Abd Add
 

شمارہ یکم اپریل 2016

رازداری یا سلامتی: ’ایپل‘ اور ’ایف بی آئی‘ آمنے سامنے

April 1, 2016 // 0 Comments

ہمارے خیال میں امریکی حکومت حد سے تجاوز کررہی ہے اور یہ ہمیں اس کے منہ پر بولنا چاہیے۔ دنیا کی سب سے بڑی آئی ٹی کمپنی ایپل کے سربراہ ٹِم کُک (Tim Cook) نے ۱۶؍فروری ۲۰۱۶ء کو ان الفاظ کے ساتھ یہ بتانے کی کوشش کی کہ ان کی کمپنی کو سید فاروق نامی دہشت گرد کے زیرِ استعمال رہنے والے آئی فون کے ڈیٹا تک رسائی کی ایف بی آئی کی درخواست کیوں رَد کردینی چاہیے۔ داعش کے ہمدرد فاروق اور اس کی بیوی تاشفین ملک نے دسمبر ۲۰۱۵ء میں پولیس کے ہاتھوں مارے جانے سے قبل کیلی فورنیا میں ۱۴؍افراد کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا۔ ٹم کک نے ایف بی آئی کی درخواست کو ’’سرد مہری‘‘ سے تعبیر کیا۔ ۲۰۱۳ء میں [مزید پڑھیے]

ایف بی آئی، آئی فون کھولنے میں کامیاب

April 1, 2016 // 0 Comments

امریکی محکمۂ انصاف کا کہنا ہے کہ ایف بی آئی سان برناڈینو کے حملہ آور کا فون ’ایپل‘ کمپنی کی مدد کے بغیر کھولنے میں کامیاب ہو گئی ہے، جس کے بعد ان کی جانب سے دائر مقدمہ ختم کردیا گیا ہے۔ ایپل کمپنی ان عدالتی احکامات کی مزاحمت کر رہی تھی، جن میں رضوان فاروق کے موبائل میں موجود مواد تک حکام کو رسائی فراہم کرنے کو کہا گیا تھا۔ کیا ایپل کی مدد کے بغیر بھی آئی فون ان لاک ہو سکتا ہے۔ کیا اسرائیلی کمپنی آئی فون اَن لاک کرسکتی ہے؟ لیکن اب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے خود ہی یہ کام کر لیا ہے لہٰذا عدالتی احکامات واپس لے لیے جائیں۔ رضوان فاروق اور ان کی اہلیہ نے [مزید پڑھیے]

مصر کے احمد ابو الغیط عرب لیگ کے نئے سربراہ منتخب

April 1, 2016 // 0 Comments

عرب ممالک کی نمائندہ تنظیم ’عرب لیگ‘ کے ارکان نے مصر کے سابق وزیرِ خارجہ احمد ابوالغیط کو تنظیم کا نیا سیکرٹری جنرل منتخب کرلیا ہے۔ ۷۳ سالہ احمد ابوالغیط مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کے دورِ اقتدار کے آخری سات برسوں میں ان کے وزیرِ خارجہ تھے اور ۲۰۱۱ء میں حسنی مبارک کے خلاف چلنے والی عوامی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں انہیں اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔ بائیس رکنی عرب لیگ نے طویل غور و خوض کے بعد جمعرات کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ہونے والے ایک اجلاس میں احمد ابو الغیط کی نامزدگی کی متفقہ طور پر منظوری دی۔ اجلاس کے دوران قطر کے تحفظات کے باعث احمد ابوالغیط کی نامزدگی کی توثیق کچھ تاخیر کا شکار ہوئی تھی لیکن [مزید پڑھیے]

مسلمان ممالک میں اِرتدادِ مذہب

April 1, 2016 // 0 Comments

فروری کے اواخر میں ایک بیس سالہ سعودی نوجوان نے جب ٹویٹر پر اپنے ملحد ہونے کا اعلان کیا تو اسے دو ہزار کوڑے اور بھاری جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ ۲۰۱۴ء میں سعودی عرب میں قانون پاس کیا گیا جس میں ملحد ہونے کو دہشت گردی کے برابر جرم قرار دیا گیا۔ گزشتہ برس ایک نوجوان نے اپنی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر چلا دی جس میں وہ قرآن مجید پھاڑ رہا تھا، اس عمل پر سعودی عدالت نے اسے سزائے موت سنا دی۔ ایک بین الاقوامی این جی او (International humanist and ethical union) کا کہنا ہے کہ سعودیہ اُن اُنیس ممالک میں سے ایک ہے، جہاں مرتد ہونا جرم قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح اُن بارہ ممالک میں سے ایک [مزید پڑھیے]