Abd Add
 

شمارہ یکم، 16 جولائی 2016

پندرہ روزہ معارف فیچر کراچی، جلد نمبر 9، شمارہ نمبر13, 14

چاہ بہار ۔ گوادر تقابل، تناظر کیا ہے؟

July 16, 2016 // 0 Comments

ایران،انڈیا اور افغانستان نے جس دن سے چاہ بہار معاہدے پر دستخط کیے ہیں،بھارتی،وسط ایشیائی اور پاکستانی میڈیا ایک ہذیانی کیفیت کا شکار ہے،کہیں خوف نے ڈیرا جمایا ہوا ہے تو کہیں خوشیوں کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں۔ساری کہانی کو ایک رخ دے دیا گیا ہے کہ بھارت گوادر بندرگاہ کا مقابلہ چاہ بہار کی بندر گاہ سے کرے گا۔لیکن کوئی یہ سوال نہیں کرتا کہ مقابلہ کس تناظر میں ہو گا؟؟ چند سال قبل جب بھارت کی چاہ بہار میں دلچسپی کاغذات کی حد تک تھی اور چائنا پاکستان اقتصادری راہداری کا بھی کوئی وجود نہ تھا،دہلی کے انسٹی ٹیوٹ برائے دفاعی تجزیے ومطالعہ نے خبردار کیا تھا کہ’’گوادر کی بندرگاہ آبنائے ہرمز کے اتنا قریب ہے کہ اس کے اثرات بھارت پر [مزید پڑھیے]

عرب دنیا کے مَلِک اور مملوک ریاستیں

July 16, 2016 // 0 Comments

قاہرہ کے دفتر میں بیٹھ کر نیل کے نظاروں سے لطف لیتا تاجر اپنا موبائل فون شیشے کے جار میں رکھتا ہے جبکہ شہر کے دیگر حصوں میں ایک لکھاری اپنا فون فرج میں رکھتی ہے۔ اگر اسمارٹ فون کبھی ساری عرب دنیا میں انقلابیوں کا ہتھیار تھے تو اب یہ خفیہ اداروں کا آلۂ کار بن گئے ہیں تاکہ مخالفین کے فون ہیک کرکے انہیں جاسوسی کے آلات میں بدل دیا جائے۔ ان دنوں عرب دنیا میں کام کرنے والے صحافی کو ایسے اسمارٹ فون کی ضرورت ہے جو روابط کی انتہائی محفوظ ایپس سے مزین ہو۔ مصری اس ضمن میں ’’سگنل‘‘ کو پسند کرتے ہیں، سعودیوں کی ترجیح ’’ٹیلی گرام‘‘ ہے اور لبنانی ابھی تک ’’واٹس ایپ‘‘ پر بھروسا کیے ہوئے ہیں۔ ۲۰۱۱ء [مزید پڑھیے]

’’نریندر مودی پھر متحرک‘‘

July 16, 2016 // 0 Comments

نریندر مودی بہت جاندار اور باصلاحیت فروش کار (Salesman) ہیں۔ گزشتہ کئی بیرونی دوروں میں اس بات کا اندازہ انہوں نے نہ صرف اپنے الفاظ سے بلکہ اپنے انداز سے بھی کرایا ہے۔ اپنی راحت انگیز مسکراہٹ، روایتی لباس اور گرم جوشی سے معانقہ کرتے ہو ئے وہ ایک بڑے ملک کے عاجزانہ تاثر کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مگر اسی مہربان سے بھارت میں (جس کا تاثر مودی پیش کر رہے ہیں) ان کی راہنمائی میں بہت سی علاقائی طاقتیں جنم لے رہی ہیں۔ روایتی ہندوستانی سفارتکاری غیر اتحادی (یعنی کسی بھی اتحاد سے اجتناب) طرز کی ہے۔ عملی طور پر اس کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ عالمی مسائل سے دور رہا جائے اور اپنی سرحدوں کے پاس کے [مزید پڑھیے]