Abd Add
 

شمارہ یکم اکتوبر 2005

شمارہ نمبر: 123

جنرل پرویز مشرف کا ’’ امریکن جیوش کانگریس‘‘ سے خطاب

October 1, 2005 // 0 Comments

صدر جنرل پرویز مشرف نے فلسطینیوں کی خواہشات کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کیلئے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اس دیرینہ تنازعے کے خاتمہ کیلئے جرات کا مظاہرہ کرے۔فلسطین میں امن سے مشرق وسطیٰ کی تاریخ میں المناک باب بند ہوگا۔ دہشت گردی کے بنیادی اسباب کو نظر انداز کرنا حقائق سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان سوچی سمجھی اور جامع الگ الگ حکمت عملی کے ذریعہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹ رہا ہے۔ ہم نے دہشت گرد اور انتہاپسند عناصر پر مکمل غلبہ پانے تک اس کوشش کو جاری و ساری رکھنے کا عزم کر رکھا ہے۔ انہوں [مزید پڑھیے]

کابل کے ساتھ تعلقات کی نوعیت

October 1, 2005 // 0 Comments

جبکہ عالمی توجہات کا نقطہ ارتکاز اب بھی دہشت گردی ہے امریکا واضح طور سے افغانستان میں پارلیمانی انتخابات کی کامیاب تکمیل پر تکیہ کئے ہوئے ہے جسے ۱۸ ستمبر کو منعقد ہونا ہے۔ بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے ۲۹۔۲۸ اگست کو افغانستان کا دو روزہ دورہ کیا۔ ۳۰ سالوں میں ہندوستان کے کسی سربراہ مملکت کا یہ پہلا دورہ تھا۔ بہرحال افغانستان کی صورت اب بھی مستحکم نہیں ہے۔ ۲۰۰۵ء کے آغاز سے ہی امریکی سپاہیوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ القاعدہ کی قیادت ہنوز پاکستان افغان سرحد سے متصل پہاڑوں میں روپوش ہے قبائلی علاقوں میں ۷ ہزار سے زائد افواج کی تعیناتی کے باوجود پاکستان پر یہ وقتاً فوقتاً الزما عائد کیا جاتا ہے کہ وہ طالبان کے خلاف [مزید پڑھیے]

قید سے رہائی پر سید مو دودیؒ کا ایک خطاب

October 1, 2005 // 0 Comments

فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے دور صدارت (جنوری ۱۹۶۷ میں) رویت ھلال کا تنازعہ پیدا ہوا۔ حکومت نے عید کا چاند ایک روز پہلے دیکھ لیا۔ ملک بھر کے علما نے اس سے اختلاف کیا۔ اس جرم میں کئی نامور علماء گرفتار کرلئے گئے۔ انہی میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی بھی تھے جنہیں ۲۸‘۲۹ جنوری ۱۹۶۷ کی درمیانی شب لاہور میں ان کے گھر سے گرفتار کرکے صوبہ سرحد لے جایا گیا اور بنوں میں نظربند کردیا گیا اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا گیا۔ اس کے بعد ۱۷ مارچ کو مولانا رہا کر دیئے گئے۔ رہائی کے بعد علماء کے اعزاز میں ۲۶ مارچ ۱۹۶۷ کو پاک لگژری ہوٹل لاہور میں ایک جلسہ استقبالیہ ہوا۔ شورش کاشمیری مرحوم نے سپاسنامہ پیش کیا۔ [مزید پڑھیے]

دیندار حضرات میں شرح بیماری کی کمی

October 1, 2005 // 0 Comments

امریکا کی ریسرچ یونیورسٹیوں کے حالیہ جائزہ رپورٹ میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ دیندار حضرات میں شرح بیماری کم ہے اور ان کے اندر قوت ِدفاع دوسروں کے بالمقابل زیادہ ہے‘ ہائی بلڈ پریشر کا شکار عمومی طور پر۶۵ سال کی عمر والے حضرات ہوتے ہیں لیکن دیندار حضرات میں یہ تناسب ۴۰ فیصد کم ہے‘ واضح رہے کہ بلڈ پریشر عمومی طور پر دل و دماغ پر اثر انداز ہوتا ہے اور ان حالات میں دماغی رگوں کے پھٹنے کا امکان زیادہ بڑھ جاتا ہے‘ ڈاکٹرہارولڈ کہتا ہے: ’’ہمیں پور ایقین ہے کہ اسلام میں نماز اور دیگر شعائر کی ادائیگی کا حکم ایک مثبت اور درست حکم ہے جس کے بہتر اور صحت افزا اثرات انسانی جسم پر نمودار ہوتے ہیں [مزید پڑھیے]