Abd Add
 

انٹرویوز

ــــہندوستانی مسلمانوں کی مظلومیت۔۔۔ بے سبب نہیں!

December 1, 2012 // 0 Comments

مسٹر این سی استھانا (NC Asthana) سینٹرل ریزرو پولیس فورس، کوبرا (ایک ایلیٹ کمانڈوفورس) کے انسپکٹر جنرل ہیں ۔ ان کی اہلیہ مسز انجلی نرمل پولیس انتظام کاری (Police Administration) میں پی -ایچ -ڈی ڈگری کی حامل ہیں ۔ مسٹر این سی استھانا ا ور مسز انجلی نرمل نے اگست ۲۰۱۲ء کے آخر میں شائع شدہ اپنی مشترکہ تصنیف “India’s Internal Security: The Actual Concerns” میں مختلف بھارتی پالیسیوں ،بشمول انٹیلی جنس ناکامی، دہشت گردانہ حملوں میں ذرائع ابلاغ کا کردار، داخلی سلامتی اور مسلمانوں پر ظلم و ستم اور انتقامی کارروائیوں کا محاکمہ و تجزیہ کیا ہے۔ کنل مجمدار نے مصنفین سے ان میں سے کچھ امور پر بات چیت کی، جو حسبِ ذیل ہے: o کیا ہندوستانی سلامتی ادارے حقیقی خطرات سے صرفِ [مزید پڑھیے]

شام کے بحران سے اسرائیل فائدہ اٹھائے گا!

October 1, 2012 // 0 Comments

لبنان کے دروز لیڈر ولید جنبلاط (Walid Jumblatt) کا شمار ان با اثر سیاست دانوں میں ہوتا ہے جن کے بیانات بحث کا موضوع بنتے ہیں۔ انہوں نے ۱۹۸۰ء کے عشرے میں لبنانی سیاست میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ولید جنبلاط نے خبردار کیا ہے کہ شام کی صورت حال لبنان پر اچھی خاصی اثر انداز ہوسکتی ہے۔ انہوں نے لبنان کے علاقے ٹریپولی کے واقعات کو بھی شام کی صورت حال کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔ پروگریسیو سوشلسٹ پارٹی کے سربراہ ولید جنبلاط کا کہنا ہے کہ شام کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورت حال خطے میں بہت سی تبدیلیوں کی نقیب ثابت ہوسکتی ہے۔ شام کی تقسیم کا امکان تو خیر نہیں ہے مگر اِس بحران کے بطن سے کئی خرابیاں نکل [مزید پڑھیے]

مصر کو نظرانداز کر کے خطے میں حقیقی امن و استحکام ممکن نہیں!

October 1, 2012 // 0 Comments

کسی بھی مملکت کے سربراہ سے انٹرویو آسان نہیں ہوتا اور خاص طور پر ایسے سربراہِ مملکت سے جسے منصب سنبھالے ہوئے زیادہ مدت نہ گزری ہو۔ مصر کے صدر محمد مرسی کا معاملہ تھوڑا سا مختلف تھا۔ وہ انگریزی اچھی جانتے اور بولتے ہیں۔ کسی سوال کو سمجھنا ان کے لیے مشکل نہ تھا۔ بعض مواقع پر ان کے ترجمان نے جواب دیے جیسا کہ مشرق وسطیٰ اور دیگر خطوں میں عام بات ہے۔ تھوڑا سا انتظار کرنا پڑا مگر خیر، صدر مرسی نے ہمیں ۹۰ منٹ دیے جو کھل کر گفتگو کے لیے اچھا خاصا وقت تھا۔ پہلا سرکاری مترجم خاصا محتاط تھا اور بہت سے معاملات میں ہچکچاہٹ کے ساتھ بات کرتا تھا۔ بعد میں صدر نے ایک اور مترجم بلایا جو [مزید پڑھیے]

اخوان المسلمون، مصر کو جدید فلاحی ریاست بنائے گی!

May 16, 2012 // 0 Comments

اخوان المسلمون کی سیاسی شاخ فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کے صدارتی امیدوار محمد مرسی ۱۹۵۱ء میں شرقیہ گورنریٹ میں پیدا ہوئے۔ قاہرہ یونیورسٹی کی فیکلٹی آف انجینئرنگ سے آنرز کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکا گئے۔ ۱۹۸۲ء میں یونیورسٹی آف سدرن کیلی فورنیا سے انجینئرنگ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ آپ نے کیلی فورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی (North Ridge) میں اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے پڑھانا شروع کیا اور ۱۹۸۵ء میں مصر واپس آگئے۔ مصر واپسی کے بعد محمد مرسی نے زغازغ (Zagazig) یونیورسٹی کی فیکلٹی آف انجینئرنگ کے مٹیریلز انجینئرنگ کے شعبے میں سربراہ کی حیثیت سے تدریس شروع کی۔ پروفیسر کی حیثیت سے وہ ۲۰۱۰ء تک وہاں خدمات انجام دیتے رہے۔ اس دوران انہوں نے قاہرہ یونیورسٹی میں بھی تدریس کے [مزید پڑھیے]

جنگی مقدمات اور گرفتاریاں اسلامی لہر کو روکنے کے لیے ہیں!

