا کہ میں کیوں ایک [مزید پڑھیے]

ایران کے پاس جوہری فنی مہارت موجود ہے!

March 16, 2005 // 0 Comments

واشنگٹن پوسٹ کے حوالے سے خبر ہے کہ ’’نیوز ویک‘‘ کے نامہ نگار لالی ویموت (Lally Weymouth) نے البرادی سے مصاحبہ (Interview) کیا جس کے سوال و جواب کی تفصیل درج ذیل ہے: س: کیا آپ ایجنسی کی سربراہی کے تیسرے دور کی سربراہی کے لیے بھی امیدوار ہوں گے؟ ج: میں اکیلا کینڈیڈیٹ ہوں۔ س: امریکا آپ سے کیوں نجات چاہتا ہے؟ ج: ان کا خیال ہے کہ میں دو بار انٹرنیشنل اٹامک انرجی کمیشن کا سربراہ رہا ہوں اس لیے مجھے نہیں رہنا چاہیے۔ جبکہ بہت سارے ممالک مجھ سے درخواست کرتے ہیں کہ اس منصب پر باقی رہوں۔ اس لیے ہمارے درمیان تنازعہ ہے اور بہت سارے اہم مسائل ہیں‘ ایران بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے‘ اسی طرح شمالی کوریا۔ چنانچہ [مزید پڑھیے]

سیاحت و ثقافت ایک دوسرے سے باہم مربوط ہیں!

January 1, 2005 // 0 Comments

گیارہ ستمبر کے بعد سے خاصی کمی واقع ہونے کے باوجود بین الاقوامی سیاحت کے لیے لوگوں کی آمد و رفت بڑے پیمانے پر رہی ہے۔ پروفیسر شنجی یماشیتا ماہرِ ثقافتِ بشری نے روایتی ثقافتوں پر سیاحت کے اثرات پر ’’ایشیا پیسیفک‘‘ کی ہساشی کونڈو سے گفتگو فرمائی ہے: س: ثقافتِ بشری اور سیاحت بالکل ہی ایک دوسرے کی ضد معلوم ہوتی ہیں اور آپ کی دلچسپی کا موضوع مبدائے سیاحت ہے۔ ان میں کیا ربط ہے؟ ج: پہلے مجھے یہ وضاحت کرنے دیجیے کہ سیاحت سے میرا اپنا سامنا کس طرح ہوا۔ میں نے ماہرِ ثقافتِ بشری کی حیثیت سے اپنا فیلڈ ورک شروع کیا جو کہ انڈونیشیا میں سلاویسی جزیرہ کا ایک پہاڑی علاقہ ہے۔ میرا اپنا تصور یہ تھا کہ میں توراجا [مزید پڑھیے]

سیاست میرے پاس خود چل کر آئی!

December 16, 2004 // 0 Comments

سوال: سیاست میں آپ کا رہنا کیوں ضروری ہے؟ جواب: میں سیاست میں نہیں گیا‘ سیاست میرے پاس آئی۔ ۱۹۸۸ء میں ہماری انتخابی فتح کے بعد پارٹی نے یہ فیصلہ کیا کہ وزیراعظم کے شوہر کو سیاست سے دور رہنا چاہیے۔ لہٰذا میں کراچی میں رہا۔ یہاں تک کہ ۱۹۸۹ء کے تحریک عدم اعتماد کے دوران مجھے پارٹی نے خود بلایا۔ پھر انہوں نے مجھے جیل میں ڈال دیا۔ س: لہٰذا آپ کے خیال میں آپ کا سیاست سے باہر رہنا ناممکن ہے؟ ج: ہاں! آج کے پاکستان میں آپ اس سے گریز نہیں کر سکتے ہیں۔ جب نواز شریف کو گرفتار کیا گیا تو کلثوم نواز سیاست میں کود پڑیں اگرچہ وہ ایک گھریلو خاتون تھیں۔ جب میں گرفتار کیا گیا تو میری بہنوں [مزید پڑھیے]

زمین‘ کرۂ انسانی اور ان کے نشوونما کی تاریخ

December 1, 2004 // 0 Comments

تکافومی مٹسوئی نے زمین کی ابتدا اور اس کی نشوونما کی تاریخ سے متعلق اپنے فلسفے کی بنیاد پر لوگوں کی توجہات اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ ان کا یہ فلسفہ ۱۹۸۶ء میں معاصر “Nature” میں شائع ہوا تھا۔ ان کی حالیہ کوششیں سائنس اور فلسفہ کے شعبوں کو متحد کرنے کے حوالے سے ہے۔ یہ ٹوکیو یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اور ان کا خاص مضمون Comparative Planetology ہے۔ Interview from Takafumi Matsui by Hisashi Kondo ہساشی: زمین کئی ارب سال پرانی ہے‘ Planetology جس میں آپ کی اسپیشلائزیشن ہے‘ کے تقابل و تناظر میں ہم آج کس قسم کے دور میں زندہ ہیں؟ تکافومی: جدید دور کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ انسانی وجود خلا سے اب قابلِ دید ہے۔ ہم خود اس [مزید پڑھیے]

مغربی دانش اسلامی دانش کی بنیاد پر پروان چڑھی!

