Abd Add
 

شمارہ یکم اگست 2005

شمارہ نمبر: 119

بھارتی و امریکی دفاعی معاہدہ

August 1, 2005 // 0 Comments

بائیں بازو کی جماعتوں نے ابھی حال ہی میں یوپی اے حکومت کی خارجہ پالیسی پر اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ لیکن گزشتہ دنوں ’’ہندوستان اور امریکا کے درمیان دفاعی تعلقات کے لیے جس نئے فریم ورک‘‘ پر معاہدہ کیا گیا ہے وہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی کے تعلق سے ایک نئی تصویر پیش کرتا ہے۔ بائیں بازو کی جماعتوں نے یو پی اے حکومت کی بعض معاشی پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہوئے رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ تو کیا ہے۔ لیکن بھارت اور امریکا کے درمیان دفاعی تعاون کا جو ناقابل قیاس اور غیرمعمولی بے مثال معاہدہ کیا ہے اس پر ابھی تک کسی خاص ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔ تاہم سی پی آئی اور فارورڈ بلاک نے [مزید پڑھیے]

متحدہ یورپ کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو گا؟

August 1, 2005 // 0 Comments

متحدہ یورپ یا یونائیٹڈ یورپین اسٹیٹس ایک ایسا تصور ہے جو بیسویں صدی کی کئی دہائیوں سے یورپین سیاست دانوںکا ہدف رہا ہے۔ ایک لحاظ سے اسے امریکہ کے دیئے گئے نعرے نیو ورلڈ آرڈر کا متوازی کہا جاسکتاہے۔ اس تصور کی ابتداء فرانس اور جرمنی میں ہوئی اور موجودہ فرانسیسی صدر ژاک شیراک اور جرمن چانسلر گرہارڈ شروڈر نے اسے آگے بڑھانے اور اس کی عملی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ یورپی یونین کا قیام (E.U.) دراصل اس مفروضہ پر عمل میں آیا تھا کہ مجموعی طور پر یورپ زوال پذیر ہورہا ہے اور اس کی مخصوص تہذیب و شناخت (جس پر مسیحیت کی گہری چھاپ ہے) اینگلو سیکسن تہذیب سے شدید طور پر متاثر ہورہی ہے، موخر الذکر کے بنیادی نمائندے [مزید پڑھیے]

ایران اہم کردار ادا کرنا چاہتا ہے!

August 1, 2005 // 0 Comments

جب ۲۰۰۳ء میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے معائنہ کاروںنے ملک کے خفیہ جوہری پروگرام کا پتا لگایا اس وقت سے ایران محمد البرادعی کے لئے بہت زیادہ پریشانی کا باعث رہاہے۔ آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل کا تیسری بار انتخاب جیتنے کے بعد البرادعی نے اپنے پہلے انٹرویو میں ایران کے متعلق نیوز ویک کے Christopher Dickey کے ساتھ گفتگو کی ہے۔ یہ گفتگو جوہری بم اور اس نکتے پر مرکوز تھی کہ کس طرح صدرکے لئے محمود احمدی نژاد جیسے سخت گیر شخص کا انتخاب توازن کو تبدیل کرسکتا ہے۔ ڈکی: کیا آپ کو اس حوالے سے کوئی اشارے ملے ہیں کہ جس سے پتہ چلتا ہو کہ احمدی نژاد جوہری مسئلے کو کہاں لے جانا چاہتے ہیں؟ البرادعی: ہمارے ایرانی [مزید پڑھیے]

ایک یہودی کا قبولِ حق

August 1, 2005 // 0 Comments

ذہبی نے اپنی انسائیکلو پیڈیا (سیر اعلام النبلاء) میں ایک تاریخی واقعہ بیان کیا ہے۔ جس کی تفصیل یہ ہے کہ اندلس میں حَکم کے دور حکومت میں فقہاء نے بغاوت کردی۔ ان میں پیش پیش اور نمایاں شخصیت طالوت معافری کی تھی۔ لیکن یہ بغاوت ناکام ہوگئی۔ جس کی وجہ سے تمام لوگ منتشر ہوگئے اور ادھر ادھر روپوش ہوگئے۔ طالوت معافری ایک سال تک ایک یہودی کے گھر میں چھپے رہے۔ ایک سال بعد جب حالات پرسکون ہوگئے تو طالوت یہودی کے گھر سے باہرنکلے اور وزیر ابوالسبام کے گھر کی طرف اس امید کے ساتھ روانہ ہوئے کہ وہ انہیں اپنے گھر قیام کی اجازت دے دے گا اور ان کی حفاظت کرے گا۔ لیکن ظالم وزیر انہیں گھر چھوڑ کرحَکم کے [مزید پڑھیے]