Abd Add
 

شمارہ یکم جولائی 2020

پندرہ روزہ معارف فیچر کراچی
جلد نمبر:13، شمارہ نمبر:13

چین کی مستقبل بینی۔۔۔

July 1, 2020 // 0 Comments

امریکا اور چین کے درمیان فائیو جی ٹیکنالوجی اور دنیا کے وائرلیس انفراسٹرکچر پر کنٹرول کی لڑائی جاری ہے۔تاہم دنیا کی معیشت اور تحفظ سے متعلق ایک اہم معاملے پر بہت کم توجہ دی جارہی ہے۔یہ معاملہ ڈیجیٹل معیشت کے لیے ضروری معدنیات پر چین کے کنٹرول کا ہے۔ کوئی بھی نیا فون، ٹیبلیٹ، گاڑی یا سیٹلا ئیٹ کچھ مخصوص معدنیات کے بغیر نہیں بن سکتے۔یہ معدنیات دنیا کے کچھ ہی ممالک میں پائے جاتے ہیں اور ان کے گنے چنے متبادل ہی دستیاب ہیں۔ چینی کمپنیوں نے غیر شفاف اور اکثر سیاسی طور پر غیر مستحکم ممالک کی منڈیوں میں ان معدنیات اور دھاتوں کی فراہمی پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اس کام کے لیے انھوں نے بڑے پیمانے پر کی گئی چینی [مزید پڑھیے]

’آیا صوفیہ‘ ترکی محتاط رہے!

July 1, 2020 // 0 Comments

روسی اہلکاروں اور کلیساؤں کے وفاق نے ترکی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ استنبول میں واقع پرانے گرجا گھر اور یونیسکو کی جانب سے تاریخی ورثہ قرار دیے جانے والی عمارت ’’آیا صوفیہ‘‘ کو مسجد میں تبدیل کرنے سے متعلق احتیاط برتے۔ ترکی کی ایک اعلیٰ عدالت میں یہ دلائل چل رہے ہیں کہ کیا دنیا کے تعمیری عجائب میں سے ایک یعنی ’آیا صوفیہ‘ جس کی موجودہ حیثیت عجائب گھر کی ہے، اسے مسجد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اس اقدام سے مغرب اور عیسائی برادری کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ واضح رہے کہ ترکی کے اعلیٰ ترین انتظامی ادارے کونسل آف اسٹیٹ نے ’آیا صوفیہ‘ کو مسجد میں تبدیل کرنے سے متعلق فیصلہ مؤخر کر دیا [مزید پڑھیے]

بھارت کا دیوقامت دفاعی بجٹ

July 1, 2020 // 0 Comments

جس طرح پہلے امریکی رہنماؤں نے منرو ڈاکٹرائن (Monroe Doctrine) میں مغربی نصف کرّہ ارض میں امریکا کے خصوصی کردار کا تصور پیش کیاتھا، اسی طرح بھارت نے بحرہند کے خطے میں ایسٹ انڈیز اور ہارن آف افریقا کے درمیان عملی طور پر ایک خصوصی پوزیشن قائم کر لی ہے۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں یورپ میں برطانیہ کی طرح، بھارت کرہ ارض کے اس وسیع خطے میں کسی غالب طاقت کے ظہور کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جس طرح پہلے امریکی رہنماؤں نے منرو ڈاکٹرائن میں مغربی نصف کرۂ ارض کے ممالک کی رضامندی کی کوشش نہیں کی تھی، اسی طرح بھارت نے اپنے خصوصی تزویراتی مفادات والے خطے میں ساؤتھ ایشیئن آرڈر کی اپنی اصطلاح کی بنیاد پر اپنی پالیسی اختیار [مزید پڑھیے]