Abd Add
 

شمارہ یکم نومبر 2015

خالد مشعل کا دورۂ جنوبی افریقا

November 1, 2015 // 0 Comments

جنوبی افریقا کی جانب سے حماس کی اعلیٰ قیادت کو تاریخی استقبالیہ دیے جانے سے صہیونی ریاست چراغ پا ہوگئی ہے اور اس نے تل ابیب میں جنوبی افریقا کے سفیر کو طلب کرکے اس پر سخت ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ خالد مشعل کی قیادت میں حماس کا ایک وفد ۱۸؍اکتوبر کو کیپ ٹائون پہنچا۔ اس وفد کا جنوبی افریقا میں شاندار استقبال کیا گیا جس سے صہیونی ریاست چراغ پا ہے۔ اس وفد نے اپنے دورے کے پہلے دن جنوبی افریقا کے صدر جیکب روما سے ملاقات کی۔ حماس کے وفد میں موسیٰ ابومرزوق اور محمد نزال بھی شامل تھے۔ اطلاع ہے کہ خالد مشعل کیپ ٹائون کے وسط میں ایک عوامی ریلی میں بھی شرکت کریں گے۔ علاوہ [مزید پڑھیے]

نریندر مودی اور زی جن پنگ کا دورۂ امریکا

November 1, 2015 // 0 Comments

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی خود کو یہ باور کراچکے ہیں کہ ’’جو کچھ زی جِن پِنگ کرسکتے ہیں، وہ سب مَیں اُن سے بہتر کر سکتا ہوں‘‘۔ اور اسی یقین کے زیرِ اثر وہ بھی چینی صدر کے پیچھے پیچھے رواں برس ستمبر میں امریکا جا پہنچے۔ دونوں رہنماؤں نے اپنے دورۂ امریکا کا آغاز مغربی ساحلی ریاستوں سے کیا، جہاں وہ صفِ اول کی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف رہے۔ دونوں رہنماؤں نے اقوام متحدہ کے مختلف اجلاسوں سے خطاب کیے اور امریکا کے صدر براک اوباما سے ملاقاتیں کی۔ لیکن دونوں رہنماؤں کے اس دورے کی خاص بات یہ تھی کہ دونوں نے اپنے ان دوروں کو اپنے اور امریکا، دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان [مزید پڑھیے]

بھارت میں شادی کے بدلتے تیور

November 1, 2015 // 1 Comment

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بھارت میں بہت کچھ تبدیل ہو رہا ہے۔ ایک طرف تو ٹیکنالوجی کے شعبے میں زیادہ سے زیادہ مہارت آتی جارہی ہے اور دوسری طرف مالی حیثیت بھی بہتر ہوتی جارہی ہے۔ ممبئی اور دوسرے بڑے شہروں میں اب معاملات یوں بدلے ہیں کہ ذات پات کا فرق بھی مٹتا جارہا ہے اور آپس میں شادیاں عام ہوچلی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ معاملات ذات پات کا فرق مٹنے تک محدود نہیں رہے۔ اب مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والوں میں بھی شادی عام ہوتی جارہی ہے۔ فلموں اور ڈراموں میں جو کچھ دکھایا جاتا رہا ہے وہ اب کہیں کہیں دکھائی دیتا ہے یعنی یہ کہ ماں باپ نے شادی طے کردی یا ذات کے فرق پر ہنگامہ کھڑا [مزید پڑھیے]

ملکۂ برطانیہ سے ایک دلچسپ گزارش

November 1, 2015 // 0 Comments

اطلاعات کے مطابق ایک امریکی شہری نے ملکۂ برطانیہ اور برطانوی وزیراعظم کے نام ایک مراسلہ لکھا ہے۔ مراسلہ ایک ہی ہے البتہ خطاب دونوں سے ہے۔ اس کی خبر ایک ویب سائٹ ریڈٹ کو زیر استعمال رکھنے والے ایک شخص نے دی ہے۔ اس کا کہیں نام نہیں آیا ہے اور نہ مراسلہ نگار کا نام ظاہر کیا گیا ہے۔ البتہ بکنگھم پیلس (برطانوی شاہی محل) نے اس کی تصدیق کر دی ہے کہ ملکہ کے نام اس طر ح کا ایک مراسلہ موصول ہوا ہے۔ یہی نہیں ملکہ کی طرف سے اس کا جواب بھی ارسال کر دیا گیا ہے۔ برطانوی ذرائع ابلاغ نے ان دونوں واقعات کی نہ صرف تصدیق کر دی ہے بلکہ ملکہ کی جانب سے ارسال کردہ جواب کا [مزید پڑھیے]