Abd Add
 

انٹرویوز

مولانا مطیع الرحمن نظامی کا انٹرویو

May 16, 2016 // 0 Comments

مولانا مطیع الرحمن نظامی، اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے مشرقی پاکستان سے پہلے اور آخری ناظمِ اعلیٰ تھے۔ آپ اکتوبر ۱۹۷۱ء میں اسلامی جمعیت طلبہ سے فارغ ہوئے۔ ذیل میں پیش کیا جانے والا انٹرویو پاکستان کے دولخت ہونے کے بعد، جناب سلیم منصور خالد نے لیا۔ جس کے کچھ اجزاء قارئین کے استفادے کے لیے پیش کیے جارہے ہیں۔
[مزید پڑھیے]

ممتاز قادری کیس: قانونی پہلو

March 1, 2016 // 1 Comment

جسٹس (ر) میاں نذیر اختر ایک عشرے سے زیادہ تک لاہور ہائی کورٹ کے جج رہے ہیں۔ اس سے پہلے پچیس سال تک وکالت سے وابستہ رہنے کے ساتھ ساتھ سولہ سال تک قانون کے استاد کے طور پر یونیورسٹی لا کالج میں پڑھاتے رہے۔ ملک کے بڑے نامور وکلاء اور جج حضرات ان کے شاگرد رہ چکے ہیں۔ جسٹس ریٹائرڈ میاں نذیر اختر دو سال پنجاب بیت المال کے امین رہنے کے علاوہ تین سال تک اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن بھی رہے ہیں۔ ممتاز قادری کیس میں پہلے دن سے بطور وکیل منسلک ہیں۔ ممتاز قادری کیس کے حوالے سے ان سے کی گئی گفتگو نذرِ قارئین ہے۔ س: جسٹس صاحب! ممتاز قادری کیس کے حوالے سے عمومی تاثر یہ بنا ہے کہ [مزید پڑھیے]

افغانستان کا استحکام، امریکی افواج کے انخلا سے مشروط ہے!

November 16, 2014 // 0 Comments

ملا عبدالسلام ضعیف کا کہنا ہے کہ خود کش حملے خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹوں کا کام ہے، طالبان اِس قبیح فعل میں کبھی ملوث نہیں ہوسکتے۔ اس خیال کا اظہار انہوں نے حال ہی میں جنوبی افریقا میں ’’کیج افریقا‘‘ کی لانچنگ کے موقع پر کیا۔ اُن کی باتوں سے طالبان کے بارے میں پایا جانے والا اچھا خاصا اشکال دور ہوا ہے۔

اسلام اور تہذیبِ یورپ

June 1, 2014 // 3 Comments

ڈاکٹر سباعی: اسلام دینِ آزادی ہے، وہ نہ یہ پسند کرتا ہے کہ مسلمان کسی بھی سامراجی طاقت کے آگے جھکیں اور نہ یہ کہ وہ کاروبارِ زندگی میں پیچھے رہ جائیں۔ اسلام ہی کی تعلیمات نے عربوں کو ۱۴ سو برس سے ہر قسم کے بے ہودہ رسم و رواج سے محفوظ رکھا ہے۔ یہ اسلام ہی تھا، جس نے عربوں کو امن و انصاف اور آزادی کا پیغامبر بنا کر اقوام عالم کی طرف بھیجا

ملکوں کے مابین معاہدانہ تعلقات اور عسکری اقدام

March 16, 2014 // 0 Comments

قیامِ پاکستان کے فوراً بعد جہادِ کشمیر کے حوالے سے ایک اہم سوال پیدا ہوا تھا۔ اس وقت ممتاز دینی اسکالر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا ایک خاص مؤقف تھا، جس پر بعض حلقوں نے خاصا شور مچایا۔ ان پر شدید تنقید کی گئی۔ مگر وہ اپنے علمی مؤقف پر اپنے دلائل کے ساتھ قائم رہے۔ اسی بحث کے تناظر میں ۱۷؍اگست ۱۹۴۸ء کو مولانا مودودی نے سہ روزہ ’’کوثر‘‘ کو ایک تفصیلی انٹرویو دیا، جس میں اس موقف کو پوری صراحت اور وضاحت سے بیان کیا۔ ہم اس تاریخی انٹرویو کو قارئین کے لیے دوبارہ پیش کر رہے ہیں۔ آج کل بھی ہمارے ہاں اِسی طرح کی بحث جاری ہے۔ اِن علمی نکات سے معاملے کی تفہیم میں مدد مل سکتی ہے۔

’’عالم عرب کو ہندوستان کے حالات سے باخبر رہنا چاہیے!‘‘

April 1, 2013 // 0 Comments

ماہ نومبر ۲۰۱۲ء میں جامعۃ الفلاح کے جشن طلائی کے موقع پر المجتمع کے مدیر ڈاکٹر شعبان عبدالرحمن بلریا گنج آئے تھے۔ اس دوران انہوں نے مولانا سید جلال الدین عمری امیر جماعت اسلامی ہند سے انٹرویو کیا تھا، جو المجتمع کی ۹۔۱۵؍فروری ۲۰۱۳ء کی اشاعت میں شائع ہوا۔ اس کا اردو ترجمہ جناب خالد سیف اللہ اثری نے کیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی ہند کے ساتھ یہ بات چیت بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ اس بات چیت سے ہندوستان کی مسلم اقلیت کے حالات و کوائف پر روشنی پڑتی ہے۔ یہ دنیا میں مسلمانوں کی سب سے بڑی اقلیت سمجھی جاتی ہے، کیونکہ اس کی تعداد عالم عرب کی مجموعی آبادی کے برابر یا اس سے زیادہ ہے۔ اس کے باوجود یہ ایک واقعہ [مزید پڑھیے]

ــــہندوستانی مسلمانوں کی مظلومیت۔۔۔ بے سبب نہیں!

December 1, 2012 // 0 Comments

مسٹر این سی استھانا (NC Asthana) سینٹرل ریزرو پولیس فورس، کوبرا (ایک ایلیٹ کمانڈوفورس) کے انسپکٹر جنرل ہیں ۔ ان کی اہلیہ مسز انجلی نرمل پولیس انتظام کاری (Police Administration) میں پی -ایچ -ڈی ڈگری کی حامل ہیں ۔ مسٹر این سی استھانا ا ور مسز انجلی نرمل نے اگست ۲۰۱۲ء کے آخر میں شائع شدہ اپنی مشترکہ تصنیف “India’s Internal Security: The Actual Concerns” میں مختلف بھارتی پالیسیوں ،بشمول انٹیلی جنس ناکامی، دہشت گردانہ حملوں میں ذرائع ابلاغ کا کردار، داخلی سلامتی اور مسلمانوں پر ظلم و ستم اور انتقامی کارروائیوں کا محاکمہ و تجزیہ کیا ہے۔ کنل مجمدار نے مصنفین سے ان میں سے کچھ امور پر بات چیت کی، جو حسبِ ذیل ہے: o کیا ہندوستانی سلامتی ادارے حقیقی خطرات سے صرفِ [مزید پڑھیے]

1 2 3 4 10