Abd Add
 

شمارہ یکم، 16 جولائی 2019

پندرہ روزہ معارف فیچر کراچی
جلد نمبر: 12، شمارہ نمبر: 14-13

افغانستان کا مستقبل اور مفادات کی جنگ

July 1, 2019 // 0 Comments

افغانستان۱۹۷۰ء کے بعد سے تباہ کن جنگوں کی لپیٹ میں رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ خطہ تباہی کا شکار ہے۔۱۹۱۹ء میں برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کے بعد یہاں مختلف نظامِ حکومت آزمائے جا چکے ہیں۔ ان میں کمیونسٹ حمایت یافتہ جمہوریت سے لے کر آمرانہ طرز کی اسلامی امارات اور پھر امریکا سے درآمد شدہ جمہوریت بھی شامل ہے۔لیکن کوئی بھی نظامِ حکومت داخلی لڑائی اور جنگوں کے بغیر معاشرتی،نسلی اور ثقافتی حوالے سے متنوع اس ملک کو چلانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اب جب کہ موجودہ افغان جنگ کے تمام فریق ملک میں قیام امن کے لیے رضامند دکھائی دیتے ہیں،تو انھیں ماضی کی غلطیوں سے بچنے کے لیے ایک پر امن اور پائیدار نظام حکومت کی منصوبہ بندی کرنی [مزید پڑھیے]

اخوان المسلمون کا امت کے نام اہم پیغام

July 1, 2019 // 0 Comments

حمدہ و صلاۃ کے بعد الاخوان المسلمون دنیا بھر کی آزاد اقوام کو شہید صدر محمد مرسی کی مظلومانہ شہادت پر آواز بلند کرنے پر مبارکباد پیش کرتی ہے۔ یہ حقیقت تاریخ میں لکھی جائے گی کہ پوری دنیا کے حریت پسند اس بات پر گواہ تھے کہ مصر کی تاریخ کے پہلے منتخب صدر کو کیسے ایک غاصب فوجی قیادت نے انتہائی مشکوک اور پراسرار حالات میں شہید کیا۔ عسکری انقلاب کے چھ سال مکمل ہونے سے چند دن قبل صدر محمد مرسی کی شہادت نے مجرم عسکری انقلاب اور حریت پسند عوام کے مابین معرکے کو ایک نئی صورت اور ایک نیا رُخ دے دیا ہے، جس بِنا پر یہ بات ضروری ہے کہ مصر میں عوامی سطح کے انقلاب میں پائی جانے [مزید پڑھیے]

ایٹمی پروگرام، ایران کو کیسے روکیں؟

July 1, 2019 // 0 Comments

قریباً چار سال سے ایران کی جانب سے ایٹمی اسلحہ تیار کرنے کی سرگرمیاں روک دی گئی ہیں۔ ایران نے امریکا اور دیگر طاقتوں سے۲۰۱۵ء میں ایک معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت اس کے ایٹمی پروگرام کوپُرامن یا غیر عسکری مقاصد (civilian uses) جیسے پیداوارِ توانائی (power-generation) کے حصول تک محدود کردیاگیا تھا۔ ایران میں نیوکلیائی سرگرمیوں کا پتا چلانے کے لیے جو اقدامات کیے گئے، اس حوالے سے ایران کو معائنے کے لیے سخت ترین حکومت (toughest inspection regime) کہا گیا۔ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ایران معاہدے کی تعمیل کررہا ہے اور اس کی نیوکلیائی سرگرمیاں محدود ہیں۔لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس نیوکلیائی معاہدے کو ختم کردیا، جس کی وجہ سے ایران نے یورینیم کی افزودگی پھر سے شروع [مزید پڑھیے]

بھارت خوف کا شکار کیوں؟

July 1, 2019 // 0 Comments

بھارت عالمی تجارت میں ایک بڑا شراکت دار ضرور ہے لیکن اسے بھی چین جیسی بڑی طاقت سے گھیراؤ کے خطرات لاحق ہیں۔ چین کے ’’بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے‘‘ میں بھارت کے پانچ پڑوسی ممالک پاکستان، بنگلادیش، سری لنکا، نیپال اور مالدیپ شامل ہیں۔ بھارت کو تشویش ہے کہ اس منصوبے سے اس کے پڑوسی ممالک میں چین کا اثر و رسوخ حد سے زیادہ بڑھ جائے گا اور نئی بننے والی بندرگاہیں اور سڑکیں چین کو عسکری معاونت بھی فراہم کر سکتی ہیں۔اس وجہ سے بھارت جنوبی ایشیا میں چین سے ایک قدم آگے رہنے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔اب تک بھارت نے سرمایہ کاری کے ذریعے ان ممالک میں اپنا اثر ورسوخ بڑھانے کی کوشش کی ہے۔ان کوششوں میں بھارت کو کچھ [مزید پڑھیے]