Abd Add
 

شمارہ 16 دسمبر 2007

فلسطین کی آبادی سے متعلق چند اعداد و شمار

December 16, 2007 // 0 Comments

فلسطینی عوام گزشتہ ۶۰ سال سے بد ترین حالات میں جبر و استبداد کی سختیوں اور جلا وطنی کی اذیت ناک زندگی گزار رہے ہیں۔۱۹۴۸ء میں اسرائیل کے قیام کے وقت اپنی زمینوں اور گھروں سے جبراً نکالے جانے والے مہاجرین دنیا کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہیں۔ جن کی آبادی تقریباً ایک کروڑ سے تجاوز کر رہی ہے۔ ایک معتدبہ آبادی بے گھر افراد کے طور پر شام،اردن، لبنان، میں عارضی قیام گاہوں میں پڑی ہوئی ہے ۔اسرائیل کی پالیسی یہ ہے کہ تاریخی خطہ فلسطین میں آباد فلسطینیوں کی نئی نسلیں زندگی کی ناگفتہ بہ حالت سے تنگ آ کر آہستہ آہستہ خود فلسطین کی سرزمین سے ہجرت کرتی جائیں گی جب کہ تصویر کا دوسرا رخ اس کے برعکس ہے ۔ [مزید پڑھیے]

الفتح اسرائیل کا ساتھ نہ دے

December 16, 2007 // 0 Comments

منیٰ منصور مغربی کنارے سے فلسطینی قانون ساز اسمبلی کی رکن ہیں۔ وہ حماس کے شہید رہنما جمال منصور کی بیوہ ہیں۔ جمال منصور کو چھ سال قبل اسرائیلی حکومت نے شہید کر دیا تھا۔ فلسطینی اتھارٹی کی مخالفانہ پالیسیوں اور اسرائیلی دبائو کے باوجود منی منصور نے اپنے قدم پیچھے نہیں ہٹائے ۔ وہ حماس کے ان بیسیوں ارکان پارلیمنٹ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے کوشاں ہیں جنہیں اسرائیلی نے جیلوں میں ڈالا ہواہے وہ فلسطینی عوام میں سر گرم عمل ہیں۔ مرکز اطلاعات فلسطین نے اسرائیلی اور فلسطینی سیکورٹی فورسز کی ہم آہنگی سے مسئلہ فلسطین اور فلسطینی قومی وحدت کو پہنچے والے نقصانات اور حماس کی حکومت کے خلاف کی جانے والی مشترکہ اسرائیل امریکی فلسطینی سازشوں کے حوالے سے [مزید پڑھیے]

موہن جودڑو کی دریافت، اصل حقائق

December 16, 2007 // 0 Comments

محمد بن اسحاق ابن ندیم وراق کی کتاب الفہرست، کتابیات کے حوالے سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور عربی زبان میں اس موضوع پر پہلی معلومہ کتاب ہے۔ مصنف کا تعلق چوتھی صدی ہجری کے اواخر سے ہے۔ محمد ابن اسحاق ابن ندیم وراق تھے اور اس دور کے انتہائی معزز پیشے یعنی کتابوں کی تصحیح و تربیت اور نقل و فروخت سے وابستہ تھے جس کے باعث اس دور کے تمام اہم کتب خانوں، مصنفین امراء و رؤسا کے ذاتی کتب خانوں، سرکاری کتب خانوں اور دنیا بھر کے تاجران کتب سے ان کے وسیع تعلقات تھے اور کتابوں کے بارے میں انہیں بے شمار نادر معلومات تھیں۔ ابن ندیم کی فہرست معلومات کا مخزن ہے جس میں قرآن مجید کے علوم، شاعری [مزید پڑھیے]

ڈاکٹر ذاکر حسین پر نئی کتاب کا تعارف

December 16, 2007 // 0 Comments

ذاکر حسین ( ۱۹۶۹ء۔۱۸۹۷) کی سوانح عمری پر اُردو اور انگریزی میں کئی کتابیں اور مضامین شائع ہو چکے ہیں۔ ان میں محمد مجیب، ضیاء الحسن فاروقی، رشید احمد صدیقی، راج موہن گاندھی، بی شیخ علی، کے آر بی سنگھ، سیدہ سیدین حمید، سعیدہ خورشید وغیرہ۔ اس کے علاوہ اُن کی تقریروں کو بھی مرتب کر کے شائع کیا جاچکا ہے۔ اس کے باوجود اب بھی بہت سی دستاویز کی تلاش اور ان کا حصول باقی ہے۔ عزیز الدین حسین نے بڑی عرق ریز محنت سے ذاکر حسین کے مکتوبات کو نہ صرف تلاش کیا بلکہ انھیں ترتیب دے کر شائع کیا ہے۔ اس اشاعت سے ذاکر حسین کی حیات و خدمات پر مزید روشنی پڑتی ہے۔ آزاد ہندوستان کے عملی مفکرین میں ذاکر حسین [مزید پڑھیے]

’’راہنمائے صحت‘‘ کی تقریبِ رونمائی

December 16, 2007 // 0 Comments

یکم دسمبر ۲۰۰۷ء کی شام ’’اسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی‘‘ میں ڈاکٹر سید احسن حسین کی نئی کتاب ’’راہنمائے صحت‘‘ کی تقریبِ رونمائی ہوئی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی جنرل (ر) ڈاکٹر سید اظہر احمد (وائس چانسلر بقائی میڈیکل یونیورسٹی) تھے جبکہ صدارت پروفیسر اعجاز وہرہ (چیئرمین ڈپارٹمنٹ آف میڈیسن ضیاء الدین میڈیکل یونیورسٹی) نے کی۔ نظامت کے فرائض معروف فیملی فزیشن ڈاکٹر فرخ ابدالی نے انجام دیے۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور ترجمہ سے ہوا۔ اس کے بعد ’’اسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی‘‘ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید شاہد ہاشمی نے اپنے ادارہ کی کارکردگی کا مختصر جائزہ پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ آپ لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ ’’راہنمائے صحت‘‘ میں کوئی اسلامی بات نہیں ہے، صحت کے موضوع پر کتاب ہے، پھر [مزید پڑھیے]

تیسری کراچی بین الاقوامی کتب نمائش میں ’اکیڈمی‘ کا اسٹال

December 16, 2007 // 0 Comments

تیسری کراچی بین الاقوامی کتب نمائش ۳۰ نومبر سے ۴ دسمبر ۲۰۰۷ء اختتام پذیر ہو گئی۔ دو لاکھ سے زائد افراد نمائش میں شریک ہوئے۔ اکثریت خواتین، طالبات اور بچوں کی تھی۔ پبلشرز کو اپنے ملک کی جانب سے “Travel Advisory” کی پابندی کے باعث غیرملکی ناشران کے اسٹالوں کی کمی رہی۔ نمائش کی خاص بات یہ تھی کہ بین الاقوامی سطح کی کسی کتب نمائش میں پہلی بار مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی تمام کتابیں ’’اسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی‘‘ کے اسٹال پر متعارف کرائی گئیں جو نہ صرف شرکاء کی توجہ کا باعث رہیں بلکہ لوگوں کی بڑی تعداد بالخصوص خواتین، طالبعلم، اساتذہ، دانشور اور علمائے کرام نے انھیں پذیرائی بخشی۔ زندگی کے ہر طبقۂ فکر اور نظریات و خیالات کے حامل لوگوں کا [مزید پڑھیے]