November 1, 2004 // 0 Comments

پروفیسر سید حسین نصر کا شمار سائنس‘ عرفان اور فلسفۂ اسلامی کے صف اول کے ماہرین میں ہوتا ہے۔ آپ جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں اسلامیات کے پروفیسر ہیں۔ آپ ۱۹۳۳ء میں علماے دین کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے مراحل ایران اور امریکا میں طے کیے۔ اس کے بعد آپ نے ماساچوسٹ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) میں فزکس اور ہارورڈ یونیورسٹی میں جیالوجی اور جیوفزکس کے مضامین میں اپنی تعلیم جاری رکھی اور بالآخر موخرالذکر دانشگاہ سے History of Science & Philosphy میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ سائنس اور اسلامک کاسمالوجی اس سلسلے میں آپ کی تحقیق کے خصوصی موضوع تھے۔ ڈاکٹر حسین نصر ۱۹۵۸ء سے ۱۹۷۹ء تک تہران یونیورسٹی میں تاریخِ علم و فلسفہ کے استاد رہے۔ [مزید پڑھیے]

ہم چین سے خودمختاری کے طالب ہیں‘ نہ کہ علیحدگی کے!

November 1, 2004 // 0 Comments

جب چین نے ۱۹۵۰ء میں تبت میں جارحیت کی تو اس نے اس الگ تھلگ جاگیردارانہ ریاست میں جدیدیت کو متعارف کرانے کا وعدہ کیا لیکن اس کے بجائے اس نے وہاں مذہب و ثقافت کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے تبتی حکومت کو بشمول اس کے اعلیٰ ترین مذہبی و سیاسی رہنما کے جلاوطن ہونا پڑا۔ ۲ سال کی عمر میں تبتی بدھوں کے اعلیٰ مذہبی رہنما کی حیثیت سے ۱۴ویں دلائی لامہ کا تقرر ہوا اور چار سال کی عمر میں پھر ان کی تاج پوشی بھی ہو گئی۔ ۱۹۵۹ء میں دلائی لامہ کو بھارت فرار ہونا پڑا جس کے بعد وہ تبت کبھی نہیں لوٹے۔ ۴۵ سالوں تک ایک قوم کو بغیر سرزمین کے محفوظ رکھنے کی کوشش [مزید پڑھیے]

پاکستان میں کوئی غیرملکی جنگجو موجود نہیں!

October 16, 2004 // 0 Comments

جب انٹیلی جینس ایجنسیز نے ایک دہشت گردانہ سازش کے انکشاف کا دعوی کیا جس کا مقصد اسلام آباد اور اس کی اطراف میں واقع متعدد حکومتی تنصیبات کو تباہ کرنا تھا تو پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے کوہاٹ سے رکن قومی اسمبلی جاوید احمد پراچہ کا نام اس موقع پر اہم کردار کے طور پر سامنے آیا۔ پراچہ کوہاٹ میں اسی وقت سے گرفتار ہیں۔ ان پر یہ الزام ہے کہ ۲۰۰۱ء میں جب امریکا نے تورا بورا پہاڑی کا محاصرہ کیا تو وہاں سے فرار ہو کر سرحد آنے والے متعدد عرب و دیگر جنگجوئوں کا پراچہ نے دفاع کیا تھا۔ پراچہ نے ۱۹۷۷ء میں سیاست میں قدم رکھا تھا۔ ان کی سیاسی زندگی کا بیشتر دورانیہ غیرنمایاں رہا ہے۔ ان کے غیرمعروف [مزید پڑھیے]

ہمارا نظامِ حکومت سابقہ نظاموں سے مختلف ہوگا

September 16, 2004 // 0 Comments

وزیراعظم شوکت عزیز نے اپوزیشن پارٹیوں کو اپنی جانب سے امن کی پیشکش کرتے ہوئے قومی مسائل پر اتفاقِ رائے کے حصول کے لیے بہت ہی سنجیدہ کوشش کیے جانے کا وعدہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ ملک کی اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم کے لیے شوکت عزیز کے انتخاب کا بائیکاٹ کیا تھا۔ ۵ اگست کی شام روزنامہ ’’ڈان‘‘ کے ساتھ اپنے ایک پینل انٹرویو میں وزیراعظم نے اپنے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے حکومتی اہداف کے حصول میں بہت ہی سخت واقع ہوں گے۔ وہ اپنی کابینہ کے تشکیلِ نو کے ساتھ حکومتی پالیسیوں کو نتیجہ خیزی کے اعتبار سے بہتر بنائیں گے۔ لہٰذا وزارتِ عظمیٰ کا ان کا آئندہ ۳ سال سے زائد کا عرصہ طرزِ حکومت کے معاملے میں [مزید پڑھیے]

فلسطینی انتظامیہ کے سابق وزیراعظم محمود عباس کا نیوز ویک کو انٹرویو

July 1, 2004 // 0 Comments

جب ایک سال سے کچھ زائد عرصہ قبل انہیں فلسطین کا وزیراعظم نامزد کیا گیا تو محمود عباس کا تاثر عرفات کی نفی کرنے والے شخص کا دیا جارہا تھا۔ وہ نرم گفتار اور صاف رخسار (بغیر داڑھی کے) ہیں۔ وہ صدر بش‘ وزیراعظم ایریل شیرون اور اپنے بدمعاش و پریشان کُن باس کے ساتھ امن مذاکرات کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ۱۲۹ دنوں تک نوکری کرنے کے بعد عباس مذکورہ تینوں افراد سے اُکتا گئے۔ ان کی مایوسی اور رنجش ہنوز سلگ رہی ہے۔ ۶۹ سالہ محمد عباس نے حال ہی میں نیوز ویک کے نمائندے ڈین ایفرون کے ساتھ غزہ پر خفیہ بات چیت جو وہ اسرائیل کے ساتھ کرنا چاہتے تھے اور عرفات کے ساتھ ان [مزید پڑھیے]

1 8 9 10