Abd Add
 

شمارہ یکم دسمبر 2012

پندرہ روزہ معارف فیچر کراچی
جلد نمبر:5، شمارہ نمبر:23

سعودی عرب میں ’’جوان قیادت‘‘ کی تیاری!

December 1, 2012 // 0 Comments

سعودی عرب میں بہت خاموشی سے ایک نئے اور خاصے اہل وزیر داخلہ نے منصب سنبھال لیا ہے۔ دنیا بھر میں تو یہ ہوتا ہے کہ وقت بتانے والے برتن یعنی شیشے کی گھڑی میں ریت ایک مخصوص رفتار سے گرتی رہتی ہے اور وقت کا اندازہ ہوتا رہتا ہے۔ سعودی عرب میں معاملہ بہت مختلف ہے۔ یہاں وقت بتانے والی شیشے کی روایتی گھڑی میں ریت تیل سے ملاپ کے بعد جم جاتی ہے اور گرنے کا عمل تقریباً رک جاتا ہے۔ پھر یہ ہوتا ہے کہ کوئی آکر شیشے کی گھڑی یا ’’آور گلاس‘‘ کو ہلا دیتا ہے اور اچانک مٹی کے لوتھڑے ختم ہونے لگتے ہیں اور ایک بڑا حصہ نیچے گر جاتا ہے۔ ۵ نومبر کو بھی ایسا ہی کچھ ہوا [مزید پڑھیے]

ــــہندوستانی مسلمانوں کی مظلومیت۔۔۔ بے سبب نہیں!

December 1, 2012 // 0 Comments

مسٹر این سی استھانا (NC Asthana) سینٹرل ریزرو پولیس فورس، کوبرا (ایک ایلیٹ کمانڈوفورس) کے انسپکٹر جنرل ہیں ۔ ان کی اہلیہ مسز انجلی نرمل پولیس انتظام کاری (Police Administration) میں پی -ایچ -ڈی ڈگری کی حامل ہیں ۔ مسٹر این سی استھانا ا ور مسز انجلی نرمل نے اگست ۲۰۱۲ء کے آخر میں شائع شدہ اپنی مشترکہ تصنیف “India’s Internal Security: The Actual Concerns” میں مختلف بھارتی پالیسیوں ،بشمول انٹیلی جنس ناکامی، دہشت گردانہ حملوں میں ذرائع ابلاغ کا کردار، داخلی سلامتی اور مسلمانوں پر ظلم و ستم اور انتقامی کارروائیوں کا محاکمہ و تجزیہ کیا ہے۔ کنل مجمدار نے مصنفین سے ان میں سے کچھ امور پر بات چیت کی، جو حسبِ ذیل ہے: o کیا ہندوستانی سلامتی ادارے حقیقی خطرات سے صرفِ [مزید پڑھیے]

شام: اپوزیشن دھڑوں کے اتحاد کا مسئلہ

December 1, 2012 // 0 Comments

دنیا بھر میں حکومتوں کے خلاف اٹھنے والی تحریکیں بہت پیچیدہ معاملہ ہوا کرتی ہیں، مگر شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف چلائی جانے والی تحریک سب سے پیچیدہ ہے۔ اب تک یہ طے نہیں ہوسکا ہے کہ اپوزیشن کی قیادت کس کے ہاتھ میں ہوگی۔ ملک بھر میں قتل عام جاری ہے۔ حکومت کی گرفت کمزور پڑ رہی ہے مگر ملک میں سرگرم عمل حکومت مخالف عناصر سے بیرون ملک مقیم رہنماؤں کا رابطہ کمزور ہے یا بالکل نہیں۔ ملک میں سویلین اور فوجی قیادت میں اس حوالے سے رساکشی چل رہی ہے کہ بشارالاسد انتظامیہ کی مکمل ناکامی کی صورت میں ملک کو کون سنبھالے گا۔ شہروں، قصبوں اور دیہاتوں کو کنٹرول کرنا اپوزیشن کے لیے دشوار ہوتا جارہا ہے، کیونکہ کوئی [مزید پڑھیے]

صومالیہ: نئے صدر کو درپیش چیلنج

December 1, 2012 // 0 Comments

صومالی سیاستدان حسن الشیخ محمود اپنے ملک کی سیاست کے موجیں مارتے سمندر میں علم و ادب اور شہری سرگرمی کے باب سے داخل ہوئے، لیکن بعض لوگ (خاص طورسے اسلام پسندوں کے اقتدار کی دہلیز تک پہنچنے کی وجہ سے) ان کو عرب بہار کی تجلیات میں سے ایک تجلی گردانتے ہیں۔ وہ خانہ جنگی سے تباہ و برباد ملک میں اخوان المسلمون سے قریب، اسلام پسندوں کے ایک نشان ہیں۔ ۱۹۶۰ء میں آزادی کے بعد سے وہ صومالیہ کے آٹھویں صدر ہیں۔ آزادانہ انتخاب رائے کے عمل کے سائے میں وہ پہلے منتخب صدر ہیں، جنہوں نے عبوری حکومت کی جگہ لی ہے۔ ۱۹۹۱ء کے بعد لڑائی جھگڑوں سے مرکزی حکومت کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹنے کے بعد اور ۲۰۰۰ء میں تعمیرنو کا [مزید پڑھیے]

محمد مرسی حرکت میں آگئے، مگر…

September 1, 2012 // 0 Comments

مصر کے صدر محمد مرسی نے جو کچھ کہا تھا وہ کر دکھایا ہے۔ انہوں نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ صدر کے منصب پر منتخب ہونے کے بعد وہ اقتدار کے ایوان سے ان لوگوں کو نکال باہر کریں گے جو طویل مدت سے قومی مفادات کے جسم پر جونک کی طرح چمٹے ہوئے ہیں۔ طویل مدت تک مصر کے سیاہ و سفید کے مالک بنے رہنے والے جرنیل اب برطرف کیے جاچکے ہیں۔ محمد مرسی نے ۱۲؍ اگست کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے ان تمام جرنیلوں کو اقتدار سے نکال باہر کرنے کا اعلان کیا جو تین عشروں سے بھی زائد مدت سے ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بنے ہوئے تھے۔ یہی جرنیل تھے جنہوں نے جون میں صدر [مزید پڑھیے]

بحیرۂ جنوبی چین: تنازعات کی آماج گاہ؟

September 1, 2012 // 0 Comments

بحیرۂ جنوبی چین ایک مدت سے کئی ریاستوں کے درمیان تنازعات کی آماجگاہ رہا ہے مگر اب یہ سمندری خطہ چین اور امریکا کے درمیان تنازع کا بنیادی سبب بنتا جارہا ہے۔ ۳؍ اگست کو امریکی دفتر خارجہ نے چین کے جنوبی سمندر کے حوالے سے ایک سخت بیان داغا جس پر چین کا ردعمل فطری طور پر شدید تھا اور ایک سینئر امریکی سفارت کار کو بیجنگ میں دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاج کیا گیا۔ سال رواں کے دوران بحیرۂ جنوبی چین میں تنازعات اور کشیدگی نے خاصی شدت اختیار کی ہے۔ ایک طرف چین اور ویت نام اور دوسری طرف چین اور فلپائن کے درمیان کشیدگی بڑھی ہے۔ ۱۹۸۸ء سے اب تک کوئی بڑا مسلح تصادم نہیں ہوا اور اس وقت بھی جنگی [مزید پڑھیے]