Abd Add
 

شمارہ یکم مارچ 2011

پندرہ روزہ معارف فیچر کراچی
جلد نمبر:4، شمارہ نمبر:5

حسنی مبارک کا عروج و زوال

March 1, 2011 // 0 Comments

مصر کے صدر حسنی مبارک نے مستعفی ہونے سے ایک دن قبل رات کو قوم سے جو خطاب کیا اس میں سب کو بیٹے اور بیٹیاں کہہ کر مخاطب کیا۔ یہ خطاب بھی جھوٹ کا پلندہ تھا۔ ان میں سے چند ایک جھوٹ ایسے تھے جن پر خود حسنی مبارک کو بھی یقین رہا ہوگا۔ اس خطاب میں حسنی مبارک نے کہا کہ وہ ستمبر میں صدارتی انتخاب تک اپنے منصب پر فائز رہیں گے، اس لیے کہ قوم کو ان کی ضرورت ہے۔ اقتدار میں تیس سال گزارنے کے بعد بھی حسنی مبارک کی اقتدار پرستی کا عالم دیکھیے! لوگ تو حسنی مبارک سے صرف دو الفاظ سننا چاہتے تھے۔۔ خدا حافظ! حسنی مبارک کی تقریر کے دوران ایک عورت کو ٹیلی فون پر [مزید پڑھیے]

خواجہ خیرالدین اور احسن منزل

March 1, 2011 // 0 Comments

نیو ٹوئنٹی میں میری کوٹھری سے نزدیک ہی خواجہ خیرالدین بھی چار ماہ رہے۔ جدید دور کے تقاضوں سے خائف رجحان، میں نے ان میں بھی دیکھا۔ میں انہیں ذاتی طور پر نہیں جانتا تھا۔ جیل میں ڈالے جانے سے قبل تک میں نے ان کا صرف نام سنا تھا۔ کچھ ہی دنوں میں ہم اچھے دوست بن گئے۔ وہ بھی خاصے نفاست پسند تھے اور جیل کے گندے ماحول سے پریشان رہا کرتے تھے۔ میری طرح وہ بھی پنیر کھانے کے بہت شوقین تھے اور اسلام کے جواز سے متعلق میرے نظریات سے متفق تھے۔ البتہ اسلام کے بارے میں ان کے خیالات خاصے لگے بندھے اور قدرے فرسودہ تھے۔ تاہم وہ میرے اس نکتے کو سمجھتے تھے کہ اسلام کو جدید فکر کی [مزید پڑھیے]

ترکی پر مغربی فکر کے غلبے کی تاریخ

March 1, 2011 // 0 Comments

مسلم ممالک میں اسلامیت اور مغربیت کی کش مکش تین صدیوں سے جاری ہے۔ ایشیا و افریقا پر یورپی اقوام کے غلبے کا ایک نتیجہ فکری تصادم کی صورت میں نکلا ہے۔ عالم اسلام کی سیکولرائزیشن کے لیے پیش قدمی ترکی نے کی۔ موجودہ اضطراب، بے چینی اور سیاسی تبدیلی کو سمجھنے کے لیے ان ممالک کی ذہنی اور فکری تاریخ کا مطالعہ ضروری ہے۔ ترکی کی فکری تاریخ کے مطالعے کے لیے ہم پنجاب یونیورسٹی کے اسکالر فیروز الدین شاہ کھگہ کا مقالہ شائع کررہے ہیں۔ اس کے لیے ہم بھارت کے علمی جریدے سہ ماہی ’’تحقیقاتِ اسلامی‘‘ کے شکر گزار ہیں۔ ]ادارہ[ یہودیت اور عیسائیت کی مذہبی بے مائیگی مغربی فکر و فلسفہ کا مطالعہ کرنے والا ادنیٰ طالب علم بھی جانتا ہے [مزید پڑھیے]