Abd Add
 

شمارہ یکم اکتوبر 2005

شمارہ نمبر: 123

جنرل پرویز مشرف کا ’’ امریکن جیوش کانگریس‘‘ سے خطاب

October 1, 2005 // 0 Comments

صدر جنرل پرویز مشرف نے فلسطینیوں کی خواہشات کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کیلئے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اس دیرینہ تنازعے کے خاتمہ کیلئے جرات کا مظاہرہ کرے۔فلسطین میں امن سے مشرق وسطیٰ کی تاریخ میں المناک باب بند ہوگا۔ دہشت گردی کے بنیادی اسباب کو نظر انداز کرنا حقائق سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان سوچی سمجھی اور جامع الگ الگ حکمت عملی کے ذریعہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹ رہا ہے۔ ہم نے دہشت گرد اور انتہاپسند عناصر پر مکمل غلبہ پانے تک اس کوشش کو جاری و ساری رکھنے کا عزم کر رکھا ہے۔ انہوں [مزید پڑھیے]

امریکا میں غربت کی ایک جھلک

October 1, 2005 // 0 Comments

قطرینہ بحری طوفان نے امریکا میں امیر و غریب کے مابین پائے جانے والے زبردست فاصلے کو بے نقاب کیا ہے۔ حالیہ اقتصادی ترقی کے باوجود یہاں غربت کی شرح میں مسلسل چار سالوں سے اضافہ ہورہا ہے ۔ ۳ کروڑ ۷ لاکھ سے زائد امریکی غربت میں مبتلا ہیں۔ غریب انہیں تصور کیا جاتا ہے‘ جو ۶۵ سال سے کم عمر ہوں اور صرف ۹۸۰۰ ڈالر سالانہ کماتے ہوں۔ ۲۰۰۲ء تا ۲۰۰۴ء کے عرصے میں غربت میں مبتلا لوگوں کی اوسط تعداد سفید فام ایک کروڑ ۶۱ لاکھ سیاہ فام ۸۸ لاکھ ہسپانوی نژاد ۸۹ لاکھ دیگر ۱۹ لاکھ ۲۰۰۲ تا ۲۰۰۴ء کے درمیان غربت میں مبتلا افراد کی اوسط فیصد سفید فام ۸ فیصد سیاہ فام ۲۴ فیصد امریکی انڈین/ الاسکا کے شہری [مزید پڑھیے]

قطرینہ بحری طوفان کے اثرات

October 1, 2005 // 0 Comments

کانگریس اراکین کے ذریعہ قطرینہ طوفان ریلیف کے لئے دس ارب (Billion) ڈالر کی منظوری دیئے جانے کے تقریباً ایک ہفتہ بعد ساری رقوم خرچ ہوگئیں چنانچہ مزید ۵۲ ارب ڈالر کی منظوری کے لئے وائٹ ہائوس نے کانگریس کو قدرے کوتاہ پایا۔ جو لوگ خرچ پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں ان کے سامنے یہ سوال ہے کہ قطرینہ طوفان کتنا مہنگا ثابت ہوگا؟ راحت کاری کے لئے ابتک ۶۲ ارب ڈالر مختصر کئے جاچکے ہیں جو کہ توقع ہے کہ اکتوبر کے شروع تک چلے گا۔ وفاقی حکومت جو کہ متاثرہ علاقوں میں دو ارب ڈالر سے زائد رقم یومیہ خرچ کررہی ہے تو اراکین کانگریس کا اندازہ ہے کہ یہ ۲۰۰ ارب ڈالر تک جاسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم اسے پورا [مزید پڑھیے]

قید سے رہائی پر سید مو دودیؒ کا ایک خطاب

October 1, 2005 // 0 Comments

فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے دور صدارت (جنوری ۱۹۶۷ میں) رویت ھلال کا تنازعہ پیدا ہوا۔ حکومت نے عید کا چاند ایک روز پہلے دیکھ لیا۔ ملک بھر کے علما نے اس سے اختلاف کیا۔ اس جرم میں کئی نامور علماء گرفتار کرلئے گئے۔ انہی میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی بھی تھے جنہیں ۲۸‘۲۹ جنوری ۱۹۶۷ کی درمیانی شب لاہور میں ان کے گھر سے گرفتار کرکے صوبہ سرحد لے جایا گیا اور بنوں میں نظربند کردیا گیا اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا گیا۔ اس کے بعد ۱۷ مارچ کو مولانا رہا کر دیئے گئے۔ رہائی کے بعد علماء کے اعزاز میں ۲۶ مارچ ۱۹۶۷ کو پاک لگژری ہوٹل لاہور میں ایک جلسہ استقبالیہ ہوا۔ شورش کاشمیری مرحوم نے سپاسنامہ پیش کیا۔ [مزید پڑھیے]