Abd Add
 

شمارہ یکم فروری 2017

پندرہ روزہ معارف فیچر کراچی
جلد نمبر:10، شمارہ نمبر:3

نریندر مودی کا اعتماد اپنی جگہ، مگر …

February 1, 2017 // 0 Comments

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی ایک عادت اب سبھی جانتے ہیں۔ وہ پریشانی کو جھٹک دینے کا رجحان رکھتے ہیں۔ بھارت میں پانچ سو اور ہزار کے نوٹ تبدیل کرنے کا عمل کم و بیش پچاس دن جاری رہا۔ ان پچاس دنوں میں کروڑوں افراد پریشانی سے دوچار ہوئے۔ ملک بھر میں لاکھوں، بلکہ کروڑوں سودے بگڑگئے۔ نوٹ بدلوانے کے لیے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مگر اس کے باوجود نریندر مودی کو یقین ہے کہ ان کی جماعت (بھارتیہ جنتا پارٹی) ماہِ رواں میں ہونے والے ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔ مودی نے گزشتہ ماہ اپنی آبائی ریاست میں ایک بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی معیشت سب سے [مزید پڑھیے]

سلامتی کونسل کی قراردادوں کا طویل سلسلہ

February 1, 2017 // 0 Comments

سلامتی کونسل نے فلسطین میں یہودی آبادکاری کی ایک نئی قرارداد منظور کی جس میں فلسطین میں یہودی آبادکاری کو باطل قرار دیا۔ فلسطین میں اسرائیل کے ناجائز قبضے کے خلاف سلامتی کونسل کی یہ پہلی قرارداد نہیں۔ اب تک اقوام متحدہ کی جانب سے ۱۰؍ایسی ہی قراردادیں منظور کی جاچکی ہیں۔ مرکز اطلاعات فلسطین نے ایک رپورٹ میں اقوام متحدہ کی فلسطین میں اسرائیل کے ناجائز قبضے کے خلاف ماضی میں منظور کردہ دیگر قراردادوں پر مختصر روشنی ڈالی ہے۔ ان قراردادوں کے اہم نکات کیا تھے؟ ان پر کتنا عمل درآمد ہوا اور فلسطینیوں کو ان قراردادوں سے کتنا فائدہ پہنچا ہے؟ اس رپورٹ میں ان ہی سوالوں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ میں منظور ہونے والی قراردادوں کے دوران کئی [مزید پڑھیے]

مستقبل کی افغان ریاست اور طالبان | 3

February 1, 2017 // 0 Comments

اسلامی ریاست میں زندگی کس طور کی ہوگی؟ ٭ انٹرویوز سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ معاشرت کے حوالے سے طالبان کی سرکردہ شخصیات کے خیالات میں تبدیلی آئی ہے۔ یہ سب کچھ ۱۹۹۰ء کے عشرے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات کا نتیجہ ہے۔ طالبان کے بیشتر قائدین ایک عشرے سے بھی زائد مدت سے پاکستان اور خلیج میں رہے ہیں۔ اس سے ان کی سوچ میں وسعت پیدا ہوئی ہے۔ معاملات کو سمجھنے اور اس حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کرنے کی ان کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ طالبان کی بہت سی شخصیات نے مزید تعلیم حاصل کی ہے۔ ان کا مطالعہ وسیع ہوا ہے جس کے نتیجے میں سوچ بھی گہری [مزید پڑھیے]

کچھ نہ کرنے والی’’ لوک سبھا‘‘

February 1, 2017 // 0 Comments

نومبر کے آغاز میں بھارتی حکومت نے ملک میں زیر گردش رقم کا ۸۶ فیصد حصہ ناقابل استعمال قرار دے دیا،یہ ایک تاریخی فیصلہ تھا۔ اس کے اثرات متاثر کن ہیں۔ کاروباری حضرات اپنے ملازمین کو تنخواہ دینے میں ناکام رہے۔ بینک کے باہر شہریوں کی لمبی لمبی قطا ریں لگ گئیں تاکہ نئے نوٹ حاصل کیے جاسکیں، مگر نئے نوٹ کا اتنی جلدی چھپنا ممکن نہیں تھا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ سال کے آخر تک حل ہوجائے گا۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ اس کے نتائج اور اثرات دوررس ہوں گے۔ بھارت کا تقریباً ہر فرد ہی اس موضوع پر بات کر رہا ہے ،لیکن بھارتی پارلیمان نے اس پر بحث کرنے کی زحمت تک گوارا نہیں کی۔ کسی بھی [مزید پڑھیے]