March 16, 2012 // 0 Comments

بنگلہ دیش کے معروف نشریاتی ادارے ’’اے ٹی این نیوز‘‘ نے سابق امیر، بنگلہ دیش جماعت اسلامی، پروفیسر غلام اعظم کا تفصیلی انٹرویو ۱۲؍دسمبر ۲۰۱۱ء کو پیش کیا۔ گرفتاری سے قبل ’’اے ٹی این نیوز‘‘ نے انٹرویو کو بنگلہ اور انگریزی زبان میں اپنی ویب سائٹ میں شامل کیا۔ جسے مسئلہ کی پیچیدہ نوعیت اور بیگم حسینہ واجد حکومت کے ارادوں سے آگاہی کے لیے قارئینِ ’’معارف فیچر‘‘ کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔

بشیر عبدالسلام الکبتی مراقب عام اخوان المسلمون، لیبیا کا انٹرویو

February 16, 2012 // 0 Comments

لیبیامیں اخوان المسلمون کے نئے مراقب عام بشیر عبدالسلام الکبتی ۳۳ سال امریکا میںرہے ہیں۔ ابتداً وہ تعلیم کی غرض سے امریکا گئے تھے۔ ایم اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد انہوں نے امریکا میںرہ کر ہی قذافی حکومت کی مخالفت شروع کر دی اور معمر قذافی کے خلاف بغاوت کا آغاز ہوتے ہی لیبیاواپس آگئے۔ یہاں آنے کے بعد انہوں نے ’’بن غازی‘‘ میںایک رفاہی تنظیم بنائی جو ’’ندائے خیر‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہے اور وہ اس کے چیف ڈائریکٹر کے منصب پر فائز ہوئے۔ یہ تنظیم لیبیائی عوام کی مدد کے لیے رفاہی اور ریلیف کی ذمے داریاں سنبھالے ہوئے ہے۔ قذافی حکومت کے سقوط سے پہلے ان کے دورۂ کویت کے دوران ہفت روزہ ’’المجتمع‘‘ کے نمائندے جمال الشرقاوی [مزید پڑھیے]

اتاترک کا ماڈل قبول نہیں!

February 1, 2012 // 0 Comments

یمنی رہنمائوں میں عبداللہ السعیدی کا اہم مقام ہے۔ وہ ۹ سال تک اقوامِ متحدہ میں یمن کے مستقل مندوب رہے اور یمنی عوام کے خلاف علی عبداللہ صالح کی حکومت کے سفاک کریک ڈائون پر احتجاج کرتے ہوئے مارچ ۲۰۱۱ء میں مستعفی ہو گئے۔ گزشتہ ماہ ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے وہ استنبول آئے تو ان کا خصوصی انٹرویو ریکارڈ کیا گیا۔ اس انٹرویو میں عبداللہ السعیدی نے ترک رہنما مصطفی کمال پاشا کے سیکولر ماڈل کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے موجودہ اعتدال پسند اور اسلام نواز ماڈل کو قابل قبول اور قابلِ تقلید قرار دیا۔ یہ انٹرویو علی عبداللہ صالح کے ترکِ اقتدار اورامریکا روانگی سے قبل ریکارڈ ہوا۔ صدر علی عبداللہ صالح کے امریکا چلے جانے کے بعد اب اقتدار [مزید پڑھیے]

ترکی اور عرب دنیا

January 16, 2012 // 0 Comments

سعودی شہزادے عبدالعزیز بن طلال بن عبدالعزیز السعود نے سعودی عرب کے شراکت دار اور مشرق وسطیٰ کے استحکام میں اہم کردار ادا کرنے کے حوالے سے ترکی کو سراہاہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کردار اگرچہ نیا ہے تاہم اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ شہزادہ عبدالعزیز بن طلال کہتے ہیں کہ ’’پانچ دس سال پہلے تک یہ معاملہ نہیں تھا۔ خطے کی سلامتی اور استحکام میں ترکی کا واضح کردار نہیں تھا اور ہر معاملے میں اس کی طرف دیکھنے کا رجحان بھی عام نہیں ہوا تھا‘‘۔ سعودی شہزادے نے ان خیالات کا اظہار انقرہ کے تھنک ٹینک سینٹر فار مڈل ایسٹرن اسٹریٹجک اسٹڈیز کی دعوت پر ترکی کے دورے کے دوران ٹوڈیز زمان سے ایک انٹرویو میں کیا۔ انہوں [مزید پڑھیے]

1 2 3 4 5 11